اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-09

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 3؍اکتوبر 2025 بمقام مسجد مبارک اسلام آباد یوکے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فتح حنین کے بعد تمام اموال غنیمت جِعرانہ مقام پر جمع کرنیکا حکم دیا اور کم و بیش ڈیڑھ ماہ اموال غنیمت تقسیم نہیں فرمائے بلکہ انتظار فرمایاکہ شاید بنو ہوازن تائب ہو کر واپس آئینگے اور انکے اہل و عیال اور مال مویشی انکو واپس لوٹا دئیے جائیں گے لیکن وہ نہیں آئےاور بالآخر لمبےانتظار کے بعد آنحضرت ﷺ نے اموال غنیمت اور قیدیوں کو تقسیم فرما دیا۔
جب یہ تقسیم ہو چکی تو بنو ہوازن کے چودہ معززین آپؐکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ اسلام قبول کر چکے تھے اور انہوں نے بتایا کہ ہمارا سارا قبیلہ بھی اسلام قبول کر چکا ہے۔وفد کا سردارجو خطیب اور شاعر بھی تھا، اس نے بڑے دلنشین انداز میں آنحضرت ﷺ کے حضور رحم کی اپیل کی اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ان گرفتار ہونیوالوں میں آپ کی پھوپھیاں آپ کی خالائیں اور آپ کی بہنیں بھی ہیں جو آپ کی پرورش کرتی رہی ہیں اور آپ کو کھلاتی پلاتی رہی ہیں۔ آنحضرت ﷺنے بنو سعد کے قبیلے میں رضاعت کا زمانہ گزارا تھا اور وہاں پرورش پائی تھی اور آپ کے رضاعی والدین کا تعلق بنو سعد سے تھا جو بنو ہوازن کی شاخ تھی۔ اُسنے آپ کی مدح و توصیف میں ایک قصیدہ بھی کہا۔ اس وفد میں آنحضرتﷺ کے رضاعی چچا بھی تھے انہوں نے کہا کہ آپ تو مجسم خیرو بھلائی ہیںا ور جود و سخا کے دریا ہیں ہم آپکے اپنے اور آپ ہی کے خاندان سے ہیں لہٰذا ہم پر احسان کریں۔ اللہ آپ کو اس احسان مندی کا بدلہ ضرور دیگا۔
رسول اللہ ﷺنے ان کی دردمندانہ التجائیں سنیں اورفرمایا میں نے تو بہت دنوں تک تمہارا انتظار کیا یہاں تک کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب تم نہیں آؤ گے اور اب تم دیکھ رہے ہو کہ قیدیوں میں سے میرے پاس بہت ہی تھوڑے رہ گئے ہیں باقی سب تقسیم ہو چکے ہیں اور میرے نزدیک سب سے پسندیدہ بات وہ ہے جو سب سے زیادہ سچی ہو لہٰذا اب تم دو چیزوں میں سے ایک چیز کا انتخاب کر سکتے ہو۔ قیدی مردو عورتیں یا مال و اسباب، ان میں سے جو لینا ہے لے سکتے ہو۔بنو ہوازن کے وفد نے جب ساری صورتحال دیکھی تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم اپنے قیدی واپس لینا چاہتے ہیں۔
بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تمہارے بھائی تائب ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں میں ان کے قیدی انہیں واپس کرنا چاہتا ہوں جو بھی اپنی خوشی سے ایسا کرنا چاہے کر سکتا ہے اور جو ان کے عوض ہم سے کچھ لینا چاہے لے سکتا ہے۔ میں اوّلین حاصل ہونے والے غنائم میں سے اس کا حق واپس کر دونگا اورساتھ ہی اپنے اور اپنے خاندان یعنی بنو عبدالمطلب کے قیدی واپس کرنے کا اعلان فرمایا۔ صحابہ کرام تو اپنی جانوں اور اپنے بیوی بچوں اور ماں باپ سے بھی بڑھ کر آپ سے محبت کرنیوالے تھے۔ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ آپ کی خوشی کی خاطر ہم خوشدلی سے اپنے قیدی ہوازن کو واپس کرتے ہیں۔ آپﷺ انکے اس جذبے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اور یوں آپ ﷺ کا یہ عظیم احسان اس دشمن قوم پر ہوا کہ تمام قیدی بغیر کسی عوض معاوضہ کے واپس کر دئیے اور اپنے مخلص وفاشعار محبت کرنے والے صحابہ کے جذبات کا بھی اس طرح خیال رکھا کہ آپ نے فرمایا کہ ہر ایک قیدی کے بدلے میں چھ چھ اونٹ دئیے جائینگے۔
آنحضرت ﷺنے بنو ہوازن کے ان قیدیوں کو نہ صرف بغیر کسی عوض معاوضہ کے آزاد فرما دیا بلکہ انہیں کپڑے بھی عطا کئے۔ آپؐنے تاکیداً فرمایاکہ ان میں سے کوئی بھی آزاد ہونے والا نئے لباس کے بغیر نہ جائے چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں ہر قیدی کو نیا لباس پہنایا گیا۔
آنحضرت ﷺنے بنو ہوازن کے وفد سے ان کے سردار مالک بن عوف کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ وہ طائف میں بنو ثقیف میں ہے۔ آپ نے اسے کہا کہ اسے اطلاع دو کہ اگر وہ آپ کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کرتے ہوئے آجائے تو اس کے اہل و عیال بھی اسے واپس کر دئیے جائیں گے جو قیدی ہو چکے تھے۔چنانچہ وہ طائف سے نکل کر جعرانہ میں آپؐکی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ آپؐنے اسے اس کے اہل و عیال بھی لوٹا دئیے اور ایک سو اونٹ تحفۃً بھی دئیے۔ آپؐکی بخشش و عنایت دیکھ کر وہ مسلمان ہو گیا اور پھر ساری عمر ایک مخلص مسلمان رہا اور آنحضرت ﷺ نے بعد میں اس کو قوم ہوازن کے مسلمانوں کا حاکم اور اسکی فوج کا سالار بنا دیا۔ یہ وہی مالک بن عوف تھا جو سارے بنو ہوازن اور ثقیف اور دوسرے قبیلوں کو اکٹھا کر کے لے آیا تھا کہ مسلمانوں کو نیست و نابود کر دیگا۔ آنحضرت ﷺ کے خون کا پیاسا تھا لیکن آپؐکا اسوہ اور عفو و درگزر کا کمال یہ ہے کہ آپ اس کی رشد وہدایت کے پیاسے تھے۔
اس جنگ کے قیدیوں میں ایک خاتون شیمہ بھی تھیں یہ ان کا لقب تھا ان کا اصل نام حذافہ تھا۔ اس نے کہا محمدؐمیں آپ کی رضاعی بہن ہوں۔ آنحضرت ﷺنے پوچھا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے دانتوں کا نشان دکھایا اور کہا کہ آپ نے مجھے اس وقت کاٹا تھا جب میں آپ کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے تھی۔آنحضرت ﷺنے اُسے پہچان لیا آپؐکھڑے ہوئے ان کیلئے اپنی چادر بچھا ئی۔ فرمایا اس پر بیٹھو۔ آپ نے انہیں خوش آمدید کہا اور آپؐکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور اپنے رضاعی والدین کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ آپؐنے فرمایا اگر تم بہتر سمجھو تو ہمارے پاس ٹھہر جاؤ تمہیں عزت اور اکرام اور محبت ملے گی اور اگر تم اپنی قوم کے پاس واپس جانا چاہتی ہو تو میں تمہارے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہوں تم وہیں چلی جاؤ۔ اس نے کہا کہ میں اپنی قوم کے پاس واپس جانا چاہتی ہوں۔ بہرحال انہوں نے اسلام قبول کیا۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں تین غلام اور ایک لونڈی اور اونٹ اور بکریاں اور بھیڑیں بھی عطا کیں۔
ایک روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے فرمایاجو مانگو تمہیں دیا جائے گا اور جو سفارش تم کرو گی وہ قبول کی جائے گی تو انہوں نے اپنی قوم بنو سعد کے ایک شخص کی سفارش کی۔ اس شخص نے ایک مسلمان کو قتل کر کے اس کو جلا دیا تھا اور بھاگ گیا تھا لیکن صحابہ نے اس کو پکڑ لیا تھا۔ اب جب شیمہ نے اس کی معافی کی سفارش کی تو آپؐنے اسے معاف کر دیا ۔
آنحضرت ﷺنے جب مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی اس وقت اہل مکہ نے اعلان کیا تھا کہ جو نبی اکرم ﷺ کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا اس کو سو اونٹ انعام دیا جائے گا یہ واقعہ بڑا مشہور ہے بیان بھی ہو چکا ہے کئی دفعہ۔ یہ سن کر سراقہ بن مالک جس نے ہجرت مدینہ کے وقت آنحضرت ﷺ کا تعاقب کیا تھا، اور جسے آنحضرت ﷺ نے ایک امان نامہ لکھ کر دیا تھا، وہی امان نامہ لئے جعرانہ مقام پر حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔
اسی جِعرانہ مقام پرحضرت عمرؓ آپؐکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ دور جاہلیت میں مَیں نے ایک نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک دن اعتکاف کرونگا اس کے متعلق آپؐکا کیا ارشاد ہے۔ آپؐنے فرمایا آپ جائیں اور نذر پوری کریں چنانچہ حضرت عمر گئے اور اپنی نذر پوری کی۔ آنحضرت ﷺ ابھی جِعرانہ میں ہی تھے کہ ایک رات آپؐعمرے کے ارادے سے یہاں سے مکہ تشریف لے گئے اور روایات کے مطابق رات کو گئے اور اسی رات کو ہی واپس تشریف لائے۔
ذوالقعدہ کے بارہ دن ابھی باقی تھے اور جمعرات کا دن تھا کہ آ نحضرت ﷺ نے مدینہ واپسی کا سفر شروع فرمایا۔ اس سے پہلے آپؐحضرت عتاب بن اسید کو مکہ کا عامل مقرر فرما چکے تھےاور ان کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابوموسیٰ اشعری کو پیچھے چھوڑا تا کہ وہ لوگوں کو قرآن اور دین کی تعلیم دیں۔آپؐوادی جعرانہ سے چلے سرف سے ہوتے ہوئے پھر مر الظہران پہنچے اور پھر نو دن کے سفر کے بعد مدینہ پہنچ گئے۔
خطبہ کے آخر میں حضور انور نے فرمایااس وقت میں دو مرحومین کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ان کا جنازہ بھی بعد میں پڑھاؤں گا۔ پہلا ذکر ہےمکرم ڈاکٹر لئیق احمد فرخ صاحب کینیڈاکا۔ انہوں نے کافی سال واقف زندگی ڈاکٹر کے طور پر افریقہ میں خدمت انجام دی ہے۔ بڑے بڑے کمپلیکیٹڈ کیس انکے پاس آتے تھے۔ بعض کیس یہ ریفرکرتے تھے لیکن مریض کہتا تھا کہ نہیں اگر میں نے علاج کرانا ہے تو احمدیہ ہسپتال سے اور احمدی ڈاکٹر سے کرانا ہے۔ کئی ایسے آپریشن انہوں نے کئےجو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہوئے جن کی کامیابی کی امید بھی نہیں ہوتی تھی۔ بڑے خاموش طبیعت کے آدمی تھے دعا گو عاجزی اور انکساری اور اور صبر و استقامت کی مثال تھے۔ پوری زندگی خدمت انسانیت میں گزاری۔ وقف کے دوران خاص طور پر گیمبیا کے چھوٹے اور پسماندہ گاؤں میں جہاں حالات بہت مشکل تھے کھانے کو بھی کچھ نہیں ہوتا تھا، شدید گرمی میںجبکہ بجلی پانی کچھ بھی نہیں تھا وہاں خدمت کرتے رہے۔ جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1988ء میں دورہ کیا تو خاص طور پر ان کے گھر گئے اور گھر میں وہاں بیٹھنے کی کرسیاں بھی نہیں تھیں لیکن حضور نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ کھانا بھی کھاؤں گا اور باقی سب سٹاف کو کہا کہ باہر جاؤ اور یہ ان کے لئے بڑا اعزاز تھا۔
وہاب آدم صاحب مرحوم سابق امیر گھانا کہا کرتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب جب بھی کسی مریض کی نازک حالت دیکھتے تو فوراً نفل پڑھنے لگ جاتے تھے۔حضور انور نے فرمایا کہ مَیں بھی گھانا میں رہا ہوں اورانکےساتھ وقت گزارا ہے، مَیں نے انکودیکھا ہے انتہائی شریف النفس عاجز اور خدمت کرنے والے انسان تھے واقفین کا بہت احترام کرنے والے تھے۔ مہمان نوازی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ بہت سی خصوصیات ایسی تھیں کہ بہت کم لوگوں میں ایسی ہوتی ہیں۔
دوسرا جنازہ ہے حمید احمد غوری صاحب حیدرآباد انڈیا کا ہے یہ گزشتہ دنوں چوہتر سال کی عمر میں وفات پا گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم موصی تھے۔ اہلیہ اور ایک بیٹی اور چار بیٹے اور پوتے پوتیاں ان کے پسماندگان میں ہیں۔ سب بچے کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔ انعام غوری صاحب ناظر اعلیٰ قادیان کے چھوٹے بھائی تھے۔ صمد غوری صاحب مبلغ سلسلہ اور صدر جماعت البانیہ کے یہ والد تھے۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند تہجد گزار تھے۔ قرآن مجید سے بہت محبت تھی، پڑھتے رہتے تھے حفظ کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔فجر کی نماز میں محلے میں احمدی گھروں میں دستک دیتے ہوئے مسجد جاتے تھے۔ حج اور عمرے کی سعادت بھی ان کو نصیب ہوئی۔ خلافت کے حکموں پر چلنے والےاور ہر حکم پر کوشش یہ ہوتی تھی کہ میں اس پر عمل کروں ۔
ہومیو پیتھی کا علاج بھی کیا کرتے تھے گھر میں دوائیوں کا ذخیرہ رکھا ہوا تھا، مریضوں کو مفت دیا کرتے تھے ۔ مالی قربانی میں پیش پیش رہتے۔بہت صلہ رحمی کرنے والے اپنے رشتہ داروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ مرکزی نمائندوں اور مبلغین کی بہت عزت کرتے تھے۔ نائب امیر حیدرآباد،سیکرٹری تعلیم القرآن،اپنے حلقے کے صدر جماعت، ناظم انصار اللہ، نائب صدر مجلس انصار اللہ جنوبی ہند کے طور خدمت کی توفیق ملی۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔نماز جمعہ کے بعد حضور نے ہر دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔