تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نےفرمایا : گزشتہ خطبہ میں حنین کے اموال غنیمت کی تقسیم کا ذکر ہو رہا تھا۔ آنحضرتﷺ نے اموال غنیمت تقسیم فرمائے اور مجاہدین کو ان کے حصے بھی عطا فرما دئیے البتہ جو خمس تھا وہ کم و بیش سارے کا سارا آپ نے تالیف قلب کے لئے سرداران قریش اور دیگر عرب سرداروں میں تقسیم کر دیا کہ کسی کو سو اونٹ دئیے اور کسی کو پچاس اونٹ۔ اتنی کثرت سے دوسروں کو مال دئیے جانے پر انصار کے بعض نوجوانوں نے اس کو محسوس کیا اور سمجھا کہ وہ دوسروں کی نسبت زیادہ حقدار تھے چنانچہ انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اللہ، رسول اللہﷺ کی بخشش فرمائے آپؐقریش کو نواز رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیںحالانکہ ہماری تلواروں میں سے ان دشمنوں کا خون ٹپک رہا ہے۔
اسی طرح ان میں سے کسی نے یہ بھی کہا کہ جب حالات سخت اور نامساعد ہوں تو ہمیں بلایا جائے اور مال غنیمت ہمارے علاوہ اوروں کو دیا جائے۔ ان باتوں کا جب آنحضرت ﷺ کو علم ہوا تو آپ نے تمام انصار کوایک جگہ جمع ہونیکا حکم دیا۔ جب سب ایک جگہ جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ اَے انصار کی جماعت جو بات تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے وہ کیا ہے؟ انصار کے صاحب الرائے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے سمجھدار لوگوں میں سے کسی نے ایسی کوئی بات نہیں کی البتہ کچھ جذباتی نوجوانوں نے کہا ہے کہ اللہ نبی ﷺ کی بخشش فرمائے آپ قریش کو نواز رہے ہیں اور ہم آپ کی عطا سے مرحوم ہیں جبکہ ابھی ہماری تلواروں سے دشمنوں کا خون ٹپک رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اَے انصار کیا مَیں جب تمہیں ملا تھا تو مَیں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا اور پھر اللہ نے میرے ذریعہ سے تمہیں ہدایت دی اور تم پراگندہ اور منتشر قوم تھے اور ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اللہ نے میرے ذریعہ سے تمہارے اندر باہمی الفت اور محبت پیدا کر دی اور تم نادار اور محتاج تھے اور اللہ نے میری وجہ سے تمہیں غنی اور مالدار کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ جو بھی بات کرتے انصار اس پر کہتےکہ یہ سب اللہ اور اس کے رسول کا احسان ہے۔ آپ ﷺ نے انصار کی طرف سے جب یہ جواب سنا تو آپ نے فرمایا کہ تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتے؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ہم کیا جواب دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو مجھے یہ جواب دے سکتے ہو اور تم سچ کہہ رہے ہو گے اور تمہاری بات کی تصدیق کی جائے گی۔ تم کہہ سکتے ہو کہ یا رسول اللہﷺ آپ ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا اور آپ کی تکذیب کی گئی تھی لیکن ہم نے آپ کی تصدیق کی اور آپ بے یارومددگار تھے اور لوگوں نے آپ کو نظر انداز کیا تھا لیکن ہم نے آپ کی مدد کی اور ان لوگوں نے آپ کو اپنے شہر سے نکال دیا تھا لیکن ہم نے آپ کو پناہ دی اور آپ کثیر العیال تھے اور ہم نے آپ کی غم خواری کی۔ رسول اللہ ﷺکی یہ بات سن کر کوئی انصاری بھی نہ بولا۔ سبکے سب سر جھکائے آپ کی باتیں سن رہے تھے اور شرمندہ تھے۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ تو پہلے اسلام قبول کر چکے تھے اور اسلام و ایمان تمہارے دلوں میں خوب راسخ ہو چکا تھا لیکن قریش میں اکثر لوگ فتح مکہ کے موقع پر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے بلکہ متعدد تو ایسے تھے کہ جو ابھی تک اسلام سے وابستہ نہیں ہوئے تھے اور پرانے اہل ایمان کی نسبت یہ نو مسلم صلہ رحمی اور انعام و اکرام کے زیادہ مستحق تھے تا کہ اسلام ان کے دلوں میں جاگزیں ہو جائے اور قریش اس لئے بھی اس انعام کے حقدار تھے کہ کثیر جنگوں میں ان کا بہت کچھ ضائع ہو چکا تھا اس لئے میرا مقصد یہ تھا کہ ان کی دلجوئی کی جائے اور یہ پوری طرح اسلام اور ایمان کے دائرے میں آ جائیں۔
پھر آپﷺ نے فرمایا کیا تمہیں یہ چیز پسند نہیں کہ لوگ تو بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ لے کر جاؤ۔ اللہ کی قسم جس سعادت کو تم لے جا رہے ہو وہ اس سے کہیں بہتر ہےجو وہ لوگ لے کر جائیں گے۔ آپ ﷺنے فرمایا اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار کسی دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انصار کے ساتھ چلنا پسند کرونگا۔ فرمایا کہ لوگ میرا بیرونی لباس ہیں جبکہ انصار میرا اندرونی لباس ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اَے انصار میرے بعد تم اپنے اوپر اَوروں کو ترجیح پاتے دیکھو گے لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ حوض کوثر پر تمہاری مجھ سے ملاقات ہو جائے۔ یعنی قیامت والے دن ہماری ملاقات ہو گی اور سرداری تمہیںتمہیں ملے گی۔ آخر پر رسول اللہ ﷺ نے انصار کے لئے دعا کرتے ہوئے فرمایا۔ اَے اللہ انصار پر رحم فرما انصار کی اولاد پر رحم فرما اور انصار کی آئندہ نسلوں پر بھی رحم فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ یہ خطاب فرما رہے تھے اور انصار روتے جا رہے تھے یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں ان کے آنسوؤں سے تر ہو گئیں اور وہ یہی کہتے جا رہے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی تقسیم اور اپنے حصے پر دل و جان سے راضی ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا : کبھی بے دھیانی میں کی گئی بات بہت دوررَس نتائج رکھتی ہے۔ ہرچند کہ رسول اللہ ﷺ کی تقسیم پر انصار کے نوجوانوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا لیکن سب نے نہیں کیا تھا لیکن خدا اور خدا کے رسول ﷺ کو یہ ایسی ناراض کرنیوالی بات تھی کہ انصار کو رہتی دنیا تک اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا چنانچہ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
فتح مکہ کے بعد کی ایک جنگ میں کچھ اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے تھے آنحضرت ﷺنے وہ اموال مکہ کے اُن لوگوں میں تقسیم کردیئے جو ایمان سے ابھی پوری طرح روشناس نہ تھے۔ ایک انصاری نوجوان نے کسی مجلس میں کہاکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے اور رسول کریم ﷺنے اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے ہیں۔ آپ کو اس کا علم ہواتو اکابر انصار کو بلایا اور دریافت کیا کہ مجھے ایسی بات پہنچی ہے۔ انصار رو پڑے اور کہا کہ کسی نادان نے کی ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں اَے انصار تم کہہ سکتے ہو کہ ہم نے محمد ﷺ کو اس وقت جگہ دی جب اسے کوئی جگہ نہ دیتا تھا اور اس کے شہر والوں نے اسے نکال دیا تھا۔ پھر اس کیلئے عزت اور فتح مندی حاصل کی تو اس نے اموال اپنے رشتہ داروں کوبانٹ دیئے۔ اس پر انصار کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے پھر کہا کہ یارسول اللہ ہم ایسا نہیں کہتے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تم اسی بات کو ایک اور طرح بھی کہہ سکتے ہو اور وہ اس طرح کہ جس شخص کوخدانے تمام دنیا کی ہدایت کیلئے مبعوث کیا وہ مکہ کی چیز تھی مگر خدا اسے مدینہ میں لے گیا او رپھر خدا نے اپنے زور اور طاقت سے مکہ کو اس کیلئے فتح کیا۔ اس وقت مکہ والوں کاخیال تھا کہ ان کی چیز انہیں مل جائے گی مگر مکہ والے بھیڑ اور بکریوں کو لے گئے اور مدینہ والے خدا کے رسول کولے کر اپنے شہر کی طرف چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا بے شک یہ بات ایک نادان کے منہ سے نکلی ہے مگر اس کی وجہ سے اب تمہیں اس دنیا کی حکومت نہیں مل سکتی۔ اب تمہاری خدمات کا بدلہ تمہیں حوض کوثر پر ہی ملے گا۔ دیکھ لو تاریخ بتاتی ہے کہ تیرہ صدیاں گزرچکی ہیں اور چودھویں صدی گزر رہی ہے، اس عرصہ میں ہرقوم ہی اسلام کی بدولت بادشاہ بنی ہے مگر کوئی انصاری بادشاہ نہیں ہوسکا۔ سو بعض اوقات ایک شخص کاقول ساری قوم کیلئے نقصان کا موجب ہو سکتا ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ اپنے ایک خطبہ میں بیان کیا اور اسے بیان کر کے جماعت کو نصیحت فرمائی وہ نصیحت آج بھی ہمارے لئے اسی طرح اہم ہے جیسے اُس وقت تھی۔ آپؓنے فرمایا کہ وہ لوگ جو قربانی اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں کوئی عہدہ ملے یا دولت وغیرہ ملے وہ ہرگز میرے بلانے پر یعنی خلیفہ وقت کے بلانے پر قربانی کے لئے نہ آئیں بلکہ وہی لوگ آئیں جو خدا کے لئے قربانی کرتے ہیں کیونکہ میں تو خود کمزور اور بیمار انسان ہوں۔میں کسی کا احسان نہیں اٹھا سکتا۔ پس میں اپنے لئے نہیں مانگتا ۔ جو خدا تعالیٰ کیلئے دیتا ہے وہ دے۔ خدا تعالیٰ اس کا بدلہ بھی دے گا۔خدا تعالیٰ پر توکل رکھنا چاہئے اگر وہ چاہے تو اس دنیا میں دے دے اور اگر چاہے تو آخرت میں دے۔بہرحال جو اخلاص سے قربانی کرتا ہے اس کی قربانی ضائع نہیں جاتی۔ مومن کی قربانی کو کوئی ضائع نہیں کرسکتا۔ پس قربانی کرنے والے وہی لوگ ہیں جو خدا کو مدنظر رکھتے ہیں نہ کہ دنیا کو۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا : پس ہمیشہ قربانی کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھنا چاہئے تبھی وہ خدا تعالیٰ کے اصل انعامات کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔ ایک عمر پر پہنچ کر افراد جماعت میں بھی یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہمارا اتنا تجربہ ہے ہم نے اتنا کام کیا ہمیں اس کا ریوارڈ ملنا چاہئے جو نہیں دیا جاتا۔ تو وہ سوچیں کہ کیا دنیا کا ریوارڈ صرف لینا ہے یا اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بننا ہے؟ انصار اللہ یوکے کا اجتماع بھی آج سے ہو رہا ہے ۔ انصار کو بھی میں یہی کہتا ہوں کہ اگر کسی کے دل میں اپنے تجربہ اور خدمت کے حوالے سے کوئی خیال پیدا ہوتا ہے تو وہ اسے جھٹک دے اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
مال غنیمت کی تقسیم کے وقت کچھ بدو لوگ بھی آپ ﷺ کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے اور مال کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کے ہجوم کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی چادر مبارک بھی ایک خاردار جھاڑی سے اٹک گئی اور کچھ دھکم پیل ہونے لگی تو آپ نے فرمایا میری چادر تو مجھے واپس دے دو اور پھر ان کانٹوں بھرے درختوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ان کانٹوں کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوتے تو وہ بھی میں سب تم میں تقسیم کر دیتا اور تم مجھے بخیل جھوٹ بولنے والا اور بزدل نہ پاتے۔ آپ ﷺ نے بدوؤں کی اس بدتہذیبی پر انہیں کوئی سرزنش نہیں کی نہ ناراض ہوئے بلکہ مسکراتے ہوئے احسن رنگ میں ان کی تربیت فرمائی اور انہیں مال سے بھی نوازا۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم فہیم الدین ناصر صاحب مبلغ سلسلہ رومانیہ، مکرم عبدالعلیم فاروقی صاحب ابن مکرم عبدالرشید فاروقی صاحب کینیڈا کا ذکر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد ہر دو مرحوم کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔ ٭٭٭