اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-18

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12ستمبر 2025 بمقام مسجد مبارک اسلام آباد یوکے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا : غزوۂ حنین میں بھی الله تعالیٰ کی طرف سے ایسے لشکروں کے نازل کیے جانیکا ذکر ملتا ہے جنہیں فرشتوں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ غزوہ حنین کے ذکر میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اُسنے ایسے لشکر اتارے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور اُسنے ان لوگوں کو عذاب دیا جنہوں نے کفر کیا تھا اور کافروں کی ایسی ہی جزا ہوتی ہے۔
مفسرین اور سیرت نگاروں نے اِس جنگ میں فرشتوں کے نزول پر مختلف بحثیں کی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فرشتوں کا نزول محض مؤمنوں کے لئے بطور بشارت اور ان کے دلی اطمینان کے لئے تھا ورنہ فرشتے جنگ میں عملاً شریک نہیں ہوئے تھے۔
صحیح روایت سے ثابت ہے کہ فرشتے جنگ میں عملاً شریک ہوئے۔ البتہ یہاں یہ ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ نصرت کے لئے تو ایک ہی فرشتہ کافی تھا، تو ہزاروں فرشتے کیوں نازل ہوئے۔
امام ابن کثیر رحمہ الله صحیحین میں موجود عرصۂ جنگ میں فرشتوں کے نزول کی احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ الله کی طرف سے فرشتوں کا نزول اور مسلمانوں کو اِس کی اطلاع بطورِ خوشخبری تھی، ورنہ الله اِس کے بغیر بھی اپنے دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد کر سکتا ہے، اِس لئے اُس نے فرمایا ہےکہ مدد صرف الله کی طرف سے ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قرآن میں فرشتوں کی مدد کی خوشخبر ی کا واقعہ ہے تا کہ مؤمنوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچے اور معرکے میں انہیں کوئی ڈر نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مؤمنوں سے وعدہ کیا اور انہیں خوشخبری دی کہ وہ پانچ ہزار فرشتوں سے ان کی مدد کو آئے گا۔ اس عدد کو زیادہ کر کے اس لئے دکھایا تا کہ ان کے لئے خوشخبری ہو حالانکہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہی یہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم سے زمین کو تہ و بالا کر دے۔ اس کے لئے پانچ ہزار کی نہیں بلکہ پانچ کی بھی ضرورت نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اُن کو عظیم نصرت دکھائے تو اس نے وہ لفظ اختیار کیا جس سے امداد کرنیو الے کی کثرت ظاہر ہوتی ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ آ نحضرت ﷺنے جب انصار کو پُکارا اور وہ واپس آگئے اور پھر خوب جوش و خروش سے لڑنے لگےتو اِسکے ساتھ ہی نبی اکرم ﷺ نے دعا کی اور اپنے ہاتھ سے کنکریوں کی ایک مُٹھی کفّار کی طرف پھینکی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ بنوہوازن، جنکا یہ دعویٰ تھا کہ آج تک محمدﷺ کا مقابلہ کسی جنگجو قوم سے ہوا ہی نہیں، ہم سے مقابلہ ہو گا تو ہم بتائینگے کہ جنگ کیا ہوتی ہے اور جو فی الحقیقت عرب کے طاقتور ترین قبائل میں سے ایک تھا،وہ تھوڑی ہی دیر میں شکست کھا کے بھاگنے لگےاور اپنے بیوی بچوں اور مال مویشی کی کسی کو خبر نہ رہی۔ یہ بھاگنے والے اوتاس کی طرف بھاگ نکلے۔
ہوازن کے راہِ فرار اختیار کرنیکے باوجود ثقیف قبیلہ کےجنگجو ڈٹے رہے اور نہایت دلیری سے لڑتے رہے، یہاں تک کہ اُن کے ستّر لوگ مارے گئے۔ اُن کا سب سے آخری عَلَمبردار عثمان بن عبدالله تھا، جب وہ قتل ہوا تو پھر ثقیف بھی بھاگ گئے۔اِس جنگ میں چار صحابہؓ شہید ہوئے۔ اِن کے نام یہ ہیں :
حضرت اُمِّ ایمن رضی الله عنہاکے بیٹے ایمن بن عُبَیْدؓ۔ سُراقہ بن حارثؓ، یزید بن زمعہؓ اور چوتھے حضرت ابو عامرؓ تھے۔
ایک راوی بیان کرتے ہیں کہ جب کفّار کو شکست ہو گئی اور مسلمان اپنے اپنے خیموں کی طرف چلے گئے تو مَیں نے رسول اللهﷺ کو دیکھا کہ آپؐلوگوں کے درمیان چل رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ مجھے خالد بن ولید تک کون پہنچائے گا؟ جب اُن کے پاس پہنچے، تو خالد کجاوے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ حضورؐ خالد کے پاس بیٹھ گئےاور زخم دیکھ کر اپنا لُعاب ِ دہن لگایا۔ جس سے اُنہیں شفا ہو گئی۔
سریّہ اَوطاس کی تفصیل یوں ہے کہ حنین کے میدان سے بُری طرح شکست کھانے کے بعد بنو ہوازن کا لشکر، جدھر اُن کا منہ اُٹھا، اُس طرف بھاگ گئے۔ اِس کا ایک حصّہ، جس میں بنو ہوازن کا سپہ سالار مالک بن عوف بھی تھا، وہ طائف کی طرف بھاگا اور طائف کے قلعے میں پناہ لے لی اور ایک حصّہ اَوطاس کی وادی میں جمع ہو گیا اور ایک نخلہ کی طرف بھاگ گیا۔
بنو ہوازن چونکہ اپنے بیوی بچے اور سارے مال مویشی اپنے ساتھ لے کر حملہ آور ہوئے تھے اور خود تو وہ بھاگ گئے اور اب یہ سب کچھ مالِ غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا تھا۔
پھر حضور انور نےسریّہ طفیل بن عمرو دوسی کا ذکر فرمایا جوشوّال آٹھ ہجری میں ہوا۔آنحضرت ﷺ جب حنین سے طائف کی طرف چلنے لگے تو آپؐنے طفیل دوسی کو ذوالکفین نامی بُت گرانے کیلئے بھیجا۔ آنحضرت ﷺنے اُنکو اِس مہم کا امیر مقرر فرمایا اور یہ نصائح فرمائیں کہ اسلام خوب پھیلانا یعنی سلامتی کو رواج دینا، لوگوں کو کھانا کھلانا، الله تعالیٰ سے اِس طرح حیا کرنا جسطرح ایک باوقار آدمی اپنے گھر والوں سے شرماتا ہے۔ جب بھی کوئی غلطی یا گناہ ہو جائے، اُسکے فوراً بعد نیکی کر لیا کرنا، کیونکہ نیکیاں گناہوں کو مٹا ڈالتی ہیں۔ اور پھر فرمایا کہ اپنی قوم کے لوگوں کو ساتھ لینا اور یہ کام مکمل کر کے واپس طائف چلے آنا۔چنانچہ آپؓنے اپنی قوم کے چار سو افراد کو ساتھ لیا اور لکڑی کے بنے ہوئے اُس بُت کو آگ لگا کر جلا دیا۔
پھر حضور انور نے فرمایا: غزوۂ طائف شوّال 8 ہجری میں ہوا۔طائف مکّہ سے مشرق کی جانب تقریباً 90 کلومیٹر پر ایک مشہور شہر ہے۔ طائف نہایت مضبوط مقام تھا۔آپؐنے حضرت خالد بن ولیدؓ کی سرکردگی میں ایک ہزار فوج کا ہراول دستہ روانہ کیا، اُنہوں نے وہاں پہنچ کر قلعہ یعنی طائف والوں سے مذاکرات کی کوشش کی، مگر وہ آمادہ نہ ہوئے۔حضرت خالد بن ولیدؓکو روانہ کرنے کے بعد آنحضرتؐنے خود بھی طائف کا رُخ فرمایا۔
اہلِ طائف ایک عرصہ سے اِس جنگ کے لئے تیاری کر رہے تھے۔نبی اکرم ﷺنے ابتدا میں طائف کے بہت قریب ایک کھلی جگہ پر پڑاؤ کیا۔ ابھی لشکر نے پوری طرح قیام بھی نہ کیا تھا کہ قلعے سے تیر اندازوں نے سخت تیر اندازی کر کے بہت سے مسلمانوں کو زخمی کر دیا۔ دورانِ محاصرہ دونوں طرف سے تیر اندازی اور پتھراؤ کے واقعات بھی پیش آتے رہے۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کے لئے آنحضرتؐ نے منجنیق لگا کر اہلِ طائف پر بڑے بڑے پتھر پھینکے۔
اِسی دوران آنحضرتؐنے ایک مرتبہ طائف والوں کے انگوروں کے باغات کاٹنے کا بھی حکم دیا، میرا خیال ہے کہ یہ آخری حربہ تھا ، جو ڈرانے کے لئے عام طور پر استعمال کیا ہو گا کیونکہ بعد میں آپؑنے اس سے منع بھی کر دیا تھا۔
آنحضرتؐاور صحابہؓ نصف ماہ یا اِس سے بھی زائد عرصہ تک اہلِ طائف سے جنگ میں مصروف رہے۔ لیکن حنین کی شکست کا ایسا خوف اور رعب ان کے دلوں پر طاری ہو چکا تھا کہ وہ قلعے کے اندر سے لڑتے رہے اور باہر نہیں نکلے۔
ایک مرتبہ خالد بن ولیدؓ نے میدان میں نکل کر ثقیف کے بہادروں کو چیلنج کیا اور مبارزت کی دعوت دی ، لیکن بار بار کی پکار پر کوئی بھی باہر نہ نکلا، یہاں تک کہ ثقیف کے سردار عبد یالیل نے حضرت خالدؓ کو بلند آواز سے پکار کر کہا کہ ہم میں کوئی بھی تمہارے ساتھ مقابلہ پر نہیں آئے گا۔ ہم اپنے قلعے میں محفوظ ہیں اور سال بھر کے لئے ہمارے پاس کھانا اور خوراک ہیں۔ ہمیں کوئی فکر نہیں۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ نماز کے بعد مَیں دو جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ پہلا ہے مکرم ڈاکٹر سیّد شہاب احمد صاحب جو آجکل کینیڈا میں تھے، بنیادی طور پر انڈیا کے تھے۔ گزشتہ دنوں چھیانوے سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ انا لله و انا الیہ راجعون۔مرحوم موصی تھے۔ اِن کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔ آپ حضرت مسیح موعودؑ کے صحابی حضرت سیّد اِرادت حسین صاحبؓآف صوبہ بہار کے نواسے تھے۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نفسیات میں ایم ایس سی کی، پھر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے ایم اے کیا، بعد ازاں گلاسگو یونیورسٹی سکاٹ لینڈ سے اِسی مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔مرحوم کو مختلف وقتوں میں ہندوستان اور کینیڈا میں جماعتی خدمت کی بھی توفیق ملی۔اِن کا ایک اہم کارنامہ صوبہ بہار انڈیا کی تاریخِ احمدیت کو مرتّب کرنا بھی ہے۔
دوسرا ذکر ہے، مبارک کھوکھر صاحب لاہور کا ۔ یہ بھی گزشتہ دنوں اِکاسی سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ انا لله و انا الیہ راجعون۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرّابعؒکے ساتھ خاص تعلق تھا، اُنہوں نے ہی اِن کا رشتہ اور شادی کروائی اورخلافت سے پہلے بھی اُن کے ساتھ بہت قریبی تعلق تھا۔ جماعتی لحاظ سے کوئی ایسی اہم خدمت تو اِن کے سپرد نہیں ہوئی لیکن جماعتی خدمت کے لئے جب بھی اِن کو بلایا جاتا، یہ فوراً حاضر ہو جاتے۔
٭…٭…٭