تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا :
جنگِ حنین میں دشمن کے تیراندازوں کی وجہ سے مسلمانوں کے لشکرمیں جو بھگدڑ مچی تھی، اس کی تفصیل حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے سورہ نور کی آیت 64 کی تفسیرمیں بیان فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح نبی کی اطاعت کرنی چاہئے۔ وہ آیت یہ ہے :
لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا۰ۭ قَدْ يَعْلَمُ اللہُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا۰ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِيْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ يُصِيْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۶۴
ترجمہ :: اَے مومنو! یہ نہ سمجھو کہ رسول کا تم میں سے کسی کو بلانا ایسا ہی ہے جیسا کہ تم میں سے بعض کا بعض کو بلانا۔ اللہ اُن لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے پہلو بچا کر مشورے کی مجلس سے بھاگ جاتے ہیں۔ پس چاہئے کہ جو اس رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اس سے ڈریں کہ اُنکو خدا کی طرف سے کوئی آفت نہ پہنچ جائے یا اُنکو دردناک عذاب نہ پہنچ جائے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امام کی آواز کے مقابلے میں افراد کی آواز کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ تمہارا فرض ہے کہ جب بھی تمہارے کانوں میں خدا کے رسول کی آواز آئے تم فوراً اس پر لبیک کہو اور اسکی تعمیل کیلئے دوڑ پڑو۔ اسی میں تمہاری ترقی کا راز مضمر ہے بلکہ اگر انسان اسوقت نماز بھی پڑھ رہا ہو تو تب بھی اس کا فرض ہوتا ہےکہ نماز توڑ کر خدا کے رسول کی آواز کا جواب دے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ جنگ حنین میں اسلامی لشکر میں بھگدڑ مچ جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اور اس موقع پر آنحضرتﷺ کی کمال شجاعت اور ثابت قدمی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ رسول اللہ ﷺ کے گرد صرف بارہ صحابہؓ باقی رہ گئے۔ اس موقع پر حضرت عباسؓنے آنحضرتﷺ کے گھوڑے کی باگ پکڑی اور عرض کیا کہ اب ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں واپس چلیں تاکہ مسلمانوں کی جمعیت کو دوبارہ مجتمع کرکے حملہ کیا جاسکے۔ مگر آنحضورﷺ نے فرمایا کہ خدا کے نبی میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں موڑا کرتے۔ یہ کہہ کر آپؐنے گھوڑے کی باگ کھینچی اور اسے اور بھی آگے بڑھا یا اور یہ شعر پڑھا کہ
اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب
اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب
مَیں خدا کا نبی ہوں اور مَیں جھوٹا نہیں ہوں اور مَیں جو آج چار ہزار تیر اندازوں کے حملے کے باوجود نہیں رُکا اور آگے ہی بڑھتا چلا جارہا ہوں تو کہیں اس نظارے کو دیکھ کر تم یہ نہ سمجھ لینا کہ مَیں خدا ہوں، یا مجھ میں خدائی صفات پائی جاتی ہیں۔ نہیں! مَیں خدا نہیں ہوں مَیں وہی عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
حضرت عباسؓکی آواز بہت اونچی تھی، آپؐنے فرمایا عباسؓآگے آؤ اور آواز دوکہ اَے سورہ بقرہ کے صحابیو یعنی جنہوں نے سورہ بقرۃ یاد کی ہوئی ہے، اَے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کرنے والو خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔
ایک صحابی کہتے ہیں کہ جب یہ آواز میرے کان میں پڑی تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں زندہ نہیں بلکہ مُردہ ہوں اور اسرافیل کا صور فضا میں گونج رہا ہے۔ میں نے اپنی اونٹ کی لگام زور سے کھینچی اور اس کا سر پیٹھ سے لگ گیا لیکن وہ اتنا بدکا ہوا تھا کہ جونہی میں نے لگام ڈھیلی کی وہ پھر پیچھے کی طرف دوڑا۔ اس پر میں نے اور میرے بہت سے ساتھیوں نے تلواریں نکال لیں اور کئی تو اونٹ پر سے کود گئے اور کئی نے اونٹوں کی گردنیں کاٹ دیں اور رسول کریم ﷺ کی طرف دوڑنا شروع کر دیا اور چند لمحوں میں ہی وہ دس ہزار صحابہ کا لشکر جو بے اختیار مکہ کی طرف بھاگا جا رہا تھا آپ کے گرد جمع ہو گیا اور تھوڑی دیر میں پہاڑیوں پر چڑھ کے اُسنے دشمن کا تہس نہس کر دیا اور یہ خطرناک شکست ایک عظیم الشان فتح کی صورت میں بدل گئی۔
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام کے اخلاص و وفا اور عشق و محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ لوگ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہﷺ کے اِس ایمان سے فائدہ اٹھایا۔ جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ شان تھی کہ خواہ کیسا ہی خطرہ ہو خدا آپؐکی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا تھا یہی شان اپنے اپنے درجے کے مطابق صحابہؓ میں پیدا ہوگئی۔
روایات میں آنحضورﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہنے والے صحابہؓ اور صحابیاتؓ کی تعداد اور اسماء بھی ملتے ہیں۔ مختلف روایات میں یہ تعداد ایک سَو تک بیان کی گئی ہے۔
حضرت اُمِّ سُلَیْمْ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے میدانِ جنگ سے بھاگنے کا اتنا دکھ تھا کہ آپؓنے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہمارے بعد جو طُلَقَاء (یعنی مکے کے وہ باشندے جنہیں آپؐنے احسان فرماتے ہوئے معاف فرمادیا تھا) ملیں انہیں قتل کردیجیے گا۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ اے اُمِّ سُلَیْمْ ! یقیناً اللہ تعالیٰ دشمن کے مقابلے میں کافی ہوا اور اس نے احسان فرمایا۔
ایک اَور بہادر صحابیہ حضرت اُمّ عمارہؓسے روایت ہے کہ جب غزوۂ حنین کے دن لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو ہم چار عورتیں تھیں۔ میرے پاس تیز کاٹنے والی تلوار تھی اوراُمِّ سُلَیْمْ کے پاس تیز خنجر تھا اور انہوں نے وہ خنجر کمر کے ساتھ باندھ رکھا تھا اور وہ امید سے تھیں۔ اِن کے علاوہ دو اور خواتین بھی تھیں۔ حضرت امِ عمارہؓنے آواز دی اور کہا کہ اے انصار! تمہیں فرار ہونے سے کیا تعلق؟ وہ کہتی ہیں کہ مَیں نے ہوازن کے ایک شخص کو دیکھا جو جھنڈا اٹھائے گندمی اونٹ پر سوار تھا۔ وہ مسلمانوں کے پیچھے بھاگا جارہا تھا۔ مَیں اس کے سامنے آئی اور اس کے اونٹ کی کونچوں پر وار کیا، وہ سوار اپنی پیٹھ کے بَل نیچے گرا تو مَیں نے اس پر حملہ کیا اور اس پر وار کرتی رہی یہاں تک کہ اسے موت کی نیند سلا دیا۔ پھر مَیں نے اس کی تلوار لے لی اور رسول اللہﷺ کے پاس آئی۔ آپؐصحابہؓ کو پکار رہے تھے اور صحابہؓ واپس آرہے تھے اور پھر مسلمانوں نے دشمن پر حملہ کیا اور دشمن اتنی دیر ہی ٹھہر سکا جتنی دیر میں اونٹنی کو دوہا جاتا ہے۔مَیں نے دشمن کی ایسی ذلت بھری شکست کبھی نہیں دیکھی وہ منہ اٹھائے اِدھر اُدھر بھاگے جاتا تھا۔
صحابہؓ کے واپس پلٹنے پر جب جنگ زوروں پر تھی تو آنحضورﷺ نے نظر اٹھاکر جنگ کا نظارہ کیا اور آپؐاس وقت اپنے خچر پر سوار تھے۔ آپؐنے فرمایا کہ جنگ اپنے زوروں پر ہے۔ پھر آپؐنے کنکر پکڑے اور انہیں کفار کے چہرے کی طرف پھینکا اور فرمایا محمد(ﷺ) کے ربّ کی قَسم! یہ لوگ شکست کھا گئے۔ حضرت عباسؓکہتے ہیں کہ اللہ کی قَسم! جونہی آپؐنے کنکریاں پھینکیں تو کفار کی تیزی ماند پڑنے لگی اور ان کا معاملہ الٹنے لگا۔
اس موقعے پر آپؐکی ایک دعا کا بھی ذکر ملتا ہے جو اس طرح ہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَنْشُدُکَ مَا وَعَدْتَّـــنِی اَللّٰھُمَّ لَا یَنْبَغِیْ لَھُمْ اَنْ یَّــظْھَــــرُوْا عَلَیْنَا اَے اللہ! مَیں تجھے اس کا واسطہ دیتا ہوں جو تُو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اَے اللہ! اُن کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ ہم پر غالب آئیں اور ہم مغلوب ہوجائیں۔
شیبہ بن عثمان ایک قریشی معزز شخص تھاجس کا باپ اُحد کی جنگ میں مارا گیا تھا، وہ خود کہا کرتا تھا کہ چاہے سارا عرب محمد(ﷺ) کا کلمہ پڑھ لے مگر مَیں پھر بھی مسلمان نہیں ہوں گا۔ شیبہ کا بیان ہے کہ جب میدانِ جنگ میں آپؐکے پاس صرف چند آدمی رہ گئے تو مَیں نے سوچاکہ یہ اچھا موقع ہے کہ مَیں محمد کو قتل کردوں۔ یہ سوچ کر مَیں نے دائیں جانب سے حملہ کرنا چاہا تو وہاں مَیں نے عباس کو کھڑا دیکھا۔ مَیں نے خیال کیا کہ عباس کی موجودگی میں محمدپر حملہ کرنا ممکن نہیں۔ پھر مَیں نے بائیں جانب سے حملہ کرنا چاہا تو اس طرف ابو سفیان بن حارث کو کھڑا پایا تو مَیں واپس ہوگیا۔ پھر مَیں نے آپؐکے پیچھے سے حملہ کرنا چاہا ، اتنے میں آنحضرت ﷺ نے مجھے آواز دی کہ اَے شیبہ! میرے قریب آؤ۔مَیں قریب آیا تو آپؐنے تبسّم فرمایا اور میرے سینے پر اپنا ہاتھ پھیرا اوریہ دعا کی کہ اَے اللہ! شیطان کو اِس سے دُور کردے۔ شیبہ کہتے ہیں کہ خدا کی قَسم! اُسی وقت رسول اللہﷺ مجھے میرے کان، میری آنکھ اور میری جان سے بھی زیادہ مجھے عزیز ہوگئے اور میرا سینہ صاف ہوگیا۔ پھر آپؐنے شیبہ سے فرمایا :اَے شیبہ! کافروں سے جنگ کرو۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اب مَیں رسول اللہﷺ کے دفاع میں تلوار لے کر آگے بڑھا اور رسول اللہﷺ کی محبت میں یوں جنگ کرنے لگا کہ اگر اس وقت میرا باپ بھی میرے سامنے آتا تو مَیں اس کو بھی قتل کردیتا۔
جنگ کے خاتمے کے بعد آنحضرتﷺ اپنے خیمے میں تشریف فرما تھے کہ شیبہ بن عثمان آنحضورﷺ کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے ۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ جو کچھ تم اُس وقت سوچ رہے تھے اس سے یہ بہتر ہے جو خدا نے اب تمہارے لئے مقدر کردیا ہے۔ پھر آپؐنے شیبہ کووہ تمام باتیں بتائیں جو شیبہ میدانِ جنگ میں اپنے دل میں سوچ رہا تھا۔ شیبہ نے اپنے لئے بخشش کی دعا کی درخواست کی تو رسول اللہﷺ نے شیبہ کیلئے بخشش کی دعا کی۔ ٭٭٭