تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا : جنگ حنین کے تعلق میں آج کچھ مزید تفصیل بیان کرونگا۔
آنحضرتﷺ نے مکّے سےروانہ ہوتے وقت حضرت عتاب بن اسیدؓ کو امیرمقررفرمایا، یہ مکّےکےپہلے امیر تھے جو مقرر کیے گئے۔ اُس وقت حضرت عتابؓکی عمر تقریباً بیس سال تھی۔ حضرت معاذ بن جبلؓکو اہلِ مکّہ کو دین کی تعلیم سکھانےکی ذمہ داری سونپی گئی۔
حضرت عتابؓاور ان کے والد قریش کے خاندان کے سرکردہ افراد تھے اور اسلام کے سخت مخالف تھے۔ آپؓکی اسلام دشمنی کا یہ عالَم تھا کہ فتح مکہ کے دن جب حضرت بلالؓنے اذان دی تو عتاب نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ شکر ہے کہ میرا باپ یہ اذان سننے سے پہلے ہی دنیاسے چلا گیا۔ عتابؓنے اس کے بعد فتح مکہ کے دن اسلام قبول کرلیا تھا۔ آنحضرتﷺ نے حضرت عتابؓکو مکے کا عامل مقرر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اے عتاب! مَیں نے تمہیں اہل اللہ یعنی اللہ کے گھر والوں پر عامل مقرر کیا ہے، ان سے نرمی سے معاملہ کرنا۔ حضرت عتابؓ آنحضرتﷺ کی وفات تک مکے کے عامل رہے اور ایک روایت کے مطابق آپؓعہدِ صدیقی میں بھی مکے کے عامل رہے۔
آنحضرتﷺ غزوہ حنین کیلئے 6؍ شوّال کو ہفتے کےدن روانہ ہوئے، اور 10؍شوّال کو حنین پہنچے۔ ازواجِ مطہرات میں سے اس سفر میں حضرت ام سلمہؓ اور حضرت زینبؓآپؐکے ساتھ تھیں۔ غزوہ حنین میں سپاہیوں اور ہتھیاروں دونوں اعتبار سے مسلمانوں کی تعداد گوکہ مخالف لشکر کےمقابل پر کم تھی، مگر اب تک کےسابقہ تمام غزوات کی نسبت یہ تعداد زیادہ تھی۔ ائمہ مغازی نے لکھا ہے کہ آپؐبارہ ہزار کے لشکرکے ساتھ روانہ ہوئے تھے، دس ہزار تو وہ جو فتح مکہ کےلیےمدینےسےآئے تھے جبکہ اہلِ مکہ میں سے دو ہزار لوگ آپؐکے ساتھ اس غزوے کےلیے روانہ ہوئے۔
حضرت سہلؓبیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کےساتھ حنین کے سفر میں چل رہے تھے، انہوں نے بہت لمبا سفر کیا یہاں تک کہ شام ہوگئی، مَیں آنحضورﷺکےساتھ نماز میں شامل ہوا۔اتنی دیرمیں ایک سوار آیا اور اس نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ! مَیں آپ لوگوں کے آگے آگے گیا اور میں نے دیکھا کہ ہوازن کے لوگ اپنی عورتوں اور جانوروں کے ساتھ جمع ہوئے ہیں۔ آپؐنے یہ سن کر تبسّم فرمایا اور فرمایا کہ کل انشاء اللہ یہ مسلمانوں کا مالِ غنیمت ہوگا، پھر فرمایا کہ آج رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ حضرت انس بن ابی مرسلؓنے کہا کہ مَیں پہرہ دوں گا۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں فرمایا کہ اس گھاٹی میں جاؤ اور یہ نہ ہو کہ ہم تمہاری وجہ سے دھوکا کھائیں۔ یعنی چوکس ہوکر پہرہ دینا۔ جب صبح ہوئی تو آنحضورﷺ اپنی نماز کےلیے نکلے،نماز کےبعد آپؐنے فرمایا کہ تمہیں مبارک ہو کہ تمہارا سوار آگیا ہے، پھر آپؐنے حضرت انس بن ابی مرسل کو فرمایا کہ تمہارے لیے جنّت واجب ہوگئی۔
مالک بن عوف نے تین جاسوسوں کو مسلمانوں کے لشکر میں بھیجا تھا،مگر یہ تینوں جب واپس مالک بن عوف کے پاس پہنچےتو حواس باختہ تھے، انہوں نے کہا کہ ہم نے گھوڑوں پر سفید آدمیوں کو دیکھا ہے اگر جنگ ہوگئی تو ہم ان لوگوں پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ ہم زمین والوں پر قابو نہیں پاسکتے تو ہم آسمان والوں پر کیسے جنگ کریں گے۔ اگر ہماری بات مانو تو واپس چلے جاؤ۔ مالک بن عوف نے انہیں برا بھلا کہا اور ایک بہادر آدمی کو بھیجا۔ وہ بھی جلد واپس آگیا اور وہ بھی مرعوب تھا۔ اس نے بھی یہی کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ہم واپس لوٹ چلیں۔ مگر مالک بن عوف نے یہ بات نہ مانی۔
حضرت سلمہ بن اکوعؓبیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ھوازن پر حملہ آور ہوئے تو ایک آدمی آیا اور بیٹھ گیا اور لوگوں سے باتیں کرنے لگا، پھر وہ واپس جانے لگا اور تیزی سے اونٹ پر سوار ہوکر بھاگنےلگا، آنحضورﷺ نے اُسے دیکھا تو فرمایا کہ یہ جاسوس ہے اسے پکڑو اور قتل کردو۔ چنانچہ اس کا پیچھا کیا گیا اور قتل کردیا گیا۔
حضور انور نے فرمایا : وادی حنین ایسی وادی ہے کہ جس میں بہت سی گھاٹیاں ہیں۔مالک بن عوف نے اپنے فوجیوں کو گھاٹیوں میں گھات لگا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آنحضورﷺ اور آپؐکے اصحابؓپر دفعۃً حملہ کردیں۔ کفار کی صف بندی یہ تھی کہ سب سے آگے گھڑ سوار، ان کے پیچھے پیادہ فوج، پھر اونٹوں پر عورتیں اور بچے اور پھر مال مویشی۔
آنحضرتﷺ نے بنو سلیم کا ایک ہزار کاگھڑ سوار دستہ فوج کے ہراول میں رکھا اور اس کی قیادت خالد بن ولیدؓکے سپرد فرمائی۔ رسول اللہﷺ لشکر کے وسط میں تھے۔ آپؐنے انصار اور مہاجرین میں بڑے پرچم تقسیم کیے۔ مہاجرین کا ایک پرچم حضرت علیؓکے سپرد کیا اور ایک پرچم حضرت سعد بن ابی وقاصؓکے سپرد فرمایا۔ ایک پرچم حضرت عمر ؓکے سپرد فرمایا۔ بنو خزرج کا پرچم حضرت حباب بن منذرؓاور اوس کا پرچم اسید بن حضیرؓکےسپرد فرمایا۔
حنین کے معرکے میں ابتدائی فتح مسلمانوں کو ہوئی، مگر پھر کفار کے اچانک حملے سے مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی اور مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی۔ تاہم اس کے بعد مسلمانوں کو زبردست فتح حاصل ہوئی۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت براء بن عازبؓبیان کرتے ہیں کہ ہم نے بنوہوازن پر حملہ کیا تو وہ شکست کھاکر پسپا ہوگئے اور ہم مالِ غنیمت اکٹھا کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے ہم پر تیروں کی بوچھاڑکردی ۔اس کی وجہ سے وہ نوجوان جن کے پاس بچاؤ کا کوئی سامان نہ تھا پیٹھ پھیر کر بھاگے، مگر جہاں تک رسول اکرمﷺ کی بات ہے آپؐاس وقت بھی میدان میں ڈٹے رہے۔ آپؐسفید خچر پر سوار تھے۔
حضورانور نے فرمایا کہ آنحضرتﷺ کی تمام جنگوں میں سب سے قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ان سب جنگوں میں صورتِ حال کیسی بھی رہی ہوآپؐجیسی جرأت اور بہادری کی مثال نہیں ملتی۔ جسوقت بڑے بڑے بہادروں کے بھی پاؤں اکھڑ جاتے ہیں آپؐان مواقع پر چٹان کی طرح ڈٹے نظر آتے ہیں۔ جب مسلمانوں کے لشکر میں انتشار پیدا ہوا تو آپؐکے پاس چند افراد موجود رہ گئے تھے جن کی تعداد چار سے لےکر تین سَو تک بیان کی جاتی ہے۔
روایات میں ذکر آتا ہے کہ حنین کے موقع پر سب لوگ نہیں بھاگے تھے بلکہ مکہ کے مؤلفۃ القلوب لوگوں میں سےجو منافق لوگ تھے اور مکے کے دیگر لوگ جو اس جنگ میں شریک ہوگئے تھے اور ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے انہوں نے بھاگنا شروع کردیا تھا اور یہ ناگہانی شکست اسوجہ سے ہوئی کیونکہ دشمنوں نے ایک ساتھ تیروں کی بوچھاڑ شروع کردی تھی۔
خطبے کے آخرمیں حضورِانور نے جلسہ سالانہ جرمنی کے حوالے سے فرمایا کہ آج سے جرمنی کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہوا ہے۔ وہاں کے تمام شاملین کو دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلسے کے مقاصد کو پورا کرنے کی توفیق دے اور صرف میلہ سمجھ کر یہاں جمع نہ ہوں بلکہ اِن دنوں میں اپنی علمی، عملی اور روحانی ترقی میں مستقل بڑھتے چلے جانے کا عہد کریں اور اس کے لیے کوشش کریں۔ اِن دنوں میں خاص طور پر ذکر الٰہی اور دعاؤں میں وقت گزاریں۔ جہاں اپنے لیے، اپنی نسلوں کے لیے دعا کریں وہاں جماعت کی ترقی اور ہر مخالف کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے اور ان کے شر کے خاتمہ کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ اِن کے شر سے بچائے۔
حضورِانور نے فرمایا کہ پاکستان میں آئے دن کوئی نہ کوئی تکلیف دہ واقعہ ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ جلد ان مخالفین کی پکڑ کے سامان فرمائے۔
بعد ازاں حضور انور نے دنیا کے عمومی حالات اور فلسطین کے مسلمانوں کےلیے دعاؤں کی تحریک فرمائی۔
٭…٭…٭