اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-28

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 22؍اگست 2025ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نےفرمایا : آنحضرت ﷺکی سیرت کے حوالے سے غزوات کا ذکر ہو رہا تھا۔ اسی ضمن میں آج غزوہ حنین کا ذکر کروں گا۔ یہ غزوہ شوال 8 ہجری میں ہوا۔ اس کو غزوہ حنین اس لئے کہا جاتا ہےکہ یہ غزوہ حنین مقام پر ہوا تھاجو مکہ اور طائف کے درمیان ایک بستی کا نام ہے۔ مکہ سے قریباً 26کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس غزوہ میں کفار کی طرف سے سب سے بڑا قبیلہ ہوازن تھا اس لئے اس کو غزوہ ہوازن بھی کہاجاتا ہے۔ بعض نے اس کو غزوہ اَوطاس بھی کہا ہے کیونکہ دشمن کی فوج کا ایک حصہ حنین سے بھاگ کر اوطاس نامی وادی میں چلا گیا تھا اور مسلمانوں نے وہاں پہنچ کر دشمن کو شکست دی تھی غزوہ حنین کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح ہے ۔
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللہُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَۃٍ۝۰ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ۝۰ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ۝۲۵ۚ ثُمَّ اَنْزَلَ اللہُ سَكِيْنَتَہٗ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْہَا وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝۰ۭ وَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ۝۲۶ ثُمَّ يَتُوْبُ اللہُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۲۷ (سورہ توبہ)
یقینا اللہ بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کر چکا ہے اور خاص طور پر حنین کے دن بھی جب تمہاری کثرت نے تمہیں تکبر میں مبتلا کر دیا تھا۔ پس وہ تمہارے کسی کام نہ آسکی اور زمین کشادہ ہونے کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ دکھاتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل کی اور ایسے لشکر اُتارے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور اس نے ان لوگوں کو عذاب دیا جنہوں نے کفر کیا تھا اور کافروں کی ایسی ہی جزا ہوا کرتی ہے۔ پھر اس کے بعد بھی اللہ جس پر چاہے گا توبہ قبول کرتے ہوئے جھک جائے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
حضور انور نے فرمایا : جب مکہ فتح ہو گیا ، اُسوقت تک عرب کے بڑے بڑے قبائل یاتو اسلام لے آئے یا آنحضرت ﷺ کی اطاعت میں چلے آئے لیکن مکہ کے قریب ہی بسنے والے بنو ہوازن اور بنو ثقیف جو کہ نہایت سرکش اور جنگجو قبائل تھے انہوں نے نہ صرف یہ کہ اطاعت قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ ان کے سردار جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ محمد (ﷺ)نے مکہ سمیت عرب کے قبائل کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا لیا ہے، اب وہ یقینا ہماری طرف پیش قدمی کریں گے، اِسلئے بہتر ہو گا کہ قبل اسکے کہ وہ ہماری طرف بڑھیں ہم خود ان پر حملہ آور ہو جائیں۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ محمد ﷺکا واسطہ ابھی تک اناڑی لوگوں سے پڑا ہے ہمارے ساتھ ابھی تک ان کا واسطہ نہیں پڑا۔ بنو ہوازن کے ساتھ قبیلہ ثقیف نصر اور جشم کے تمام جنگجو افراد جمع ہو گئے۔ قبیلہ سعد بن بکر اور بنو ہلال میں سے کچھ لوگ جمع ہوئے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو ہوازن نے دراصل اس سے بہت پہلے ہی مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی تیاری شروع کر دی تھی اور عروہ بن مسعود کی قیادت میں ایک وفد اُردن بھیجا تا کہ وہاں سے اسلحہ اور جنگی ہتھیار وغیرہ لے کے آئے۔
بنو ہوازن کی ان تیاریوں کا علم اس طرح ہوا کہ جب آنحضرت ﷺنے فتح مکہ کے لئے مدینہ سے مکہ کی طرف روانگی کا ارادہ فرمایا تو آپؐنے ہراول دستے کے طور پر کچھ لوگوں کو لشکر کے آگے آگے روانہ کر دیا۔ اس ہراول دستے نے ہوازن کے ایک آدمی کو گرفتار کر لیا جو کہ ایک جاسوس تھا اور ہوازن کی طرف سے مسلمانوں پر نظر رکھنے کے لئے پھر رہا تھا۔ آنحضرت ﷺنے جب اس سے اچھی طرح پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ بنو ہوازن نے بہت ساری فوج جمع کی ہے اور بنو ثقیف کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے اور بھاری ہتھیار اور اسلحہ لانے کے لئے ایک وفد کو اُردن بھیجا ہے۔ بنو ہوازن انہی تیاریوں میں تھے کہ مکہ بغیر کسی خاص مزاحمت کے آسانی فتح ہو گیا جس کی وجہ سے ہوازن نے اپنی طاقت کے غرور میں یہ فیصلہ کیا کہ ہم خود محمد ﷺاور ان کے ساتھیوں سے مقابلہ کے لئے نکلیں اور جیسا کہ ان کا زعم تھا کہ ہم ہیں جو مسلمانوں کو مغلوب کر کے ان کا قلع قمع کر سکتے ہیں ان سب قبائل نے قبیلہ ہوازن کے سردار تیس سالہ جوان مالک بن عوف کو اپنا سپہ سالار اور سردار بنایا اور بیس ہزار کا لشکر تیار ہو کر حنین کی طرف بڑھنے لگا۔ بنو ہوازن کے سردار مالک بن عوف نے اس جنگ کی تیاری کے لئے ایک ایسا قدم اٹھایا جو عرب کی تاریخ میں شاید ہی پہلے کسی نے اٹھایا ہو اور وہ یہ کہ سپہ سالار نے ہر قبیلے کے ہر فرد کو یہ حکم دیا کہ وہ لڑائی کے لئے اپنے گھر سے اکیلے نہیں نکلے گا بلکہ اپنے بیوی بچے یہاں تک کہ اپنے مال مویشی سب کچھ ساتھ لے کر نکلے اور اس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے لشکر کا ہر سپاہی جان توڑ کر مردانہ وار جنگ کرے گا اور بھاگنے کی کوئی راہ نہیںہوگی۔
اس جنگ میں ایک بوڑھا سردار درید بن صمہ ہوازن کا تھا۔اس میں لڑائی کی قوت نہ تھی مگر تجربہ کار تھا اور جنگی مہارت سے خوب واقف تھا۔ درید نے مالک بن عوف کو بیوی بچوں اور مال مویشی سمیت جنگ کرنے سے منع کیا اور اس کی اس جنگی چال کو درست قرار نہیں دیا لیکن مالک بن عوف درید کی بات کو ماننے سے انکارکردیا۔ پھر پوچھا کہ اس کے سوا کوئی اور رائے ہے تو بتاؤ۔ اس پر درید نے کہا کہ کمین گاہوں میں اپنے افراد کو چھپا دو جو تمہارے مددگار ثابت ہوں۔ اگر دشمن نے تم پر حملہ کر دیا تو یہ ان کے پیچھے سے حملہ کر دیں گے۔ تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ حملہ کر سکو گے اگر تم نے حملہ کیا تو پھر ان میں ایک بھی پیچھے نہ ہٹے گا۔ اس وقت مالک نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ گھاٹیوں اور وادیوں کے دامن میں چھپ جائیں۔ پہلا حملہ ہی یکبارگی سے کر دیں تا کہ اسلامی لشکر کو شکست دے سکو۔
آنحضرت ﷺکو بنو ہوازن کی تیاری کی خبر بھی ملی جسکے لئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن ابو حدرد اسلمی کو بھجوایا تھا۔انہوں نے ہوازن کے لشکر کے اندر گھس کر ساری معلومات اکٹھا کیں اور واپس آکر آنحضرت ﷺ کو اس سے آگاہ کیا۔
آنحضرتﷺ نے مجبوراً مقابلے کی تیاریاں کیں۔آنحضرتﷺ نے بنو ہوازن سے مقابلے کیلئے مکہ سے روانگی سے قبل جائزہ لیا تو اسلامی فوج کے پاس سامان جنگ بہت کم تھا۔
مکہ کے رؤوساء سے آپؐنے سامان جنگ قرض لیا جو کہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفر پر ہی قائم تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے اخلاق فاضلہ کی جھلک قابل غور ہے کہ آپ ﷺ نے مکہ فتح کر لیا تھا اب یہ ایک مفتوح قوم تھی اور جنگی دستور اور رواج کے مطابق فاتح ہی مفتوح قوم کے اموال کا مالک ہوا کرتا ہے لیکن اب جب جنگ کے لئے ہتھیاروں کی ضرورت پڑی تو ایک ایک ہتھیار اُدھار لیا گیا اور اس وعدے کے ساتھ کہ ہم جتنے ہتھیار لے رہے ہیں اتنے ہی واپس کریں گے۔
حضور انور نے فرمایا : نماز کے بعد میں دو جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔ ایک مکرم خواجہ مختار احمد صاحب بٹ کا ہے جو خواجہ عبدالرحمن صاحب سیالکوٹ کے بیٹے تھے۔ گزشتہ دنوں یہ بیانوے سال کی عمر میں وفات پا گئے ان اللہ وانا الیہ راجعون۔ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ قانون کی تعلیم حاصل کی پھر ایئر فورس میں چلے گئے۔ 1974ء میں دیگر احمدی افسران کے ساتھ ان کو ملازمت سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ 1974ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات کے نہایت نازک دور میں آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی زیر رہنمائی جماعتی خدمات انجام دیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گہرا تعلق تھا۔ Essence of Islam کی پہلی جلد کی تیاری میں حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب کی معاونت کا بھی ان کو موقع ملا۔ مرکزی سطح پر آپ بطور ڈائریکٹر فضل عمر فاؤنڈیشن اور کافی سال دارالقضاء ربوہ میں بطور قاضی بھی خدمت بجا لاتے رہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ قضاء میں ان کے ساتھ میں نے بھی کچھ عرصہ کام کیا ہے۔ بڑے صائب الرائے اور بڑے عاجز انسان تھے اور خلافت سے ان کا تعلق تو ہمیشہ سے تھا اور میرے ساتھ بھی بڑا تعلق رہا۔آپ کی زندگی خلافت کے ساتھ وفاداری عاجزی اور اخلاص کا اعلیٰ نمونہ تھی۔
دوسرا جنازہ مکرمہ سعیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ نذیر احمد صاحب انڈیا کا ہے۔ یہ بھی گزشتہ دنوں 75 سال کی عمر میں وفات پا گئیںانا للہ وانا الیہ راجعون۔موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ تین بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔ طاہر احمد طارق صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد قادیان کی والدہ تھیں۔طاہر احمد طارق صاحب بطور جماعتی نمائندہ انگلستان میں آئے ہوئے تھے پیچھے سے انکی والدہ کی وفات ہوگئی اس لئے یہ جنازہ میں شامل نہیں ہو سکے ۔ یہ بھی خدمت کرنے والا خاندان ہے۔ مرحومہ کے چھوٹے بیٹے شبیر احمد صاحب معلم ہیںاور بیٹی مبلغ سلسلہ مکرم جبار صاحب کی اہلیہ ہیں۔ باقی دو بیٹے بھی جماعت کی خدمت کرنے والے ہیں۔ کافی خدمت گزار خاندان ہے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت کا سلوک فرمائے ان سے۔
طاہر احمد طارق صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ پچیس سال سے سانس کی تکلیف میں مبتلا تھیں اور بڑے صبر اور وقار سے اپنی بیماری کا عرصہ گزارا۔ ان کا تعلق چار کوٹ راجوری جموں کشمیر سے تھا۔ خاندان میں احمدیت کا نفوذ حضرت قاضی محمد اکبر بھٹی صاحب صحابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہوا۔بہت دیندار اور نماز اور روزہ کی پابند تھیں۔ معمولی پڑھی ہوئی تھیں لیکن بچوں کو قرآنی دعائیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں، احادیث اور انبیاء کے واقعات سناتیں۔ طبیعت میں نفاست تھی۔ بہت ملنسار اور اپنے تمام عزیز و اقارب سے محبت و شفقت کا سلوک کرنے والی تھیں۔ خلافت اور نظام سلسلہ سے بہت محبت تھی اور خود اپنے شوق سے اپنے بچوں کو دین کی خاطر وقف کیا اور وقف کو نبھانے کی ہمیشہ تلقین کرتی رہیں ۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ٭٭٭