تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نےفرمایا : گزشتہ جمعے مَیں نے تین بڑے بتوں کو مسمار کرنے کے بارے میں بتایا تھا۔ اس کی مزید تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ ایک سریّہ حضرت سَعْدبن زید اشہلی رضی الله عنہ کا تھا،رسول اللهﷺ نے چوبیس رمضان کو حضرت سَعْد بن زید رضی الله عنہ کو مناۃ بت کے انہدام کے لیے بھیجا تھا۔ اُسے بحیرۂ احمر کے ساحل پر قدید کے قریب مُشَلَّل کے مقام پر نصب کیا گیا تھا۔اِسی وجہ سے اِس کو سریّہ مُشَلَّل بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت سَعْدبن زید اشہلی رضی الله عنہ بیس سواروں کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ جب آپؓوہاں پہنچے تو وہاں ایک مجاور بھی تھا۔ مجاور نے آپؓسے پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ اُنہوں نے کہا کہ مناۃ کا گرانا۔ اُس نے کہا کہ تم اور یہ کام؟ یعنی یہ ناممکن ہے کہ یہ کام تم سے ہو سکے۔ آپؓ اِس بت کی طرف بڑھےاور اس کا کام تمام کیا ۔
سریّہ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ بطرف نخلہ، یہ 25رمضان 8ہجری بمطابق جنوری 629ء میں ہوا۔ نبی اکرم ﷺ نے تیس افراد پر مشتمل ایک دستہ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ کی قیادت میں نخلے کی طرف روانہ فرمایا تاکہ وہاں قریش کا معروف بت جس کا نام عُزیٰ تھا، اِس کو گرا دیا جائے۔
نخلہ ایک وادی ہے، جو مکّے کے مشرقی جانب ایک دن کی مسافت پر مکّہ اور طائف کے درمیان واقع ہے، یہ نخلہ کے مقام پر ایک گھر تھا جس کے نگران و نگہبان بنو شیبان تھے۔ یہ بنو ہاشم کے حلیف تھے۔ یہاں عُزیٰ قریش کا سب سے بڑا بت تھا۔
ابنِ اسحٰق رحمہ الله کہتے ہیں کہ جب عُزیٰ کے مجاور کو حضرت خالد رضی الله عنہ کی آمد کا علم ہوا تو بت پر تلوار لٹکا کر خود پہاڑ پر چڑ ھ گیا اور یہ شعر پڑھنے لگا کہ اَے عُزیٰ! خالد پر ایسا شدید حملہ کر کہ جو کچھ بھی باقی نہ چھوڑے۔ جنگی نقاب پہن اور آستین چڑھا۔ اَے عُزیٰ! اگر تم اِس شخص خالد کو قتل نہ بھی کرو تو اُسے جلد واقع ہونے والے گناہ کا مستحق بناؤ یا اس سے اس کا انتقام لو۔
حضرت خالدؓ نے نخلہ پہنچتے ہی کیکر کے درختوں کو کاٹا اور اُس گھر کو مسمار کیا، جس میں عُزیٰ بت تھا، پھر واپس مکّے آکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی۔
پھر سریّہ حضرت عَمرو بن العاصؓبطرف سُواع ہے، یہ بھی رمضان 8؍ہجری میں ہوا۔ عُزیٰ بت کے انہدام کی مہم کیساتھ ہی رسول الله ﷺنے حضرت عمرو بن العاصؓ کو سُواع بت کے قلع قمع کی خاطر بھجوایا، سُواع مدینے سے مغربی جانب ساحلِ سمندر پر رہاط میں بنی ہذیل کا بت تھا اور یہ جگہ مکّے سے تین میل کی مسافت پر تھی۔ اِس بت کی شکل ایک عورت کی تھی اور لوگ اُس کی تعظیم کے ساتھ ساتھ اُس کا طواف بھی کرتے تھے۔ اُس کے مجاور بنو لہیان تھے، جو ہُذیل ہی کی ایک شاخ ہے۔
قرآنِ کریم میں کچھ بتوں کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے، اِس میں اِس بت کا بھی ذکر ہے، چنانچہ سورۂ نوح میں آتا ہے کہ اور اُنہوں نے کہا ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ وَدّ کو چھوڑو اور نہ سُواع کو اور نہ ہی یَغوث اور یَعوق اور نسر کو۔دراصل یہ سب اُن چند نیک آدمیوں کے نام ہیں، جو حضرت نوحؑ کی قوم میں سے تھے، جب وہ مر گئے تو شیطان نے اُن کی قوم کے دل میں یہ ڈالا کہ اِن جگہوں میں، جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے، بت کھڑے کر دو۔ اور اُن کے ناموں پر اِن کے نام رکھو۔ چنانچہ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ان آدمیوں کو نہیں پوجا جاتا تھامگر جب وہ ہلاک ہو گئے اور اصل معلومات نہ رہیں تواُن بتوں کو پوجنا شروع کر دیا۔
حضرت عَمرو بن العاصؓجب رہاط کےمقام پر سُواع کے پاس پہنچے ، تو وہاں اُنہیں اُس کا مجاور ملا، آپؓنے اُسے کہا کہ وہ رسول الله ﷺکے حکم سے اِس بت کو توڑنے کے لیے آئے ہیں۔اُس نے جواب دیا کہ تم اِسے توڑنے پر ہرگز قادر نہیں ہو گے۔ آپؓنے وجہ پوچھی تو اُس نے جواب دیا کہ تم بہرحال روک دیے جاؤ گے۔ آپؓنے کہا کہ تم پر افسوس!کیا یہ سن سکتا ہے اور دیکھ سکتا ہے؟پھر آپؓنے آگے بڑھ کر اُسے توڑ دیا۔ اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اُس کوٹھڑی کو بھی مسمار کر دیں، جو اِس کے ساتھ بنی ہوئی تھی، اُنہوں نے اُسے مسمار کر دیا۔پھر آپؓنے اُس مجاور سے پوچھا کہ اب بتاؤ!اُس نے اپنے معبود کا یہ حال دیکھا تو فوراً بول اُٹھا کہ مَیں الله کی اطاعت کرتا ہوں اور اسلام قبول کرتا ہوں۔
سریّہ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ بطرف بنو جذیمہ، یہ شوال، 8ہجری کا ہے۔ فتح مکّہ کے بعد جب حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ عُزیٰ بت کو گرا کر واپس تشریف لائے، تو آنحضرت ﷺنے اُنہیں بنو جذیمہ کی طرف بھیجا، یہ قبیلہ بنو کنانہ کی شاخ تھا۔ جو مکّے سے یَلَمْلَمْ کی جانب آباد تھا۔
نبی اکرمؐنے حضرت خالد رضی الله عنہ کو فرمایا کہ اِس قبیلے کو اسلام کی دعوت دیں اور آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ اِن سے جنگ نہیں کرنی۔
حضرت خالدبن ولیدؓ مہاجرین و انصار اور بنو سُلَیْم کے 350 آدمیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے جب حضرت خالدؓوہاں پہنچے، تو اُنہوں نے دیکھا کہ لوگ ہتھیار اُٹھائے ہوئے ہیں، جیسا کہ حملہ آور ہوں۔ حضرت خالدؓ نے اُن لوگوں سے کہا کہ ہتھیار رکھ دو، لوگ تو اسلام قبول کر چکے ہیں۔آپؓکی یہ بات سن کر اُن میں سے ایک شخص جحدم نام کا کھڑا ہوا اور اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اَے بنو جذیمہ! ہتھیار نہ رکھنا، یہ خالد ہے، ہتھیار رکھنے کے بعد تم لوگوں کو گرفتاری اور موت کا سامنا کرنا ہو گا۔ اِس لیے مَیں تو ہتھیار نہیں رکھوں گا۔ اِس پر باقی لوگوں نے جحدم کو سمجھایا کہ کیوں تم ہمارا خون کروانے پر تُلے ہوئے ہو؟ ہتھیار رکھ دو!اور لوگ اُسے سمجھاتے رہے، یہاں تک کہ اُس سے ہتھیار لے لیے۔ہتھیار پھینک دینے کے بعد اِن لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور ہر مسلمان کو ایک ایک، دو دو قیدی دیے گئے۔ اور رات بھر یہ قید میں رہے۔
بہرحال ایک روایت کے مطابق جب حضرت خالد رضی الله عنہ وہاں پہنچے اور اُنہیں اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں نے اَسْلَمْنَا کہنے کی بجائے یہ کہنا شروع کیا کہ صَبَانَا صَبَانَاکہ ہم نے دین چھوڑ دیا، ہم نے اپنا دین چھوڑ دیا۔اِس پر حضرت خالد رضی الله عنہ کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ یہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے اِن کے قتل کا فتویٰ دے دیا، یہ تاویل پیش کی جاتی ہے۔
ابن سَعْدنے بیان کیا کہ جب خالد رضی الله عنہ ان کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم کس دین پر ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں، نماز پڑھتے ہیں وغیرہ۔ حضرت خالدؓ نے پوچھا کہ پھرتم نے ہتھیار کیوں اُٹھا رکھے ہیں؟ وہ بولے کہ ہمارے اور عرب کی ایک قوم کے درمیان دشمنی چلی آ رہی ہے، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ وہی دشمن قوم ہے، اِس لیے ہتھیار پکڑ لیے۔
بہرحال روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیدی نماز بھی پڑھتے تھے اور مسلمان ہی دکھائی دیتے تھے لیکن عین ممکن ہے کہ ان کےقیدیوں میں سے کچھ قیدی ایسے ہوں گے، جیسے خود جحدم اور اِس کی ہاں میں ہاں ملانے والے ، جو سرکشی کا مظاہرہ کرنے والے تھے اور حضرت خالد رضی الله عنہ اُن کی طرف سے مطمئن نہیں ہو رہے تھے۔کچھ صَبَانَا صَبَانَا کہنے نے حضرت خالد رضی الله کو چوکنا کر دیا۔ اِس لیے اُنہوں نے ایک رات کے آخری پہر میں یہ فتویٰ دے دیا کہ اِن قیدیوں کو قتل کرنا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اِس پر کچھ مسلمانوں نے اپنے قیدیوں کو قتل کر دیا ، لیکن مہاجرین اور انصار کے گروہ نے جو پُرانے مسلمان تھے، اُنہوں نے خالد رضی الله عنہ کی اِس رائے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنے قیدیوں کو قتل نہیں کیا۔
انصار کے سردار ابو اُسَیْد ساعدی رضی الله عنہ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ کے پاس گئے اور اُنہیں بتایا کہ یہ مسلمان ہیں، اِن کو قتل کرنا درست نہیں، حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما اور حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی الله عنہ نے بھی حضرت خالد رضی الله عنہ کی رائے سے اتفاق نہ کیا اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو اپنے اپنے قیدی قتل کرنے سے منع کیا۔
ان رہا ہونے والے قیدیوں میں سے ایک قیدی نے مدینے پہنچ کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں صورتحال بیان کی تو آپؐنےفرمایا کہ مَیں نے خالد کو اُنہیں قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، مَیں نے تو صرف اُنہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کا کہا تھا اور پھر آپؐنے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور دو مرتبہ خدا کے حضور عرض کی کہ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَبْرَاُ اِلَیْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ کہ اَے الله! خالد نے جو کچھ کیا ہے، مَیں تیرے حضور اِس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔
پھر آپؐنے حضرت علی رضی الله عنہ کو بنو جذیمہ کی طرف اُن کے مقتولین کی دیّت ادا کرنے اور سارے معاملے کی تحقیق کرنے کیلئے بھیجا۔ حضرت علیؓنے وہاں جا کر تمام مقتولین کےورثاء کو خون بہا ادا کیا اور اُن کے جو اموال مسلمانوں نے لیے تھے، اُنہیں وہ سب واپس دیے، یہاں تک کہ لکڑی کا وہ برتن بھی واپس کیا، جس میں کتّا پانی پیتا تھا۔ سب کو دیت وغیرہ کی رقوم دینے کے بعد حضرت علیؓکے پاس کچھ مال بچ گیا، تو آپؓنے بنو جذیمہ کے لوگوں سے پوچھا کہ کوئی ایسا شخص رہ گیا ہو، جس کے کسی نقصان کا ازالہ نہ ہوا ہو؟ سب نے کہا کہ نہیں! پھر حضرت علیؓنے بچا ہوا مال بھی اُنہی لوگوں کو دے دیا اور کہا کہ مَیں یہ مال رسول الله ﷺ کی طرف سے بطور احتیاط دے رہا ہوں تاکہ اُس ممکنہ نقصان کا بھی ازالہ ہو جائے، جسے نہ الله کا رسولؐجانتا ہے اور نہ تم جانتے ہو۔
حضرت علیؓواپس تشریف لائے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ساری رپورٹ پیش کی اور یہ بھی بتایا کہ اِن کی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اِنہیں لَوٹا دی گئی ہے اور باقی بچا ہوا مال بھی اِنہیں دے دیا ہے، تو اِس پر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور حضرت علیؓسے فرمایا کہ تُونے بالکل ٹھیک کیا اور بہت اچھا کیا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مختلف روایات کی روشنی میں فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ جو جھڑپ اِس تبلیغی مہم کے دوران ہوئی ہے ، اُس میں زمانۂ جاہلیت کی کسی خونریزی کا دخل ضرور تھا۔ محض لفظ صَبَانَا سے اختلافِ رائے پر بعض قیدیوں کا قتل کیے جانا بعید اَز عقل ہے،خصوصاً جب مہاجرین و انصار قتل کے خلاف تھے۔
حضرت سیّدزین العابدین ولی الله شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ کی کوئی بد نیتی شامل نہ تھی، اُن سے ایک اجتہادی غلطی ہوئی اور جلد بازی میں اُنہوں نے ایک فیصلہ کیا اور بعد میں جو صورتحال ہوئی ، بطورِ امیرِ لشکر کے، اِس کی ذمہ داری اِن کی بنتی تھی۔ اِس وجہ سے آنحضرت ﷺ حضرت خالدؓسے ناراض بھی ہوئے اور خدا کے حضور اپنی بیزاری کا اظہار بھی فرمایا۔اور جب آپؐنے سارے معاملے کی تحقیق فرمائی ، تو یہی ثابت ہوا کہ کسی غلط فہمی کی بنا پر یہ قتل ہوئے ہیں، تبھی آپؐنے قصاص کی بجائے دیّت دیے جانے کا فیصلہ فرمایا۔
حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ کی گزارشات اور معذرت پیش کرنے کے بعد نبیؐنے نہ صرف خالد رضی الله عنہ کو معاف فرما دیابلکہ چند ہی دنوں کے بعد غزوۂ حنین کے لیے تیار کیے جانے والے ہراول دستے اور گُھڑ سواروں کے دستے کا نگران اور سالار حضرت خالد رضی الله عنہ کو مقرر فرمایا۔
خطبہ ثانیہ سے قبل حضور انور نے فرمایا کہ بہرحال اِس سے آنحضرت ﷺکی سیرت کا بھی بخوبی علم ہوتا ہے کہ کہیں بھی آپؐنے سختی نہیں کی اور یہ الزام بھی جو دشمنانِ اسلام لگاتے ہیں، غلط ہے کہ جنگوں میں آپؐنے قتل کروایا۔ جہاں غلطی سے بھی کچھ ہوا توآپؐنے بڑی ناراضگیوں کا اظہار فرمایا۔ ٭…٭…٭