اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-14

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 8 اگست 2025ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےفرمایا : جلسہ سے پہلےفتح مکہ کے واقعات کا ذکر ہورہا تھا۔مَیں نے بعض شدید مخالفین کے قبولِ اسلام کا ذکر کیا تھا۔کچھ اور مخالفین کے قبول اسلام کا ذکر کرونگا۔
وحشی بن حرب نے جنگ اُحد میں حضرت حمزہ ؓکو شہید کیا تھا اور فتح مکہ کے بعد یہ طائف بھاگ گیا، جب اہلِ طائف نے اسلام قبول کیا تو یہ آیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔وحشی جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میںحاضر ہوا تو آپؐنےفرمایا کیا تم وحشی ہو؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپؐنے فرمایا تم نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ اس نے کہا ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا کیا تمہارے لئے ممکن ہے کہ تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا لو۔وحشی کا اپنا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے اور مسیلمہ کذاب نے بغاوت کی، میں نے کہا کہ میں مسیلمہ کی طرف ضرور نکلوں گا تا کہ میں اُسے قتل کروں تا کہ اس کے ذریعہ حضرت حمزہ کا بدلہ ادا کر سکوں۔ وحشی کہتے ہیں کہ میں نے جب مسیلمہ کو دیکھا تو اپنی برچھی کھینچ کر اس پر ماری اور اسے اس کی چھاتیوں کے درمیان مارا یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کے درمیان سے نکل گئی۔ انصار میں سے ایک شخص مسیلمہ کی طرف لپکا اور اس کی کھوپڑی پر تلوار کی ضرب لگائی۔ اس طرح وہ قتل کیا گیا۔
اسی طرح عمرو بن ہاشم کی لونڈی سارہ بھی تھی جو مغنیہ تھی۔ فتح مکہ سے قبل اس نے رسول اللہ ﷺ سے امداد کی درخواست کی تو رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ تمہارے گیتوں کو کیا ہوا؟ اس پر اس نے کہا کہ غزوہ بدرمیں سردارانِ قریش کےمارے جانےکے بعد سےاہلِ مکہ نے گانے سننے بند کردیے ہیں، اس پر آنحضرتﷺ نے اسے ایک اونٹ غلہ عطا فرمایا، مگر یہ اسلام مخالف ہجویہ گیت گانے سے باز نہ آئی، یہ وہی عورت تھی جس کے پاس حضرت حاطب کا خط ملا تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا اور حضرت عمرؓ کی خلافت تک زندہ رہی۔
حارث بن ہشام مکہ کا ایک ہردلعزیز رئیس تھا، ابو جہل کا باپ کی طرف سے بھائی تھا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بہن اس کی بیوی تھی۔ فتح مکہ کے موقع پر یہ اور عبداللہ بن ابی ربیعہ حضرت ام ہانیؓ کے گھر داخل ہوگئے۔ حضرت ام ہانی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ انہیں مَیں نے پناہ دی ہے۔ آپؐنے فرمایا جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے پناہ دی۔ چند روز بعد یہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا سب تعریفیں اللہ کےلیے ہیں۔ حارث! تم جیسا انسان کیسے اسلام سے دُور رہ سکتا تھا۔ حارث نے جواب دیا بخدا! اسلام سے دُور رہنا ممکن نہ تھا۔
اسی طرح سہیل بن عمرو کا قبول اسلام ہے یہ بھی مکہ کا رئیس تھا اور یہ وہی تھا جو معاہدہ حدیبیہ کرنے کے لئے قریش کی طرف سے بطور نمائندہ آیا تھا۔ سہیل بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور غلبہ پا لیا تو میں اپنے گھر میں بند ہوگیا۔ میں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو آپﷺ کی خدمت میں بھیجا تا کہ وہ محمد ﷺ سے میرے لئے پناہ طلب کرے۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں مجھے قتل نہ کر دیا جائے۔ حضرت عبداللہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ میرے والد آپؐسے امان طلب کر رہے ہیں۔ اہالیان مکہ کو تو عام معافی دی جا چکی تھی دراصل یہ اتنے شدید مخالف رہ چکے تھے کہ انہیں تسلی نہیں ہوتی تھی اور سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ وہ امان میں رہیں گے، انہیں ڈر تھا کہ ان سے انتقام لیا جائے گا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بیٹے کو پھر دوبارہ آنحضرت ﷺ کی خدمت بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے وہ اللہ تعالیٰ کی امان کے ساتھ امن میں ہے وہ سامنے آئے۔ یعنی آزادانہ باہر گھوما پھرا کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گرد بیٹھے ہوئے صحابہ سے فرمایا تم میں سے جو سہیل سے ملے تو اسے تیز نظروں سے نہ دیکھے۔ سہیل جیسا صاحب عقل و شرف زیادہ دیر اسلام سے دور نہیں رہ سکتا۔ اس نے دیکھ لیا ہے کہ جس امر میں وہ تھا وہ اس کے لئے نفع بخش نہیں ہے۔ یعنی کفر کی حالت جو ہے۔ حضرت عبداللہ اپنے باپ کے پاس گئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے بارے میں بتایا تو سہیل نے کہا بخدا آپ بچپن میں بھی احسان کرنے والے تھے اور اس عمر میں بھی احسان کرنے والے ہیں۔ غزوہ حنین میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ مشرک ہونے کی حالت میں شامل ہوئے لیکن پھر غزوہ حنین سے واپسی پر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان میں حیرت انگیز روحانی انقلاب پیدا ہوا ۔ فتح مکہ کے بعد سرداران قریش میں سے اسلام قبول کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ نماز روزے کے پابند اور صدقہ دینے میں سہیل سے بڑھ کر اور کوئی نہ تھا۔ کثرت سے گریہ و بکا کرنے والے تھے۔ قرآن پڑھتے وقت اکثر رویا کرتے تھے۔
پھر ابو لہب کے بیٹے عتبہ اور مُعَتِّبْکا قبول اسلام ہے۔ فتح مکہ کے دن آنحضرت ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہارے بھتیجے عتبہ اور مُعَتِّب کہاں ہیں؟ انہیں میرے پاس لے کر آؤ۔ حضرت عباس سوار ہو کر وادیٔ عُــرَنَہ گئے جو عرفات کے قریب ایک وادی ہے اور انہیں لے آئے۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔خوشی آپؐکے چہرے پر دیکھی جا سکتی تھی۔ حضرت عباسؓنے کہا یا رسول اللہ آپ کے چہرے پر خوشی کے اثرات دیکھ رہا ہوں۔ آپؐنے فرمایا میں نے اپنے چچا کے دو بیٹوں کو اپنے ربّ سے مانگا تھا تو اس نے مجھے یہ عنایت کر دئیے۔
پھر صفوان بن امیہ کا قبول اسلام ہے۔ صفوان بن امیہ مکہ کے رئیس امیہ بن خلف کا بیٹا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں قریش کے اشراف میں سے تھا اور قریش کے سب سے فصیح البیان لوگوں میں سے ایک تھا اور اسلام کا سخت دشمن تھا۔ اس نے نبی کریم ﷺ کے قتل کی سازش بھی کی تھی اور عمیر بن وہب کو اس کام کے کے لئے تیار کیا تھا۔ ہرچند کہ اس کے قتل کا حکم نہیں تھا لیکن یہ خودقتل کے ڈر سےمکہ سے بھاگ گیا تھا ۔ عمیر بن وہب جو صفوان کا دوست تھا اور صفوان کے کہنے پر آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے مدینہ گیا تھا، اور اسلام قبول کرچکا تھا، صفوان کے اسلام لانے کا بہت آرزومند تھا۔ حضرت عمیرآنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صفوان میری قوم کا سردار ہے۔ وہ آپ کے خوف سے بھاگ گیا ہے آپ اسے امان عطا فرمائیں۔ آپؐنے فرمایا اسے امان ہے۔عمیر نے درخواست کی کہ مجھے اپنی کوئی نشانی عطا فرمائیں جو میں اسے آپ کی طرف سے امان کے طور پر دکھا سکوں۔ آپؐنے اپنا عمامہ عنایت فرمایا۔ حضرت عمیر صفوان کو لیکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔صفوان نے کہا مجھے دو ماہ کی مہلت دیں۔ آپؐنے فرمایا چار مہینے دئیے جاتے ہیں۔ جب آپ ہوازن تشریف لے گئے اور غزوہ طائف اور حنین کے بعد مال غنیمت تقسیم فرمایا تو آپ نے صفوان کو دیکھا وہ اس گھاٹی کو دیکھ رہے تھے جو بھیڑ بکریوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ لگاتار انہیں دیکھ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صفوان کو دیکھ رہے تھے کہ وہ گھاٹی کو دیکھ رہا ہے۔ آپؐنے فرمایا کیا اس گھاٹی نے تمہیں تعجب میں ڈال دیا ہے؟ صفوان نے کہا ہاں۔ آپؐنے فرمایا کہ یہ گھاٹی اور اس میں جو کچھ ہے سب کچھ تمہارا ہے۔لے جاؤ اسے۔ صفوان نے ان کے سارے اموال پر قبضہ کر لیا اور کہا جس عمدہ طریقے پر نبی کا نفس سخاوت کرتا ہے اس طرح کوئی بھی نہیں کر سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور اسی جگہ اسلام قبول کر لیا۔
فتح مکہ کے بعد نبی اکرم ﷺ نے مختلف مقامات کی طرف دستے بھیجے۔ بنیادی طور پر یہ جنگ و قتال کے لئے نہیں تھے۔ ان کا مقصد اسلام کا پیغام پہنچانا تھا اور بعض جگہوں پر نصب کئے ہوئے بتوں کو گرانا تھا جو توحید پر ایمان لانے میں ایک روک تھی جس کا فرضی اور مصنوعی خوف لوگوں کے دلوں میں سمایا ہوا تھااور ان کا یہ تصور خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لانے میں روک بنا ہوا تھا۔ اہل عرب کی اکثریت کے دلوں میں تین بتوں یا دیویوں کی بہت عظمت تھی۔ ان کے نام یہ ہیں لات منات اور عزیٰ۔ لات دیوی طائف میں تھی۔ منات یہ عربوں کا قدیم ترین بت تھا یہ سمندر کے کنارے قُدَیْدمیں مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا۔عزیٰ یہ قریش کا سب سے بڑا بت تھا جو نخلہ کے قریب نصب تھا۔ان کے انہدام سے لوگوں کے دلوں میں ان کا جھوٹا خوف اور رعب جاتا رہا اور ان کو یقین ہونے لگا کہ اس خدائے واحد و یگانہ کا تصور ہی صحیح ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ہے۔
خطبہ جمعہ کے آکر پر حضور انور نے مکرم چودھری عبدالغفورصاحب ابن چودھری غلام قادر صاحب جام شورو حیدرآباد اورمکرم محمد علی صاحب کرتارپور فیصل آبادکا ذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد ہر دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔
…٭…٭…٭…