اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-07

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ یکم اگست 2025ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ یو.کے اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔ یہ تین دن بڑی برکتوں والے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دکھانے والے دن تھے۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان تین دنوں میں اپنے بیشمار فضلوں سے نوازا اور جلسے کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمایا۔ تمام پروگرام بڑی خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے۔ جلسہ کے علاوہ تبلیغی اور معلوماتی نمائشوں کا بھی غیروں پر بہت اچھا اثر ہوا۔ ایم ٹی اے نے بھی جلسہ کی کارروائی کے درمیانی وقفوں میںجومعلوماتی پروگرام دکھائے لوگوںنے اسے بڑا پسند کیا۔ ایم ٹی اے نے اس دفعہ دنیا کے تقریباً چھپن ممالک میں ایک سو انیس مراکز کے ساتھ جلسہ کو جوڑا۔ اس رابطے کے ذریعہ دونوں طرف سے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے ہم یہاں سے انہیں دیکھ سکتے تھے اور وہ وہاں سے براہ راست ہمیں دیکھ رہے تھے۔ محض ٹی وی کی نشریات نہیں تھیں جو وہ سن رہے تھے بلکہ براہ راست رابطہ بھی تھا جس کا بہت گہرا اور اچھا اثر ہوا۔ اس اثر کو صرف یہاں موجود لوگوں نے ہی محسوس نہیں کیا بلکہ مختلف ممالک میں بیٹھے جلسہ سننے والوں کے جذبات اور احساسات بھی یہی تھے کہ گویا وہ جلسہ گاہ کی مارکی میں بیٹھے جلسہ سن رہے ہیں۔ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے جو اس نے ان نئی ایجادات کے ذریعہ تمام دنیا کے احمدیوں کو اکٹھا کر دیا ہے۔ امت واحدہ بننے کا یہ نظارہ دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتاہے لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا،پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کامزید وارث بننے کے لئے شکرگزاری کی ضرورت ہے۔ اگر حقیقی شکرگزاری ہو گی تو وہ مزید نوازتا چلا جائے گا۔ یہ صرف باتیں نہیں ہونی چاہئیں بلکہ شکرگزاری کا ایک جذبہ ہونا چاہئے اور یہ جذبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت میں بہت پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بڑھاتا چلا جائے۔ سب شامل ہونے والوں کو بات یاد رکھنی چاہئے کہ جہاں وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں وہاں کام کرنے والے کارکنان کا بھی شکریہ ادا کریں۔اور کام کرنے والے بھی شکرگزاری کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خدمت کی توفیق دی اور ہمارے کاموں کے بہتر نتائج عطا فرمائے۔کینیڈا اور آسٹریلیا سے خدام بڑی تعداد میں آئے تھےجنہوں نے جلسہ سے پہلےاور جلسہ کے دوران کام کیا اور جلسہ کے بعد وائنڈ اپ میں مدد کر رہے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا : کئی تاثرات یہاں آئے ہوئے مہمانوں کے ایسے تھےکہ ہم نے مختلف کام کرنے والوں سے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں، ہمارا خیال تھا وہ شاید کوئی مزدوری وغیرہ کرتے ہوں گے، لیکن جس سے بھی پوچھا سب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جلسہ میں شامل ہونے والے لوگوں کے بعض آراء پیش کرتا ہوں۔
روڈرگ آئی لینڈ کی پولیس فورس کے اسسٹنٹ کمشنرمسٹر منوجلوج ملچن صاحب یہاں آئے ہوئے تھے ،وہ کہتے ہیں میں نے پولیس کمشنر اور ڈویژنل کمانڈر کی حیثیت سے بہت سے سرکاری اور سماجی تقریبات میں حصہ لیا ہے لیکن جلسے کے دنوں میں جو میں نے دیکھا ہے وہ ایک واقعی مثالی چیز تھی۔ تنظیم اور نظم و ضبط کا ایک انمول سبق تھا۔وہ ڈرائیور جو ہمیں جلسہ سالانہ لے کر گیا جب میں نے اس سے اس کا پیشہ پوچھا تو اس نے کہا کہ اس نے بائیو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ اس پر مجھ پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ کمیونٹی کے مقصد کے لئے ایسی عقیدت اور عاجزی میں نے اپنی زندگی میں کبھی تجربہ نہیں کی۔
بلجیم کے ایک مہمان ہیں زتور صاحب جو کہ انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر ڈبلیو ایف کے نمائندے ہیں،کہتے ہیں کہ غیر معمولی اجتماع کا حصہ بننا میرے لئے حقیقی خوشی تھی۔ یہ محض ایک یادگار تجربہ ہی نہیں بلکہ آپ کی گرمجوشی اور عمدہ مہمان نوازی کے باعث یہ گہرے اثرات چھوڑنے والا تجربہ بن گیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ایک اجتماع کا انتظام جس میں ہزاروں افراد کئی دنوں تک شریک رہے یقینا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
ارجنٹائن کے ایک مہمان گاستن اکمفو جو اِسوقت پرتگال میں رہائش رکھتے ہیں، ایک معروف تھنک ٹینک کے آئی پی ڈی اے ایل کے سیکرٹری جنرل ہیں، کیتھولک ہیں، لیکن اسلام میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں،کہتے ہیں کہ جلسے کے دوران مجھے آپ کی جماعت کی بہت سی خوبیاں دیکھنے کا موقع ملا جن میں مجھے سب سے بڑھ کر یہ پہلو پسند آیا کہ آپ کے نوجوان اپنے دین سے وابستہ ہیں اور اپنی تعلیمات پر پختگی سے عمل پیرا ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اکثر رسمی عیسائی ہیں اور اپنی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔مجھے بحیثیت کیتھولک شرم بھی آئی کہ ہم میں وہ ڈسپلن کا معیار قائم نہیں جو آپ لوگوں میں ہے۔
یورپین پارلیمنٹ کی اٹلی میں سرکاری پریزیڈنسی کی ڈائریکٹر جارجیا یاکولے صاحبہ کہتی ہیں میںنے سوچا کہ یہ محض ایک مذہبی اجتماع ہو گا لیکن میں غلط تھی۔ جلسہ سالانہ ایک حقیقی جذباتی تجربہ ہے جو روح پر گہرا نقش چھوڑتا ہے۔مَیں ایک ایسی دنیا میں داخل ہو گئی جہاں ایمان بھائی چارہ اور روحانیت محسوس ہوتا تھا۔ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ شاندار تنظیم تھی اور یہ کہ سب کچھ رضا کاروں کے ذریعہ انجام پا رہا تھا ۔ ایک چیز جو میرے دل میں ہمیشہ نقش رہے گی وہ دعا کا ایسا لمحہ تھا جس میں مجھے شرکت کا موقع ملا۔
حضور پُرنور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بہت سارے مہمانوں اور نومبائعین اور نومبائعات کے ایمان افروز تاثرات بیان فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا کہ مختلف ذرائع سے سو ملین کے قریب لوگوں تک پیغام پہنچا۔ایم ٹی اے افریقہ کے ذریعہ سے مختلف چینلز پہ میرے خطابات نشر ہوتے رہے اور پچاس سے زائد احباب نے جلسہ سالانہ کی نشریات دیکھنے کے بعد بیعت بھی کی۔ جلسہ سالانہ کی نشریات بائیس نیشنل اور ریجنل ٹی وی چینلز پر ہوئیں۔
خطبہ کے آخر میں حضور انور نے مکرم عبدالکریم جمال اودے صاحب غزہ کا ذکر خیر فرمایا اور آپ کے اوصاف حمیدہ بیان فرمائے، جو گزشتہ دنوں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گئے تھے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جمعہ کے بعد حضور انور نے ان کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کے بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ ٭٭٭