تشہد،تعوذاور سورۃفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایا:آج بھی فتح مکّہ کے واقعات کی مزید تفصیل بیان کروں گا۔آنحضرت ﷺ کے مکّے میں قیام کے متعلق اختلاف ہے۔بخاری میں درج روایت کے مطابق آپؐمکے میں 19 دن ٹھہرے۔ آپؐنماز قصر کرتے تھے۔ بعض روایات میں 18،17اور 15دن کا تذکرہ بھی ہے۔
بعض مستشرقین نے بھی فتح مکہ کے متعلق اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ مثلاً ولیم میور جو ایک مشہور مستشرق ہے،اس کا تعلق سکاٹ لینڈ سےتھا، وہ فتح مکہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی کتاب دی لائف آف محمد(ﷺ) میں لکھتا ہے کہ محمد(ﷺ)کا ماضی کے تمام پرانے قصوروں کو معاف کرنا اور اُن کی تمام چھوٹی بڑی تکالیف کو فراموش کردینا دراصل آپ(ﷺ) کے اپنے فائدے کےلیے تھا لیکن اس کے لیے ایک بڑے اور گداز دل کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی طرح ولیم منٹگمری، جو ایک سکاٹش مستشرق تھا اور اس نے اسلام اور نبی اکرمﷺ کے خلاف بہت سخت باتیں کی ہیں وہ کہتا ہےکہ مکّہ کے رؤساء کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کیا گیا، یہ رؤساء اور دیگر بہت سے لوگ کفر پر قائم رہے۔ سب سے بڑھ کر وہ مہارت جس کے ساتھ انہوں نے (یعنی آنحضورﷺ نے)اپنی سربراہی میں موجود اتحاد کو سنبھالا اور تقریباً تمام افراد کو یہ احساس دلایا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جارہا ہے اس چیز نے اسلامی معاشرے میں ہم آہنگی، اطمینان اور جوش کے جذبات کو نمایاں کردیا۔
پھر ایک مستشرق ہے آرتھر گلمے اس کا تعلق امریکہ سے تھا، وہ کہتا ہے کہ آپ(ﷺ)کی یہ بات بےحد تعریف کے لائق ہے کہ جس موقع پر ماضی کےمظالم کی یاد آپ کو انتقام لینے پر اُکسا سکتی تھی، آپ نے اپنی فوج کو ہر قسم کی خون ریزی سے منع فرمایا اور عاجزی اور خدا تعالیٰ کے شکر کا ہرممکن اظہار کیا۔
ایک خاتون مستشرق، روتھ کرنسٹن جنکا تعلق امریکہ سےہے، لکھتی ہیں کہ سال 630ءکے آغاز میں ایک دن وہ شخص جسے صرف دس سال پہلے شہر سے پتھر مار کر نکال دیا گیا تھا اور جسے مذاق کا نشانہ بنایا گیا تھا، اب اپنے دس ہزار تجربہ کار سپاہیوں کے ساتھ شہر میں داخل ہوا۔ محمد(ﷺ) نے حکم دیا تھا کہ کسی کو قتل نہ کیا جائے، شہریوں کے ساتھ مہربانی کا سلوک کیا جائے۔
کیرن آرم سٹرانگ برطانیہ کی ایک اچھی مستشرقہ ہیں، بڑے انصاف سے لکھنے والی ہیں، لکھتی ہیں کہ آپ (ﷺ) کو خونر یز انتقام لینے کی کوئی خواہش نہیں تھی،کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسا لگتا ہے کہ کسی پر کوئی دباؤ ڈالا گیا۔ محمد(ﷺ) مکہ اس لیے نہیں آئے تھے کہ قریش کو ظلم و ستم کا نشانہ بنائیں، بلکہ اس لیے آئے تھے کہ اس مذہب کو ختم کردیں جو اُن کے لیے ناکام ثابت ہوا تھا۔مکے کی فتح کے ذریعے محمد (ﷺ)نے نبوت کے اپنے دعوے کو سچ ثابت کردیا۔ یہ فتح بغیرکسی قسم کی خونریزی کے حاصل ہوئی تھی اور محمد(ﷺ)کی پُرامن پالیسی کامیاب رہی۔ چند ہی سالوں میں مکے میں بُت پرستی کا خاتمہ ہوگیا اور عکرمہ اور سہیل جیسے سخت ترین مخالف مخلص اور پُرجوش مسلمان بن گئے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عبداللہ بن ابی سرح کے قبولِ اسلام کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔یہ کاتبِ وحی تھے لیکن انہیں ٹھوکر لگی اور مرتد ہوکر مکہ آگئے۔ فتح مکہ کے موقع پرجن لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا اُن میں عبداللہ بن ابی سرح کا نام بھی تھا، مگر حضرت عثمانؓ نے انہیں پناہ دے دی اور وہ آپؓکے گھر میںچھپے رہے۔ ایک روز جب آپؐ بیعت لے رہے تھے تو حضرت عثمانؓانہیں بھی لے آئے۔ آنحضورﷺ نے کچھ دیر تو تامل فرمایا اور پھر ان کی بیعت لے لی۔ یہ بعد میں مصر کے گورنر بھی رہے اور افریقہ کا ایک علاقہ بھی فتح کیا۔ حضرت عثمانؓکے رضاعی بھائی تھے۔ آپؓ کی شہادت کے بعد فتنوں سے الگ ہوگئے تھے۔ ذکر آتا ہے کہ انہوں نے دعا کی تھی کہ ان کا آخری عمل نماز ہو چنانچہ ایک روز صبح کی نماز کے وقت سلام پھیرتے ہوئےان کی وفات ہوگئی۔
عکرمہ بن ابو جہل کے بھی قتل کا حکم تھا۔عکرمہ نے مکہ سے بھاگ کر سمندر کے راستےسے یمن جانے کا فیصلہ کیا۔ اس کی بیوی ام حکیم نے اسلام قبول کرلیا تھا، وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ عکرمہ کو خطرہ ہے کہ آپؐاسے قتل کروا دیں گے آپؐاسے امان دے دیں۔ آپؐنے فرمایا کہ وہ امان میں ہے۔ چنانچہ عکرمہ کی بیوی اس کے پاس پہنچی اور اسے کہا کہ مَیں تمہارے پاس اُس انسان کی طرف سے آئی ہوں جو لوگوں میں سب سے زیادہ جوڑنے والا اور لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور لوگوں میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ تُو اپنی جان کو ہلاکت میں مت ڈال کیونکہ مَیں تمہارے لیے امان طلب کرچکی ہوں۔ چنانچہ عکرمہ واپس آیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔
ھبار کے بھی قتل کا حکم تھا جو آنحضورﷺ کی بیٹی حضرت زینبؓکی ہلاکت کا موجب ہوا تھا۔اس شخص نے حضرت زینبؓ کے اونٹ کی زِین کا چوڑا تسمہ جس سے اُسے کسا جاتا ہے کاٹ دیا تھا، اور آپؓ اونٹ سے نیچے جاگری تھیں جس کی وجہ سے اُن کا حمل ضائع ہوگیا اور کچھ عرصے بعد وہ شہید ہوگئیں۔ یہ شخص بھاگ کر ایران چلا گیا تھا مگر پھرآپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور معافی کا طلب گار ہوا۔ آنحضورﷺ نے اس شخص کو بھی معاف فرمادیا۔
کعب بن زہیر بھی آنحضورﷺ کا سخت معاند تھا،شاعر تھا اور اپنی شاعری سے اسلام اور آنحضورﷺ کے خلاف شر پھیلایا کرتا تھا۔ یہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی شناخت ظاہر کیے بِنا کعب بن زہیر کے لیے معافی کا طلب گار ہوا۔ آپؐ نے جب اسے معاف فرمایا تو اس نے کہا کہ کعب مَیں ہی ہوں۔ آنحضورﷺ نے اسے معاف فرمادیا۔ کعب نے آپؐکی شان میں ایک قصیدہ کہا جس پر آپؐنے اسے اپنی چادر عنایت فرمائی۔ اسی وجہ سے یہ قصیدہ، قصیدہ بُردہ کہلاتا ہے۔بُردہ کےمعنے چادر کےہیں۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ کے آخر میں فرمایا : اگلے جمعہ سے ان شاء اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ برطانیہ کاجلسہ سالانہ شروع ہورہا ہے ،اس کے لیے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس جلسے کو کامیاب فرمائے اور اپنے فضلوں سے اسے نوازتا رہے۔اللہ تعالیٰ ہر شریرکی شر سے بچائے۔جو مہمان اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سےآرہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں خیروعافیت سے لائے اور یہاں بھی خیریت سے رکھے۔اللہ تعالیٰ ہر میزبان کو مہمانوں کی مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کارکنان بڑے شوق اور جذبے سے ڈیوٹیوں کے لیے خود کو پیش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کارکنان کو بھی خدمت کی توفیق دے نہایت عزت و احترام اور نرمی اور خوش مزاجی سےیہ مہمانوں کی خدمت کریں۔ہر کارکن کو یہ سوچ کر یہ دن گزارنے چاہئیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کی توفیق دی ہے۔ اس لیے اس کے لیے ہم ہر قربانی کرنے کےلیے اپنے آپ کو تیار رکھیں گے اور ہر صورتِ حال میں ہمارے چہروں پر مسکراہٹ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے،آمین۔ لیکن ساتھ ہی ہر ایک پر گہری نظر بھی رکھنی چاہیے تاکہ کسی کو کبھی کوئی شر پھیلانے کی جرأت پیدا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ سب کارکنان کو احسن رنگ میں خدمت کی توفیق دے اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنیں۔ آمین۔
…٭…٭…٭…