تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فتح مکہ کے متعلق فرمایا کہ : جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں بیان ہوا تھا کہ کعبہ کی کنجی عثمان بن طلحہ کے پاس تھی۔رسول اللہﷺ نے ہجرت سے پہلے ایک مرتبہ عثمان بن طلحہ سے کعبہ کی چابی مانگی تھی تو اس نے جواب میں برا بھلا کہا آپؐکیلئے نہایت غلیظ زبان استعمال کی تھی۔ آپؐنے اس وقت نہایت تحمل سے کام لیا اور فرمایا یا عثمان! یاد رکھو یہ چابی کسی نہ کسی دن میرے ہاتھ میں آئے گی اور میں اسے اپنی مرضی سے جسے چاہوں گا دوں گا۔ عثمان نے اس وقت یہ جواب دیا تھا کہ اگر ایسا وقت آیا تو وہ قریش کی ہلاکت اور ذلت کا وقت ہو گا اس پر آپؐنے فرمایا تھانہیں بلکہ اُس وقت قریش کی عزت و تکریم ہو گی۔ یہ ساری زیادتیاں جو آپ سے کی گئی تھیں اس وقت آپ کو یاد تھیں اور یہ ساری باتیں عثمان کو بھی یاد آ رہی ہوں گی اور آنحضرت لیکن آپ نے اسے فرمایا اَے عثمان اپنی چابی سنبھالو، آج نیکی اور ایفائے عہد کا دن ہے۔ یہ چابی ہمیشہ کے لئے لے لو تم سے صرف ظالم ہی اسے چھینے گا اور یہ تمہارے خاندان میں رہے گی۔ چنانچہ آج تک خانہ کعبہ کی چابی اسی خاندان میں نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔
انہی دنوں میں فضالہ بن عمیر کا آپ ﷺکو قتل کرنے کا ناپاک منصوبہ بھی ظاہر ہوا۔فضالہ کہتا ہے کہ جب رسول اللہﷺ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے تو میں بھی اُس بھیڑ میں شامل ہو گیا اور سوچا کہ جونہی میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوں گا تو اپنے خنجر سے وار کر کے آپؐکو قتل کر دوں گا۔ وہ اس ارادے سے آپ کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ جونہی وہ آپ کے قریب ہوا تو آپؐنے فرمایا تم فضالہ ہو۔ اس نے کہا کہ جی ہاں۔ فرمایا دل میں کیا سوچ رہے ہو؟ کہنے لگا کہ میں اللہ کا ذکر کر رہا ہوں ۔ اس پر آپؐمسکرائے اور فرمایا اللہ سے استغفار کرو۔ تم جو کہہ رہے ہو وہ نہیں کر رہے تھے اور آپؐاس کے قریب آئے اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھا۔ فضالہ بیان کرتے ہیں کہ بخدا آپؐنے میرے سینے سے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ محبوب مجھے محمد ﷺہی لگنے لگے اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹ آیا۔فضالہ کی کایا پلٹ چکی تھی۔
انہی دنوں میں حضرت ابوبکر کے والد ماجدنے اسلام قبول کیا۔فتح مکہ کے وقت جب رسول کریم ﷺحرم میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر اپنے والد کو لے کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا اَے ابوبکر تم اس عمر رسیدہ شخص کو گھر ہی میں رہنے دیتے،میں خود ان کے پاس آ جاتا اس پر حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا اسلام لے آئیں آپ سلامتی میں آجائیں گے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر کے والد نے اسلام قبول کر لیا۔
حضرت ام ہانی کے گھر آپؐکے کھانا تناول فرمانے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فتح مکہ کے روز حضرت ام ہانی سے فرمایا کیا تمہارے پاس کھانا ہے جسے ہم کھائیں۔ انہوں نے عرض کی سوکھی ہوئی روٹی کے ٹکڑوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور مجھے حیا آتی ہے کہ میں انہیں آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ آپؐنے فرمایا انہیں ہی لے آؤ۔ آپؐنے انہیں پانی میں بھگویا ۔پھر فرمایا: کیا شوربہ ہے کوئی۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ میرے پاس سرکہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا وہ سرکہ لے آؤ۔ آپؐنے اسے کھانے پر انڈیلا اور اس میں سے کھایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا پھر فرمایا سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے۔ اَے ام ہانی جس گھر میں سرکہ موجود ہو وہ غریب نہیں ہوتا۔حضور انور نے فرمایا: شکرگزاری کی بھی انتہا ہے اور ام ہانی کی دلجوئی بھی کر دی۔ فاتح مکہ کا یہ حال ہے جبکہ سب کچھ میسر آ سکتا تھا لیکن آپ نے سوکھے روٹی کے ٹکڑوں پر اس وقت گزارا کیا۔
ایک ایمان افروز واقعہ یہ ہوا کہ انصار ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آپؐپر اپنے وطن کی محبت اور اپنے قبیلے کی محبت غالب آ گئی ہے اور شاید اب آپؐیہیں اپنی بستی میں اپنے عزیز رشتہ داروں میں رہ جائیں گے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا سوچتے ہی وہ غمزدہ ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے آپؐکو انصار کے اس خیال سے اطلاع دے دی۔آپؐنےفرمایا اَے گروہ انصار۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ حاضر ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم یہ سوچ رہے ہو کہ اس شخص پر وطن کی محبت غالب آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایااَے انصار ایسا کبھی نہیں ہو سکتا میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے خداکی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا تھا اور اس کے بعد اب میں اپنے وطن میں واپس نہیں آ سکتا۔ میری زندگی تمہاری زندگی سے ہے اور میری موت تمہاری موت سے وابستہ ہے۔ مدینہ کے لوگ آپ کی یہ باتیں سن کر اور آپ کی محبت اور آپ کی وفا کو دیکھ کر روتے ہوئے آگے بڑھے اور کہا یا رسول اللہ خدا کی قسم ہم نے خدا اور اس کے رسول پر بد ظنی کی۔ بات یہ ہے کہ ہمارے دل اس خیال کو برداشت نہیں کر سکتے کہ خدا کا رسول ہمیں اور ہمارے شہر کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے۔ آپ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تم لوگوں کو بری سمجھتے ہیں اور تمہارے اخلاص کی تصدیق کرتے ہیں۔
جب نماز ظہر کا وقت ہوا تو آپؐنے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی۔ آپؐنے اس دن تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیںجبکہ آپؐکی عادت مبارکہ تھی کہ بالعموم ہر نماز کے لئے تازہ وضو فرماتے۔
اس دوران آپ نے عام بیعت بھی لی۔جب مردوں کی بیعت سے فارغ ہوئے تو آپؐنے عورتوں کی بیعت لی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس وقت پردہ کاحکم نازل ہوچکا تھا۔ جب عورتیںبیعت کے لئے آئیں توہند جس نے آپؐکے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا، چادر اوڑھ کر ساتھ آگئی اور اس نے بیعت کرلی۔ جب وہ اس فقرہ پر پہنچی کہ ہم شرک نہیں کریں گی توچونکہ وہ بڑی تیز طبیعت تھی اس نے کہا یارسول اللہ ہم اب بھی شرک کریں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے تھے اور ہم نے پوری طاقت اور قوت کے ساتھ آپ کامقابلہ کیا۔ اگر ہمارے خدا سچے ہوتے توآپ کیوں کامیاب ہوتے؟رسول کریم ﷺ اُس کی آواز کوپہچانتے تھے، فرمایا ہندہ ہے؟ہندہ نے کہا یارسول اللہ اب میں مسلمان ہو چکی ہوں اب آ پ کو مجھے قتل کرنے کا اختیار نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا ہاں اب تم پر کوئی گرفت نہیں ہو سکتی۔غرض وہ قوم جو سمجھتی تھی کہ آپ نے سب خدائوں کو کوٹ کاٹ کر ایک خدا بنا لیا ہے ان میں اتنا تغیر پیدا ہو گیا کہ ہندہ جیسی عورت نے کہا کہ کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ خدا ایک نہیں۔
وہ مجرم جن کے قتل کا حکم صادر ہوا اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ وہ آٹھ
مرد اور چھ عورتیں تھیںجن کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ جہاں بھی نظر آئیں ان کو قتل کر دیا جائے۔ فتح الباری میں لکھا ہےیہ کل گیارہ افراد تھے۔ بخاری کی شرح فتح الباری میں چودہ افراد کے نام ہیں۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فتح مکہ کے روز ان چار افرادعبدالعزی بن ختل، مقیس بن خبابہ ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور ام سارہ کے علاوہ سب کو امان دے دی تھی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:صرف گیارہ مرد اور چار عورتیں ایسی تھیں جن کی نسبت شدید ظالمانہ قتل اور فساد ثابت تھے۔ وہ گویا جنگی مجرم تھے اور ان کے متعلق رسول اللہ ﷺکا حکم تھا کہ قتل کر دئیے جائیں کیونکہ وہ صرف کفر یا لڑائی کے مجرم نہیں تھے بلکہ جنگی مجرم تھے لیکن ان میں سے اکثر کو مسلمانوں کی سفارش پر آپ نے چھوڑ دیا۔
حضور انور نے فرمایا: الغرض فتح مکہ کے وقت صرف چند ایک افراد کے قتل ہونے کا فیصلہ ہوا تھا اور وہ وہی تھے جن کے بارہ میں حکم و عدل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ صرف انہی چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہو چکا تھا اوروہ تین چار آدمی تھے اور بجز ان ازلی ملعونوں کے ہر یک دشمن کا گناہ بخش دیا۔
حضور انور نے فرمایا : دنیا کے حالات آپ لوگوں پر واضح ہیں۔ دعائیں کرتے رہیں اور ہنگامی حالات کے لئے کچھ مہینوں کا راشن گھروں میں رکھنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ دنیا پر رحم کرے اور جنگ کے خوفناک حالات سے بچائے۔
خطبہ جمعہ کے آخر پر حضور انور نے امۃ النسیم نکہت صاحبہ اہلیہ راجہ عبدالمالک صاحب جو کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوتی،حضرت نواب امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نواسی، کرنل مرزا داؤد احمد صاحب کی بیٹی تھیں،اِسی طرح مکرم الحاج یعقوب احمد بن ابوبکر صاحب، سابق ہیڈ ماسٹر احمدیہ سینئر سکول اور نیشنل سیکرٹری تبلیغ گھاناکا ذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد ہر دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔
…٭…٭…٭…