اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-10

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 04؍جولائی 2025ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فتح مکہ کے متعلق فرمایا کہ : مسلمان ذی طویٰ پہنچ کر آنحضرت ﷺ کا انتظار کرنے لگے حتی کہ سارے صحابہ وہیں جمع ہو گئے۔ آپﷺ اپنے سبزپوش دستے کے ساتھ آئے۔ آپ سورۃ فتح پڑھ رہے تھےاور عاجزی کی وجہ سے آپ کا سر کجاوے کو چھو رہا تھا۔ جب آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ رنگ کا عمامہ باندھ رکھا تھا۔ آپ ﷺ 20 رمضان المبارک کو مکہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت سورج کچھ بلند ہو چکا تھا۔ مکہ کے قریب پہنچ کر جب آنحضرت ﷺ سے عرض کیا گیا کہ مکہ میں آپؐکا قیام کہاں ہو گا تو آپؐنے فرمایا مکہ میں عقیل نے کوئی گھر ہمارے لئے چھوڑا بھی ہے؟ عقیل حضرت ابوطالب کے بیٹے تھے اور یہ حدیبیہ سے کچھ پہلے اسلام لائے تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ساری جائیداد فروخت کر دی تھی۔پھر آپؐنے فرمایاکہ ہمارا قیام خیف بنی کنانہ میں ہو گا جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں اور تمام صحابہ کو حکم ہوا کہ وہیں جمع ہوں۔ آپؐنے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، اپنے خیمے کی جگہ کو دیکھا اور فرمایا اَے جابر یہ ہمارے قیام کی جگہ ہے۔ اسی جگہ قریش نے ہمارے خلاف کفر کی حالت میں قسمیں کھائی تھیں کہ وہ بنو ہاشم سے خرید و فروخت نہیں کریں گے اور نہ ان سے نکاح کریں گے اور نہ انہیں پناہ دیں گے اور انہیں ایک گھاٹی شعب ابی طالب میں محصور رہنے پر مجبور کر دیا۔ آنحضرت ﷺ کے ہمراہ آپ کی ازواج میں سے حضرت ام سلمہ اور میمونہ تھیں۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : خیف بنی کنانہ مکہ کا ایک میدان تھا جہاں قریش اور کنانہ قبیلہ نے مل کر قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب محمد رسول اللہ ﷺ کو پکڑ کر ہمارے حوالہ نہ کر دیں اور ان کا ساتھ نہ چھوڑ دیں ہم ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے نہ خرید و فروخت کریں گے۔ اس عہد کے بعد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے چچا ابوطالب اور آپ کی جماعت کے تمام افراد وادی ابوطالب میں پناہ گزین ہو گئے اور تین سال کی شدید تکلیفوں کے بعد خد اتعالیٰ نے انہیں نجات دلائی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ انتخاب کیسا لطیف تھا۔ آج محمد رسول اللہ ﷺ اسی میدان میں جا کر اترے اور گویا مکہ والوں سے کہا کہ جہاں تم چاہتے تھے میں وہاں آگیا ہوں مگر بتائو تو سہی کیا تم میں طاقت ہے کہ آج مجھے اپنے ظلموں کا نشانہ بنا سکو۔ وہی مقام جہاں تم مجھے ذلیل اور مقہور شکل میں دیکھنا چاہتے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ میری قوم مجھے پکڑ کر اِس جگہ تمہارے سپرد کر دے وہاں میں ایسی شکل میں آیا ہوں کہ میری قوم ہی نہیں سارا عرب بھی میرے ساتھ ہے اور میری قوم نے مجھے تمہارے سپر دنہیں کیا بلکہ میری قوم نے تمہیں میرے سپر دکر دیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہ دن بھی پیر کا دن تھا،جس دن محمد رسول اللہ ﷺ غار ثور سے نکل کر صرف ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معیت میں مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ وہی دن جس میں آپ نے حسرت کے ساتھ ثور کی پہاڑی پر سے مکہ کی طرف دیکھ کر کہا تھا، اَے مکہ تو مجھے دنیا کی ساری بستیوں سے زیادہ پیارا ہے لیکن تیرے باشندے مجھے اس جگہ پر رہنے نہیں دیتے۔
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے بالائی حصہ میں پڑاؤ فرمایا تو بنو مخزوم میں سے میرے دو سسرالی رشتہ دار بھاگ کر میرے پاس آ گئے۔ میرا بھائی حضرت علی میرے پاس آیا اور اس نے کہا خدا کی قسم میں ان دونوں کو قتل کر دوں گا۔ میں نے ان دونوں کے لئے اپنے گھر کا دروازہ بند کر دیا۔ پھر میں خود رسول اللہ ﷺکے پاس مکہ کے بالائی حصہ میں آئیاور سارا ماجرا بیان کیا۔ آپؐنے فرمایا اَے اُم ہانی جن کو تم نے پناہ دی انہیں ہم نے پناہ دی پس علی ان دونوں کو قتل نہ کرے ۔ یہ دو افراد حضرت ام ہانی کے سسرالی رشتہ دار حارث بن ہشام اور عبداللہ بن ربیعہ تھے۔
آنحضرت ﷺ دن کا کچھ حصہ اپنے خیمے میں تشریف فرما رہے پھر آپؐنے اپنی اونٹنی قصوۃ کو منگوایا اور اس پر سوار ہوئے۔ صحابہ آپ کے ارد گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ خندمہ سے لے کر حجون تک گھوڑوں کی بل کھاتی قطار تھی۔ فتح مکہ کے روز آنحضرت ﷺخانہ کعبہ میں نصب 360 بتوں میں سے جب کسی بت کے پاس سے گزرتے تواپنی کمان سے بت کی آنکھ میں مارتے اور فرماتے۔ جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔کہ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا یقینا باطل بھاگ جانے والا ہی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ آپؐکی اونٹنی کی نکیل پکڑے ہوئے تھے آپ حجر اسودکے پاس آئے اور اسے چھوا اور بیت اللہ کا طواف کیا۔
ایک روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کو فتح مکہ کے وقت حکم دیا کہ وہ خانہ کعبہ کے اندر جائیں اور اس میں موجود ہر تصویر کو مٹا دیں جب تک اس میں موجود ہر تصویر مٹا نہیں دی گئی نبی ﷺ اس میں داخل نہیں ہوئے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تصویریں بھی نکالی گئیں۔ آپ ﷺ مقام ابراہیم پر آئے آپ نے زرہ پہن رکھی تھی۔ آپ نے وہاں دو رکعتیں ادا کیں پھر آپ زم زم کے پاس تشریف لے گئے۔ ایک ڈول پانی آپ کے لئے نکالاگیا۔ آپ نے اس سے پانی پیا اور وضو کیا۔ صحابہ جلدی جلدی آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے لگے اور اسے اپنے چہروں پر ڈالنے لگے۔ مشرکین ان کی طرف دیکھ رہے تھے وہ متعجب تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم نے اتنے بڑے بادشاہ کے بارے میں نہ سنا ہے نہ دیکھا ہے۔
مکہ فتح کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ہبل بت کے بارے میں حکم دیا اور وہ گرا دیا گیا ۔ حضرت زبیر بن عوام نے ابوسفیان سے کہا اَے ابوسفیان تُو غزوہ احد کے دن اس کے متعلق بہت غرور میں تھا جب تو نے اعلان کیا تھا کہ اس نے تم لوگوں پر انعام کیا ہے۔ اس پر ابو سفیان نے کہا اَے عوام کے بیٹے ان باتوں کو اب جانے دو کیونکہ میں جان چکا ہوں کہ اگر محمد ﷺ کے خدا کے علاوہ بھی کوئی خدا ہوتا تو جو آج ہوا وہ نہ ہوتا۔
آنحضرت ﷺ اسامہ بن زید اور بلال بن رباح کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔ کعبہ کا کلید بردار عثمان بن طلحہ بھی ساتھ تھا۔ آپ ﷺ نے کعبہ کا دروازہ بند کر دیا اور دیر تک اس کے اندر رہے اور دو رکعت نماز ادا کی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺپر مکہ فتح کر دیا تو آپؐلوگوں میں کھڑے ہوئے ،اللہ کی حمد و ثناء کی پھر آپ نے فرمایا یقینا اللہ نے مکہ کو ہاتھی والوں سے محفوظ رکھا اور اس نے اپنے رسول اور مؤمنوں کو اس پر غلبہ دے دیا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لئےاس میں جنگ و قتال جائز نہ تھا اور میرے لئے بھی دن کی صرف ایک گھڑی جائز کیا گیا اور میرے بعد کسی کے لئے جائز نہ ہو گا ۔ نہ اس کا شکار بھگایا جائے نہ اس کے کانٹے توڑے جائیں اور نہ اس کی گری پڑی چیز کو اُٹھانا جائز ہوگا سوائے اعلان کرنے والے کے۔
سیرت ابن ہشام میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دی۔ اے لوگو تمام فخر تمام انتقام اور تمام خون بہا وہ میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں۔ اَے قریش خداوند تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کی نخوت اور فخر کو دُور کر دیا جو باپ دادا کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی پیدائش مٹی سے ہے
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جب مکہ والے آپ کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو آپ نے فرمایا اَے مکہ کے لوگو تم نے دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کے نشانات کس طرح لفظ بلفظ پورے ہوئے ہیں۔ اب بتائو کہ تمہارے اُن ظلموں اور اُن شرارتوں کا کیا بدلہ دیا جائے جو تم نے خدائے واحد کی عبادت کرنے والے غریب بندوں پر کئے تھے؟ مکہ کے لوگوں نے کہا ہم آپؐسے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ یہ خدا کی قدرت تھی کہ مکہ والوں کے منہ سے وہی الفاظ نکلے جن کی پیشگوئی خدا تعالیٰ نے سورہ یوسف میں پہلے سے کر رکھی تھی اور فتح مکہ سے دس سال پہلے بتا دیا تھا کہ تُو مکہ والوں سے ویسا ہی سلوک کرے گاجیسا یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ پس جب مکہ والوں کے منہ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ یوسف کے مثیل تھے اور یوسف کی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بھائیوں پر فتح دی تھی تو آپ نے بھی اعلان فرما دیا کہتَاللہِ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم خدا کی قسم آج تمہیں کسی قسم کا عذاب نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کی سرزنش کی جائے گی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ فتح کر لیا تو تمام کفار گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کئے گئے تو کفار نے خود اپنے منہ سے اقرار کیا کہ ہم بباعث اپنے سخت جرائم کے واجب القتل ہیں اور اپنے تئیں آپ کے رحم کے سپرد کرتے ہیں تو آپ نے سب کو بخش دیا اور اس موقع پر معافی کیلئے اسلام کی بھی شرط نہ لگائی لیکن وہ لوگ یہ اخلاق کریمانہ دیکھ کر خود بہ خود مسلمان ہو گئے۔
خطبہ جمعہ کے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ  نے مکرمہ سیدہ لبنیٰ احمد صاحبہ اہلیہ مکرم سید مولود احمد صاحب اور مکرمہ ناز مون بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم محمد شفیع زبیر صاحب جرمنی کا ذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد ہر دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔
…٭…٭…٭…