اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-03

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 13؍جون 2025ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
چند جمعے پہلے فتح مکہ کے حوالے سے ابتدائی ذکر کیا تھا آج اس حوالے سے مزید تفصیل بیان کرونگا۔فتح مکہ کا فوری سبب یہ ہوا کہ قریش نے اُس معاہدہ کو توڑ دیا جو حدیبیہ میں ہوا تھا۔اس عہد شکنی کی تفصیل یوں ہے کہ جب صلح حدیبیہ ہوئی تو اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ قبائل عرب میں سے جو چاہے وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاہدہ کر لے اور جو چاہے وہ قریش کے ساتھ معاہدہ کر لے۔ چنانچہ بنو بکر اور بنو خزاعہ جو حرم کے ارد گرد آباد تھے ان میں سے بنو خزاعہ نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ معاہدہ کر لیا اور ان کے حریف قبیلے بنو بکر نے قریش کے ساتھ معاہدہ کر لیا اور دونوں قبائل آپسی لڑائی سے محفوظ ہو گئے۔ دورِ جاہلیت میں بنو خزاعہ اور بنو بکر کی لڑائی تھی جس میں بنو بکر نے ایک خزاعی شخص کو قتل کیا اور بنو خزاعہ نے بنو بکر کے تین آدمی حدود حرم میں قتل کئے تھے۔ بنو بکر اور بنو خزاعہ اسی حالت میں تھے یعنی ان کی آپسی لڑائیاں چل رہی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی آپ نے دعویٰ فرمایا تو لوگ اسلام کے بارے میں مصروف ہو گئے۔ جب شعبان آٹھ ہجری کا مہینہ آیا اور صلح حدیبیہ کو بائیس ماہ گزر چکے تھے تو بنو بکر کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں ہجو کی یعنی توہین آمیز شعر کہے۔ بنو خزاعہ کے ایک نوجوان نے اس کو گاتے سنا تو اس نے اس شخص کو مارا اور اس کا سر پھاڑ دیا۔ اس واقعہ پر دونوں قبیلوں میں جھگڑا ہو گیا۔ بنو بکر نے قریش سے بنو خزاعہ کے خلاف افراد اور اسلحہ کی مدد کی درخواست کی۔ قریش نے اسلحہ گھوڑوں اور آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی۔ ان سب نے رازداری کے ساتھ بنو خزاعہ پر حملہ کیا تا کہ بنو خزاعہ اپنا دفاع نہ کر سکیں۔جب بنو خزاعہ پر حملہ ہوا تو ان میں سے کچھ لوگ بھاگ کر حدود حرم میں پہنچ گئے مگر بنو بکر نے حرم میںبھی قتل و غارت جاری رکھی۔ بنو بکر نے بنو خزاعہ کے بیس آدمی قتل کئے۔
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول کریم ﷺ جب تہجد کیلئے اٹھے تو مجھے آواز آئی ، آپ فرما رہے تھے لبیک لبیک لبیک۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا نصرتَ نصرتَ نصرتَ۔ مَیں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا کوئی آدمی آیا تھا جس سے آپ باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا ہاں میرے سامنے کشفی طور پر خزاعہ کا ایک وفد پیش ہوا اور وہ شور مچاتے چلے جا رہے تھے کہ ہم محمد کو اس کے خدا کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ تیرے ساتھ اور تیرے باپ دادوں کے ساتھ ہم نے معاہدے کئے تھے اور ہم تیری مدد کرتے چلے آئے ہیں مگر قریش نے ہمارے ساتھ بدعہدی کی اور رات کے وقت ہم پر حملہ کر کے جبکہ ہم میں سے کوئی سجدے میں تھا اور کوئی رکوع میں ہم کو قتل کر دیا اب ہم تیری مدد حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں۔اس پر مَیں نے کہا لبیک لبیک لبیک۔ پھر مَیں نے تین دفعہ کہا کہ تمہاری مدد کی جائے گی ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یا رسول اللہ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی قسموں کے بعد قریش معاہدہ توڑ دیں اور وہ خزاعہ پر حملہ کر دیں۔ آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت وہ اس معاہدہ کو توڑ رہے ہیں ۔ حضرت عائشہ نے پوچھا یا رسول اللہ کیا اس کا نتیجہ اچھا نکلے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں! نتیجہ اچھا ہی نکلے گا۔
بنو بکر اور قریش کی اس ظالمانہ کارروائی کے بعد عمرو بن سالم بنو خزاعہ کے چالیس سواروں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنے کے لئے نکلا۔ خزاعہ قبیلے کا رئیس بدیل بن ورقہ خزاعی بھی اس جماعت کے ساتھ تھا۔ انہوں نے آپ ﷺ کو تفصیل بتائی۔ اُس وقت آپؐمسجد میں صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ عمرو بن سالم خزاعہ کا سردار کھڑا ہوا اور اس نے یہ شعر پڑھا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ : اے میرے ربّ میں محمد کو وہ معاہدہ یاد دلاتا ہوں جو ہمارے آباء اور ان کے آباء کے درمیان ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمرو بن سالم تیری مدد کی جائے گی۔آپ نے فرمایا کہ تمہارا دکھ میرا دکھ ہے۔ میں اپنے معاہدے پر قائم ہوں اور فرمایا کہ یہ بادل جو سامنے برس رہا ہے، اسی طرح جلدی ہی اسلامی فوجیں تمہاری مدد کے لئےپہنچ جائیں گی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ کو خزاعہ کے واقعہ کی خبر ملی تو فرمایا مجھے اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اُن کی ہر اس چیز سے حفاظت کروں گا جس سے میں اپنے اہل اور گھر والوں کی حفاظت کرتا ہوں۔
بعد میں قریش کو اپنے کئے پر پچھتاوا ہوا اور انہوں نے ابوسفیان کو رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا۔ اس کے آنے کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے بتا دیا تھا کہ ابوسفیان آ رہا ہے۔
ابوسفیان مدینہ آکر آنحضرت ﷺ سے ملا اور کہا اللہ کی پناہ ہم اپنی صلح حدیبیہ کے معاہدے پر برقرار ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہم بھی اپنے معاہدہ اور صلح پر برقرار ہیں،ہم نے بھی کوئی تبدیلی نہیں کی۔ابوسفیان اپنی بات دہراتا رہا لیکن آپؐنے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ابو سفیان نے باری باری حضرت ابوبکر ،حضرت عمر ،حضرت عثمان ، حضرت علی اور ایک روایت کے مطابق حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی بات کی تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے حضور سفارش کر دیں، لیکن سب نے معذرت کی اوریوں ابوسفیان کسی بھی نئے عہد و پیمان کے بغیر ناکام و نامراد واپس لوٹ گیا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ابوسفیان نے مدینہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ پر زور دیا کہ مَیں صلح حدیبیہ کے وقت موجود نہ تھا اس لئے نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا کیونکہ جواب دینے سے راز ظاہر ہو جاتے تھے۔ ابوسفیان نے مایوسی کی حالت میں گھبرا کر مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا اَے لوگو میں مکہ والوں کی طرف سے نئے سرے سے آپ لوگوں کے لئے امن کا اعلان کرتا ہوں۔ یہ بات سن کر مسلمان اس کی بیوقوفی پر ہنس پڑے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوسفیان یہ بات تم یکطرفہ کہہ رہے ہو ہم نے کوئی ایسا معاہدہ تم سے نہیں کیا۔
آنحضرت ﷺ نے رازداری کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کی، لوگوں کو سفر کی تیاری کا ارشاد فرمایا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کہاں جانا ہے۔ دو تین دن کے بعد آپؐنے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو بلایا اورساری باتیں بتا کر دریافت فرمایا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ آپ نے تو اُن سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور پھر وہ آپ کی اپنی قوم ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کیا آپ اپنی قوم کو ماریں گے؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہم اپنی قوم کو نہیں ماریں گے معاہدہ شکنوں کو ماریں گے۔ پھر حضرت عمر سے پوچھا تو انہوں نے کہا بسم اللہ، میں تو روز دعائیں کرتا تھا کہ یہ دن نصیب ہو اور ہم رسول اللہ ﷺکی حفاظت میں کفار سے لڑیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر بڑا نرم طبیعت کا ہے مگر قول صادق عمر کی زبان سے جاری ہوتا ہے۔فرمایا کہ تیاری کرو۔ پھر آپ نے ارد گرد کے قبائل کو اعلان بھجوایا کہ ہر شخص جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں مدینہ میں جمع ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر کو پوشیدہ رکھنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار فرمائیں ۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ مزید تفصیل آئندہ بیان ہوگی۔ فرمایا : دنیا کے عمومی حالات کے لئےکہنا چاہتا ہوںکہ دعائیں کرتے رہیں، جنگ کے پھیلنے کے امکانات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کی تباہ کاری سے ہمیں محفوظ رکھے۔ اسرائیل کی حکومت اب یہی چاہے گی کہ ایک ایک کرکے تمام مسلمان ممالک کو نقصان پہنچائیں لیکن مسلمان ملک سوئے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے نہ تو عمل رہے ہیں نہ ان کی دعا کی طرف توجہ ہے ۔ ایسی حالت میں پھر جو نقصان پہنچے گا اس کا یہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور یہ اس طرف توجہ کریں اور اپنی اکائی قائم کرنے کی کوشش کریں۔ کفار جو ہیں وہ ایک ملت واحدہ بن گئے ہیں اور مسلمانوں کو بھی امت واحدہ بننا پڑے گا تبھی ان کی بچت ہے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر معصوم کو ہر مظلوم کو بڑے نقصان سے بچائے اور ہمیں دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔
…٭…٭…٭…