تشہد، تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
آج کل جہاں سوشل میڈیا کا فائدہ ہے اور اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے وہاں بعض ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جو تکلیف دہ ہوتی ہیں اور اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آج کل مخالفین جماعت احمدیہ کے خلاف انتہائی بیہودہ گوئی بھی کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف وہ جھوٹ اور غلاظت بکتے ہیں کہ احمدی کا دل چھلنی ہوتا ہے جنہیں سن کر اور پھر ردعمل میں بعض احمدی ان کے جواب غلط رنگ میں دے دیتے ہیں۔ نیت چاہے ان کی صاف بھی ہو تب بھی بعض دفعہ ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جن کو غلط معنی پہنائے جا سکتے ہیں۔ یہ ہمارا طریقہ نہیں ہے اس سے ایک احمدی کو بچنا چاہئے۔ ہمارا کام یہ نہیں کہ غلط زبان استعمال کریں یا اسے اس رنگ میں جواب دیں جس سے نا دانستگی میں ہمارے منہ سے ایسے الفاظ نکل جائیں جو کسی بھی رنگ میں کسی کی بھی ہتک کا موجب بنیں اور اس سے فائدہ اٹھا کر مخالفین یہ کہتے رہیں کہ ہم نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین یا صحابہ رضوان اللہ علیہم کی توہین کرنے والے ہیں جبکہ ہمارے دلوں میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور صحابہ کا جو مقام ہے اس کا تو کروڑوں حصہ بھی ان لوگوں کو فہم و ادراک نہیں ہے ۔ہمارا تو سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہے۔ آپ ہی وہ خاتم الانبیاء ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیارے اور آخری نبی ہیں اور آپ کے ساتھی جو ہیں، صحابہ جو ہیں ان کے بارے میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیشمار جگہ وہ کلمات فرمائے ہیں وہ باتیں کی ہیں کہ جو ان کی سوچ سے بھی بالا ہیں، جوہمارے مخالفین بات کرتے ہیں۔
پس ہمارے دلوں میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہی نہیں، یہ تو ہے ہی اور اس تک تو کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا، آپ کے صحابہ کا بھی بڑا مقام ہے اور اس بات کو ہراحمدی کو سامنے رکھنا چاہئے اور ایسی باتیں کرنے سے ہر احمدی کو بچنا چاہئے جس سے غلط تاثر پیدا ہو یا غلط تاثر پیدا ہونے کا کسی بھی رنگ میں اندیشہ ہو۔ اور اگر کوئی احمدی ہو کر ایسی باتیں کرتا ہے جس سے کسی بھی طرح غلط مطلب نکلتا ہو تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت کو بدنام کرنے والا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
تم نے صبر کرنا ہے اور ہمیشہ صبر دکھانا ہے ایک جگہ آپ نے فرمایا یہ مجھے گالیاں دیتے ہیں لیکن میں ان کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ان پر افسوس کرتا ہوں کیونکہ وہ اس مقام سے عاجز آگئے ہیں اور اپنی عاجزی اور فرومائیگی کو بجز اس کے نہیں چھپا سکتے کہ گالیاں دیں۔ یہ کمینہ پن اور اوچھے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کوئی جواب نہیں ہے تو یہ لوگ صرف گالیاں دینا چاہتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کفر کے فتوے لگائیں جھوٹے مقدمات بنائیں اور قسم قسم کے افتراء اور بہتان لگائیں۔ وہ اپنی ساری طاقتوں کو کام میں لا کر میرا مقابلہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہو گا۔ جو کوشش کرنی ہے تم نے کر لو لیکن اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے آخری فیصلہ تو نظر آجائے گا کس کے ساتھ ہے۔ فرمایا کہ میں ان کی گالیوں کی اگر پرواہ کروں تو اصل کام جو خدا نے مجھے سپرد کیا ہے رہ جاتا ہے اس لیے جہاں میں ان کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو مناسب ہے کہ ان کی گالیاں سن کر برداشت کریں اور ہرگز ہرگز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں کیونکہ اس طرح پر برکت جاتی رہتی ہے۔ وہ صبر اور برداشت کا نمونہ ظاہر کریں اور اپنے اخلاق دکھائیں۔ یقینا یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر اس نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔ غصہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہو جاتے ہیں اس لیے تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔
پس یہ وہ سبق ہے جسے ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے اور یہ جو خود ساختہ بعض لوگ عالم بن جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر جواب دینا شروع کر دیتے ہیں غیر احمدیوں کے جو نام نہاد ملاں ہیں جو اعتراض کرتے ہیں ان کے اعتراضوں کے جواب دینے لگتے ہیں ان کو اس چیز سے بچنا چاہئے اور اگر جواب تلاش کرنے ہیں تو علماء سے، جماعت کا گہرا علم رکھنے والے جو جماعتی لٹریچر سے اچھی طرح واقف ہوں ان سے پوچھا جائے اور اس کے جواب ایسے دئیے جائیں جو واقعی ٹھوس ہوں اور ان کے دلیلوں کو ان کے الزاموں کو رد کرنے والے ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو تعلیم ہے جو حقیقت میں صحیح اسلامی تعلیم ہے اس پر عمل کریں ورنہ آپ لوگ جماعت میں رہ کر پھر جماعت کو بدنام کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شریروں کے شر سے بچائے اور ان لوگوں کو بھی عقل دے جو جھوٹی غیرت دکھانے والے ہیں اور بعض دفعہ بلا وجہ بعض الفاظ استعمال کر کے فتنہ و فساد کو پھیلانے کا موجب بن جاتے ہیں۔ اگر ہم سوشل میڈیا پر ان جوابوں کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اپنی نمازوں کو سنوار کر ادا کریں اپنے سجدوں میں وہ درد پیدا کریں کہ جس سے اللہ تعالیٰ کی غیرت جلد جوش میں آئے تو ہم بہت جلد اس سے بہت بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں، جو نتائج یہ لوگ اپنے جواب دینے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہر احمدی کو اس چیز سے بچنا چاہئے کہ کبھی ایسی باتیں نہ کریں جو دشمن کو بلا وجہ یہ موقع دے کہ احمدی نے یہ کہہ دیا اور وہ کہہ دیا۔ ہمارے اخلاق بہت بلند اور بہت بالا ہونے چاہئیں اور جس کے اخلاق بلند نہیں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کا حق ادا نہیں کیا۔ پس ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں ہر ایک اپنا جائزہ لے سوچیں اور بجائے غلط قسم کے جوابوں کے دعاؤں کی طرف توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور مخالفین کے شر ان پر الٹائے اور اس سے بچائے۔