تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیات 54 تا 57 کی تلاوت کی پھر فرمایا :اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں خلافت کا نظام قائم ہوئے ایک سو سترہ سال گزر چکے ہیں۔ 1908ء میں یہ نظام قائم ہوا اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی قائم ہوا۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے جماعت احمدیہ پر کہ ہم ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جس کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ مسیح و مہدی کی آمد کے بعد ایک ایسا دور شروع ہو گا جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا دور ہے اور پھر اسی نظام میں خلافت کا دور بھی شروع ہو گا جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے بڑے واضح طور پر پیشگوئی فرمائی تھی جس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے بعد ایک نیا دور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا شروع ہوا اور آپ کے وصال کے بعد خلافت کا دور بھی شروع ہوا۔
حضور انور نے فرمایا کہ جوآیات مَیں نے تلاوت کی ہیں اُن سے صاف واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ تم میں نظام خلافت قائم ہو گا۔ خلفائے راشدین کا زمانہ تیس سال تک رہا۔ اب تیس سال کے لئے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک مکمل وعدہ تھا اور اس کی تشریح آنحضرتﷺ نے بھی فرما دی کہ خلافت علی منھاج نبوۃ تھی پھر بادشاہت تھی پھر جابر بادشاہت تھی پھر خلافت علی منھاج نبوت قائم ہو گی اور یہ مسیح موعود کے زمانے میں قائم ہو گی۔ پس اس بات کو ہم احمدیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کا ایک عہد کیا ہے اور اس عہد کی ایک شرط یہ ہے کہ ہم ہمیشہ خلافت کے ساتھ جڑے رہیں گے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے بلکہ تلقین فرمائی ہے اور اس کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے۔ پس جب تک ہم خلافت سے جڑے رہیں گے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں گے لیکن اس کے لئے بھی شرائط ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن آیات میں فرمایا ہے جو مَیں نے تلاوت کیں۔ پس ان شرائط کو پورا کرنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
خدا تعالیٰ دو قسم کی قدرت جاری کرتا ہے۔ اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں، تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتے ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا ۔
سواَے عزیزو جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے تو اب ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو تمہارے دل پریشان نہ ہوں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔ اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعاؤں میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ اُس وقت جب آپؑنے یہ ارشاد فرمایا تھا انڈیا میں جماعت احمدیہ تھی اور چند ایک لوگ باہر ہوں گے لیکن یہ پیشگوئی بھی آپ نے ایک رنگ میںفرما دی کہ آئندہ زمانہ ایسا آئے گا کہ جب دنیا میں ہر جگہ جماعت احمدیہ پھیل جائے گی اور آج ہم وہ زمانہ دیکھ رہے ہیں کہ پوری دنیا میں جماعت احمدیہ پھیلی ہوئی ہے اور ہر جگہ خلافت سے وفا اور پیار اور محبت کا تعلق ہمیں نظر آتا ہے۔پس ہمیں چاہئے کہ خلافت کے ساتھ جڑے رہیں اور خلافت کے نظام کے قائم کرنے کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار رہیں۔ اگر ہم ایسا کرتے رہیں گے تو تا قیامت ہم خلافت سے وابستہ رہیں گے نسلیں ہماری وابستہ رہیں گی اور اس کے فیض سے فیض پاتے رہیں گے۔
حضور انور نے فرمایا : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جماعت احمدیہ میں بھی شاید خلافت ملوکیت میں بدل جائے۔فرمایا جماعت احمدیہ کی جو خلافت ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ روحانی خلافت رہے گی اور اس کا سلسلہ قیامت تک رہے گا۔ بعض فتنہ پرداز لوگ یہ باتیں کہنے لگ جاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ میں ملوکیت پیدا ہو گئی ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو گا۔ جماعت احمدیہ میں ہمیشہ روحانی خلافت قائم رہے گی،یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ خلیفہ وقت تو اپنی نمازوں میں راتوں کو اٹھ کر افراد جماعت کے لئے دعا کرتا ہے کیا کوئی بادشاہ ایسا ہے جو یہ عمل کرتا ہو۔
حضور انور نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ خلافت ان لوگوں کو ملے گا جو اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے۔ پس جب تک ہم میں سے وہ لوگ جو اللہ اور رسول کے حکموں کی اطاعت کرتے رہیں گے تو ہم اس وعدے سے حصہ بھی پاتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔وَاِنْ تُطِيْعُوْہُ تَہْتَدُوْا۰ۭ کہ اگر تم اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور ہدایت پاتے رہو گے۔
مسلمانوں میں حقیقی خلافت خلافت راشدہ اس وقت تک قائم رہی جب تک وہ لوگ اطاعت کا جُوااپنی گردن پر رکھے رہے۔ جب اطاعت سے باہر نکلے تو خلافت سے بھی محروم ہو گئے۔ پس یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ جماعت احمدیہ سے منسلک ہو کر اگر اس سے فیض پانا ہے تو خلافت کے ساتھ جڑنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے اور خلافت کی کامل اطاعت کرنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے اور خلیفہ وقت کے حکموں پر عمل کرنا اور اس سے وفا کا تعلق رکھنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے تبھی وہ ہدایت یافتہ بھی ہو گا تبھی وہ اس سے فیضیاب بھی ہوتا رہے گا جو ایک ایسے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے جو حقیقی مؤمن ہے اور خلافت سے جڑنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا خلافت کا یہ جو نظام ہے یہ ایسا نظام ہے کہ اللہ تعالیٰ خود دلوں کو پھیرتا ہے۔ یہ تائید الٰہی ہمیشہ ہر خلافت کے زمانے میں ہم نے دیکھا ہے۔حضرت مولانا حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو آپ کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص تائیدات تھیں اور لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے زمانے میں بھی ہم نے دیکھا کہ باوجود فتنہ و فساد کے اللہ تعالیٰ کی تائیدات آپ کے ساتھ تھیں۔ اور جو لوگ آئندہ خلافت جاری رکھنے کے خلاف تھے وہ علیحدہ ہو گئے اور ان کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ پھر خلافت ثالثہ میں بھی ہم نے دیکھا کس طرح ایک ہاتھ پر لوگ جمع ہوئے۔ پھر خلافت رابعہ میں ہم نے دیکھا کہ پوری جماعت بغیر کسی انتشار کے ایک دھاگے میں پروئی گئی۔ پھر خلافت خامسہ میں بھی جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے کس طرح لوگ جمع ہوئے۔دور دراز ملکوں کے لوگ اکٹھے ہوئے اور ایسی وفا کا تعلق انہوں نے ظاہر کیا کہ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
اب دنیا میں آج آپ دیکھ لیں کہ جماعت احمدیہ ہی ہے جو ایک نظام میں پروئی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت سے وابستہ خلافت سے وابستہ رہنے کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کے بہت فضل ہیں۔
پاکستان میں 1974ء میں جماعت کے خلاف فساد ہوا اس کے باوجود جماعت ترقی کرتی چلی گئی اور دنیا میں پھیل گئی۔ 1984ء میں جماعت کے خلاف قانون پاس ہوئے اس سے بھی جماعت کی ترقی میں کوئی روک پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک نئی شان سے خلافت کے زیر سایہ ہم نے دیکھا کہ جماعت کی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔اور اب بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ جماعت ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔
باوجود اس کے کہ دشمن نے ظلموں کی انتہا کر دی، خلافت خامسہ کے دور میں تو بیشمار شہادتیں ہوئی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اس کے باوجود لوگوں کے ایمانوں کو متزلزل نہیں کر رہا۔احمدی نہ صرف یہ کہ اپنے ایمان پر قائم ہیں بلکہ ایمان میں مضبوط تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
باہر کے ملکوں میں جماعت احمدیہ کثرت سے پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ یہ وعدہ اللہ تعالیٰ کا خلافت کے ساتھ تھا کہ جس کے نتیجے یہ ظاہر ہو رہے ہیں کہ آج ہم دو سو تیرہ چودہ ملکوں میں جماعت احمدیہ کے نظام کو قائم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلصین کی جماعت قائم ہو رہی ہے اور دور دراز رہنے والے لوگ بھی ایسے ہیں جو حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح خلافت سے ان کا تعلق ہے۔
برکینا فاسو میں ڈوری کے مقام پر جہاں آٹھ نو احمدیوں کی شہادتیں ہوئیں اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ ان کی نسلیں اور ان کی اولادیں ایمان پر قائم ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اسی طرح ایمان رکھتے ہیں جس طرح ہمارے ان شہیدوں نے ایمان رکھا اور اپنی جانیں قربان کیں اور ہم بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم خلافت کے لئے اور خلافت کے نظام کو قائم کرنے کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہیں اور ایسے ایسے محبت کے پیغام وہ مجھے بھیجتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ ان دور بیٹھے ہوئے لوگوں کو جن کو ہم بعض دفعہ اَن پڑھ سمجھتے ہیں ان میں بھی ایمان کی ایسی حرارت ہے کہ ان کے الفاظ اور ان کا جذبہ اور ان کا عشق اور خلافت سے محبت اور پیار ایک ناقابل بیان اور ناقابل مثال چیز ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ خلافت احمدیہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو یہ وعدہ فرمایا تھا کہ دائمی ہو گی وہ اس دائمی نظام کو قائم رکھنے کے لئے لوگوں کے دلوں کو بھی ایمان سے بھر رہا ہے اور بھرتا چلا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہی آیات میں یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ ایمان میں ترقی کرنے والے ایسے ہیں جو کبھی شرک نہیں کرتے پس ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ ہر قسم کے شرک سے بچیں۔ پس اگر ہم نے حقیقی فیض پانا ہے خلافت کے فیض سے تو پھر ہمیں ہر قسم کے شرک سے اپنی اناؤں سے اور تکبر سے اپنے آپ کو نجات دلانی ہو گی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں جو نماز کا قیام کرنے والے ہیں جو زکوۃ کی ادائیگی کرنے والے ہیں۔ پس نمازوں کا قیام جو ہے وہ انتہائی اہم چیز ہے اس کے لئے ہر احمدی کو جو اپنے آپ کو خلافت سے منسلک سمجھتا ہے اور منسلک کرنا چاہتا ہے اور اس سے فیض پانا چاہتا ہے اس کو یہ بات سامنے رکھنی ہو گی کہ ہم نے نمازوں کے قیام کی طرف بھرپور توجہ دینی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کی ادائیگی کا حکم بھی دیا ہے یہ بھی تزکیہ اموال کے لئے بہت ضروری ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ صرف جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے ہی یہ مالی نظام جاری ہے اور خلیفہ وقت کی اطاعت میں دنیا میں چندہ دینے کے ذریعہ سے افراد جماعت اور جماعتوں کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ خلافت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں مالی قربانی کی روح پیدا کی پھر نظام خلافت کے ذریعہ سے اس کا جو جائز مصرف ہے اور جو حقیقی مصرف ہے وہ ہور ہا ہے اور غریبوں کی پرورش بھی ہو رہی ہے ضرورتمندوں کی ضرورتیں بھی پوری ہو رہی ہیں اور اسلام کی اشاعت کا کام بھی ہو رہا ہے۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ خلافت احمدیہ کے ساتھ جڑنے سے ہی اب دنیا کی بقاء ہے اور خلافت احمدیہ اس نظام کا تسلسل ہے اس وعدے کا تسلسل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے فرمایا تھا اور جس کی پیشگوئی آنحضرتﷺ نے فرمائی تھی اور جو مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جاری ہونا تھا۔ پس خلافت احمدیہ کی یہ کڑی ہے جو اللہ تعالیٰ تک لے کر جاتی ہے اور اس کے نظام کو قائم کرنے کیلئے ایک کڑی ہے۔ اس کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور جب ہم یہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضلوں کا بھی وارث بنائے گااور وہ فضل ایسے ہوں گے کہ دنیا میں کسی اور پر ایسے فضل نازل نہیں ہو سکتے۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مکرم کرنل ڈاکٹر پیر محمد منیر صاحب،اور مکرمہ سلیمہ زاہد صاحبہ اہلیہ مکرم سمیع اللہ زاہد صاحب مبلغ سلسلہ کینیڈاکا ذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد ہر دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔
…٭…٭…٭…