تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :غزوۂ موتہ کا ذکر ہورہا تھا اس حوالے سے مزیدتفصیل اس طرح ہےکہ جب آنحضرت ﷺ نےحضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو الوداع کہا تو حضرت عبداللہؓ نےعرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! مجھے کسی ایسی چیز کا حکم دیں جو مَیں آپ کی طرف سے یاد کرلوں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا: کل تم ایسے شہر پہنچو گے جہاں سجود کم ہوتے ہیں۔ پس تم وہاں سجود کثرت سے کرنا۔
حضورِانور نے فرمایا کہ یہ بہت بڑی نصیحت ہے، آج کل ہم جن ملکوں میں رہ رہے ہیں یہاں لوگ خدا کو بُھلا چکے ہیں، اس دَور میں احمدیوں کو اپنی عبادات کی طرف بہت توجہ کرنی چاہیے۔ پھر آپؓکی درخواست پر آنحضرتﷺ نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو، یہ ہر معاملے میں تمہارا مددگار ہے۔جب حضرت عبداللہؓ کو الوداع کہا گیا تو وہ رو پڑے۔لوگوں کے پوچھنے پر آپؓنےاللہ کی قسم کھاکر کہا کہ مجھے نہ دنیا سے محبت ہے اور نہ تم سے۔ مَیں نے رسول اللہﷺ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا ہے جس میں آگ کا ذکر ہے اور مَیں نہیں جانتا کہ آگ پر وارد ہونے کےبعد میری کیا حالت ہوگی۔ اس پر لوگوں نے انہیں تسلی دی اور دعا دی کہ خیریت سے آپ سب ہماری طرف واپس آئیں۔
جمعے کے دن مہم میں شامل تمام افراد روانہ ہوگئے، مگر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے یہ سوچا کہ مَیں جمعے کی نماز رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اداکرکے اُن سے جاملوں گا۔ آنحضرتﷺ نے انہیں دیکھ کر دریافت کیا کہ تجھے کس چیز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہونے سے روکے رکھا؟ اس پر حضرت عبداللہ ؓنے عرض کیا کہ مَیں نے چاہا کہ آپؐکے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کرکے اپنے ساتھیوں سے جاملوں۔ آپؐنے اس پر فرمایا کہ زمین میں جو کچھ ہے اگر تم وہ سب خرچ کرڈالو تو جو لوگ اس مہم پر روانہ ہوگئے ہیں تم اُن کے فضل کو نہیں پاسکتے۔
حضرت خالد بن ولید ؓایک ماہر شہ سوار تھے، وہ بھی اس مہم میں ایک عام سپاہی کے طور پر شریک تھے۔ اس مہم کی روانگی کےوقت خالد ؓکو اسلام قبول کیے ابھی تین ماہ ہوئے تھے۔
مسلمان ابھی روانہ ہی ہوئے تھے کہ دشمنوں کو مسلمانوں کی روانگی کی خبر مل گئی اور انہوں نے بھی لشکر تیار کرنا شروع کردیا۔ مسلمانوں کو خبر ملی کہ لشکر کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے۔اس موقعے پر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے صحابہ ؓکا حوصلہ بڑھایا اور انہیں کہا کہ شہادت اور فتح میں سےدونوں ہی تمہارے لیے بہتر ہیں اور اسی کی تم تمنّا کرکے نکلے تھے۔ یہ سن کر سارے لشکرنے کہا کہ ابنِ رواحہؓ نے ٹھیک کہا۔ صحابہ ؓ آگے بڑھے تو مشارف کی بستی کے قریب انہیں ہرقل کے لشکر ملے جو اہلِ روم اور اہلِ عرب پر مشتمل تھے۔ مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو اُس بستی کی طرف ہٹ گئے جسے موتہ کہا جاتا تھا۔ اس مقام پر مسلمانوں نے جنگ کی تیاری کی، حضرت ابوہریرہؓاس جنگ میں شریک ہوئے تھے وہ کہتے ہیں کہ جب دشمن ہمارے قریب ہوا تو ہم نے اتنی کثیر تعداد، اتنی عمدہ تیاری پہلے نہ دیکھی تھی۔ اس پر مجھے حضرت ثابتؓنے کہا کہ تم کثیر لشکر دیکھ رہے ہو، تم نے ہمارے ساتھ غزوۂ بدر میں شرکت نہیں کی تھی، ہم وہاں بھی کثرت کی وجہ سے غالب نہیں آئے تھے۔
جب جنگ شروع ہوئی تو زبردست لڑائی ہوئی اور حضرت زیدؓنےآنحضرتﷺ کے عَلَم کے ساتھ جہاد کیا اور بہادری سے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد حضرت جعفر ؓنےعَلَمِ اسلام سنبھالا اور جہاد کیا۔ پھر لڑتے لڑتے جب آپؓکا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو بائیں ہاتھ میں جھنڈا پکڑ لیا، جب وہ بھی کٹ گیا تو آپؓنے پرچمِ اسلام کو اپنی کہنیوں کے ساتھ سینے سے لگا لیا ، بوقتِ شہادت اُن کی عمر 33؍ سال تھی۔ شہادت کے بعد آپؓکے جسم پر ساٹھ کے قریب زخم دیکھے گئے، ان میں سے کوئی زخم بھی آپؓکی پیٹھ پر نہ تھا۔
آپؓکی شہادت کے بعدلشکرِ اسلام کا جھنڈا حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے تھام لیا۔ آپؓکو گوشت کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا کہ لڑائی سے قبل اس سے کچھ طاقت حاصل کرلیں، ابھی آپؓنے اس میں سے کچھ حصہ توڑا ہی تھا کہ ایک طرف سے تلواریں چلنے کی آواز آئی ، آپؓنے اپنے نفس سے کہا کہ تُو ابھی تک اس دنیا میں ہی ہے، یعنی جنگ شروع ہوگئی ہے اور تُو گوشت کھا رہا ہے۔ آپؓنے وہ گوشت کا ٹکڑا چھوڑا اور فوراً جنگ میں کود پڑے اور نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے اور اُن کے ہاتھ سے جھنڈا گِر گیا۔
جب عبداللہ بن رواحہؓ شہید ہوگئے تو مسلمانوں کو بری طرح ہزیمت اٹھانا پڑی، کوئی دومسلمان بھی اکٹھے لڑائی کرتے نظر نہ آتے۔ ایسے میں لوگوں نے اصرار کے ساتھ جھنڈا حضرت خالدؓکو دیا جبکہ آپؓراضی نہ تھے۔
جب حضرت خالدؓ نے جھنڈا تھاما تو انہوں نے لوگوں کا دفاع کیا، انہیں سمیٹ کر اکٹھا کیا اور اسلامی لشکر کو ایک طرف ہٹا لیا۔ دشمن بھی ان سے پیچھے ہٹ گیا اور وہ لوگوں کو بچا کر واپس لے آئے۔ ابنِ اسحٰق کے مطابق رومیوں سےیہ دُور ہٹنا ہی دراصل ان سے بچنا تھا، کیونکہ اس وقت تین ہزار میں سے دو ہزار مسلمان سپاہی دشمن کے لشکر سے مل گئے تھے، یعنی دونوں لشکر بالکل گتھم گتھا تھے۔ دشمن نے پوری طرح مسلمانوں کو گھیر لیا تھا اوروہ ان پر اچھی طرح جمع ہوچکے تھے، ایسے میں مسلمانوں کو بچا کر نکال لینا ہی فتح تھی۔
اللہ تعالیٰ نے جنگ کے حالات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ نبی کریمﷺ نے حضرت زیدؓ، جعفر ؓاور عبداللہ بن رواحہ ؓکی شہادت کا لوگوں کو بتایا۔ آپؐنے فرمایا کہ زیدنے جھنڈا لیا اور وہ شہید ہوگئے، پھر جعفر نے جھنڈا لیا اور وہ بھی شہید ہوگئے، پھر ابنِ رواحہ نے لیا اور وہ بھی شہید ہوگئے، آپؐکی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ پھر آپؐنے فرمایا کہ اس کے بعد جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے لیا اور اللہ نے اُن کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح دے دی۔ اس روز سے حضرت خالد بن ولید ؓکو سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کہا جانے لگا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالدؓ نے اسلامی لشکر کی کمان سنبھالی تو آپؓنے لشکر کے اگلے حصّے کو پیچھے اور پچھلے حصے کو آگے کردیا، دائیں حصے کو بائیں طرف اور بائیں حصے کو دائیں طرف کردیا ، اور خوب زور سے نعرے لگائے جس سے دشمن نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کی مدد آگئی ہے اور وہ پیچھے ہٹ گیا اور خالد ؓمسلمانوں کو بچا کر واپس لے آئے۔
جھنڈے کے ادب و احترام کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب کسی قوم کے افراد کے دلوں میں اُن کے جھنڈے کی عظمت قائم کردی جاتی ہے تو وہ انہیں اس بات کے لیے تیار کر دیتی ہے کہ اگر اپنے جھنڈے کی حفاظت کے لیے انہیں اپنی جانیں بھی قربان کرنی پڑیں تو بلا دریغ جانیں قربان کردیں کیونکہ اس وقت ذرا سی لکڑی اور کپڑے کا سوال نہیں ہوتا بلکہ قوم کی عزت کا سوال ہوتا ہے جو تمثیلی زبان میں جھنڈے کی صورت میں ان کے سامنے موجود ہوتا ہے۔
اس کے بعد دُعا کی تحریک کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا : آج کل پاکستان اور ہندوستان کے جو حالات ہیں ان کے لیے خاص طور پر دعا ئیں کریں۔ اللہ تعالیٰ ظلم کا خاتمہ کرے مظلوموں کی حفاظت فرمائے۔ حکومتوں کو عقل دے کہ جنگوں کی طرف بڑھنے کی بجائے صلح اور صفائی سے معاملات طے کریں، بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کرنے والے ہوں ۔
حضورِانور نے فرمایا کہ دنیا کے سب مظلوموں کے لیے دعا کریں۔ بظاہر تو دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، اللہ تعالیٰ ہی اسے تباہی سے بچائے اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب یہ خدا کی طرف توجہ کریں۔
خطبہ کے آخر میں حضورِ انور نے شہیدمکرم محمد آصف صاحب ابن مکرم رفیق احمد صاحب آف بھلیر ضلع قصور کا ذکر خیر فرمایا۔
شہیدمرحوم کو معاندینِ احمدیت نے 24؍ اپریل کو فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بوقتِ شہادت شہید مرحوم کی عمر انیس سال تھی۔ مرحوم نیک، اطاعت گزار، بہادر، ذیلی تنظیموں کے کاموں میں حصّہ لینے والے، خوش اخلاق، باکردار، خلافت سے محبت کرنے والے نوجوان تھے۔
حضورِانور نے فرمایا کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں اور جماعت کی مخالفت کرنے والوں کی جرأت بڑھتی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جلد ان کی پکڑ کے سامان پیدا فرمائے۔ نماز جمعہ کے بعد حضور انور نے شہید مرحوم کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
٭…٭…٭