اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-01

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 25؍اپریل 2025ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی مختلف مہمات کا ذکر ہورہا ہے۔ان میں ایک سریہ غالب بن عبداللہ بطرف فدک کا ذکر بھی ملتا ہے۔ حضرت بشیر بن سعدؓشعبان ۷؍ہجری میں 30؍افراد کےساتھ فدک میں بنو مرّہ کی طرف گئے۔ بنو مرّہ نے بشیربن سعدؓکےتمام ساتھیوں کو شہید کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی خبرہوئی تو آپؐنے زبیربن عوّامؓکو تیار کیا اور ان کےساتھ دو سوصحابہ ؓکو بھجوایا۔اس مہم میں مسلمانوں کو کامیابی ہوئی اور مالِ غنیمت بھی حاصل ہوا۔
پھر ایک سریہ شجاع بن وہب ہے، یہ سریہ ربیع الاوّل8؍ہجری میں ہوا۔ حضرت شجاعؓغزوۂ بدر سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے، آپؓنے چالیس برس کی عمر میں جنگِ یمامہ میں شہادت پائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو ہوازن کے مسلمانوں کے خلاف سازشوں کی اطلاعات مل رہی تھیں۔ ان اطلاعات پر آپؐنے حضرت شجاعؓکی قیادت میں 24؍سپاہیوں کو روانہ فرمایا۔ حضرت شجاعؓاپنے ساتھیوں کے ساتھ راتوں کو سفر کرتےہوئے بنو ہوازن تک جاپہنچے اور صبح کے وقت اُن پر حملہ کردیا، حضرت شجاعؓنے اپنے ساتھیوں کو تعاقب سے روک دیا اور مالِ غنیمت سمیت مدینے واپس آگئے۔
اس کے بعد ایک سریہ کعب بن عمیر غفاری کا ذکر ہے، یہ سریہ 8؍ربیع الاوّل 8؍ہجری کو ہوا۔ آپؐنے حضرت کعب بن عمیر غفاریؓکی قیادت میں پندرہ صحابہ ؓکو ذات اطلاح کی طرف روانہ فرمایا جو وادی القریٰ کی پشت پر تھا۔ اس سریہ میں تمام صحابہ ؓ شہید ہوگئے، البتہ ایک صحابی بچ نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ آپؐنےاسی وقت ایک لشکر تیار کیا مگر پھر اطلاع ملی کہ وہ لوگ کہیں اور جا چھپے ہیں تو اس پر آپؐنے ارادہ ملتوی کردیا۔
غزوہ موتہ جمادی الاولیٰ 8؍ہجری یا ستمبر 629ء میں ہوا۔ موتہ شام کی سرزمین پر مدینے سے تقریباً 600؍ میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ اس غزوے کا سبب مسلمانوں کے قاصد حارث بن عمیرؓکی دردناک شہادت تھی، جو آپؐپر بہت گراں گزری تھی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسان قبیلے کے رئیس کو جو رومی حکومت کی طرف سے بصرہ کا حاکم تھا یا خود قیصر روما کو خط لکھا، اس خط میں غالباً رومی قبائل کی شکایت ہوگی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور انہوں نے پندرہ مسلمانوں کو بےدردی سے قتل بھی کیا ہے۔ یہ خط حضرت حارثؓکے ہاتھ بھجوایا گیا جو موتہ مقام پر ٹھہرے، جہاں غسان قبیلے کا ایک رئیس شرحبیل انہیں ملا، اور اس نے حضرت حارثؓکو گرفتار کرکے قتل کروادیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حارثؓکی شہادت کی خبر پہنچی تو آپؐنے اِس واقعے اور گذشتہ واقعے کی سزا کے طور پر تین ہزار کا لشکر تیار کروایا اور زید بن حارثہ کو اس کا امیر مقرر فرمایا۔ آپؐنے فرمایا کہ اگر زید شہید ہوجائیں تو حضرت جعفربن ابی طالب امیر ہوں گے اور اگر جعفربن ابی طالب شہیدہوگئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ امیر ہوں گے اور اگر عبداللہ بن رواحہ بھی شہید ہوگئے تو مسلمان جسے چاہیں اپنا امیر مقرر کرلیں۔ نعمان نامی ایک یہودی نے حضرت زیدؓسے کہا کہ زیدؓ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) سچے نبی ہیں تو تم واپس لوٹ کر نہیں آسکو گے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا کہ اس وقت ایک یہودی آپ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا اے ابو القاسم اگر آپ سچے ہیں تو یہ تینوں آدمی ضرور مارے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیتا ہے۔ پھر وہ زید کی طرف مخاطب ہوا اور کہا میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خد اکے سچے نبی ہیں تو تم کبھی زندہ واپس نہیں آئو گے۔ زید نے جواب میں کہا میں واپس آئوں یا نہ آئوں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خد ا کے سچے نبی ہیں۔ دوسرے دن صبح کے وقت یہ لشکر روانہ ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس کو چھوڑنے کے لئے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کی افسری کے بغیر اتنا بڑا لشکر کسی مسلمان جرنیل کے ماتحت کسی اہم کام کیلئے نہیں گیا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لشکر کے ساتھ چلتے جاتے تھے اور انہیں نصیحتیں کرتے جاتے تھے۔ آخر مدینہ کے باہر اس مقام پر جا کر جہاں سے آپ مدینہ میں داخل ہوئے تھے اور جس جگہ پر عام طور پر مدینہ والے اپنے مسافروں کور خصت کیا کرتے تھے آپ کھڑے ہو گئے اور کہا میں تم کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں اور تمہارے ساتھ جتنے مسلمان ہیں ان سے نیک سلوک کرنے کی۔ تم اللہ کا نام لے کر جنگ پر جائو اور تمہارے اور خدا کے دشمن جو شام میں ہیں ان سے جا کر لڑائی کرو۔جب تم شام میں پہنچو گے تو وہاںتمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو عبادت گاہوں میں بیٹھ کر خدا کا نام لیتے ہیں تم ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنا اور نہ انہیں تکلیف پہنچانا اور نہ دشمن کے ملک میں کسی عورت کو مارنا اور نہ کسی بچے کو مارنا اور نہ کسی اندھے کو مارنا اور نہ کسی بوڑھے کو مارنا، نہ کوئی درخت کا ٹنا نہ عمارت گرانا۔ یہ نصیحت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹے اور اسلامی لشکر شام کی طرف روانہ ہوا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح پورا ہوا، پہلے حضرت زیدؓشہید ہوئے، اس کے بعد حضرت جعفرؓنے لشکر کی کمان سنبھالی اور وہ بھی شہید ہوگئے، اس کے بعد عبداللہ بن رواحہؓ نے لشکرکی کمان سنبھالی اور وہ بھی شہید ہوگئے۔ قریب تھا کہ لشکر میں انتشار پیداہوجاتا کہ حضرت خالدبن ولیدؓنے بعض مسلمانوں کے کہنےپر اسلامی جھنڈے کو پکڑ لیاا ور اللہ تعالیٰ نے اُن کے ذریعے مسلمانوں کو فتح دی اور وہ خیریت سے اسلامی لشکر کو واپس لے آئے۔
حضورِانور نے فرمایا ابھی مَیں ایک شہید اور بعض مرحومین کا ذکر کروں گا اور نماز کے بعد ان کی نمازِ جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔
مکرم لئیق احمد چیمہ صاحب ابن مکرم چودھری نذیر احمد چیمہ صاحب۔ انہیں 18؍اپریل کوکراچی میں ایک ہجوم نے حملہ کرکےاینٹیں اور پتھر مار کر نہایت ظالمانہ طور پر شہید کردیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شہید کی عمر 47؍سال تھی۔ شہید مرحوم ایک ورک شاپ چلاتے تھے اور ان کی دیانت داری کی وجہ سے ان کاکاروبارکافی وسیع ہوگیا تھا۔ مرحوم موصی تھے، نہایت مستعدجماعتی کارکن، صوم و صلوٰۃ کے پابند،تہجدگزار، ملنسار، محبت کرنے والے،بہت بہادر اور دوسروں کو ہمت دلانے والے، خلافت سے خاص تعلق رکھنے والے، خطبات غور سے سننے والے، جماعتی ڈیوٹیز اور مقدمات کی پیروی میں پیش ہونے کے لیے ہردم تیار رہتے تھے۔ شہادت کے واقعے سے دو روز قبل مخالفین کی جانب سے عدالت میں انہیں دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔ قرآن کریم سے شہید کو والہانہ عشق تھا۔ پسماندگان میں دو بیویاں ، اور سات بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہن اور بھائی بھی ہیں۔
حضورِانورنے فرمایا کہ آج بھی قصور کے ایک گاؤں میں ایک نوجوان احمدی کی شہادت کی اطلاع ہے۔
فرمایا:اللہ تعالیٰ ان ظالموں کی پکڑکے جلد سامان کرے ان کے لیے اب یہی دُعا ہے کہ اَللّٰھُمَّ مَزِّقْھُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ وَ سَحِّقْھُمْ تَسْحِیْقًا
(2) محترمہ امۃ المصور نوری صاحبہ اہلیہ ڈاکٹرمسعودالحسن نوری صاحب۔ مرحومہ گذشتہ دنوں وفات پاگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓکی پوتی اور حضرت نواب امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ ؓکی نواسی اور مرزا داؤد احمد صاحب کی بیٹی تھیں۔حضورِانور نے فرمایا کہ میری چچا زاد بہن تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، متوکل، نیک طبیعت، مختلف مذاہب کا مطالعہ کرنے والی، خاوند کا ساتھ دینےوالی، صابر، مخلص خادم دین، قرآن کریم سے محبت رکھنے والی، غریبوں کی ہمدرد، حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی کتب کا مطالعہ کرنے والی، واقفینِ زندگی کی عزت کرنے والی خاتون تھیں۔
(3) مکرم حسن سانوغو ابوبکر صاحب لوکل مبلغ برکینافاسو۔ آپ 63؍سال کی عمر میں گذشتہ دنوں وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم لوکل زبان میں قرآن کریم کا درس دیا کرتے جو ریڈیو پر نشر ہوتا تھا۔ مرحوم نے الازہر یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کررکھی تھی۔ مرحوم نیک، تبلیغ کا شوق رکھنے والے، بہادر، بہترین مقرر، خطیب، قرآن کریم سے محبت رکھنے والے ، ہنس مکھ انسان تھے۔ حضورِانور نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایسے خدمت کرنے والے جماعت کو ہمیشہ عطا فرماتا رہے۔
٭…٭…٭