تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :آنحضرت ﷺکی سیرت کے حوالے سے بعض اور غزوات و سرایا کا آج ذکر کروں گا۔
تاریخ میں ایک سریّہ حضرت عمر بن خطابؓبطرف تربہ کا ذکر بھی ملتا ہے۔یہ سریّہ شعبان ۷؍ہجری میں ہوا۔ رسول اللهؐنے حضرت عمربن خطابؓکو ہواذن قبیلہ کی طرف تربہ مقام کی طرف تیس افراد کے ساتھ بھیجا۔ اِس سریّہ کو بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ؐ کو اہلِ تربہ کی طرف سے اسلام کے خلاف سازشوں کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ حضرت عمرؓ روانہ ہوئے تو آپؓکے ساتھ بنو ہلال کا ایک شخص گائیڈ تھا۔ صحابہؓ رات کو سفر کرتے اور دن کو چھپ جاتے۔ اہلِ تربہ کو خبر پہنچی تو وہ وہاں سے بھاگ گئے اور کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔
پھر ایک سریّہ حضرت بشیر بن سعدؓفدک میں بنو مُرّہ کی طرف ہے۔ یہ سریّہ شعبان ۷؍ہجری میں حضرت بشیر بن سعدؓکی قیادت میں ہوا۔آپؓکی کُنیت ابو نعمان تھی۔آپؓزمانۂ جاہلیت میں لکھنا جانتے تھے۔ انہوں نے بیعت عقبہ ثانیہ میں کی، جس میں ستّر انصار شامل ہوئے تھے، آپؓغزوۂ بدر، اُحد و خندق اور باقی کے تمام غزوات میں آنحضرتؐکے ساتھ شامل ہوئے تھے۔آپؓانصار کے پہلے شخص تھے، جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓکے ہاتھ پر سقیفہ بنو ساعدہ کے دن بیعت کی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ کے زمانۂ خلافت ۱۲؍ہجری میں آپؓحضرت خالدبن ولیدؓکے معرکہ عین التمر میں شریک ہوئے اور آپؓکو شہادت نصیب ہوئی۔
رسول اللهؐ نے حضرت بشیر بن سعد ؓکو تیس صحابہؓ کے ساتھ فدک بن بنو مُرّہ کی طرف بھیجا۔یہ واضح ہوکہ آنحضرتؐجنگ کے لیے اُس وقت بھیجتے تھے، جب یہ خبر ہوتی تھی کہ لوگ اسلام کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ بنومرّہ کے ساتھ صحابہؓ کی شدید جنگ ہوئی۔ بنومرّہ نے حضرت بشیرؓکے ساتھیوں کو شہید کر دیا۔ بشیرؓاُن لوگوں سے شدید جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ زخمی ہو کر گر پڑےاور سمجھا گیا کہ فوت ہوگئے ہیں ، لیکن وہ محفوظ رہے۔
پھر ایک سریّہ حضرت غالب بن عبدالله لیثیؓ بطرف میفعہ کا ذکر ہے۔یہ سریّہ رمضان ۷؍ہجری میں ہوا۔ آپؓاہلِ حجاز میں سے تھے۔ فتح مکّہ کے موقع پر موجود تھے اور اِن کو رسول اللهؐ نے فتح مکہ سے پہلے جاسوس کے طور پر آگے بھیجا تھا۔ حضرت امیر معاویہؓ کے دَور میں یہ خراسان کے والی تھے۔
رسول اللهؐ نے آپؓکوبنو عوال اور بنو عبد بن ثعلبہ کی طرف بھیجا، جو میفعہ میں تھے، صحابہ اس سریہ سے کامیاب ہوکر لوٹے۔
ابنِ سعدؒ نے لکھا ہے کہ یہ وہی سریّہ ہے، جس میں حضرت اُسامہ بن زیدؓ نےمِرْداس بن نہیک کو قتل کیا، جس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا تھا۔ جب نبی کریمؐ کو یہ خبر پہنچی تو آپؐنے فرمایا کہ اَے اُسامہ! کیا تم نے اُسے مار ڈالا بعد اِس کے کہ اُس نے کہالا الٰہ الا اللہ ، مَیں نے کہا کہ وہ اپنا بچاؤ کر رہا تھا، مگر آپؐمسلسل اِسے دُہراتے رہے۔ یہاں تک کہ مَیں نے یہ آرزو کی کہ مَیں اُس دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔ مسلم نے اِس روایت کو یوں درج کیا ہے کہ تم نے کیوں نہ اِس کا دل چیرا تاکہ تم جان لیتے کہ اُس نے یہ دل سے کہا تھا کہ نہیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ لیکن آجکل کے مولوی یہ سمجھتے ہیں کہ اُنہوں نے احمدیوں کے دل چیر کے دیکھ لیے ہیں، اِس لیے احمدیوں کو شہید کرنا اور اِن پر ظلم کرنا جائز ہے۔ الله تعالیٰ ان کی پکڑ کے بھی سامان کرے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللهؐ نے مِرْداس کے اہلِ خانہ کو اِس کی دیّت دینے کا حکم دیا اور اُس کا مال اُنہیں واپس کر دیا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا، یہ مولوی اور اِن کے چیلے جو آجکل پاکستان میں ہیں، جنّت میں جانے کی باتیں کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ احمدیوں کو قتل کر دو تو جنّت میں جاؤ گے۔ لیکن اُنہیں پتا نہیں کہ یہ عمل انہیں الله تعالیٰ کی سزا کا مورد بنا رہے ہیں۔ کبھی نہ کبھی تو الله تعالیٰ کی پکڑ ان پر آئے گی۔
پھر ایک سریّہ ہے حضرت بشیر بن سعد، جو یمن اور جبار کی طرف ہے۔ یہ سریّہ شوّال ۷؍ہجری میں ہوا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کے غطفان کا ایک گروہ آپؐکے خلاف جمع ہو رہا ہے اور عُیینہ بن حِصن نے آپؐکے خلاف اِن کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ آپؐنے اِس خبر کا ذکر حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے کیا ،تو اُنہوں نے حضرت بشیربن سعد ؓکو بھیجنے کا مشورہ دیا۔ آپؐنے حضرت بشیربن سعد ؓکو بلوایا اور اُن کے لیے پرچم تیار کروایا اور اُن کے ساتھ تین سو صحابہؓ کو روانہ فرمایا۔ جب وہ جبار مقام پر پہنچے تو چرواہے وہاں اپنے جانور چرا رہے تھے۔وہ مسلمانوں کو دیکھ کر وہاں سے بھاگ نکلے اور غطفانیوں کو جا کر خبر دی، وہ لوگ یہ خبر سن کر اپنے مال مویشی چھوڑ کر اپنی بستی کے بالائی حصّوں کی طرف فرار ہو گئے۔ اُن میں سے صرف دو آدمی ہاتھ لگے، جنہیں گرفتار کر لیا گیا، صحابہؓ نے بھیڑ ، بکریاں اور اونٹ اپنے قبضے میں لے لیے اور قیدیوں سمیت واپس مدینہ آگئے۔ یہاں وہ دونوں قیدی مسلمان ہو گئے تو آپؐنے اُنہیں واپس اپنے علاقے میں جانے دیا۔
عمرۃ القضاء کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ ۷؍ہجری بمطابق فروری ۶۲۹ء عمرۃ القضاءکے لیے روانہ ہوئے۔ یہ وہی مہینہ تھا ، جس میں پچھلے سال مشرکینِ مکّہ نے آپؐکو عمرہ نہ کرنے دیا تھا اور مقامِ حدیبیہ سے آپؐتشریف لے آئے تھے۔ چنانچہ اب اِس عمرہ کی قضا کے لیے آنحضور ؐ تشریف لے گئے۔
عمرہ کے لیے روانگی کی تفصیل اِس طرح بیان ہوئی ہے کہ اِس عمرے میں آنحضرتؐکے ساتھ دو ہزار صحابہؓ تھے۔روانگی کے وقت آپؐنے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ حدیبیہ کے موقعے پر موجود تھے، اُن میں سے ہر شخص شامل ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔اِن کے علاوہ آپؐکے ساتھ کئی ایسے صحابہؓ بھی شامل تھے جو حدیبیہ کے وقت موجود نہ تھے۔ آپؐکے ساتھ قربانی کے ساٹھ اونٹ تھے۔ آپؐنے اُن سب جانوروں کے گلوں میں ہار ڈالے اور اِن کی نگرانی پر حضرت ناجیہ بن جندبؓکو متعیّن فرمایا۔جب آنحضرتؐذوالحلیفہ پہنچے، تو سو گھڑ سواروں کو احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے آگے روانہ کیا، اِن پر حضرت محمدبن مَسْلَمَہؓ کو امیر بنایا گیا۔رسول اللهؐ نے اِس سفر میں خَود، ہتھیار، زِرہیں اور نیزے بھی ساتھ لیے۔ آپؐنے ہتھیار بھی آگے بھیج دیے اور اِن پر حضرت بشیربن سعد ؓکونگران مقرر فرمایا۔ محمد بن مَسْلَمَہؓ گھڑ سواروں کے ساتھ مرّالظہران پہنچے تو وہاں قریش کے کچھ لوگ اُن سے ملے، جن کو اُنہوں نے بتایا کہ آنحضرتؐکل ان شاء الله اِس مقام پر ہوںگے۔وہ لوگ قریش کے پاس آئے اور اُنہیں اِس کے متعلق بتایا، تو وہ لوگ ڈر گئے۔ جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مرّ الظہران پہنچے تو تمام ہتھیار یاجج مقام پر بھیج دیے۔ جب کفّارِ مکّہ کو خبر ملی کہ آپؐہتھیاروں اور سامانِ جنگ کے ساتھ مکّے آ رہے ہیں تو بہت گھبرائے اور اُنہوں نے چند آدمیوں کو تحقیقات کے لیے مرّ الظہران تک بھیجا۔ نمائندہ کفّار مِکرض بن حفص نے کہا کہ اَے محمد(صلی الله علیہ وسلم)! ہم نے آپ کو کبھی عہد شکنی کرتے نہیں دیکھا۔ تو آپؐنے فرمایا کہ ہم صلح نامے کی شرط کے مطابق بغیر ہتھیار کے مکّے میں داخل ہوں گے۔ یہ سن کر کفّار مطمئن ہو گئے۔اِس پر مِکرض نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم آپ کو نیکی اور وفا کی خوبیوں کا مجموعہ سمجھتے ہیں۔ آپؐصحابہ کرامؓکے مجمعےکےساتھ تلبیہ کرتے ہوئے حرم کی طرف بڑھے، قربانی کے جانوروں کو ذی الطّویٰ کی طرف بھیج دیا، آپؐاپنی اونٹنی قصواءپر سوار تھے۔ جب آپؐمکّہ میں داخل ہوئے تو کچھ کفّارِ قریش آپؐسے بغض و عداوت کی وجہ سے ، آپؐاور صحابہؓ کے بیت الله کا طواف کرنے کا منظر نہ دیکھ سکنے کی وجہ سے پہاڑوں پر چلے گئے مگر کچھ کفّار دارالنّدوہ میں جمع ہو گئے، وہاں کھڑے ہو کر طواف کا نظارہ کرنے لگے۔
اِس موقعے پر آنحضورؐ کی حضرت میمونہ بنتِ حارث رضی الله عنہا سے شادی ہوئی۔ یہ شادی حضرت عبّاسؓنے کروائی تھی اور حضرت میمونہؓ کا مہر چار سو دِرہم مقرر ہوا۔ آنحضرتؐمکّے میں تین روز رہے۔ چوتھے دن مکّے والوں کے مطالبے پر آپؐفوراً تمام صحابہؓ کے ساتھ مکّے سے روانہ ہوئے اور اپنے غلام ابو رافعؓکو حضرت میمونہؓ کے پاس چھوڑ دیا، چنانچہ وہ حضرت میمونہ ؓکو لے کر سَرِفْ مقام پر آپؐکو جا ملے۔
حضرت میمونہؓ سے آپؐکی سب سے آخر پر شادی ہوئی۔ ۵۱؍ہجری میں سرف مقام پر ہی، جہاں آنحضرتؐکے ساتھ اِن کا رخصتانہ ہوا تھا، حضرت میمونہؓ کی وفات ہوئی ۔حضرت میمونہؓ کو نبی کریمؐ کے ساتھ اِس مقدس رفاقت کی یہ جگہ بہت عزیز رہی ، اِسی لیے آپؓنے وصیّت فرمائی تھی کہ مَیں جب فوت ہو جاؤں تو مجھے اِسی مقام کی اِسی جگہ پر دفن کیا جائے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ تھا، جہاں مجھے حضورؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا۔ آپؓکی وصیّت کے مطابق اِسی مقام پر آپؓکو دفن کیا گیا تھا اور اُس وقت آپؓکی عمر اسّی یا اکاسی سال تھی۔
اِس سفر میں حضرت حمزہ ؓکی بیٹی کا بھی واقعہ ملتا ہے۔ جب نبی کریمؐ مکّے سے جانے لگےتو حضرت حمزہؓ کی بیٹی آپؐکے پیچھے پکارتی ہوئی آئی کہ اَے میرے چچا! اَے میرے چچا! اِس پر حضرت علیؓنے اِسے لے لیا، اِس کا ہاتھ پکڑا اور حضرت فاطمہ ؓسے کہا کہ اپنے چچا کی بیٹی کو لے لیں۔ اُنہوں نے اِس کو سوار کر لیا۔ تو حضرت علیؓ، حضرت زیدؓ اور حضرت جعفرؓ نے اُن کی بابت جھگڑا کیا تو نبیؐ نے اِس کا فیصلہ اُس کی خالہ کے حق میں کیا اور فرمایا کہ خالہ بمنزلہ ماں ہےاور حضرت علیؓسے کہا کہ تم مجھ سے ہو اور مَیں تجھ سے ہوں اور حضرت جعفرؓ سے کہا کہ تم شکل اور اخلاق میں میرے مشابہ ہو اور حضرت زیدؓ سے کہا کہ تم ہمارے بھائی ہو اور ہمارے آزاد کردہ ہو۔حضرت علیؓنے کہا کہ کیا آپؐحضرت حمزہؓ کی بیٹی سے شادی نہیں کریں گے؟ آپؐنے فرمایا کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اِس رشتے سے شادی نہیں ہو سکتی۔آنحضرتؐذوالحجہ کے مہینے میں مدینے واپس تشریف لے آئے۔
ایک سریّہ اَخرم بن ابی عوجاء بطرف بنو سُلَیْم ہے۔یہ سریّہ ذوالحجہ ۷؍ہجری میں ہوا، آپؐنے حضرت اَخرمؓکو پچاس آدمیوں کے ساتھ بنو سُلَیْم کی طرف بھیجا، جو مدینے کے قریب آباد تھے، بنو سُلَیْم کا ایک جاسوس آپؓکے ساتھ تھا۔ اِس نے آگے جا کر اپنی قوم کو چوکنا کر دیا اور اُنہوں نے ایک بڑا لشکر جمع کر لیا۔ جب حضرت اخرم ؓ اُن کے پاس پہنچے تو بنو سُلَیْم اُن کے مقابلے کے لیے تیار تھے، آپؓنے اُن کو اسلام کی دعوت دی تو اُنہوں نے انکار کر دیا۔ اِس کے بعد دونوں طرف سے کچھ دیر تیر اندازی ہوئی ، اِسی دوران بنوسُلَیْم کے لیے مزید کمک آ گئی اور اُنہوں نے مسلمانوں کو ہر طرف سے گھیر لیا۔ مسلمانوں نے بہت سخت جنگ لڑی، یہاں تک کہ اُن میں سے اکثر شہید ہو گئے اور حضرت اَخرمؓ بھی مقتولین کے ساتھ شدید زخمی ہو کر گر پڑے، پھر یکم صفر آٹھ ہجری کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔
پھر ایک سریّہ حضرت غالبؓبن عبدالله لیثی بطرف کَدِیْد کا ذکر ہے۔رسول اللهؐ نے آپؓکوصفر ۸؍ہجری میں بنو لیث کی شاخ بنو مُلوّح کی طرف پندرہ افراد کے ساتھ روانہ کیا، جو کَدِیْد میں رہتے تھے اور اِس سریّہ میں مسلمانوں کا شعار اَمِتْ اَمِتْ تھا۔
خطبہ ثانیہ سے قبل حضور انور نے پاکستان میں احمدیوں کی مخالفت کے حوالے سے دعاؤں کی تحریک فرمائی۔
٭…٭…٭