تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خیبر کیجنگ کے بعدیہود کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کی گئی تھی، اور بکری کا زہرآلود گوشت کھلانے کی کوشش کی گئی تھی۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب خیبر فتح ہوگیا اوریہود بری طرح شکست کھانے کے بعد نبی کریم ﷺ کی رحمت و شفقت سے اس طرح فیض یاب ہوئے کہ نہ صرف نبی کریمﷺ نے انہیں معاف فرمادیا بلکہ انہیں خیبر میں رہنے کی بھی اجازت دے دی۔ جب لوگ مطمئن ہوگئے تو ایک روز یہود کے سردار سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے آنحضرتﷺ کی خدمتِ اقدس میں بکری کا گوشت پیش کیا اور کہا کہ آپؐکے لیے ہدیہ لائی ہوں۔ اس سازش میں یہ اکیلی عورت شامل نہ تھی بلکہ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ آنحضرتﷺ کے حکم پر وہ گوشت آپؐکے سامنے رکھ دیا گیا اور وہاں بعض دیگر صحابہ ؓبھی موجود تھے۔ جن میں حضرت بِشر بن براءؓبھی تھے، آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ قریب آجاؤ اور پھر آپؐنے اُس میں سے دستی کا گوشت اٹھایا اور اس میں سےتھوڑا سا ٹکڑا لیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ روک لو کیونکہ یہ دستی کا گوشت بتارہا ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ حضرت بِشر بن براء ؓنے عرض کیا کہ جب مَیں نے اسے کھایا تو مجھے کچھ محسوس ہوا تھا ، مگر مَیں نے اس لیے کچھ نہیں بولا کہ آپؐکا کھانا خراب ہوگا۔ مگر جب آپؐنے لقمہ اُگل دیا تو مجھے خود سے زیادہ آپؐکا خیال آیا لیکن مجھے خوشی ہوئی کہ آپؐنے اسے نگلا نہیں بلکہ اُگل دیا۔
حضرت بِشرؓ ابھی اپنی جگہ سے اٹھے نہ تھے کہ اُن کے جسم کی رنگت تبدیل ہونا شروع ہوگئی، اور پھر اس قدر بیمار ہوگئے کہ خود سے کروٹ بھی نہ لے سکتے تھے۔ تقریباً ایک سال کے بعد آپؓکی وفات ہوگئی، بعض روایات کے مطابق حضرت بِشرؓ اپنی جگہ سے اٹھنے ہی نہ پائے تھے کہ آپؓکی وفات ہوگئی۔
آنحضرت ﷺ نے اُس عورت کو بلابھیجا اور پوچھا کہ کیا تُو نے اس گوشت میں زہر ملایا تھا؟ اس عورت نے کہا کہ آپؐکو کس نے خبر دی؟ آپؐنے فرمایا کہ مجھے اس دستی کے گوشت نے خبر دی ہے جو میرے ہاتھ میں ہے۔ آپؐنے فرمایا کہ تجھے کس نے یہ کام کرنے کے لیے کہا تھا؟ اس عورت نے جواب دیاکہ آپ نے جو کچھ میری قوم کےساتھ کیا ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے۔ مَیں نے یہ سوچا کہ اگر آپ بادشاہ ہیں تو ہم آپ سے نجات پالیں گے اور اگر آپ نبی ہیں تو آپ کو خبر دے دی جائے گی۔ آپؐنے اس عورت سے درگزر فرمایا۔ جبکہ ایک اور روایت کے مطابق بشر بن براءؓکی شہادت کے بعد آپؐنے فرمایا کہ اس عورت کو قتل کردو اور اسے قتل کردیا گیا۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق اس عورت کو قتل نہیں کیا گیا تھا۔
صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک روایت کے مطابق آنحضور ﷺ مرض الموت میں فرمایا کرتے تھے کہ اے عائشہ! مَیں اُس کھانے کی تکلیف جو مَیں نے خیبر میں کھایا تھا ہمیشہ محسوس کرتا رہا ہوں اور اب بھی اُس زہرسے مَیں اپنی رگیں کٹتی ہوئی محسوس کرتا ہوں۔ بعض مفسرین نے اسی وجہ سے آپؐکے لیے کہا ہے کہ آپؐکی وفات خیبر کے اس زہر کی وجہ سے ہوئی اور یوں آپؐشہید ہوئے اور یہ کہ آپؐشہیدِ اعظم ہیں۔
حضورانور نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ کے لیے اس تکلّف کی کوئی ضرورت نہیں۔نبی تو اس مقام و مرتبے کا حامل ہوتا ہے کہ وہ صدیق بھی ہوتا ہے، شہید بھی ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ یہود نے تو اس زہر سے بچ جانے کو معجزہ سمجھا اور اس بات کا ثبوت سمجھا کہ آنحضرت ﷺ جھوٹے نبی نہیں ہیں، مگربعض سادہ لوح مسلمان اس زہر سے آنحضرت ﷺ کی شہادت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آنحضور ﷺ کی وفات ہرگز ہرگز اس زہر کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔ صرف ایک تکلیف کا احساس تھا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خیبر کی جنگ میں حضرت صفیہؓ سے شادی کا بھی ذکر ملتا ہے۔خیبر میں جب جنگی قیدیوں کو اکٹھا کیا گیا تو حضرت دحیہؓآئے اور عرض کیا کہ مجھے اِن قیدیوں میں سے ایک لڑکی دے دیں۔ آپؐنے فرمایا کہ جاؤ! ایک لڑکی لے لو۔ حضرت دحیہؓ نے حیی بن اخطب کی بیٹی صفیہ ؓکو لے لیا۔ اس پر ایک شخص آپؐکے پاس آیا اور کہا کہ آپؐنے حیی بن اخطب کی بیٹی دحیہ کو دے دی وہ تو بنو قریظہ اور بنو نضیر کی شہزادی ہے اور وہ آپؐکے علاوہ کسی اَور کے لیے مناسب نہیں۔ آپؐنے فرمایا کہ اُسے بلا لاؤ، پھر آپؐنے دحیہؓ سے فرمایا کہ اس کے علاوہ کسی اَور کولے لو۔ حضرت انسؓسے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے صفیہ ؓکو آزاد کردیا ۔ مسند احمد بن حنبل کی روایت میں ذکر ہے کہ آپؐنے حضرت صفیہ ؓکو آزاد کرتے ہوئے فرمایا کہ مَیں تمہیں آزاد کرتا ہوں چاہو تو مجھ سے شادی کرلو اور چاہو تو اپنے قبیلے کی طرف واپس چلی جاؤ۔ جس پر حضرت صفیہؓ نے آنحضرت ﷺ سے شادی کو پسند کیا۔
خیبر کے تمام معاملات سے فارغ ہوکر آپؐوہاں سے روانہ ہوئے اور چھ میل کا فاصلہ طے کرکے آپؐنے قیام کرنا چاہا تاکہ حضرت صفیہؓ سے شادی کی تکمیل ہوسکے مگر حضرت صفیہؓکی خواہش پر آپؐنے سفر جاری رکھا اور کوئی بارہ میل کے فاصلے پر پڑاؤ کیا اور وہاں حضرت صفیہؓ سے شادی ہوئی۔
حضرت صفیہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضورﷺ خیبر کے بہت قریب قیام کرنا چاہتے تھے اور مجھے خطرہ تھا کہ میری قوم کہیں آپؐکو نقصان نہ پہنچائے اسلئے مَیں نے وہاں رکنے کی بجائے تھوڑے فاصلےپر رکنے کی درخواست کی۔
اگلے روز آنحضور ﷺ کے ولیمے کا اہتمام ہوا یہ ولیمہ نہایت سادہ اور باوقار تھا۔ تین دن قیام کے بعد یہاں سے روانہ ہوئے، حضرت صفیہؓکی آزادی اُن کا حق مہر قرار پایا۔
یہاں حضرت صفیہؓ کے ایک خواب کا بھی ذکر ملتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضورﷺ نے حضرت صفیہؓکی آنکھ کے گرد نِیل کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ نشان کیسا ہے؟ حضرت صفیہؓ نے بتایا کہ آپؐکی آمد سے چند روز قبل مَیں نے خواب دیکھا تھا کہ یثرب کی طرف سے چاند آیا ہے اور میری جھولی میں گِر گیا ہے۔ جب مَیں نے یہ خواب اپنے خاوند کنانہ کو بتایا تو اس نے مجھے زوردار تھپڑ رسید کیاا ور کہا کہ تم یثرب کے بادشاہ یعنی رسول اللہﷺ کے ساتھ شادی کے خواب دیکھ رہی ہو۔
حضرت صفیہؓنے پچاس ہجری میں وفات پائی اور جنّت البقیع میں تدفین ہوئی۔
حضرت صفیہ کی شادی پر بھی مستشرقین اعتراض کرتے ہیں جو انکی اپنی جہالت اور تعصب کی دلیل ہے۔ خیبر کے یہود کا آنحضرت ﷺ سے زبردست مقابلہ ہوا پھر بُری طرح شکست کھائی انہوں نے۔ اس کے بعداگر ان سب کو تہ تیغ بھی کر دیا جاتا تو یہ جائز تھا، اُنکی بائبل کی رو سے بھی اور اُس وقت کے قواعد اور طریق کے مطابق بھی۔ لیکن ان ظالموں پر قابو پانے کے بعد آنحضرتﷺ نے جس عفو درگزر اور نرمی کا سلوک کیا اس کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔ پھر اس سے بڑھ کر جب ان یہود نے یہ درخواست کی کہ ہمیں یہیں رہنے دیا جائے ہم کھیتی باڑی کا کام جاری رکھیں اور نصف پیداوار آپ لے لیا کریں۔ آپ نے ان کی یہ درخواست بھی تسلیم کر لی اور صلح و سلامتی کا ایک معاہدہ طے پایا لیکن ابھی اس معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ان لوگوں نے سازش کر کے ایک عورت کے ذریعے سے آپ کو زہر دلوانے کی کوشش کی اور اس عورت نے جرم تسلیم بھی کر لیا۔ آج کی مہذب دنیا کے مہذب لوگ جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں وہ ایسی بد عہد عورت کو ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور جس عورت نے حق وصداقت کو پا کر آپ ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا خود مشاہدہ کر کے سچائی کو قبول کر لیا اور باوجود آزادی کے پروانے کے اس بات کو ترجیح دی کہ آپ کے ساتھ رہے اس پہ تنقید کرتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالی جائےکہ نبی ﷺ نے اپنی بھرپور جوانی کیسے گزاری، اس قوم میں جہاں شراب اور شباب کی محفلیں نہ صرف عام تھیں بلکہ فخر کے اظہار کے طور پر اس کا ذکر کیا جاتا تھا۔ آپ نے اپنی ساری جوانی ایک بیوہ اور معزز اور شریف عورت کے ساتھ شادی کر کے گزاری اور کم و بیش پچاس سال کی عمر تک اسی ایک بیوی کے ساتھ زندگی بسر کی۔ خوبصورت سے خوبصوت عورت کی پیشکش خود سرداران قریش نے آپ کو کی تھی جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے لیکن آپ نے ان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
آنحضرتﷺ کی جوانی اور گزرے ہوئے یہ ماہ و سال اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ آپ کو عیش و عشرت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ بعد میں جو آپ نے شادیاں کیں اس کی ایک حکمت تھی کہ مخالف قوم اور قبیلے کے درمیان صلح و آشتی اور محبت و مؤدت کا تعلق پیدا ہو اور اعتماد کی فضا پیدا ہو۔
کسی حدیث یا تاریخ و سیرت کی کتاب میں آنحضرت ﷺ کی سیرت و سوانح کے متعلق کوئی بھی روایت بیان ہو تو آیت کریمہ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَکی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہئے جس میں اللہ فرماتا ہے کہ آپؐکاجینا مرنا سب کچھ اللہ کی خاطر تھا،نیز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں ان چیزوں کو دیکھنا چاہیے اور پرکھنا چاہیے۔
حضور انور نے فرمایا : دو دن بعد رمضان شروع ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی اور مقبول روزوں کی اور دعاؤں کی توفیق ہر ایک کو عطا فرمائے اس لیے دعا بھی کریں اور کوشش بھی کریں۔
خطبہ کے آخر پر حضور نےچوہدری محمد انور ریاض صاحب ابن مکرم چوہدری محمد اسلام صاحب آف ربوہ کا ذکر خیر فرمایا اور نماز کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب ادا کی۔
ضض ضض