اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-02-27

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 21؍فروری 2025ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:کل بیس فروری تھی، یہ دن جماعت میں پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے جانا جاتا ہے، اس دن یا اس حوالے سے ان دنوں میں آگے پیچھے پیشگوئی مصلح موعود کے جماعتوں میں جلسے بھی ہوتے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک لمبی پیشگوئی ہے، جس میں ایک بیٹے کی پیدائش اور اس کی خصوصیات کا ذکر ہے، 20 فروری 1886ء کو اس کو اشتہار کی صورت میں شائع کیا گیا۔اس پیشگوئی میں لڑکے کی خصوصیات کے بارہ میں الہامی الفاظ کا ایک حصّہ اس طرح سے ہے کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور پھر ہے کہ علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بیٹا عطا فرمایا، جو ان خصوصیات کا حامل تھا، جن کا نام بشیرالدین محمود احمد ہے، ان کو مصلح موعود بھی کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ پیشگوئی کے الفاظ ہیں کہ وہ لڑکا علومِ ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا، خدا تعالیٰ نے خود ان کی ذہانت کو جلا بخشی اور علوم سے پُر کیا۔دنیاوی مضمونوں میں آپؓبہت کمزور تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپؓسے علمی، دینی اور انتظامی کام ایسے ایسے کروائے ہیں کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی آپ کے سامنے طفلِ مکتب لگتے ہیں اور آپ کا باون سالہ دَورِ خلافت اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آپ نے دنیا کے مختلف موضوعات پر بے شمار تقاریر کیں، مضامین لکھے، دینی اور قرآنی علوم کی تو کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔ آپ نے دنیاوی موضوعات، ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر بھی تقاریر کیں اور مضامین لکھے۔ تاریخی حوالے سے غیر معمولی معیار کے مضامین لکھے اور تقاریر کیں۔ اقتصادی امور اور دنیا کے مختلف نظاموں، سوشل ازم، کمیونزم، کیپٹلزم کا بھی تجزیہ کیا اور تقریر کی اور بعد میں کتابی صورت میں بھی چھپ گئی اور یہ جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔ حتّی کہ عسکری و فوجی معاملات اور سائنسی اور علمی موضوعات پر بھی علم و معرفت کی وہ باتیں بیان فرمائیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔مَیں چند نمونے یہاں پیش کروں گا جو صرف تعارف پر مبنی ہیں۔
آپؓنےترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض کے نام پر ایک مشورہ دیا اور اس پر تبصرہ کیا، یہ 1919ء یعنی آپ کی خلافت کے ابتدائی دَور کی بات ہے۔ اس کا تعارف یہ ہے کہ اتحادِ ملّت کے ہر موقعے سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لیے حضورؓنے، ایسے وقت میں جبکہ ترکیہ حکومت خطرے میں تھی، نہایت مدبّرانہ راہنمائی کرتے ہوئے 18 ستمبر 1919ء کو یہ کتاب تحریر فرمائی اوراس میںمختلف الخیال مسلمانوں کے اتحاد اور اجتماع کے لیےآپؓنے راہنما اصول بیان فرمائے۔
ترکوں یا اسلام کے خلاف بغض و تعصب کی وجہ بیان کرتے ہوئے، اس صورتحال کی تبدیلی کے لیےآپ نے یہ راہنمائی فرمائی کہ مسلمان اپنی غلطی سے تائب ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور خود اسلام کو سمجھیں اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہوں اور دوسروں کو آگاہ کریں تاکہ وہ نکبت و ادبار جو اس وقت مسلمانوں پر آ رہا ہے، وہ دُور ہو۔
حضور انور نے فرمایا کہ پس یہی اصول آج بھی مسلمانوں کو اپنانے کی ضرورت ہے، نہیں تو اسلام مخالف دنیا مسلمان ممالک کے گرد گھیرا تنگ کرتی چلی جائے گی اور کر رہی ہے۔
پھر ایک موقع آل پارٹیز کانفرنس کا پیدا ہوا، اس پر آپ نے آل پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر کے عنوان سے ہدایات دیں۔ یہ پمفلٹ حضور نے آل انڈیا پارٹیز کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے 13 جولائی 1925ء کو تحریر فرمایا۔ اس پمفلٹ میں حضورؓ نے پہلے اسلام کی مذہبی اور سیاسی تعریف بیان فرمائی اور تمام مسلمان فرقوں کے سامنے یہ زرّیں اصول پیش کیا کہ سیاسی معاملات میں مسلمان مکمل اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں، کیونکہ سیاسی لحاظ سے اگر آپ کسی قوم کو الگ کر دیں گے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسری قوموں کی طرف رجوع نہ کرے۔ اس کے بعد اسلام کی ترقی و ترویج اور اس کے سیاسی استحکام کے لیے بعض تجاویز دیں۔
آپؓنے فرمایا کہ قیامِ امن کے لیے ایک دوسرے کے مذہبی معاملات میں دخل نہ دیا جائے، وسعتِ حوصلہ کے ساتھ دوسروں کو عقیدے کے مطابق کام کرنے دیں اور خود اپنے عقیدے کے مطابق کام کریں۔
حضورؓ نے تجارت اور صنعت و حرفت کے متعلق فرمایا کہ تجارت ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس سے مسلمانوں نے سب سے زیادہ تغافل برتا ہے اور تجارتی لحاظ سے وہ ہندوؤں کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔حضور انور نے فرمایا: اُس وقت یہی حالات تھے، آجکل اس معاملہ میں دنیا کی حکومتوں اور تاجروں کے غلام ہم بن گئے ہیں۔ پس اس طرف مسلمان حکومتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ پاکستان اور بعض مسلمان ممالک میں عمومی طور پر تو یہی صورتحال ہے، خاص طور پر احمدیوں کے لیے یہ سوچ کہ یہ کافر ہیں، ویسے تو ہر فرقہ دوسرے فرقے کو بھی کافر کہتا ہے اور غیر مسلم دنیا میں اسی وجہ سے غلط تاثر پیدا ہو رہا ہے اور یہ بات مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ پس اس نقطے کو آج بھی مسلمان حکومتوں اور مسلمانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پاک و ہند، کے اس وقت حالات کے بارے میں ایک گول میز کانفرنس ہوئی تھی اور مسلمانوں کی اس میں نمائندگی کا سوال اٹھا تھا، حکومتِ برطانیہ نے ہندوستان کی آزادی کے جائزے کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا تھا، جس نے ہر دس سال بعد جائزہ لینا تھا کہ کس حدتک لوگوں کو یہ اختیار دیے جا سکتے ہیں کہ وہ علیحدہ حکومت قائم کر لیں۔ اس کے پہلے صدر ایک انگریز بیرسٹر سر جان سائمن تھے۔ اس کمیشن اور ان فیصلوں پر مختلف وقتوں میں بحث کی جاتی رہی ہے اور حضرت مصلح موعود ؓنے مختلف وقتوں میں راہنمائی فرماتے ہوئے اپنے تفصیلی خیالات بھی پیش کیے اور مسلمانوں کی راہنمائی بھی کی۔ اس سلسلے میں ایک گول میز کانفرنس ہوئی، جس کی تفصیل کا ہماری تاریخ میں حضرت مصلح موعود ؓکے حوالے سے ذکر ملتا ہے۔
اس موقعے پر حضور نے مسلمانوں کی راہنمائی کے لیے فوری طور پر ایک مضمون تحریر فرمایا اور انہیں نصیحت کی کہ وہ باہمی تفرقہ اور اختلافات کو ترک کر دیں اور قومی مفاد کی خاطر اتفاق اور اتحاد سے کام کریں۔ صرف اس طریق پر وہ مخالف قوم کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ حضور نے اس موقعے پر گورنمنٹ کو بھی مشورہ دیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے مشورے سے نمائندوں کا انتخاب کرے تاکہ کانفرنس کے فیصلوں کو لوگ خوشدلی سے قبول کر لیں۔
پھر ہندوستان کے اس وقت کے سیاسی حالات کے حل کے بارے میں آپ نے ایک مضمون لکھا۔چونکہ سائمن کمیشن نے مسلمانوں کے حقوق کو پورے طور پر مدّنظر نہیں رکھا تھا، اس لیے حضور کو تشویش تھی اور آپ چاہتے تھے کہ آئندہ مسلمانوں کے حقوق کو نظر اندازنہ کیا جائے۔ اس لیے آپ نے مناسب سمجھا کہ اس موقعے پر سائمن کمیشن رپورٹ پر تبصرہ کر کے اس کے نقائص واضح کیے جائیں اور ہندوستان کے مسائل کا ایسا حل پیش کیا جائے کہ آئندہ زمانے میں سب قومیں صلح اور آشتی سے باامن زندگی گزار سکیں۔ حضور نے اپنے تبصرے میں مسلمانوں کے حقوق اور مطالبات پر سیر حاصل بحث کی اور اس کی معقولیت کو اجاگر کیا، اس کے ساتھ ہی آپ نے ہندوستان کے سیاسی مسائل کا نہایت معقول اور تسلی بخش حل پیش کیا۔ اس کے جامع و مانع تبصرہ کا انگریزی ایڈیشن شائع کروانے
کے لیے فوری بھجوا دیا گیا تاکہ گول میز کانفرنس میں شامل ہونے والے اسے پڑھ کر فائدہ اٹھا سکیں۔مسلمان نمائندوں کو خاص طور پر اس سے فائدہ پہنچا۔چنانچہ انہوں نے پہلی بار متفقہ طور پر کامیابی سے اپنے مطالبات کانفرنس میں پیش کیے، جس کا انگلستان کے صائب الرّائے لوگوں پر گہرا اثر ہوا اور وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی خصوصی حیثیت کے قائل ہو کر ان کے مطالبات کی معقولیت اور افادیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔
حضور ؓکی یہ کتاب، ہندوستان، انگلستان دونوں جگہوں پر بہت مقبول ہوئی اور اسے بڑی توجہ اور دلچسپی سے پڑھا گیا اور کئی مدبّر سیاستدانوں اور صحافیوں نے شاندار الفاظ میں حضور کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
پھر دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا حل پیش کرتا ہے، اس بارے میں بھی آپ نے لکھا، آپ نے عالمگیر امن کو مدّنظر رکھتے ہوئے یہ پُر معارف تقریر 9 اکتوبر 1946ء کو دہلی میں ارشاد فرمائی۔
پھر حضورؓ نے روس اور موجودہ جنگ کے حوالے سےجنگ عظیم دوم میں روس کا پولینڈ میں داخل ہونا اس کے اوپر تبصرہ کیا ہے۔ جنگ عظیم دوم کے دوران جب روس پولینڈ میں داخل ہوا تو اس وقت حضرت مصلح موعودؓ نے یہ مضمون تحریر فرمایا۔حضورؓ نے اس مضمون میں روس کے پولینڈ میں داخلے کی وجوہات اور مقاصد پر تبصرہ فرمایا۔
بین الاقوامی حالات پر بھی آپ کی گہری نظر تھی ۔ اس سلسلے میں آپ کے اور بھی مضامین ہیں۔ دینی لٹریچر تفاسیر غیر معمولی تعداد میں ہیں۔ خطبات جمعہ اور جماعتی جلسوں اور موقعوں پر تقاریر تو علم و عرفان کا ایک خزانہ ہے۔
پس اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پیشگوئی میں جو وعدہ فرمایا تھا اسے ہر پہلو سے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ میں پورا ہوتا دکھایا۔ چند مثالیں میں نے ابھی آپ کو دی ہیں۔
آپ کے علم و عرفان کے اس لٹریچر کو ہمیں پڑھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے اور بہت ساری ایسی باتیں ہیں جو آجکل کے حالات میں بھی منطبق ہو رہی ہیں اور اس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کی اللہ تعالیٰ توفیق دے۔ ٭…٭…٭