اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-02-20

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 07؍فروری 2025ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:غزوۂ خیبر کا ذکر ہو رہا تھا۔ آنحضرت ﷺکے خیبر کی طرف روانہ ہونے کی تفصیل یوں ہے کہ آپؐکی قیادت میں سولہ سو جاں نثاروں کا لشکر مدینہ سے روانہ ہوا۔ اِس میں دو سو گھڑ سوار تھے۔ لیکن روانگی سے قبل آپؐنے ایک خبر رساں دستہ آگے روانہ فرمایا، جس کا کام تھا کہ لشکر کے آگے آگے راستوں کی دیکھ بھال کرے اور حالات کو بھی معلوم کرتا رہے۔ اِس دستے کے قائد حضرت عباد بن بشر انصاری رضی الله عنہ تھے۔
خیبر کے راستوں سے آگاہی کے لیے دو رہبر یعنی گائیڈ بیس صاع (پچاس کلو)کھجور کی اجرت پر لیے گئے۔
آنحضرتؐنے مدینہ سے خیبر کی طرف جاتے ہوئے، مختلف مقامات پر پڑاؤ کرتے ہوئے، صہباء مقام پر پڑاؤ کیا۔ یہاں نماز کا وقت ہوا تو نماز یہاں ادا کی گئی۔ نمازوں سے فارغ ہو کر آپؐنے دونوں رہبروں کو بلایا اور اپنا جنگی منصوبہ اُن کو بتاتے ہوئے فرمایا کہ مَیں خیبر پر اِس طرح حملہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف تو اہلِ خیبر اور مُلکِ شام کے درمیان حائل ہو جاؤں تاکہ وہ وہاں سے بھاگ کر شام کی طرف نہ نکل جائیں اور ساتھ ہی قبیلہ بنو غطفان کے درمیان بھی حائل ہو جاؤں کہ وہ اِن یہود کی مدد کو نہ پہنچ سکیں۔
آنحضرتؐکو یہ خبر ہو چکی تھی کہ بنو غطفان نے اہلِ خیبر کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اب وہ مزید چار ہزار کا لشکر لے کر اِس ارادہ سے چل پڑے ہیں کہ وہ اسلامی لشکر کے خیبر تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں اِس پر حملہ کر دیں۔بنو غطفان نے اپنے نامور جنگجو سرداروں کی قیادت میں کم و بیش ایک ہزار کا لشکر پہلے ہی خیبر کی طرف بھیج دیا تھا اور وہ خیبر کے قلعوں تک پہنچ چکا تھا اور اب چار ہزار کا یہ لشکر اسلامی لشکر کو روکنے اور اپنی دانست میں اِس کا خاتمہ کرنے کے لیے راستے میں تھا۔ آنحضرتؐنے بنو غطفان سے رابطہ فرمایا اور اُنہیں ایک خط بھیجا، جس میں لکھا کہ وہ خیبر کے ساتھ ہونے والی جنگ سے غیر جانبدار رہیں، اور اُن کو واضح فرمایا کہ یہ الله تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ مجھے فتح دے گا۔بعض مؤرّخین کے مطابق آپؐنے یہ بھی پیغام دیا کہ وہ یہود کا ساتھ دینے سے ہٹ جائیں اور اسلام قبول کر لیں تو خیبر فتح کرنے کے بعد اِن قبائل کو دے دیا جائے گا۔ بعض کے نزدیک آپؐنے اسلام قبول کرنے کی شرط نہیں رکھی تھی۔لیکن سولہ سو مسلمانوں کے مقابل پر پندرہ ہزار جنگجوؤں کی فوج اور مضبوط قلعوں کا غرور اُن کے سروں میں سمایا ہوا تھا، جس کی وجہ سے اُنہوں نے آپؐکی اِس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
اِس پر آپؐنے خزرج قبیلہ کے سردار اور مخلص صحابی حضرت سعدبن عبادہؓکو بنوغطفان کے سپہ سالار عیینہ بن حِصْن کی طرف بھیجا۔ یہ بنو غطفان کی اُس ایک ہزار فوج کی قیادت کرتا ہوا اُس وقت خیبر کے یہودی سردار مرحب کے قلعہ میں تھا۔ عیینہ کو جب معلوم ہوا کہ آپؓنبیٔ اکرمؐکے نمائندہ کی حیثیت سے آئے ہیں، تو وہ اِنہیں قلعہ کے اندر لانے کے ارادہ سے جانے لگا، تو مرحب نے اعتراض کیا کہ مسلمانوں کے اِس نمائندہ کو قلعہ کے اندر نہیں لانا چاہیے کہ کہیں وہ قلعوں کے اندر آنےکے راستوں وغیرہ کو نہ دیکھ لیں جبکہ عیینہ کا یہ کہنا تھا کہ مَیں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے نمائندہ کو اندر لاؤں تاکہ وہ ہماری طاقت اور تیاریوں کے بہترین فوجی ساز و سامان کودیکھ لیں لیکن مرحب نہ مانا جس پر وہ آپؓکو قلعہ سے باہر ملا، آپؓنے اُسے نبیٔ اکرمؐکا پیغام دیا ۔اِس پر عیینہ نے آپؓسے کہا کہ ہم اپنے حلیف کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے اور ہم جانتے ہیں کہ تم لوگوں کی طاقت ہی کتنی ہے؟ اگر تم نے مقابلہ کیا تو تم سب لوگ ہلاک ہو جاؤ گے اور یہ قریش وغیرہ کی طرح کے لوگ نہیں ہیں کہ جن پر تم نے فتح پا لی تھی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میرا یہ پیغام محمد(ﷺ) کو بھی دے دینا۔
حضرت سعدؓنے اُس کے اِس متکبرانہ جواب پر اُسے کہا کہ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺضرور تیرے پاس اِس قلعے میں آئیں گے اور اب اِس وقت جو پیشکش ہم نے تجھے کی ہے، اُس وقت تم ہم سے اِس کا مطالبہ کرو گے، لیکن تب تجھے تلوار کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ اور اَے عیینہ! مَیں دیکھ چکا ہوں کہ ہم مدینہ کے یہودیوں کے صحن میں بھی اُترے تھے اور وہ بُری طرح تباہ ہو گئے تھے۔
خدائی رُعب اور غطفانیوں کے فرار کا بھی ذکر ملتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: آنحضرتؐنے فرمایا تھا نُصِرْتُ بِالرُّعْبِکہ مجھے رُعب سے مدد دی گئی ہے۔
یہ واقعہ یہاں عملاًایک مرتبہ پھر غطفانی فوجوں کے لیے رونما ہوا۔جیسا کہ ذکر ہوا ہے کہ اِن کا چار ہزار کا لشکر اسلامی فوج پر حملہ کرنے کے لیے تعاقب کر رہا تھا تاکہ یہ مسلمانوں کو خیبر پہنچنے سے روک دے۔ لیکن کوئی ایسی خدائی تقدیر ظاہر ہوئی کہ اِن کا یہ لشکر اچانک واپس پلٹا اور اپنے گھروں کی جانب لَوٹ گیا۔
بہرحال رسول اللهؐ نےخیبر کی طرف اپنا سفر جاری رکھا اور شام کے اندھیروں میں جب خیبر کے قلعے دکھائی دیے، تو آپؐنے صحابہؓ سے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ، پس وہ سب ٹھہر گئے تو آپؐنے دعا کی کہ اَے ساتوں آسمان کے ربّ!اور ہر اِس چیز کے جس پر اِس کا سایہ ہے۔ اور ساتوں زمین کے ربّ! اور جو کچھ اُنہوں نے اُٹھایا ہے۔ اور شیاطین کے ربّ! جن کو اُنہوں نے گمراہ کیا ہے۔ اور ہواؤں کے ربّ! اور جو کچھ وہ اُڑاتی ہیں۔ اَے الله! ہم اِس بستی کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں اور اِس کے اہل کی اور اِس بستی اور اِس کے اہل کے شرّ سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
پھر آپؐنے فرمایا کہ الله تعالیٰ کا نام لے کر آگے بڑھو۔پھر آپؐروانہ ہوئے، یہاں تک کہ منزلہ پہنچے، جو کہ خیبر کا بازار تھا اور جنگ کے بعد یہ حضرت زید بن ثابتؓکے حصے میں آیا تھا، آپؐنے رات کا کچھ حصّہ یہیں گزارا۔
یہود کو یہ گمان نہ تھا کہ آپؐاُن پر حملہ کریں گے کیونکہ اُنہیں اپنے قلعوں ، اسلحہ اور کثرتِ افراد پر گھمنڈ تھا۔ جب یہود کو یہ معلوم ہوا کہ آپؐاُن کی طرف آ رہے ہیں تو ہر دن دس ہزار جنگجو آدمی صفیں باندھ کر باہر نکلتے اور کہتے کہ ذرا دیکھو! کیا محمد(ﷺ) ہم پر لشکر کشی کریں گے؟ یہ ناممکن ہے۔
جب آنحضرتؐاِن کے پاس پہنچے، تو اِن کو خبر نہ ہوئی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ پس صبح جب یہود اپنے قلعوں سے باہر نکلے ، اُن کے ہاتھوں میں کدال اور ٹوکریاں تھیں، جب اُنہوں نے آپؐکودیکھا تو بھاگ کر اپنے قلعوں میں چھپ گئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خَرِبَتْ خَيْبَرُ!اِنَّا اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَکہ خیبر برباد ہو گیا!جب ہم کسی قوم کے صحن میں اُترتے ہیں تو ڈرائے جانے والوں کی صبح بُری ہوتی ہے۔
حضورِ انور نے وضاحت فرمائی کہ منزلہ میں مستقل پڑاؤ نہیں رکھا گیا۔ حضرت حباب بن منذرؓ آپؐکے پاس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللهؐ! آپؐکا اِس جگہ ٹھکانا بنانا اگر الله تعالیٰ کے حکم سے ہے تو ہم کچھ نہیں کہتے اور اگر آپؐکی اپنی رائے ہے تو ہم مشورہ دینا چاہتے ہیں۔ آپؐنے اِسے اپنی رائے قرار دیا تو حضرت حبابؓنے عرض کی کہ یارسول اللهؐ! آپؐاِن کے قلعوں کے قریب ہو گئے ہیں اور اِن کے باغوں کے سامنے ہیں اور زمین شور والی ہے اور مَیں اہلِ نطاہ کو جانتا ہوں کہ اِن کے تیر بہت دُور پہنچتے ہیں اور تیر اندازی میں اِن کے برابر کوئی نہیں ہے اور وہ ہم سے اونچی جگہ پر بھی ہیں۔اِن کے تیر ہماری طرف بہت آسانی سے پہنچ سکتے ہیں اور اِن کے رات کے حملے سے بھی ہم محفوظ نہیں ہیں۔ وہ کھجوروں کے جُھنڈ میں چھپ سکتے ہیں۔ لہٰذا میری درخواست کہ آپؐیہاں سے ایک دوسری جگہ منتقل ہو جائیں۔آپؐنے فرمایا کہ تم نے اچھی رائے دی ہے، لیکن ہم اُن سے آج جنگ بہرحال کریں گے۔
لیکن ساتھ ہی محمد بن مسلمہ ؓکو بلوایا، جو آپؐکے حفاظتی دستہ کے انچارج تھے اور فرمایا کہ اِن کے قلعوں سے کچھ دُور ہمارے لیے جگہ تلاش کرو۔آپؓچلتے چلتے رجیع کے مقام پر پہنچے جو خیبر اور غطفانی قبائل کے درمیان واقع تھا اور پھر واپس لَوٹ کر عرض کیا کہ یا رسول اللهؐ! مَیں نے آپؐکے لیے ایک جگہ دیکھ لی ہے۔ آپؐنے فرمایا کہ الله تعالیٰ کی برکت کے ساتھ چلو! مگر اِس سے پہلے آپؐفرما چکے تھے کہ آج تو جنگ اِسی جگہ سے ہو گی، چنانچہ شام کو جنگ ختم ہونے کے بعد اِس نئی جگہ پر سارا اسلامی لشکر منتقل ہو گیا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ خیبر کے مختلف قلعے تھے، اُن کی تفصیل کے بارے میں بھی بیان ضروری ہے۔ خیبر کا علاقہ تین حصّوں نطاہ، شق اور کتیبہ میں منقسم تھا اور اِن تینوں میں آٹھ قلعے تھے۔ نطاہ میں تین ناعم، صعب اور زبیر ، شق میں اُبیّ اور نزار اور کتیبہ میں تین قموص، وطیح اور سلالم قلعے تھے۔
جنگ شروع ہونے سے پہلے آنحضرتؐنے صحابہؓ سے ایک مختصر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن سے سامنا ہونے کی تمنّا مت کرو، الله تعالیٰ سے عافیت طلب کرو، تم کو معلوم نہیں کہ تم کس ابتلا میں ڈال دیے جاؤ۔ جب تم دشمن کے سامنے آؤ تو یہ دعا کرو کہ اَے الله! تُو ہمارا ربّ ہے اور اُن کا ربّ ہے، اُن کی پیشانیاں اور ہماری پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تُو ہی اِن کو قتل کرے گا۔
قلعہ ناعم یہود کا سب سے مضبوط قلعہ تھا اور خیبر کا بہادر ترین اور مشہور جنگجو مرحب اِس قلعے کے دفاع کی قیادت کر رہا تھا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتؐدس دن تک مسلسل جنگ کرتے رہے۔بار بار کی ناکامی اور صحابہؓ کے زخمی ہونے اور دو صحابہؓ کی شہادت سے یہود کے حوصلے اَور بڑھ رہے تھے۔ آخر ایک رات آپؐنے فرمایا کہ کل مَیں اُس شخص کے ہاتھ میں جھنڈا دُوں گا، جس کے ہاتھ پر الله تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا، وہ الله اور اُس کے رسول سے محبّت کرتا ہے۔
حضرت بریدہؓبیان کرتے ہیں کہ ہم نے وہ رات بڑی خوشی میں گزاری کہ کل فتح ہو جائے گی اور لوگوں نے یہ سوچتے سوچتے رات گزاری کہ کل کس کو جھنڈا دیا جائے گا؟ تو پھر صبح ہوئی تو سارے لوگ آپؐکے پاس آئے اور ہر شخص یہ امید اور تمنّا کر رہا تھا کہ جھنڈا اُس کو دیا جائے۔ حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے اِس روز سے پہلے کبھی بھی امارت کو پسند نہ کیا تھا۔
حضرت سلمہؓ اور حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؓرسول اللهؐ سے پیچھے رہ گئے تھے، بیماری کی وجہ سے ساتھ نہیں آئے تھے اُن کی آنکھوں میں شدید درد تھا لیکن بعد میں بے چین ہو کر چلے آئے۔ آپؐنے حضرت علیؓکو بُلایا اور جھنڈا اُن کے سپرد کیا۔ جنہوں نے صحابہؓ کی فوج ساتھ لے کر قلعے پر حملہ کیا،باوجود اِس کے کہ یہودی قلعہ بند تھے، الله تعالیٰ نے حضرت علیؓاور دوسرے صحابہؓ کو اُس دن ایسی قوت بخشی کہ شام سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہو گیا۔
خطبہ کے آخر پر حضورِ انور نے فرمایا کہ جیسا کہ میں دعا کے لئے کہتا رہتا ہوں فلسطینیوں کے لئے خصوصا اور مسلمان دنیا کے لئے عموماً بہت دعا کریں۔ نئے امریکن صدر کی پالیسی ظلم کی انتہا پر پہنچی ہوئی ہے۔ اب تو یہ ساری دنیا کے لئے خطرناک بن چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فلسطینیوں پر رحم فرمائے۔ عرب ممالک اب بھی اپنی آنکھیں کھولیں اور اتحاد قائم کرنے کی کوشش کریں ورنہ فلسطین ہی نہیں باقی عرب ممالک بھی سخت مشکلات کا سامنا کریں گے۔ پس بہت زیادہ مسلمانوں کو توجہ کی ضرورت ہے اور ہمیں انکے لئے دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح پاکستان اور بنگلہ دیش کے احمدیوں کے لئے بھی دعا کریں وہاں بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہر قسم کے مخالفتوں سے اور حملوں سے بچائے۔ باقی جگہوں پر بھی مظلوم لوگوں کے لئے، مظلوم احمدیوں کے لئے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دعاؤں کی توفیق دے۔
٭…٭…٭