تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:گذشتہ جمعہ غزوہ ذی قرد کا ذکر ہو رہا تھا۔آنحضرت ﷺنے پہلےچند صحابہ ؓکو دشمن کی طرف روانہ فرمایا اور پھر آپؐاِن کے پیچھے لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ جب دشمن کے لشکر نے اِنہیں دیکھا ،وہ بھاگ گئے۔ جب مسلمان دشمن کے پڑاؤ کی جگہ پر پہنچے تو حضرت ابو قتادہ رضی الله عنہ کا گھوڑا وہاں موجود تھا، جس کی کُونچیں کٹی ہو ئی تھیں، ایک صحابی نے کہا کہ یا رسول اللهؐ! ابو قتادہؓکے گھوڑے کی کُونچیں تو کٹی ہوئی ہیں۔ آنحضورؐاُس کے پاس کھڑے ہوئے اور دو مرتبہ فرمایا کہ تیرا بھلا ہو! جنگ میں تیرے کتنے دشمن ہیں۔ پھر رسول اللهؐ اور صحابہؓ آگے چل دیئے اور یہاں تک کہ اُس جگہ پہنچے جہاں ابو قتادہؓاور مسعدہ نے کشتی کی تھی تو اُنہوں نے سمجھا کہ ابو قتادہؓچادر میں لپٹے پڑے ہیں۔ ایک صحابی نے عرض کی کہ یا رسول اللهؐ! لگتا ہے کہ ابو قتادہؓشہید ہو گئے ہیں۔ آپؐنے فرمایا کہ الله ابو قتادہ پر رحم کرے! اُس ذات کی قسم !جس نے مجھے عزت بخشی ہے، ابو قتادہ تو دشمن کے پیچھے ہے اور رِجز پڑھ رہا ہے۔
حضرت ابو قتادہؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرتؐکے لشکر نے جب میرے گھوڑے کو دیکھا کہ اِس کی کُونچیں کٹی ہوئی ہیں اور مقتول کو میری چادر میں لپٹے ہوئے دیکھا تو اُنہوں نے سمجھا کہ شاید مَیں شہید ہو گیا ہوں۔حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ جلدی سے آگے بڑھے اور چادر ہٹائی تو مسعدہ کا چہرہ دیکھا۔ اِن دونوں نے کہا کہ الله اکبر! الله اور اُس کے رسولؐ نے سچ کہا۔ یا رسول اللهؐ یہ مسعدہ ہے، اِس پر صحابہؓ نے بھی تکبیر کہی اور پھر تھوڑی دیر بعد ہی حضرت ابو قتادہ ؓاونٹنیاں ہانکتے ہوئے آنحضرتؐکی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو گئے۔
آپؐنے فرمایا کہ اَے ابو قتادہ !تمہارا چہرہ کامیاب ہو گیا ۔ابو قتادہ گُھڑ سواروں کے سردار ہیں۔ اَے ابو قتادہ! الله تم میں برکت رکھ دے۔ دوسری روایت میں ہے کہ تمہاری اولاد اور اولاد کی اولاد میں برکت رکھ دے۔پھر آپؐنے فرمایاکہ اَے ابو قتادہ یہ تمہارے چہرہ پر کیا ہوا ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میرے ماں باپ آپؐپر قربان ہوں! مجھے ایک تیر لگا تھا، اُس ذات کی قسم! جس نے آپؐکو عزت بخشی، میرا خیال تھا کہ مَیں نے تیر نکال دیا تھا۔ آپؐنے فرمایا کہ ابو قتادہ میرے قریب آؤ۔ مَیں قریب ہوا تو آپؐنے نرمی سے تیر نکال دیا اور اپنا لُعابِ دہن لگایا اور اپنا ہاتھ اُس پر رکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اُس ذات کی قسم! جس نے آپؐکو نبوت عطا کی، مجھے یوں لگتا تھا کہ جیسے مجھے کوئی چوٹ ہی نہ لگی ہو اور نہ زخم آیا ہو۔
رسول اللهؐ کے ذو القرد پہنچنے کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ حضرت سلمہؓ کہتے ہیں کہ آپؐعشاء کے وقت پہنچے اور چشمہ پر پڑاؤ ڈالا، جہاں مَیں نے دشمن کو روکا تھا، آپؐاونٹنیاں اور وہ ہر چیز جو مَیں نے دشمن سے چھینی تھی، قبضہ میں کر چکے تھے۔ حضرت بلالؓنے اُن اونٹوں میں سے ایک اونٹ ذبح کیا، جو دشمن سے چھینے گئے اور آنحضرتؐکے لیے اُس کا کلیجہ اور کوہان بھونی۔ حضرت سَعْد بن عُبَادہؓنے کھجوروں سے لدے ہوئے دس اونٹ بھیجے جو آپؐکو ذو القرد مقام پر ملے۔
حضرت سلمہؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے عرض کیا کہ مَیں نے دشمن کو پانی سے روکا ہوا تھا اور وہ پیاسے تھے، آپؐمجھے ایک سَو مجاہدین کے ساتھ روانہ کریں، مَیں اِن کا پیچھا کر کے اِن کے ہر مخبر کو بھی قتل کر دوں گا۔ آپؐمسکرانے لگے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپؐکے دندانِ مبارک نظر آنے لگے اور فرمایا کہ سلمہ! کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟ مَیں نے کہا کہ آپؐکو عزت دینے والے کی قسم! جی ہاں۔
آپؐنے فرمایا کہ مَلَکْتَ فَاسْجِحْ کہ تم نے اُن پر قابو پا لیا ہے تو نرمی اختیار کرو۔ یہ عرب کے محاوروں میں سے ایک محاورہ ہے کہ بہترین معافی یہی ہے کہ نرمی اختیار کرو اور سختی سے کام نہ لو۔ اِس غزوہ کے لیے رسول اللهؐ بدھ کی صبح روانہ ہوئے اور آپؐنے ایک رات اور ایک دن ذو القرد میں قیام فرمایا تاکہ دشمن کی کوئی خبر مل سکے، پھر سوموار کے دن مدینہ واپس تشریف لائے، یوں آپؐپانچ راتیں مدینہ سے باہر رہے۔
اب ایک سریہ کا ذکر کروں گا، یہ سریہ حضرت اَبان بن سعید بطرف نجد کہلاتا ہے۔ یہ سریہ محرم ۷؍ہجری میں ہوا، جبکہ ایک روایت میں اِس کی تاریخ جمادی الثّانی ۷؍ہجری بیان ہوئی ہے، حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓنے بھی اِس کو محرم ۷؍ہجری میں لکھا ہےجو زیادہ قرینِ قیاس ہے کیونکہ روایات میں ذکر ہے کہ خیبر کی طرف روانگی سے قبل مدینہ سے نجد کی طرف حضرت اَبان بن سعید ؓکو بھیجا اور خیبر کی طرف روانگی محرم سات ہجری میں ہوئی تھی۔
حضرت اَبانؓکے والد اکابر قریش میں سے تھے، اُن کے بھائی عَمرو اور خالد پہلے مسلمان ہو گئے تھے اور حبشہ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے۔اَبان جنگِ بدر میں مشرکین کی طرف سے شامل ہوئے تھے۔ اُنہوں نے صلح حدیبیہ کے دوران حضرت عثمانؓکو پناہ دی تھی۔ عَمرو اور خالد حبشہ سے واپس آئے تو اُنہوں نے اَبان کو پیغام بھیجا، یہاں تک کہ تینوں اکٹھے خیبر کے ایام میں رسول اللهؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اَبان نے اسلام قبول کیا۔ رسول اللهؐ کی وفات کے وقت اَبان بحرین پر عامل تھے، اِس کے بعد وہ حضرت ابوبکرؓکے پاس آئے اور شام چلے گئے۔ آپؓتیرہ ہجری میں شہید ہوئے، جبکہ ایک روایت کے مطابق ستائیس ہجری میں حضرت عثمانؓکی خلافت میں وفات پائی۔
پھر ایک بڑے مشہور غزوے کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے، جو غزوۂ خیبرکہلاتا ہے۔ خیبر ایک وسیع سبزہ زار ہے جوچشموں اور بکثرت پانیوں سے سیراب ہے اور جزیرۂ عرب میں کھجوروں کے سب سے بڑے نخلستان میں شمار کیا جاتا ہے۔ اِس کی زرخیزی کا اندازہ اِسی سے کیا جا سکتا ہے کہ خیبر کی صرف ایک وادی جو کتیبہ کے نام سے موسوم ہے، اُس میں چالیس ہزار کھجوروں کے درخت تھے۔ تاریخی روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے یہاں بنی اسرائیل کے یہود آباد تھے، بعض مؤرخین کے مطابق بخت نصر کے زمانے میں یہود یہاں آباد ہوئے، کچھ اور روایات بھی ہیں، جن سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ خیبر میں قدیم سے اور بڑے بڑے قلعے بنا کر یہود آباد تھے ۔ عبرانی زبان میں خیبر کے معنی بھی قلعے کے ہیں۔ یہود کے کچھ قبائل مدینہ میں بھی آباد تھے، لیکن خیبر کے یہود کو ایک بات ممتاز کرتی تھی کہ یہاں کے یہود باقی تمام یہود سے شجاعت اور جنگ میں استقلال دکھانے میں بڑھ کر تھے اور اُن میں باہم اتحاد بھی دوسروں کی نسبت زیادہ تھا، جس کی وجہ سے یہ خطۂ عرب میں قوت و طاقت کی ایک اکائی سمجھی جانے والی قوم تھی۔
مدینہ کے یہود ہوں یا خیبر کے یہود ، آنحضرتؐ اور اسلام کے متعلق اُن کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں باغیانہ حدّ تک بڑھی ہوئی تھیں، بُغض و عداوت میں بڑھتی ہی چلی جانے والی اِس قوم نے اسلام اور نبی اکرمؐ کی ذاتِ مبارک کو بھی ختم کرنے میں اپنی تمام تر قوتوں کو بروئے کار لانے میں کوئی کمی نہیں کی۔جبکہ اِس کے برعکس آنحضرتؐنے مدینہ کے یہود کے ساتھ ہمیشہ نرمی کا برتاؤ کیا، اُن کے ساتھ صلح کے معاہدے کیے اور جب کبھی بھی معاہدے کو توڑ دیتے یا خلاف ورزی کرتے تو آپؐکی پہلی کوشش درگزر اور عفو کی ہوتی تھی ، یہاں تک کہ اِن لوگوں نے نبی اکرمؐکو قتل کرنے کی متعدد مرتبہ کوشش کی۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیرونی طاقتوں کو مدینہ پر حملہ کرنے میں تعاون کیا، جس کے بدلہ میں سزا کے طور پر اُن تمام یہود کو سخت سے سخت سزا بھی دی جاتی، تو وہ عدل و انصاف کے عین مطابق ہوتی۔ لیکن آنحضرتؐکا ہر درجہ کا عفو اور رحمت کا یہ عالَم تھا کہ پھر بھی اُن کے جان و مال کو یوں امان دی کہ مدینہ سے جلا وطن کر دیا کہ جو کچھ ساتھ لے کر جا سکتے ہو لے جاؤ اور جو حُسن و احسان اور عفو و درگزر کا سلوک آنحضرتؐنے اِن یہودِ مدینہ کے ساتھ کیا تھا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خیبر میں آباد ہو جانے کے بعدیہ لوگ اسلام اور بانیٔ اسلام کے حق میں صلح جوئی اور امن و سلامتی کے ماحول میں رہتے۔
حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهؐ نےحدیبیہ سے واپس آنے کے قریباً پانچ ماہ بعد یہ فیصلہ کیا کہ یہودی خیبر سے، جو مدینہ سے چند منزل کے فاصلہ پر تھا اور جہاں سے مدینہ کے خلاف آسانی سے سازش کی جا سکتی تھی، نکال دیے جائیں۔ چنانچہ آپؐنے سولہ سَو اصحاب کے ساتھ اگست ۶۲۸ء میں خیبر کی طرف کُوچ فرمایا۔
درحقیقت الله تعالیٰ نے اُسی وقت ہی فتح خیبر کا وعدہ فرما دیا تھا جب صلح حدیبیہ سے واپسی پر مکّہ اور مدینہ کے درمیان سورۃ الفتح نازل ہوئی۔
رسول اللهؐ نے خیبر کی طرف جانے کے لیے جب منادی کروائی تو یہ اعلان کروایا کہ صرف وہی ساتھ چلیں گےجو صلح حدیبیہ میں شریک تھے۔ ایک روایت کے مطابق آنحضرتؐنے فرمایا کہ جو مالِ غنیمت کی غرض سے نکل رہے ہیں، وہ میرے ساتھ نہ نکلیں، صرف وہ لوگ میرے ساتھ روانہ ہوں جو صرف جہاد میں رغبت رکھتے ہیں۔
علّامہ ابنِ اسحٰق اور ابنِ سَعْد نے بیان کیا ہے کہ سب سے پہلی مرتبہ غزوۂ خیبر میں پرچم کا ذکر ملتا ہے، اِس سے پہلے صرف چھوٹے جھنڈے ہوتے تھے۔
آپؐکا پرچم سیاہ رنگ کا تھا، جو حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی چادر سے بنایا گیا تھا، اِس کا نام عُقَاب تھا۔روایت میں حضرت علیؓکو بھی ایک جھنڈا دیا جانے کا ذکر ملتا ہے لیکن وہ جھنڈا خیبر میں دیا گیا تھا۔
اِس سفر میں اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہؓآپؐ کے ہمراہ تھیں۔ ایک روایت کے مطابق چھ، سات صحابیات بھی اِس مہم میں آپؐکے ساتھ ہو لیں جبکہ ایک اَور روایت کے مطابق بیس صحابیات اِس غزوہ میں شامل ہوئیں۔
خیبر کے یہود کو جب مسلمانوں کے لشکر کا علم ہوا تو اُنہوں نے ایک میٹنگ کی، جس میں اسلامی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے مشاورت ہوئی۔ جس میں یہود کے راہنماؤں کی طرف سے مختلف قسم کی تجاویز پیش ہوئیں البتہ سب راہنماؤں کا اِس بات پر اتفاق ہوا کہ ایک وفد تیار کر کے ارد گرد کے جنگجو قبائل کی طرف بھیجا جائے تاکہ اِن سے فوجی مدد کی درخواست کی جائے۔ چنانچہ چودہ افراد پر مشتمل ایک وفد تیار ہو ا ، جس کی قیادت بعض روایات کے مطابق خیبر کا رئیسِ اعظم کنانہ خود کر رہا تھا۔ یہ وفد قبیلہ بنو اسد، غطفان اور دیگر قبائل کی طرف گیا اور خیبر کی ایک سال کی پیداوار کا نصف دینے کی پیشکش پر فوجی امداد کی درخواست کی۔قبیلہ مُرّہ نے دُور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اِس طرح کی مدد کرنے سے انکار کر دیا البتہ بنو اسد اور بنو غطفان جیسے جنگجو قبائل نے ایک ہزار مسلّح فوجیوں پر مشتمل لشکر فوری روانہ کر دیا اور چار ہزار کے لشکر کی مزید امداد کا وعدہ کر تے ہوئے اِس کی تیاری بھی شروع کر دی۔
حضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ مزید اِس کی تفصیل ہے جو ان شاء الله تعالیٰ آئندہ بیان کر دوں گا۔
خطبہ ثانیہ سے قبل حضورِ انور نے درج ذیل تین مرحومین کا ذکرِ خیر فرماتے ہوئے اِن کی نمازِ جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان بھی فرمایا۔
مکرم محمد اشرف صاحب ابن مکرم محمد بخش صاحب آف منڈی بہاؤالدین، مکرم حبیب محمد شاتری صاحب نائب امیر دوم کینیا ابن مکرم محمد حبیب شاتری صاحب اور مکرم انوبی مدینگو صاحب صدر جماعت زمبابوے۔
حضور انور نے تمام مرحومین کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی۔ ٭…٭…٭