اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-01-23

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 17؍جنوری 2025ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج جن سرایا کا ذکر ہو گا، اِن میں سے ایک سریہ عبدالله بن رواحہ بطرف اُسَیْر بن رِزام ہے۔ یہ سریّہ شوال چھ ہجری میں اُسَیْر یا یُسیربن رِزام کی طرف خیبر میں ہوا۔ اِس کی تفصیل میں بیان ہوا ہے کہ جب ابو رافع سلام بن ابی الحقیق کو قتل کیا گیا تو یہودیوں نے اُسَیْر بن رِزام کو اپنا امیر مقرر کیا۔وہ یہود میں کھڑا ہو کر خطاب کرنے لگا کہ الله کی قسم! محمد(ﷺ) جب بھی یہود میں کسی طرف چلے یا اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھیجا ،تو جس بات کا ارادہ کیااُس میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن مَیں وہ کام کروں گاجو میرے ساتھیوں میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کیایہود نے پوچھا کہ تمہارا کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ وہ کہنے لگا کہ مَیں قبیلہ غطفان کی طرف جاتا ہوں اور اُن کو اکٹھا کرتا ہوں اور ہم محمد(ﷺ) کی طرف چل کر اُن کے گھر میں گھس جائیں گے، جب بھی کوئی اپنے دشمن کے گھر میں آ کر حملہ کرتا ہےتو وہ اپنے مقصد میں کسی حدّ تک کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔ تو یہود نے کہا کہ تمہارا خیال بہت اچھا ہے۔ چنانچہ وہ غطفان اور دیگر قبائل کی طرف چلا گیا اور اُن کو رسول اللهؐ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھا کرنے لگا۔
اِس کی تفصیل میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی الله عنہ نے لکھا ہے کہ جب آنحضرتؐکو اِن حالات سے اطلاع ہوئی تو آپؐنے فوراً اپنے ایک انصاری صحابی عبداللہ بن رواحہؓ کو تین دوسرے صحابیوں کی معیّت میں خیبر کی طرف روانہ فرمایا اور اُنہیں تاکید فرمائی کہ خفیہ خفیہ جائیں اور سارے حالات معلوم کر کے جلد تر واپس آجائیں۔ چنانچہ عبداللہ بن رواحہؓ اور اُن کے ساتھی گئے اور خفیہ خفیہ تمام حالات اور کوائف کا پتا لے کر اور یہ تصدیق کر کے کہ یہ خبریں درست ہیں واپس آگئے بلکہ عبداللہ بن رواحہؓ اور ان کے ساتھیوں نے ایسی ہوشیاری سے کام لیا کہ خیبر کےقلعوں کے آس پاس گھوم کر اور اُسَیْر بن رِزام کی مجلس گاہوں کے پاس پہنچ کر خود اُسیر اور اُس کے ساتھیوں کی زبانی یہ سن لیا کہ وہ آنحضرتؐکے خلاف یہ یہ تدبیریں کر رہے ہیں۔ اِنہی دنوں میں ایک غیر مسلم شخص خارجہ بن حُسَیْل اتفاقا ًخیبر کی طرف سے مدینہ میں آیا اور اُس نے بھی عبداللہ بن رواحہؓ کی تصدیق کی۔ اِس تصدیق کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کی امارت میں تیس صحابہؓ کی ایک پارٹی خیبر کی طرف روانہ فرمائی۔اِس گفت و شنید سے جو خیبر میں عبداللہ بن رواحہؓ اور اُسَیْر بن رِزام میں ہوئی،یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء یہ تھا کہ اُسیر کو مدینہ میں بلا کر اس کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتہ کیا جائے جس سے اِس فتنہ انگیزی کا سلسلہ رک جائے اور ملک میں امن وامان کی صورت پیدا ہو ۔ اِس خواہش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اِس حد تک تیار تھے کہ اگر اُسیر کو خیبر کے علاقے کا امیر تک تسلیم کرنا پڑے تو تسلیم کر لیا جائے۔
اُسیر کو جو سخت جاہ طلب تھا یا یہ بھی ممکن ہے کہ اُس کے دل میں کوئی اور نیّت مخفی ہو یہ تجویز پسند آئی اور کم از کم اس نے یہ ظاہر کیا کہ مجھے یہ تجویز پسند ہے۔ الغرض اُسيرعبداللہ بن رواحہ کی پارٹی کے ساتھ مدینہ چلنے کے لیے تیار ہو گیا اور عبداللہ بن رواحہ ؓکی طرح خود اُس نے بھی تیس یہودی اپنے ساتھ لے لیے ۔ جب یہ دونوں پارٹیاں خیبر سے نکل کر ایک مقام قرقرہ میں پہنچیں، جو خیبر سے چھ میل کے فاصلے پر تھا ،تو اُسیر کی نیّت بدل گئی یا اگر اُس کی نیّت پہلے سے خراب تھی تو یوں سمجھنا چاہیےکہ اُس کے اظہار کا وقت آگیا۔ چنانچہ اِسی جگہ عین راستہ میں مسلمانوں اور یہودیوں میں تلوار چل گئی۔ اور گو دونوں پارٹیاں تعداد میں برابر تھیں اور یہودی لوگ پہلے سے ذہنی طور پر تیار تھے اور مسلمان بالکل بے ارادہ تھے مگر خدا کا ایسا فضل ہوا کہ بعض مسلمان زخمی تو بیشک ہوئےمگر اُن میں سے کسی جان کا نقصان نہیں ہوا لیکن دوسری طرف سارے یہودی اپنی غدّاری کا مزا چکھتے ہوئے خاک میں مل گئے ۔
جب صحابہ ؓکی یہ پارٹی مدینہ میں واپس پہنچی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حالات سے اطلاع ہوئی تو آپؐنے مسلمانوں کے صحیح سلامت بچ جانے پر خدا کا شکر کیا اور فرمایا کہ قَدْ نَجَاكُمُ اللّٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ شکر کرو کہ خدا نے تمہیں اِس ظالم پارٹی سے نجات دی۔اِس واقعہ کے متعلق بعض مسیحی مؤرّخین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ گویا عبداللہ بن رواحہؓ کی پارٹی اُسیر وغیرہ کو خیبر سے اِسی نیّت سے نکال کر لائی تھی کہ رستہ میں موقع پا کر اُنہیں قتل کر دیا جائے مگر جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ تاریخ میں اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ مسلمان اِس نیّت سے وہاں گئے تھے بلکہ غور کیا جاوے تو قطعٔ نظر دوسرے شواہد کے صرف عبد اللہ بن اُنیسؓکے یہ الفاظ ہی کہ اَے دشمن خدا! کیا غداری کی نیّت ہے؟ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ کہ شکر کرو کہ خدا نے تمہیں اِس ظالم پارٹی سے نجات دی اِس بات کے ثابت کرنے کےلیے کافی ہیں کہ مسلمانوں کی نیّت بالکل صاف اور پُر امن تھی۔
پھر ہے سریہ عمرو بن اُمیہ ضمری یہ ابوسفیان کی طرف گیا تھا۔ ابنِ ہشّام، ابنِ کثیر اور طبری وغیرہ نے اِس سریّہ کو چار ہجری کے ضمن میں واقعۂ رجیع کے بعد بیان کیا ہے، لیکن ابنِ سعد اور زرقانی نے اِس سریّہ کو چھ ہجری کے سرایا کے ذیل میں بیان کیا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓنے بھی سیرت خاتم النبیینؐمیں اِس سریّہ کو چھ ہجری میں بیان کیا ہے۔ اِس سریّہ کی تفصیل یوں ہے کہ ابوسفیان نے قریش کے چند آدمیوں کو کہا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہےجو محمد(ﷺ) کو اچانک قتل کر دے۔جب وہ بازاروں میں چلتے پھرتے ہوں۔چنانچہ ابو سفیان کے پاس بادیہ نشینوں میں سے ایک آدمی اِن کے گھر آیا اور کہا اگر تُو میری مدد کرے تو مَیں اِن کی طرف جاؤں گایہاں تک کہ اچانک محمد (ﷺ) پر حملہ کر دُوں۔ اور میرے پاس ایک خنجر ہےجو گدھ کے پَر کی طرح ہے ۔ اُس سے مَیں محمد (ﷺ) پر حملہ کروں گا۔ پھر مَیں کسی قافلے میں مل جاؤں گا اور بھاگ کر اِس قوم سے آگے بڑھ جاؤں گاکیونکہ راستے کا مَیں بہت ماہر ہوں۔
چنانچہ ابو سفیان نے اِس کو اونٹ اور زادِ راہ دیا وہ رات کو نکلا اور پھر مدینہ پہنچ کراور رسول اللهؐ کے بارے میں پوچھنے لگا۔ یہاں تک کہ اُسے آپؐکے متعلق بتایا گیا، تو اُس نے اپنی سواری کو باندھا، پھر آپؐکی طرف آیا اور آپؐبنو عبدالاشھل کی مسجد میں تھے۔ جب نبی کریمؐ نے اِس کو دیکھا تو فرمایا کہ یقیناً اِس آدمی کا دھوکا دینے کا ارادہ ہے اور الله تعالیٰ اِس کے اور اِس کے ارادہ کے درمیان حائل ہے۔
چنانچہ وہ آپؐپر حملہ کرنے کے لیے چلا تو اُسَیْد بن حُضَیْر نے اِس کو اِس کی چادر کے اندر والے کنارے کی طرف سے پکڑ کر کھینچا ، تو اچانک اُس کے ہاتھ سے خنجر گر پڑا اَور وہ پکارنے لگاکہ میرا خون میرا خون! یعنی میری جان بخشی کر دو۔ حضرت اُسَیْد نے اُس کو گردن سے پکڑا پھر چھوڑ دیا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس سے فرمایا کہ مجھے سچ سچ بتاؤ کہ تم کون ہو؟ اُس نے کہا کہ مَیں اَمان طلب کرتا ہوں۔آپؐنے فرمایا کہ ہاں! ٹھیک ہے۔ اِس نے اپنا کام اور جو کچھ ابوسفیان نے اِس کے لیے مقرر کیا، بتایا، تو آپؐنے اُس کو چھوڑ دیا۔ اور اِس شفقت پر وہ مسلمان ہو گیا ۔
ابوسفیان کی اِس خونی سازش نے اِس بات کو آگے سے بھی زیادہ ضروری کر دیا کہ مکّہ والوں کے ارادے اور نیّت سے آگاہی رکھی جائے ۔ چنانچہ آپؐنے اپنے دو صحابہؓ عَمر و بن اُمَیَّہ ضَمْرِی اور سلمہ بن اسلم کو مکّہ کی طرف روانہ فرمایا اور ابوسفیان کی اِس سازش ِقتل اور اِس کی سابقہ خون آشام کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے اُنہیں اجازت دی کہ اگر موقع پائیں تو بیشک اسلام کے اِس حربی دشمن کا خاتمہ کر دیں ۔ مگر جب اُمیہ اور اِن کا ساتھی مکّہ میں پہنچے تو قریش ہوشیار ہو گئے اور یہ دو صحابی اپنی جان بچا کر مدینہ کی طرف واپس لَوٹ آئے۔ راستہ میں اُنہیں قریش کے دو جاسوس مل گئے، جنہیں رؤسائے قریش نے مسلمانوں کی حرکات و سکنات کا پتا لینے اور آنحضرتؐکے حالات کا علم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا اور کوئی تعجّب نہیں کہ یہ تدبیر بھی قریش کی کسی اور خونی سازش کا پیش خیمہ ہو۔ مگر خدا کا فضل ہوا کہ اُمیہ اور سلمہ کو اِن کی جاسوسی کا پتا چل گیا ، جس پر انہوں نے اِن جاسوسوں پر حملہ کردیا۔ چنانچہ اِس لڑائی میں ایک جاسوس تو مارا گیا اور دوسرے کو قید کر کے وہ اپنے ساتھ مدینہ میں واپس لے آئے ۔
حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ارشاد فرمایا کہ باقی ان شاء الله آئندہ!
حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نےجماعت احمدیہ پاکستان نیز فلسطین کے لیے دعا کی تحریک فرمائی ۔
خطبہ کے آخر پر حضورر انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے شیخ مبارک احمد صاحب (ناظر دیوان صدر انجمن احمدیہ ربوہ )،محمد منیر ادلبی صاحب آف قطر ، مکرم عبد الباری طارق صاحب(انچارج کمپیوٹر سیکشن وقف جدیدربوہ)کی نماز جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا۔
٭…٭…٭