تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی اور ترجمہ پیش فرمایا: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۰ۥۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌ۔
ترجمہ : تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو اور جو کوئی چیز بھی تم خرچ کرو اللہ اسے یقینا خوب جانتا ہے۔
فرمایا: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لئے مختلف جگہوں میں مختلف رنگ میں تلقین کی گئی ہے۔ مختلف نیکیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال کے خرچ کو بھی ایک نیکی قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت میں بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے اور فرمایا کہ جس مال یا جس چیز سے تم محبت کرتے ہو اگر وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو گے تو تب یہ بڑی نیکی ہو گی۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر نیکی کا اجر دیتا ہے جو اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کی جائے لیکن انسان کو مال سے کیونکہ محبت ہوتی ہے اس لئے اس کی طرف بھی خاص توجہ دلائی گئی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
بیکار اور نکمی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔ پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ نکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ نص صریح ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔ اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کیا صحابہ کرام مفت میں اُس درجے تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا۔ دنیاوی خطابوں کو حاصل کرنے کیلئے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو پھر کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ملتا ہے پھر خیال کرو کہ رضی اللہ عنہم کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضا مندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا۔ آپؑفرماتے ہیں کہ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔ فرمایا خدا ٹھگا نہیں جا سکتا۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الٰہی کے حصول کے لئے تکلیف کی پرواہ نہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔
حضور انور نے فرمایا: یہ وہ راز ہے جسے آج جماعت احمدیہ کے افراد نے صحیح طور پر سمجھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تربیت کا یہ اثر ہے کہ آج تک یہ قربانی کے معیار ہم دیکھتے چلے جا رہے ہیں ۔
حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺنے مالی قربانی کی بہت زیادہ تحریک فرمائی تھی اور اس بات کو آپ کے صحابہ نے سمجھا اور اس پر خوب عمل کیا۔
ایک موقع پر آنحضرتﷺ نے اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء کو یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دیا کرے گا۔ فرمایا کہ جتنی طاقت ہے کھول کر خرچ کرو اللہ پر توکل کرو اللہ دیتا چلا جائے گا۔ پھر آپؐنے ایک موقع پر فرمایا کہ ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔ دوسرا کہتا ہے کہ اللہ روک رکھنے والے کنجوس کا مال و متاع برباد کر دے۔
حضور انور نے احمدیوں کی مالی قربانی کا ذکر کرتے ہوے فرمایا: ایک شخص نے لکھا کہ میرے پاس صرف تھوڑی سی رقم تھی اور اس رقم سے میں نے کاروبار کرنا تھا۔ حالات بڑے ناسازگار تھے اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کاروبار ہو بھی سکے گا کہ نہیں۔ میرے باپ نے مجھے کہا کہ جتنی بھی رقم ہے تم چندے میں دے دو چنانچہ میں نے چندہ دے دیا اور اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ ایک ایسا آرڈر مجھے مل گیا جس سے کئی گنا زیادہ رقم مجھے میسر آ گئی اور پھر میں نے وہ کاروبار شروع کیا اور اس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت ڈالی کہ بیشمار مال آنے لگ گیا۔ تو یہ تجربات اللہ تعالیٰ اس زمانے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والوں آپ کے غلاموں کو ان کے ایمان میں زیادتی کے لئے دکھاتا رہتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں
میں یقینا سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ جو شخص سچے دل سے خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اپنا مال صرف اس مال کو نہیں سمجھتا جو اس کے صندوق میں بند ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے تمام خزائن کو اپنے خزائن سمجھتا ہے اور امساک اس سے اس طرح دُور ہو جاتا ہے جیسا کہ روشنی سے تاریکی دور ہو جاتی ہے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ سنا تو آپ نے سنتے ہی فرمایا کہ اتنے بڑے دعوے کا شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور آپ نے بہت جلد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کا نام اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے اور ان کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ نے سلسلہ کے لئے اس قدر مالی قربانی کی ہے کہ آئندہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں ہے۔گو وہ قربانیاں تو کرتے رہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرح خوشنودی کا اظہار فرمایا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپ پر مقدمہ گورداسپور میں ہو رہا تھا اور آپ کو اس میں روپے کی ضرورت تھی۔ حضرت صاحب نے دوستوںمیں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی کی وجہ سے وہاں بھی لوگ آتے تھے کھانا بھی دیا جاتا تھا انہیں، اور فرمایا اس کے علاوہ مقدمے پر بھی خرچ ہو رہا ہے لہٰذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔ یعنی اخراجات کیلئے چندہ دیں۔ جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اُسی دن اُن کی تنخواہ تقریباً چار سو پچاس روپے ملی جو اُس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں بھجوا دی گئی۔ ایک دوست نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ گھر کی ضرورت کیلئے کچھ رکھ لیں تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ خدا کا مسیح لکھتا ہے کہ دین کے لئے ضرورت ہے تو پھر اور کس کے لئے رکھ سکتا ہوں میں۔ غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کے لئے قربانیوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہیں کہنا پڑا کہ اب آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔
حضور انور نے فرمایا: یہ نمونے تھے جو پرانے صحابہ نے قائم کئے اور ہر خلافت کے دَور میں یہ نمونے نظر آتے ہیں۔ فرمایا : مارشل آئی لینڈ کے مبلغ نے لکھا کہ لادری آرزک صاحبہ ایک مخلص رکن ہیں اور جماعت کے لنگر چلانے کے لئے جہاں روزانہ دو وقت کھانا تیار کیا جاتا ہے آتی ہیں اور خدمت کرتی ہیں، پکاتی ہیں، اور جب بھی انہیں تنخواہ ملتی ہے تو ان کا پہلا کام اپنے اور اپنے پانچ پوتے پوتیوں کی طرف سے مالی قربانی پیش کرنا ہوتا ہے اور ان کی وقف جدید کی قربانی جماعت میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ مربی صاحب کہتے ہیں کہ یہ غریب گھر ہیں جنہیں دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بابرکت الفاظ یاد آ جاتے ہیں کہ متقی سچی خوشحالی ایک جھونپڑی میں پا سکتا ہے جو دنیا دار حرص و آز کے پرستار کو رفیع الشان قصر میں بھی نہی مل سکتی۔
حضور انور نے فرمایا: انڈیا سے ایک انسپکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست ہیں ان کا وقف جدید کا چندہ چوبیس ہزار تھا چند دن رہ گئے تھے انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ رقم ہے لیکن ایک اہم کام میں میں نے یہ رقم دینی ہے۔ انسپکٹر صاحب نے اُنہیں کہا کہ دیکھ لیں جو بھی آپ مناسب سمجھتے ہیں دے دیں۔ تو انہوں نے کہا کہ اللہ پر توکل کرتا ہوں اور رقم چندے کی ادائیگی میں دے دی۔ دوسرے دن ہی موصوف کا فون آیا کہ ایک بہت بڑی رقم کہیں پھنسی ہوئی تھی وہ اچانک مل گئی ہے اور پوری رقم تو نہیں ملی لیکن اس میں سے پچاس ہزار مل گئے ہیں اور باقی کا بھی دینے والے نے وعدہ کیا ہے کہ جلدی دے دوں گا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دُنیا بھر کے مختلف ممالک سے احمدیوں کی مالی قربانی کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔
حضور انور نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کا ستاسٹھواں سال ختم ہوا ہے اکتیس دسمبر کو اور جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے ایک کروڑ چھتیس لاکھ اکاسی ہزار پاؤنڈ یعنی تقریباً چودہ ملین کی مالی قربانی پیش ہوئی ہے۔ یہ وصولی گذشتہ سال سے سات لاکھ چھتیس ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے۔ الحمد للہ اور اس میں قربانیوں کے لحاظ سے اوّل نمبر پر برطانیہ ہے۔فرمایا ان کا اور کینیڈا کا بڑا سخت مقابلہ ہے۔ کینیڈا نے بھی قربانیوں میں بہت اضافہ کیا ہے لیکن برطانیہ سے ابھی پیچھے ہی ہیں۔ پھر نمبر تین پہ جرمنی ہے پھر امریکہ پھر بھارت پھر آسٹریلیا پھر مڈل ایسٹ کی ایک جماعت پھر انڈونیشیا ہے اور پھر مڈل ایسٹ کی ایک اَور جماعت ہے پھر بلجیم ہے۔
بھارت کے صوبہ جات میں کیرالہ نمبر ایک پہ پھر تامل ناڈو۔ جموں کشمیر۔ پھر کرناٹکہ۔ تلنگانہ۔ اڈیشہ۔ پنجاب۔ ویسٹ بنگال۔ مہاراشٹرا۔ اترپردیش۔
بھارت کی دس جماعتوں میں نمبر ایک پہ کوئمبٹور۔ نمبر دو پہ قادیان پھر حیدر آباد پھر کالیکٹ۔ منجیری۔ بنگلور۔ میلا پالم۔ کولکاتہ۔ کیرنگ۔ کرولائی۔
فرمایا: اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت عطا فرمائے۔ یہ بھی دعا کریں کہ یہ دو ہزار 2025ء کا سال جماعت کے لئے برکتوں والا سال ہو، اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔
مخالفین کے متعلق حضور انور نےفرمایا: اللہ تعالیٰ ظالموں کی پکڑ کے سامان جلد فرمائے۔ احمدیوں کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ فرمایا: درود شریف اور بعض دعاؤں کی طرف میں نے توجہ دلائی تھی، اس طرف دُنیا کا ہر احمدی توجہ رکھے اور پاکستان کے احمدی خاص توجہ رکھیں۔
بنگلہ دیش کے احمدیوں کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ انہیں بھی شدت پسندوں کے شر سے محفوظ رکھے اور شام میں بھی اب نئی حکومت آئی ہے،اللہ تعالیٰ وہاں بھی احمدیوں کو ہر شر سے بچائے اپنی حفاظت میں رکھے۔ اسی طرح دوسرے ممالک میں اور افریقہ کے ممالک ہیں ہر جگہ اللہ تعالیٰ احمدیوں کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس کے لئے خاص طور پر دعائیں کرے۔ دنیا کے عمومی حالات اور جنگوں کی صورتحال کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ اس کے بد اثرات سے ہر معصوم اور مظلوم کو بچائے۔
نئے سال پر بڑے جشن مناتے ہیں یہ لوگ پھل جھڑیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ہر ایک صرف اپنی خوشیاں دیکھتا ہے دوسروں کے درد کا انہیں احساس نہیں ہے۔ جو غریب قومیں ہیں جو مظلوم لوگ ہیں طاقتور قومیں ان پر ظلم کرتی چلی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سال میں ان سب طاقتور قوموں کے منصوبے بھی خاک میں ملا دے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ہم دنیا میں قائم ہوتا دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے۔ ٭٭٭