اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-11-28

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 22؍نومبر 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:حدیبیہ کے بارے میں بیان ہو رہا ہے۔ آنحضرت ﷺنے حدیبیہ کی وادی میں پہنچ کر وادی کے چشمہ کے پاس قیام کیا۔ قبیلہ خزاعہ کا ایک نامور رئیس بدیل بن ورقاجو قریب ہی کے علاقہ میں آباد تھا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آنحضرت ﷺکی ملاقات کے لئے آیا اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ مکہ کے رئووساء جنگ کے لئے تیار کھڑے ہیں اور وہ کبھی بھی آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ نے فرمایا ہم تو جنگ کی غرض سے نہیں آئے بلکہ صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیں اور افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ قریش مکہ کو جنگ کی آگ نے جلا جلا کر خاک کر رکھا ہے مگر پھر بھی یہ لوگ باز نہیں آتے اور میں تو ان لوگوں کے ساتھ اس سمجھوتہ کے لئے بھی تیار ہوں کہ وہ میرے خلاف جنگ بند کرکے مجھے دوسرے لوگوں کے لئے آزاد چھوڑ دیں۔ لیکن اگر انہوں نے میری اس تجویز کو بھی ردّکر دیا اور بہر صورت جنگ کی آگ کوبھڑکائے رکھا تو مجھے بھی اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ پھر میں بھی اس مقابلہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ یا تو میری جان اس رستہ میں قربان ہو جائے اور یا خدا مجھے فتح عطا کرے۔ اگر میں ان کے مقابلہ میں آکر مٹ گیا تو قصہ ختم ہوا لیکن اگرخدا نے مجھے فتح عطا کی اور میرے لائے ہوئے دین کو غلبہ حاصل ہو گیا تو پھر مکہ والوں کو بھی ایمان لے آنے میںکوئی تامل نہیں ہونا چاہئے۔ بدیل بن ورقا پر آپ کی اس مخلصانہ اور دردمندانہ تقریر کا بہت اثر ہوا اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ مجھے کچھ مہلت دیں کہ میں مکہ جاکر آپ کا پیغام پہنچائوں اور مصالحت کی کوشش کروں۔ آپ نے اجازت دی۔ بدیل بن ورقا نے قریش کو جمع کرکے ان سے کہا کہ میں اس شخص یعنی محمدرسول اللہ ﷺ کے پاس سے آرہا ہوں اوراس نے مصالحت کی یہ تجویز تمہارے لئے پیش کی ہے۔
اس پر ایک شخص عروہ بن مسعود نامی جو قبیلہ ثقیف کا ایک بہت بااثر رئیس تھا اور اس وقت مکہ میں موجود تھا کھڑا ہو گیا اورقریش مکہ سے کہا کہ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی طرف سے محمدﷺ کے پاس جاکر گفتگو کروں۔ قریش نے کہا بے شک آپ جائیں اور گفتگو کریں۔ عروہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگاقریش بیت اللہ اور آپ کے درمیان راستہ نہیں چھوڑیں گے۔اور اگر جنگ ہوئی تو دو امور سے ایک طے ہے،یا تو آپ اپنی قوم کو ہلاک کر دیں گے اور آج تک یہ نہیں سنا گیا کہ کسی آدمی نے اپنی قوم کو ہلاک کیا ہو، یا وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہ آپ کو رسوا کر دیں گے۔یعنی آپ کے ساتھ جو لوگ ہیں وہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو رسول اللہﷺ کے پیچھے بیٹھے تھے غصہ میں کہا یہ باتیں ہم سے نہ کرو۔ کیا ہم آپ ﷺ کو چھوڑ جائیں گے۔ عروہ نے کہا یہ کون ہے؟صحابہ نے جواب دیا کہ یہ ابوبکر ہیں۔اس پر عروہ نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھ پر تیرا ایک احسان نہ ہوتا تو میں اس کا ضرور جواب دیتا۔
پھر عروہ رسول اللہ ﷺ سے باتیں کرنے لگا اور جب بات کرتا تو آپؐکی داڑھی کو ہاتھ لگاتا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تلوار لئے کھڑے تھے اور اپنے سر پر خَود پہن رکھا تھا۔جب عروہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تا کہ آپ کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگائے تو حضرت مغیرہ نے اپنی تلوار کے کونے سے اس کو ہٹا دیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی داڑھی سے اپنے ہاتھ کو روکو قبل اس کے کہ تلوار تم تک پہنچے کیونکہ کسی مشرک کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ آپ کی داڑھی کو چھوئے۔ پھر عروہ نبی ﷺ کے صحابہ کو غور سے دیکھنے لگا۔ جب بھی رسول اللہ ﷺ تھوکتے تو صحابہ اس کو ہاتھ پر لے لیتے اور پھر اس کو اپنے چہرے اور سینے پر ملتے جب آپ صحابہ کو کسی چیز کا حکم دیتے تو صحابہ فوری طور پر اس کو بجا لاتے۔ جب آپ وضو کرتے تو صحابہ وضو کے پانی کو حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑتے۔ رسول اللہﷺ کے سامنے اپنی آواز کو نیچا رکھتے اور آپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے۔ جب عروہ رسول اللہ ﷺ سے باتیں کرنے سے فارغ ہوا تو آپ نے عروہ سے بھی وہی بات کہی جو بدیل بن ورقا سے کہی تھی اور ایک مدت تک صلح کی تجویز پیش کی۔
پھر عروہ قریش کے پاس آیا اور کہنے لگا اَے میرے لوگو، میں سفارت کے لئے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں۔ اللہ کی قسم میں نے کبھی کسی بادشاہ کی ایسی اطاعت نہیں دیکھی جیسی محمد ﷺ کی اطاعت گزاری اس کے ماننے والے کرتے ہیں۔ کہنے لگا کہ اس نے تم پر ایک بھلائی کی بات پیش کی ہے اسے قبول کر لو اور تم خوب جان لو کہ اگر تم نے اس کے ساتھ تلوار کا ارادہ کر لیا تو مَیں نے اس قوم کو دیکھا ہے، وہ اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کریں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اے میری قوم اپنی رائے کو بدل لو اور اس کے پاس جاؤ اور تم وہ چیز قبول کر لو جو وہ تمہارے سامنے رکھتے ہیں۔عروہ نے کہا مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تمہاری مدد اُس شخص کے خلاف نہیں کی جائے گی جو بیت اللہ کی زیارت کے لئے آیا ہے۔ اس کے پاس قربانی کے جانور ہیں جن کو وہ ذبح کریں گے اور پھر لوٹ جائیں گے۔ اس پر قریش نے کہا اَےعروہ ہم اس کو اس سال واپس بھیج دیں گے اور وہ آئندہ سال آئیں گے۔ تو عروہ کہنے لگا کہ تم کو سخت مصیبت اٹھانی پڑے گی۔ پھر عروہ اور اس کے ساتھی طائف کی طرف چلے گئے۔
پھر حلیس بن علقمہ کنعانی نے کہا مجھے آنحضرت ﷺکے پاس جانے دو تو قریش نے کہاجاؤ۔ جب رسول اللہ ﷺ نے حلیس کو آتے دیکھا توصحابہ سے کہا،یہ شخص ایسے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے جانوروں کا احترام کرتے ہیں اور فرمایا کہ اس کو دکھانے کے لئے قربانی کے جانور آگے گزارو۔ تو انہوں نے جانوروں کو آگے بھیج دیا۔ جب اس نے وادی کے کنارے ان جانوروں کو دیکھا جن کی گردن میں ہار تھے اوروہ جانور بار بار آوازیں نکال رہے تھے تو اس نے کہا سبحان اللہ، ان لوگوں کے لئے مناسب نہیں کہ وہ بیت اللہ سے روکے جائیں۔کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ دیگر قبائل تو حج کریں اور عبدالمطلب کے بیٹے کو روکا جائے۔ ربّ کعبہ کی قسم قریش ہلاک ہو جائیں گے۔وہ اس قدر متاثر ہوا کہ قریش کی طرف جا کر کہنے لگا کہ اللہ کی قسم ہم نے اس بات پر تم سے معاہدہ نہیں کیا تھا کہ تم ہر اس شخص کو روکو گے جو اس بیت اللہ کی حرمت اور تعظیم کو قائم کرنے والا ہو گا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم ان کے راستے کو کعبہ تک جانے کے لئے خالی کر دو ورنہ میں اپنے لوگوں کو لے کر تمہارا ساتھ چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔
رسول اللہ ﷺ نے قریش کی طرف اپنا بھی ایک سفیر بھیجا۔ آپؐنےحضرت خراش بن امیہ کو قریش کی طرف اپنے اونٹ ثعلب پر سوار کرکے بھیجا۔ عکرمہ بن ابو جہل نے اونٹ کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ رسول اللہ ﷺکے پاس واپس آگئے اور جو ان کے ساتھ ہوا تھا وہ رسول اللہ ﷺکو بتا دیا۔
قریش مکہ نے اپنے جوش میں اندھے ہو کر اس بات کا بھی ارادہ کیا کہ اب جبکہ آنحضرتﷺ اور آپ کے صحابہ مکہ سے اس قدر قریب اورمدینہ سے اتنی دُور آئے ہوئے ہیں تو ان پر حملہ کرکے جہاں تک ممکن ہو انہیں نقصان پہنچایا جائے۔ چنانچہ اس غرض کے لئے انہوں نے چالیس پچاس آدمیوں کی ایک پارٹی حدیبیہ کی طرف روانہ کی اور ان لوگوں کوہدایت دی کہ اسلامی کیمپ کے اردگرد گھومتے ہوئے تاک میں رہیں اور موقع پاکر مسلمانوں کا نقصان کرتے رہیں۔ مسلمان اپنی جگہ ہوشیار تھے۔ چنانچہ قریش کی اس سازش کاراز کھل گیا اور یہ لوگ سب کے سب گرفتار کرلئے گئے۔ پھر بھی آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کومعاف فرما دیا اور مصالحت کی کوشش میں روک نہ پیدا ہونے دی۔
پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان سے فرمایا کہ وہ مکہ جائیں اور قریش کو مسلمانوں کے پرامن ارادوں اور عمرہ کی نیت سے آگاہ کریں اورآپؐنے حضرت عثمان کواپنی طرف سے ایک تحریر بھی لکھ کر دی جورئووسائے قریش کے نام تھی۔ اس تحریر میں آنحضرت ﷺنے اپنے آنے کی غرض بیان کی اور قریش کویقین دلایا کہ ہماری نیت صرف ایک عبادت کا بجا لانا ہے اور ہم پرامن صورت میں عمرہ بجا لا کر واپس چلے جائیں گے۔ آپؐنے حضرت عثمان سے یہ بھی فرمایا کہ مکہ میں جو کمزور مسلمان ہیں انہیں بھی ملنے کی کوشش کرنا اوران کی ہمت بڑھانا اور کہنا کہ ذرا ورصبر سے کام لیں خدا عنقریب کامیابی کا دروازہ کھولنے والا ہے۔
حضرت عثمان یہ پیغام لے کر مکہ میں گئے اور ابوسفیان سے مل کر جواس زمانہ میں مکہ کا رئیس اعظم تھا اور حضرت عثمان کا قریبی عزیز بھی تھا اہل مکہ کے ایک عام مجمع میں پیش ہوئے۔ اس مجمع میں حضرت عثمان نے آنحضرت ﷺکی تحریر پیش کی جو مختلف رئووسائے قریش نے فرداً فرداً بھی ملاحظہ کی مگر باوجود اس کے سب لوگ اپنی اس ضد پر قائم رہے کہ بہرحال مسلمان اس سال مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ بالآخر حضرت عثمان مایوس ہو کر واپس آنے کی تیاری کرنے لگے۔ اس موقع پر مکہ کے شریر لوگوںنےحضرت عثمان اوران کے ساتھیوں کو مکہ میں روک لیا۔ اس پر مسلمانوں میں یہ افواہ مشہور ہوئی کہ اہل مکہ نے حضرت عثمان کو قتل کردیا ہے۔ جب یہ خبر آنحضرت ﷺ کو پہنچی تو آپؐنے حضرت عثمان کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے صحابہ سے بیعت لی جو بیعت رضوان کہلاتی ہے۔
آنحضرت ﷺ نےفرمایا:خدا کی قسم ہم اس جگہ سے اس وقت تک نہیں ٹلیں گےجب تک عثمان کا بدلہ نہ لے لیں۔ پھر آپ نے صحابہ سے فرمایا آئو اور میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر جواسلام میں بیعت کا طریق ہے یہ عہد کرو کہ تم میںسے کوئی شخص پیٹھ نہیں دکھائے گا اور اپنی جان پر کھیل جائے گا۔ اس اعلان پر صحابہ بیعت کے لئے اس طرح لپکے کہ ایک دوسرے پر گرے پڑے تھے۔جب بیعت ہورہی تھی آنحضرت ﷺ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے کیونکہ اگروہ یہاں ہوتا تواس مقدس سودے میں کسی سے پیچھے نہ رہتا۔اسلامی تاریخ میں یہ بیعت بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔ یعنی وہ بیعت جس میں مسلمانوں نے خدا کی کامل رضا مندی کا انعام حاصل کیا۔ قرآن شریف نے بھی اس بیعت کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ صحابہ کرام بھی ہمیشہ اس بیعت کو بڑے فخر سے اور محبت کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے ۔صحابہ کرام بیعت رضوان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ یہ بیعت موت کے عہد کی بیعت تھی اور اس بیعت کاخاص پہلو یہ تھا کہ یہ عہد وپیمان صرف منہ کا ایک وقتی اقرار نہیں تھا جوعارضی جوش کی حالت میں کر دیا گیا ہو بلکہ دل کی گہرائیوں کی آواز تھی جس کے پیچھے مسلمانوں کی ساری طاقت ایک نقطہ واحد پر جمع تھی۔
حضور انور نے فرمایا : مزید تفصیل انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔فرمایا:اس وقت یورپ میں بھی حالات بڑی تیزی سے جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ دعا کریں اللہ تعالیٰ احمدیوں اور امن پسند لوگوں کو جنگ کے بداثرات سے محفوظ رکھے اور یہ لوگ ایسے ہتھیار استعمال نہ کریں جنسے آئندہ نسلیں متاثر ہوں۔ مسلمان ممالک کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو بھی عقل اور سمجھ دے اور اللہ ان کو حق پہچاننے کی توفیق دے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح حالات تیزی سے بگڑے ہیں،گھروں میں دو تین مہینے کا راشن رکھنے کی کوشش کریں۔ لیکن سب سے اہم نکتہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں اس سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کریں اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔
٭…٭…٭