اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-11-21

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 15؍نومبر 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:آج صلح حدیبیہ کے حوالے سے ذکر شروع کروں گا۔ صلح حدیبیہ ذوالقعدہ چھ ہجری بمطابق مارچ 628ء کو ہوئی۔ اس کو غزوہ حدیبیہ بھی کہا جاتا ہے۔ غزوہ حدیبیہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ایک پوری سورۃ ،سورۃُ الفتح نازل فرمائی۔ اس کا آغاز ان آیات مبارکہ سے ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۝۲ۙ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكَ وَيَہْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا۝۳ۙ وَّيَنْصُرَكَ اللہُ نَــصْرًا عَزِيْزًا۝۴
ترجمہ:: یقینا ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح عطا کی ہے تا کہ اللہ تجھے تیری ہر سابقہ اور ہر آئندہ ہونے والی لغزش کو بخش دے اور تجھ پر اپنی نعمت کو کمال تک پہنچائے اور صراط مستقیم پر گامزن رکھے اور اللہ تیری وہ نصرت کرے جو عزت اور غلبہ والی نصرت ہو۔
حدیبیہ مکہ سے نو میل کے فاصلے پر واقعہ ہے اور مکہ سے مدینہ کا فاصلہ دو سو پچاس میل کے قریب ہے۔ اس طرح مدینہ سے حدیبیہ کا فاصلہ تقریباً دو سو اکتالیس میل بنتا ہے۔ حدیبیہ حرم مکہ کی مغربی حد ہے اور بعض کے نزدیک اس کا اکثر حصہ حرم میں داخل ہے اور کچھ حصہ حرم سے باہر ہے۔ اس جگہ قریش کے مابین معاہدہ ہوا تھا جسے صلح حدیبیہ کہتے ہیں۔ روایت میں اسے غزوہ حدیبیہ بھی کہا گیا ہے۔ ایک روایت میں اسے غزوہ تہامہ بھی کہا گیا ہے۔ مکہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو شدید گرمی اور لو کی وجہ سے تہامہ کہتے تھے اس لحاظ سے اس کا نام تہامہ بھی پڑ گیا۔
آنحضرتﷺ نے ایک خواب کی بناء پر سفر حدیبیہ اختیار کیا۔آپؐکو خواب میں دکھایا گیا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ امن کی حالت میں اپنے سروں کو منڈواتے ہوئے اور بالوں کو کترواتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور یہ کہ آپ ﷺبیت اللہ میں داخل ہوئے ہیں اور اس کی چابی لے لی ہے اور میدان عرفات میں وقوف کرنے والوں کے ساتھ وقوف کیا۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے اہل عرب اور ارد گرد کے بادیہ نشین لوگوں کو بلایا تا کہ یہ سب لوگ آپ کے ساتھ نکلیں۔ اس سفر میں مسلمانوں کے پاس سوائے تلواروں کے کوئی اسلحہ نہیں تھا جو نیاموں میں تھیں۔ تلوار اس زمانے میں گھر سے نکلتے وقت ہر شخص اپنے پاس رکھتا تھا۔ حضرت عمر نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپؐکو ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے خطرہ ہے تو آپ نے جنگ کے لئے سازو سامان ساتھ کیوں نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا چونکہ میں عمرے کی نیت سے جا رہا ہوں اس لئے نہیں چاہتا کہ اپنے ساتھ ہتھیار لے کر چلوں۔
غزوہ حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کی تعدادمختلف روایات کے مطابق ایک ہزار تین سوسے لیکر ایک ہزار سترہ سو تک بیان کی جاتی ہے۔ جب روانگی کا وقت آیا تو قربانی کے جانور حضرت ناجیہ بن جندب اسلمی کے سپرد کر دئیے گئے جو انہیں ذوالحلیفہ لے گئے۔ ذوالحلیفہ بھی مدینہ سے چھ یا سات میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے۔ سفر پر نکلنےسے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کو مدینہ میں نائب مقرر فرمایا۔
سفر کی تیاری کا اعلان کرنے کے بعدآنحضرت ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے ، غسل کیا اور سہار کے بنے ہوئے دو کپڑے پہنے، پھر باہر آئےاور اپنی اونٹنی قَصویٰ پر سوار ہوئے۔ اس سفر میں آپؐکی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمیٰ آپ کے ساتھ تھیں۔ رسول اللہﷺ ذوالقعدہ کے شروع میں پیر کے دن روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ میں پہنچ کر وہاں ظہر کی نماز ادا کی پھر قربانی کے جانور منگوائے جن کی تعداد ستر تھی۔ ان کوہار پہنائے۔ پھر آپ نے کچھ اونٹوں کو اشعار کیا یعنی ان کی کوہان کو نشان لگایا تا کہ معلوم ہو جائے کہ یہ قربانی کے اونٹ ہیں۔مسلمانوں کے پاس دو سو گھوڑے تھے۔
آنحضرتﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی اور ذوالحلیفہ کی مسجد کے دروازے سے سوار ہوئے۔ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا تا کہ لوگ جان لیں کہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لئے نکلے ہیں۔ پھر آپ نے تلبیہ پڑھا۔لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں سب تعریف اور نعمت تیری ہے اور بادشاہی تیری ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔
اس سفر میںبعض معجزات کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ایک جگہ لوگ آنحضرت ﷺکے گرد جمع ہو گئے جبکہ آپ کے سامنے ایک پانی کا برتن تھا اور آپ اس سے وضو کر رہے تھے۔ آپ نے پوچھا کیا بات ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ کے پاس اس برتن میں جو پانی ہے اس کے علاوہ ہم میں سے کسی کے پاس نہ پینے کو پانی ہے اور نہ وضو کرنے کے لئے۔ یہ سن کرآپؐنے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا۔ اسی وقت آپ کی انگلیوں کے درمیان میں سے اس طرح پانی کے فوارے پھوٹنے لگے جیسے پانی کے چشمے پھوٹ آئے ہوں۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہم سب نے پانی پیا اور وضو کیا۔ اگر ہم تعداد میں ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہو جاتا جبکہ اس وقت ہماری تعداد صرف پندرہ سو تھی۔
قریش نے اس بات کا علم ہوتے ہوئے کہ مسلمان جنگ کے لئے نہیں بلکہ بیت اللہ کی زیارت کے لئے آ رہے ہیں مسلمانوں کو مکہ سے روکنے کا فیصلہ کیا اور ہر وہ شخص جو تلوار اٹھا سکتا تھا مسلمانوں کو روکنے کے لئے نکل آیا اور اپنے حلیفوں کو ساتھ ملا کر آٹھ ہزار کا لشکر تیار کر کے مکہ کے مغربی جانب وادی بلدہ میں پڑاؤ ڈال لیا اور خالد بن ولید کو دو سو سواروں کے ساتھ آنحضرتﷺ کا راستہ روکنے کیلئے بھیج دیا۔ آنحضرتﷺ کو اطلاع ہوئی توآپؐراستہ بدلکر حدیبیہ پہنچ گئے ۔اورتصادم سے بچنے کی غرض سے صحابہ کو حکم دیا کہ مکہ کے معروف رستہ کو چھوڑ کر دائیں جانب ہوتے ہوئے آگے بڑھیں۔ چنانچہ مسلمان ایک دشوار گزار اور کٹھن رستہ پر پڑ کر سمندر کی جانب سے ہوتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوئے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :
مکہ والوں کو پتہ لگ گیا وہ لشکر لے کر آگئے اور انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تم کو یہاں آنے کی کس نے اجازت دی ہے؟ انہوں نے کہا ہم لڑنے کیلئے تو نہیں آئے صرف اِس لئے آئے ہیں کہ عمرہ کر لیں یہ مقام تمہارے نزدیک بھی برکت والا ہے او رہمارے نزدیک بھی۔ ہم اس کی زیارت کے لئے آئے ہیں لڑائی کے لئے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا طواف کا سوال نہیں۔ ہماری تمہاری لڑائی ہے اگر تم مکہ آئے اور طواف کر گئے توتمام عرب میں ہماری ناک کٹ جائے گی کہ تمہارا دشمن آکر تمہارے گھر میں طواف کر گیا ہے۔ ہم ساری دنیائے عرب کو اجازت دے سکتے ہیں مگر تم کو نہیں دے سکتے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :
حدیبیہ پہنچ کرآپؐکی اونٹنی کھڑی ہو گئی اور اس نے آگے چلنے سے انکار کر دیا۔ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ آپؐکی اونٹنی تھک گئی ہے آپ اس کی جگہ دوسری اونٹنی پر بیٹھ جائیں۔آپؐنے فرمایا: نہیں نہیں یہ تھکی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا منشا یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہر جائیں اور میں یہیں ٹھہر کر مکہ والوں سے ہر طریقہ سے درخواست کروں گا کہ وہ ہمیں حج کی اجازت دے دیں اور خواہ کوئی شرط بھی وہ کریں میں اسے منظور کر لوں گا۔ اس وقت تک مکہ کی فوج مکہ سے دور فاصلہ پر کھڑی تھی اور مسلمانوں کا انتظار کر رہی تھی۔ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو بغیر مقابلہ کے مکہ میں داخل ہو سکتے تھے لیکن چونکہ آپ یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ پہلے آپ یہی کوشش کریں گے کہ مکہ والوں کی اجازت کے ساتھ طواف کریں اور اسی صورت میں مقابلہ کریں گے کہ مکہ والے خود لڑائی شروع کرکے لڑنے پر مجبور کریں۔ اس لئے باوجود مکہ کی سڑک کے کھلا ہونے کے آپ نے حدیبیہ پر ڈیرہ ڈال دیا۔
عمرو بن سالم اور بسر بن سفیان جو کہ خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہﷺ کو بکریاں اور اونٹنیاں تحفے میں دیں۔ عمرو بن سالم نے حضرت سعد بن عبادہ کو بھی اونٹ تحفے میں دیا۔ حضرت سعد عمرو کے دوست تھے۔ حضرت سعد بن عبادہ اس تحفے کو لے کر رسول اللہ ﷺکے پاس آئے اور خبر دی کہ عمرو نے ان کے لئے یہ اونٹ بطور تحفہ دیا ہے تو آپؐنے فرمایا عمرو نے ہمیں بھی تحفہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ عمرو کے مال میں برکت دے۔
حضور انور نے فرمایا باقی انشاء اللہ آئندہ بیان ہو گا۔ فرمایا:اس وقت میں کچھ مرحومین کا ذکر کروں گا اور جمعہ کے بعد جنازہ پڑھاؤں گا۔ پہلا ذکر ہے عزیزم شہریار رکین کا جو جناب عبداللہ محمد عبداللہ وہاب صاحب بنگلہ دیش کے بیٹے تھے۔ 5؍ اگست کو حکومت کے معزول ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں کافی فساد رہا۔ مخالفین احمدیت نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے احمد نگر جماعت پر حملہ کر دیا۔ پہلے بھی یہاں حملہ ہو چکا ہے۔ مخالفین احمدیوں کے گھر جلاتے جا رہے تھے اور مسجد میں آگ لگا کر جامعہ اور جلسہ گاہ کی طرف آئے۔ وہ اگرچہ جامعہ میں گھسنے میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن جلسہ گاہ کے پیچھے کی طرف سے آ کر جلسے کی حفاظت کے لئے وہاں ڈیوٹی پر موجود خدام کو گھیر لیا اور ان پر وار کرتے رہے۔ اسی دوران عزیزم شہریار کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ اس کی وجہ سے تین مہینوں کے علاج کے بعد آخر آٹھ نومبر کو سولہ سال کی عمر میں اس کی وفات ہو گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اور اس طرح یہ شہادت کا مقام پا گیا۔
عزیزم شہریار وقف نو کی تحریک میں شامل تھے۔ پسماندگان میں والدین اور دادا دادی کے علاوہ ایک بہن اور دو بھائی شامل ہیں۔ان کی والدہ لکھتی ہیں کہ ان کا یہ بیٹا نماز اور عبادت کا پابند اور جماعتی کاموں میں بہت زیادہ دلچسپی لینے والا رہا ہے۔ جب بھی احمد نگر میں کوئی اجتماع یا جلسے کا کوئی موقع ہوتا تو یہ سب سےپہلے وہاں پہنچ جاتا۔ گھر کا چھوٹا بیٹا ہونے کے ناطے ماں کہتی ہیں میرا ہاتھ بھی بہت بٹاتا تھا۔ بہت سوشل تھا، کسی بھی اجنبی سے مل کر بہت جلد گھل مل جاتا تھا۔ والدہ کا کہنا ہے کہ یہ بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح جامعہ میں داخلے کی تیاری کر رہا تھا۔ والدہ صاحبہ نے یہ بھی لکھا کہ ان کو پہلے سے ہی ایسی خوابیں آئی تھیں جس سے عزیزم شہریار کی شہادت کے بارے میں پیش از وقت خبر دی گئی تھی۔
بعدہٗ حضور انور نے عبداللہ اسداودے صاحب آف کبابیرکا ذکر خیر فرمایا جو گزشتہ دنوں 94سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جمعہ کےبعد حضور انور نے ہر دومرحومین کی نماز جنازہ غائب ادافرمائی۔ ٭٭