اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-11-07

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 01؍نومبر 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
غزوہ بنو قریظہ کی تفصیل بیان ہو رہی تھی۔ اس غزوے میں دو مسلمان شہید ہوئے۔ خلاد بن سوید اور حضرت منذر بن محمد۔ بنو قریظہ کے یہود کی تعداد جو قتل ہوئی چھ سو تھی۔ مختلف روایات میں تعداد چار سو سے نو سو تک بیان ہوئی ہے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ نے جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق کم وبیش چار سو آدمی اس دن سعد کے فیصلہ کے مطابق قتل کئے گئے اور آنحضرت ﷺنے صحابہ کو حکم دے کران مقتولین کو اپنے انتظام میں دفن کروایا۔
مخالفین اسلام مبالغہ کی حد تک تعداد بیان کر کے پھر اسلام کو ظالم مذہب قرار دیتے ہیں۔ اس زمانے کے ایک احمدی سکالر سید وقاص صاحب نے بھی اس پر بڑی تحقیق کی ہے اور بڑا اچھا لکھا ہے۔ یہ لکھتے ہیں کہ آنکھیں بند کر کے سب روایات کو مانتے چلے جانا کوئی دانشمندی نہیں۔ پھر چھ سو سے نو سو قتل ہونے والے مرد مع ان کی عورتوں اور بچوں کے جن کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق پانچ چھ ہزار سے کم نہیں ہو گی ان کے بارے میں یہ کہنا کہ مدینہ میں ان کو رسیوں سے باندھ کر لایا گیا اور دو گھروں میں رکھا گیا اور ان کے کھانے پینے کی سہولیات جبکہ مسلمان خود بھوکے پیاسے رہ رہے تھے، پھر قضائے حاجت کے لئے اتنی بڑی تعداد کو لے جانا اور بھی ضروریات ہوتی ہیں اور کسی کا بھی فرار ہونے کی کوشش نہ کرنا نہ کوئی شورشرابہ کرنا اور راتوں رات مدینے کے ایک بازار میں ان چھ سو افراد کے قتل کے لئے گڑھے کھدوا دینا جبکہ ابھی نئی کھدی ہوئی خندق بھی موجود تھی پھر دو یا تین افراد یعنی حضرت علی اور حضرت زبیر کا ہی ان سب کو قتل کرنا اور ان دونوں اصحاب کا کبھی بھی اس واقعہ کا ذکر نہ کرنا اور بخاری اور مسلم میں مقتولین کی تعداد کا ذکر نہ ہونا اس طرح کی کچھ دیگر باتیں رہنمائی کرتی ہیں کہ ان روایات پر ازسر نو غور کیا جانا چاہئے ۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ نے غزوہ بنو قریظہ میں قتل ہونے والے یہودیوں کی تعداد پر ہونے والے غیر مسلم مؤرخین کے اعتراضات کے جواب میں بیان فرمایا ہے کہ :
بنوقریظہ کے واقعہ کے متعلق بعض غیر مسلم مورخین نے نہایت ناگوار طریقے پر آنحضرت ﷺکے خلاف حملے کئے ہیں اور ان کم وبیش چار سو یہودیوں کی سزائے قتل کی وجہ سے آپ کو ایک نعوذ باللہ ظالم وسفاک فرمانروا کے رنگ میں پیش کیا ہے۔ اس اعتراض کی بناء مذہبی تعصب پر واقع ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں یہ بات رکھنی چاہئے کہ بنوقریظہ کے متعلق جس فیصلہ کو ظالمانہ کہا جاتا ہے وہ سعد بن معاذ کا فیصلہ تھا اور آنحضرت ﷺکاہرگز نہیں تھا۔ اور جب وہ آپ کا فیصلہ ہی نہیں تھا تو اس کی وجہ سے آپ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے یہ فیصلہ حالات پیش آمدہ کے ماتحت ہرگز غلط اورظالمانہ نہیں تھا۔ تیسری بات یہ کہ اُس عہد کی وجہ سے جو سعد نے فیصلہ کے اعلان سے قبل آنحضرتؐسے لیا تھا آپؐاس بات کے پابند تھے کہ بہرحال اس کے مطابق عمل کرتے۔ چوتھی بات یہ کہ خود مجرموں نے اس فیصلہ کوقبول کیا اور اس پر اعتراض نہیں اٹھایا اور اسے اپنے لئے خدائی تقدیر سمجھا ۔ سعد کے فیصلہ کے بعد اس معاملہ کے ساتھ آنحضرتؐکا تعلق صرف اس قدر تھا کہ آپ اپنی حکومت کے نظام کے ماتحت اس فیصلہ کو بصورت احسن جاری فرما دیں اور یہ بتایا جاچکا ہے کہ آپ نے اسے ایسے رنگ میں جاری فرمایاکہ جو رحمت وشفقت کا بہترین نمونہ سمجھا جاسکتا ہے۔
اب رہا اصل فیصلہ کا سوال،سو اس کے متعلق بھی ہم بلاتا مل کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ہرگز کسی قسم کے ظلم وتعدی کا دخل نہیں بلکہ وہ عین عدل وانصاف پر مبنی تھا۔ اس کے لئے سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ بنوقریظہ کاجرم کیا تھا اور وہ جرم کن حالات میں کیا گیا۔
آنحضرت ﷺنے غزوہ بنونضیر کے موقع پر بنو قریظہ کی غداری کومعاف کر کے خاص احسان کا سلوک کیا تھا۔ اور پھر دوسرا احسان ان پر آنحضرت ﷺکا یہ تھا کہ باوجود اس کے کہ آنحضرت ﷺکی ہجرت مدینہ سے قبل بنو قریظہ، بنونضیر سے مرتبہ اور حقوق میں ادنی سمجھے جاتے تھے، آنحضرت ﷺنے بنوقریظہ کو دوسرے شہریوں کے ساتھ برابری کے حقوق عطا کئے۔ مگر باوجود ان عظیم الشان احسانوں کے بنو قریظہ نے پھر بھی غداری کی اور غداری بھی ایسے نازک وقت میں کی جس سے زیادہ نازک وقت مسلمانوں پر کبھی نہیں آیا۔ بنوقینقاع کی مثال ان کے سامنے تھی انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ بنونضیر کا واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا انہوں نے اس سے سبق حاصل نہیں کیا اور کیا تو کیا کیا؟ یہ کیا کہ اپنے معاہدہ کو بالائے طاق رکھ کر اور آنحضرت ﷺکے احسانات کو فراموش کر کے عین اس وقت جبکہ تین ہزار مسلمان نہایت بے سروسامانی اور بے بسی کی حالت میں کفار کے دس پندرہ ہزار جرار اور خونخوار لشکر سے گھرے ہوئے بیٹھے تھے وہ اپنے قلعوں میں سے نکلے اور مسلمان مستورات اوربچوں پرعقب سے حملہ آور ہو گئے اور مسلمانوں کے اتحاد سے منحرف ہو کر اُس خونی اتحاد کی شمولیت اختیار کی جس کا اصل الاصول اسلام اور بانی اسلام کونیست ونابود کرنا تھا۔ ہاں اس بانی اسلام کوجس کا مدینہ میں آنے کے بعد پہلا کام یہ تھا کہ اس نے ان یہود کواپنا دوست اور معاہد بنایا۔ اندریں حالات بنوقریظہ کایہ فعل صرف ایک بدعہدی اور غداری ہی نہیں تھا بلکہ ایک خطرناک بغاوت کا بھی رنگ رکھتا تھا اور بغاوت بھی ایسی کہ اگر ان کی تدبیر کامیاب ہو جاتی تو مسلمانوں کی جانوں اور ان کی عزت وآبرو اور ان کے دین ومذہب کایقینا خاتمہ تھا۔ پس بنوقریظہ کسی ایک جرم کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ وہ بے وفائی اور احسان فراموشی کے مرتکب ہوئے۔ بد عہدی اور غداری کے مرتکب ہوئے۔ بغاوت اور اقدام قتل کے مرتکب ہوئے اور ان جرموں کا ارتکاب انہوں نے ایسے حالات میں کیا جو ایک جرم کو بھیانک سے بھیانک صورت دے سکتے ہیں اور دنیا کی کوئی غیر متعصب عدالت ان کے مقدمہ میں موجبات رعایت کا عنصر نہیں پا سکتی۔کوئی رعایت ملنے کا امکان نہیں کسی عدالت میں ایسے حالات میں۔
ایسے حالات میں ان کی سزاسوائے اس کے کیا ہوسکتی تھی جو دی گئی۔
ظاہر ہے کہ امکانی طور پر صرف تین سزائیں ہی دی جا سکتی تھیں۔ اول یہ کہ مدینہ میں ہی قید یانظر بندی۔ دوسرے جلاوطنی جیسا کہ بنوقینقاع اور بنونضیر کے معاملہ میں ہوا تھا۔ تیسرے جنگجو آدمیوں کا قتل اور باقیوں کی قید یانظر بندی۔ اب انصاف کے ساتھ غور کرو کہ اس زمانہ کے حالات کے ماتحت مسلمانوں کے لئے کون سا طریق کھلا تھا۔ ایک دشمن قوم کا اپنے شہر میں قید رکھنا اس زمانہ کے لحاظ سے بالکل بیرون از سوال تھا کیونکہ اول تو قید کے ساتھ ہی قیدیوں کی رہائش اور خوراک کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی تھی جس کے برداشت کرنے کی ان میں ہرگز طاقت نہیں تھی۔ دوسرے اس زمانہ میں کوئی جیل خانے وغیرہ بھی نہیں ہوتے تھے اور قیدیوں کے متعلق یہی دستور تھا کہ وہ فاتح قوم کے آدمیوں میں تقسیم کر دیئے جاتے جہاں وہ عملاً بالکل آزاد رہتے تھے۔ ایسے حالات میں ایک پرلے درجہ کے معاند اور سازشی گروہ کا مدینہ میں رہنا اپنے اندر نہایت خطرناک احتمالات رکھتا تھا ۔
اب رہی دوسری سزا یعنی جلا وطنی۔ مگر بنونضیر کی جلاوطنی کا تجربہ بتاتا تھا کہ یہود کو مدینہ سے باہر نکل جانے کی اجازت دے دینا سوائے اس کے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا کہ نہ صرف یہ کہ عملی اور جنگجو معاندینِ اسلام کی تعداد میں اضافہ ہو جائے بلکہ دشمنان اسلام کی صف میں ایسے لوگ جا ملیں جو اپنی خطرناک اشتعال انگیز اور معاندانہ پراپیگنڈا اور خفیہ اور سازشی کارروائیوں کی وجہ سے ہر مخالف اسلام تحریک کے لیڈر بننے کے لئے بے چین تھے۔ یقینا بنوقریظہ کی جلاوطنی اس سے بہت زیادہ خطرات کا موجب ہو سکتی تھی جو بنونضیر نے غزوہ احزاب کو برپا کر کے مسلمانوں کے لئے پیدا کئے اور اگر مسلمان ایسا کرتے تو اس زمانہ کے حالات کے ماتحت ان کا یہ فعل ہرگز خود کشی سے کم نہ ہوتا۔
پس یہ ہر دوسزائیں ناممکن تھیں اور ان میں سے کسی کو اختیار کرنا اپنے آپ کو یقینی تباہی میں ڈالنا تھا۔ اور ان دو سزائوں کو چھوڑ کر صرف وہی رستہ کھلا تھا جواختیار کیا گیا۔ چنانچہ مسٹر مارگولیس لکھتے ہیں کہ
غزوہ احزاب کاحملہ جس کے متعلق محمد (ﷺ) کا یہ دعوی تھا کہ وہ محض خدائی تصرفات کے ماتحت پسپا ہوا وہ بنونضیر ہی کی اشتعال انگیز کوششوں کا نتیجہ تھا یا کم از کم یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور بنونضیر وہ تھے جنہیں محمد صاحب (ﷺ) نے صرف جلاوطن کر دینے پر اکتفا کیا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا محمد (ﷺ) بنوقریظہ کو بھی جلاوطن کر کے اپنے خلاف اشتعال انگیز کوششیں کرنے والوں کی تعداد اورطاقت میں اضافہ کر دیں؟ دوسری طرف وہ قوم مدینہ میں بھی نہیں رہنے دی جاسکتی تھی جس نے اس طرح برملا طور پر حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا۔ ان کا جلاوطن کرنا غیر محفوظ تھا مگر ان کا مدینہ میں رہنا بھی کم خطرناک نہ تھا۔ پس اس فیصلہ کے بغیرچارہ نہ تھا کہ ان کے قتل کا حکم دیا جاتا۔
یہ مارگولیس صاحب کہتے ہیں۔
پھر یہ بات بھی خصوصیت کے ساتھ مدنظر رکھنی چاہئے کہ بنوقریظہ آنحضرت ﷺکے صرف حلیف اور معاہد نہیں تھے بلکہ وہ اپنے ابتدائی معاہدہ کی رو سے مدینہ میں آپ کی حکومت کوتسلیم کرچکے تھے پس ان کی حیثیت صرف ایک غدار حلیف یا معمولی دشمن کی نہیں تھی بلکہ وہ یقینا باغی بھی تھے اور باغی بھی نہایت خطرناک قسم کے باغی۔ اور باغی کی سزا خصوصاً جنگ کے ایام میں سوائے قتل کے کوئی اور نہیں سمجھی گئی۔ اگر باغی کو بھی انتہائی سزا نہ دی جاوے تو نظام حکومت بالکل ٹوٹ جاتا ہے اور شریر اور مفسدہ پرداز لوگوں کو ایسی جرات حاصل ہو جاتی ہے جو امن عامہ کے لئے سخت مہلک ثابت ہوتی ہے اور یقینا ایسے حالات میں باغی پر رحم کرنا دراصل ملک پر اور ملک کے امن پسند لوگوں پرظلم کے ہم معنی ہوتا ہے۔ حکومتیں اس وقت تک ایسے باغیوں کو خواہ وہ مرد ہوں یا عورت قتل کی سزا دیتی چلی آئی ہیں اور کسی عقلمند انسان نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا۔ پس سعد کا فیصلہ بالکل منصفانہ اور عدل وانصاف کے قواعد کے بالکل مطابق تھا۔
٭٭٭