اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-17

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 11؍اکتوبر 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذاورسورۃفاتحہ کی تلاوت کےبعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایا: آجکل جنگ احزاب کا ذکر چل رہا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے لشکروں کو واپس بھگا دیا تو آنحضرت ﷺنے فرمایا۔ اَلْاٰنَ نَغْزُوْھُمْ وَلَا یَغْزُوْنَنَا۔ یعنی آئندہ ہم قریش کے خلاف نکلیں گے مگر انہیں ہمارے خلاف نکلنے کی ہمت نہیں ہو گی اور اس کے بعد واقعی ایسا ہوا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں مکہ فتح ہو گیا۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ :
کم وبیش بیس دن کے محاصرہ کے بعد کفار کالشکر مدینہ سے بے نیل مرام واپس چلا گیا اور بنو قریظہ جو ان کی مدد کے لئے نکلے تھے وہ بھی اپنے قلعہ میں واپس آگئے۔ قبیلہ اوس کے رئیس اعظم سعد بن معاذ کی شہادت کا نقصان مسلمانوں کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان تھا لیکن اس جنگ میں قریش کو کچھ ایسا دھکا لگا کہ اس کے بعد ان کو پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف اس طرح جتھہ بنا کر نکلنے یا مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ہمت نہیں ہوئی اور آنحضرت ﷺکی پیشگوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔
لشکر کفار کے چلے جانے کے بعد آنحضرت ﷺ نے بھی صحابہ کو واپسی کا حکم دیا اور مسلمان میدان کارزار سے اُٹھ کر مدینہ میں داخل ہو گئے۔ جنگ خندق یااحزاب ایک نہایت ہی خطرناک جنگ تھی۔ جس نے اسلام کی عمارت کو جڑ سے ہلا دیا اور جس کے مہیب مناظر کو دیکھ کر مسلمانوں کی آنکھیں پتھرا گئیں اور ان کے کلیجے منہ کوآنے لگ گئے اور کمزور لوگوں نے سمجھ لیا کہ بس اب خاتمہ ہے۔ اور اس مصیبت کی تلخی کو بنوقریظہ کی غداری نے دگنا کر دیا۔ اگراس وقت ان وحشی درندوں کو شہر میں داخل ہو جانے کا موقع مل جاتا توایک مسلمان بھی زندہ نہ بچتا اور کسی مسلمان خاتون کی عزت ان لوگوں کے ناپاک حملوں سے محفوظ نہ رہتی۔ بنو قریظہ خطرناک صورت میں اپنی غداری کامظاہرہ کرکے اب امن وامان کے ساتھ اپنے قلعوں میں محفوظ ہوگئے تھے اور سمجھتے تھے کہ اب کوئی شخص ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
جب رسول اللہ ﷺغزوہ خندق سے فارغ ہونے کے بعد واپس تشریف لائے تو آپ نے اور صحابہ نے ہتھیار اتار دئیے۔ آنحضور ﷺحضرت عائشہ کے گھر میں تشریف لائے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے ہمیں سلام کیا جبکہ ہم گھر میں تھے۔ اس نے آواز دی تو رسول اللہ ﷺجلدی سے اس کی طرف گئے اور میں دروازے کے درمیان میں سے دیکھ رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہاں حضرت دحیہ کلبی تھے وہ اپنے چہرے سے غبار جھاڑ رہے تھے اور انہوں نے عمامہ باندھا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ سواری کی گردن سے ٹیک لگا کر کھڑے تھے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺآپ نے ہتھیار اتار دئیے۔ اللہ کی قسم ہم نے ہتھیار نہیں اتارے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب سے آپ کا دشمن سے سامنا ہوا ہے تب سے فرشتوں نے اسلحہ نہیں اتارا اور ابھی ہم احزاب کے تعاقب سے واپس آ رہے ہیں۔ اب آپ اُدھر کا رخ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کدھر؟ تو اس نے اشارہ سے کہا اُدھر یعنی بنو قریظہ کی طرف۔ حضرت عائشہؓفرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب اندر تشریف لائے تو میں نے کہا یا رسول اللہ وہ شخص کون تھا آپ نے فرمایا یہ جبرئیل تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت اعلان کروایا کہ بنو قریظہ کی طرف نکل پڑیں اور عصر کی نماز وہیں پڑھیں۔ چنانچہ اعلان سنتے ہی صحابہ تیزی سے نکل پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو بلایا اور ان کو لشکر کا سیاہ رنگ کا عقاب نامی جھنڈا دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پر حضرت ابن ام مکتوم کو نگران مقرر فرمایا اور بنو قریظہ کی طرف نکلے۔ آپؐنے زرہ پہنی اور خود پہنا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لے لیا اور ڈھال گلے میں لٹکا لی اور اپنے گھوڑے نحیف پر سوار ہوئے۔ آپ کے ساتھ تین ہزار افراد تھے۔ حضرت علی مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کے ساتھ پہلے ہی بنو قریظہ کے پاس پہنچ چکے تھے۔ بنو قریظہ اپنے قلعوں میں بند ہو کر رسول اللہ ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کو گالیاں دینے لگے۔ حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خاموش رہے اور ان گالیوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور کہا کہ اب تمہارے اور ہمارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔
مسلمانوں نے یہودیوں کے قلعوں کا احاطہ کر لیا۔ رسول اللہ ﷺمسلسل ان پر تیر اندازی کرواتے رہے۔ محاصرہ طول پکڑنے لگا تو بنو قریظہ کا سردار کعب بن اسد اپنی قوم کے لوگوں سے مخاطب ہو کے کہنے لگا کہ اللہ کی قسم تم پر ایک آزمائش آئی ہے جسے تم دیکھ رہے ہو۔ میں تمہارے سامنے تین باتیں پیش کرتا ہوں ان میں سے جس کو چاہو قبول کر لو۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیا ہیں؟ کعب بن اسد نے کہا کہ ہم محمد ﷺکی اطاعت قبول کر لیں اور ان کو سچا مان لیں کیونکہ اللہ کی قسم تمہیں معلوم ہو چکا ہے کہ وہ نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور یہ وہی شخص ہیں جن کا ذکر تم اپنی کتابوں میں پڑھتے ہو۔ کعب نے کہا کہ میں تو عہد بھی توڑنا پسند نہیں کرتا تھا لیکن یہ مصیبت اور آزمائش اس حیی بن اخطب کی طرف سے ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ حُیّ اس وقت پاس بیٹھا ہوا تھا۔ کعب نے کہا پس آؤ ہم محمد ﷺکی اتباع اور تصدیق کریں لیکن بنو قریظہ کے لوگوں نے انکار کردیا۔ اس پر کعب نے کہا تو دوسری بات یہ ہے کہ آؤ ہم اپنے بچوں اور بیویوں کو قتل کر دیں پھر تلواریں سونت کر محمد ﷺاور ان کے صحابہ پر ٹوٹ پڑیں۔ اگر ہم غالب آ گئے تو میری عمر کی قسم اولاد اور بیویاں تو ہمیں اور بھی مل جائیں گی۔ لوگوں نے کہا کہ کیا ہم ان مسکینوں کو قتل کر دیں ان کے بعد زندگی میں کیا لطف رہ جائے گا۔ پھر کعب نے کہا اگر تم میری یہ بات بھی نہیں مانتے تو تیسری بات یہ ہے کہ آج کی رات سبت کی رات ہے اور امید ہے کہ محمد ﷺاور ان کے صحابہ اس رات ہماری طرف سے بے فکر ہوں گے۔ اس لئے تم ان پر حملہ کر دو۔ شاید کہ ہم محمد ﷺاور ان کے صحابہ کو دھوکہ دے سکیں۔ وہ کہنے لگے کہ ہم اپنے سبت میں ایسا کام نہیں کریں گے جو ہم سے پہلے کسی نے نہیں کیا اور یوں انہوں نے کعب کی تینوں باتوں کا انکار کردیا۔
کعب کے بعد ایک اور یہودی عمرو بن سودا نے کہا اَے یہود کے گروہ اگر تم ان کے دین میں داخل ہونے سے انکار کرتے ہو تو یہودیت کی جو تعلیم ہے اس پر تو ثابت قدم رہو اور ان کو جزیہ دے دو۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ ہم عرب کو اپنی گردنیں چھڑوانے کے لئے خراج نہیں دیں گے۔ اس سے بہتر تو قتل ہوجانا ہے۔ تو عمرو نے کہا پھر میں تم سے بری ہوں اور وہ اسی رات قلعہ سے باہر نکل گیا اور معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کہاں گیا۔ تین اور افراد اسی رات قلعہ سے اتر آئے اور اسلام لے آئے اور اپنی جانیں اپنے خاندان اور اپنے اموال بچا لئے۔
حضور انور نے فرمایا: حضرت ابولبابہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس بارے میں لکھا ہے کہ جب ان پر محاصرہ تنگ ہو گیا تو انہوں نے سبت کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر کو ہماری طرف بھیج دیں تاکہ ہم ان سے اپنے معاملے میں مشورہ کر لیں۔ یہ بنو قریظہ کے حلیف قبیلہ اوس کے ایک معزز فرد تھے۔ رسول اللہ ﷺنے ان کو بھیج دیا۔ کعب بن اسد نے کہا کہ اے ابو لبابہ آپ کا کیا خیال ہے کیا ہم محمد کے فیصلے کو قبول کر لیں ؟تو حضرت ابولبابہ نے جواب دیا ہاں اور اپنے ہاتھ کواپنے گلے کی طرف اس طرح پھیرا جیسے قتل کا اشارہ کیا جاتا ہے۔ حضرت ابولبابہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے اسی وقت محسوس کیا کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کی ہے۔ میں شرمندہ ہوا کہ میں نے یہ کیا اشارہ کر دیا ہے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ میں نیچے اترا تو میری داڑھی آنسوؤں سے تر تھی۔ لوگ میرے لوٹنے کا انتظار کر رہے تھے میں نے قلعہ کے پیچھے سے ایک دوسرا راستہ لیا اور مسجد میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺکے پاس نہیں گیا۔ میں نے اپنے آپ کو ستون سے باندھ دیا۔ میں نے کہا میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ مر جاؤں یا اللہ میرے اس فعل پر میری توبہ قبول کر لے اور میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ میں بنو قریظہ کی زمین میں کبھی پاؤں نہیں رکھوں گا اور نہ اس بستی کو دیکھوں گا جس پر میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺسے خیانت کی تھی۔ رسول اللہ ﷺکو جب میرے چلے جانے اور میرے اس فعل کی خبر پہنچی تو فرمایا اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں جو چاہے فیصلہ کر دے۔ اگر وہ میرے پاس آتا تو میں اس کے لئے استغفار کرتا۔ ابو لبابہ کہتے ہیں کہ کئی راتیں میں نے نہ کچھ کھایا اور نہ کچھ پیا اور یہی کہتا رہا کہ میں اسی حال میں رہوں گا اور یہاں تک کہ میں دنیا کو چھوڑ جاؤں یا اللہ میری توبہ قبول کر لے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابولبابہ کی توبہ قبول فرمائی۔
حضرت ابولبابہ کی توبہ کے متعلق رسول اللہ ﷺپر سحری کے وقت آیت نازل ہوئی تھی۔ آپ حضرت ام سلمہ کے گھر میں تھے۔ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو سحری کے وقت مسکراتے ہوئے دیکھا۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺاللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا مسکراتا رکھے آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا ابولبابہ کے لئے خوشخبری ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺکیا میں ان کو خوشخبری نہ دے دوں۔ فرمایا کیوں نہیں اگر چاہو تو خوشخبری دے دو۔ پھر وہ اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑی ہو گئی اور پھر فرمانے لگیں کہ اے ابولبابہ خوش ہو جاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے۔ لوگ ان کو کھولنے کے لئے ان کی طرف گئے تو حضرت ابولبابہ نے کہا نہیں رسول اللہ ﷺہی مجھے کھولیں گے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺفجر کی نماز کے لئے تشریف لائے تو اپنے دست مبارک سے انہیں کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺمیری توبہ تو یہ ہے کہ میں اپنی قوم کے ان گھروں کو بھی چھوڑ دوں جن میں مجھ سے گناہ سرزد ہو اہے اور میں اپنے سارے کا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں۔ آپ ﷺنے فرمایا اے ابولبابہ تمہارے لئے ایک تہائی کافی ہے۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور نے پاکستان، بنگلہ دیش، الجزائر اور سوڈان کے احمدیوں کے لئے دعا کی تحریک فرمائی۔
نیز فرمایا اللہ تعالیٰ اسرائیلی حکومت اور امریکہ کی حکومت اور بڑی طاقتوں کے ہاتھوں کو روک سکتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں سب طاقت ہے لیکن اس کے لئے مسلمانوں کو بھی اپنے عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنے ہوں گے اور بھائی بھائی ہونے کا نمونہ بننا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور تمام مسلمانوں کو بھی اس کی توفیق عطا فرمائے۔
٭٭٭