اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-10

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 04؍اکتوبر 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذاورسورۃفاتحہ کی تلاوت کےبعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایا: آج کل جنگ احزاب کا ذکر ہورہا ہے۔جنگ احزاب کی مزید تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ جب مشرکین کو خندق عبورکرنےکےباوجود کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی اور سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے اتحاد کیا کہ وہ سب مل کر صبح حملہ کریں گے۔ چنانچہ صبح سب نے مل کر خندق کو گھیر لیا ، خندق کو باربار عبور کرنے کے ساتھ سخت تیراندازی کا مقابلہ ہوا۔ کفار مسلمانوں کی طرف سے کسی غفلت کے منتظر تھے، اور یہ حملے اور کوششیں وقفے وقفےسے ہوتی رہیں۔ اسی دوران وحشی بن حرب نے طفیل بن نعمان انصاریؓکو اپنا چھوٹا نیزہ مارکر شہید کردیا، حضرت سعد بن معاذؓکو بھی تیر لگا اور آپؓبھی زخمی ہوگئے، اور اسی زخم کی وجہ سے کچھ دن بعد اُن کی شہادت ہوگئی۔
یہی وہ دن تھا کہ جس روز مسلمانوں کے لیے شدید مصروفیت، اور حملوں کی وجہ سے نماز بھی اپنے وقت پر پڑھنا مشکل ہوگیا۔ اس دن مسلمان نمازیں تو پڑھتے رہے مگر ایک مسلسل خوف اور پریشانی کے عالم میں نمازیں ادا کی گئیں، عصر کے وقت شدید حملے کی وجہ سے نمازِ عصر تنگ وقت میں پڑھی گئی۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ یہ بات درست نہیں ہے کہ اس دن مسلمانوں کی ساری نمازیں وقت پر ادا نہیں ہوسکیں۔ اُس وقت تک چونکہ صلوٰۃ خوف مشروع نہیں ہوئی تھی اس لیے بوجہ مسلسل خطرے اور مصروفیت کے صرف ایک نماز یعنی عصر بے وقت ہوگئی تھی جو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھی گئی، اور بعض روایات کی رُو سے صرف ظہر اور عصر کی نمازیںبےوقت اداکی گئی تھیں۔
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن حملہ اتنا شدید ہو گیا کہ مسلمانوں کی بعض نمازیں وقت پر ادا نہ ہو سکیں جس کا رسول اللہ ﷺکو اتنا صدمہ ہو اکہ آپ نے فرمایا خد اکفار کو سزا دے انہو ںنے ہماری نمازیں ضائع کیں۔ اس سے محمد رسول اللہ ﷺکے اخلاق پر ایک بڑی روشنی پڑتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ترین چیز آپ کے لئے خدا تعالیٰ کی عبادت تھی۔ جبکہ دشمن چاروں طرف سے مدینہ کو گھیرے ہوئے تھا، جبکہ مدینہ کے مرد تو الگ رہے، عورتوں اور بچوں کی جانیں بھی خطرہ میں تھیں،جب ہر وقت مدینہ کے لوگوں کا دل دھڑک رہا تھا کہ دشمن کسی طرف سے مدینہ کے اندر داخل نہ ہو جائے اس وقت بھی محمد رسول اللہ ﷺکی خواہش یہی تھی کہ خدا تعالیٰ کی عبادت اپنے وقت پر عمدگی کے ساتھ ادا ہو جائے
سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اُن تمام روایات کو جن میں اُس دن کی سبھی نمازوں کا رات کے وقت ادا ہونے کا ذکر ہے، ضعیف قرار دیا ہے۔ فرمایا کہ کسی معتبر حدیث میں چار(نمازیں) جمع کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ واقعہ صرف یہ ہوا تھا کہ ایک نماز یعنی صلوٰۃ العصرمعمول سے تنگ وقت میں ادا کی گئی۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ بروز پِیر، منگل اور بدھ ظہر و عصر کے درمیان تشریف لائے اور اپنے اوپرکی چادر رکھ دی اور ہاتھ بلند کیے اور احزاب پر بددعا کی۔ جابر ؓکہتے ہیں کہ ہم نے آپؐکے چہرے میں خوشی پہچان لی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ تم دشمن سے مڈھ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور خدا سے عافیت چاہو لیکن اگر تمہاری دشمن سے مڈھ بھیڑ ہوجائے تو پھرصبرکرو اور جان لو کہ جنّت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔
آپؐنے دعاکی کہ اے اللہ! اے کتاب نازل کرنے والے! اے جلد حساب لینے والے! تُو لشکروں کو شکست دےدے۔ اے اللہ! ان کو شکست دےدے اور ان کے خلاف ہماری مدد کر۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺسے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ کلیجے منہ کو آگئے ہیں۔ کیا ہمارے کہنے کے لیے کوئی کلمات ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہ ہاں! یہ دعا کرو :اے اللہ! ہمارے عیب ڈھانپ دے اور ہمارے خوف دُور فرمادے۔
جنگ اپنے عروج پر تھی۔جس طرح مسلمان چاروں طرف سے محصور تھے اور بنو قریظہ جیسے انکے حلیف مدینہ کے اندر موجود تھے یہ تمام عوامل کفار کی امیدوں اور حوصلوں کو بڑھانے کے لئے کافی تھے اور اب وہ یہ چاہتے تھے کہ ہم سب ملکر ایک ہی دفعہ ہلہ بول دیں اور مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ کفار کے سردار یہ حکمت عملی طے کر رہے تھےلیکن اللہ اپنی حکمت عملی طے کررہا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک غیبی مدد کا آغاز فرما دیا۔
ایک شخص نُعَیْمْ بِنْ مَسْعُوْدْ جوغطفان کی شاخ قبیلہ اشجع سے تھااور دل میں مسلمان تھااور کفّار کو اس کی خبر نہ تھی اور بنوقریظہ کے رؤسا ءسے اس کے پرانے تعلقات تھے، اس نے بنو قریظہ کے سرداروں سے کہا کہ میرے خیال میں تم نے یہ اچھا نہیں کیا کہ محمدﷺ کے ساتھ غداری کرکے غطفان اور قریش کےساتھ مل گئے، وہ دونوں تو یہاں چند دن کے مہمان ہیں مگر تم لوگوں نے بہرحال یہاں ہی رہنا ہے، یاد رکھو! کہ قریش اور غطفان جاتے ہوئے تمہیں مسلمانوں کے رحم وکرم پر چھوڑ جائیں گے اس لیے کم از کم ایسا کرو کہ قریش اور غطفان سے بطور ضمانت چند آدمی اپنے پاس رکھو تاکہ تمہیں اطمینان رہے کہ تمہارے ساتھ کوئی غداری نہیں ہوگی۔اس کے بعد نُعَیْمْ بِنْ مَسْعُوْدْ قریش کے پاس گیا اور انہیں کہا کہ بنو قریظہ تم سے خائف ہیں اور تم سے تمہارے آدمی بطوریرغمال اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مگر تم ہرگز ایسا نہ کرنا۔ اسی طرح اس نے بنوغطفان سے بھی ایسی باتیں کیں۔
پلاننگ کے مطابق بنو قریظہ کو پیغام بھیجا گیا تو انہوں نے جواب بھجوایا کہ کل تو ہمارا سبت کا دن ہے اس لیے ہم معذور ہیں اور ویسے بھی جب تک آپ لوگ اپنے چند آدمی ضمانت کے طور پر ہمارے پاس نہ ٹھہرائیں گے ہم اس حملے میں شامل نہیں ہوں گے۔کفار کے دل میں چونکہ پہلے سے شبہ پیدا ہو چکا تھا انہوں نے ان کے اِس مطالبہ کوپورا کرنے سے انکار کر دیا ۔اِس واقعہ سے ادھر یہود کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے اِدھر کفار کے دلوںمیں شبہات پیدا ہونے لگے اور جیسا کہ قاعدہ ہے جب شبہات دل میں پید اہو جاتے ہیں تو بہادری کی روح بھی ختم ہو جاتی ہے۔
شکوک و شبہات کو ساتھ لئے ہوئے کفار کا لشکر رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے خیموں میں گیا تو خد اتعالیٰ نے آسمانی نصرت کا ایک اور راستہ کھول دیا۔ رات کو ایک سخت آندھی چلی جس نے قناتوں کے پردے توڑ دئیے۔ چولہوں پر سے ہنڈیاں گرا دیں اور بعض قبائل کی آگیں بجھ گئیں۔ مشرکینِ عرب میں ایک رواج تھا کہ وہ ساری رات آگ جلائے رکھتے تھے اور اِس کو وہ نیک شگون سمجھتے تھے۔ جس کی آگ بجھ جاتی تھی وہ خیال کرتاتھا کہ آج کا دنمیرے لئے منحوس ہے اور وہ اپنے خیمے اٹھا کر لڑائی کے میدان سے پیچھے ہٹ جاتا تھا۔ جن قبائل کی آگ بجھی انہوں نے اِس رواج کے مطابق اپنے خیمے اٹھائے اور پیچھے کو چل پڑے
تاکہ ایک دن پیچھے انتظار کر کے پھر لشکر میں آشامل ہوں لیکن چونکہ دن کے جھگڑوں کی وجہ سے سردارانِ لشکر کے دل میں شبہات پیدا ہو رہے تھے۔ جو قبائل پیچھے ہٹے ان کے اِردگرد کے قبائل نے سمجھا کہ شاید یہود نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر شبخون مار دیا ہے اور ہمارے آس پاس کے قبائل بھاگے جار ہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے بھی جلدی جلدی اپنے ڈیرے سمیٹنے شروع کر دئیے اور میدان سے بھاگنا شروع کیا۔ ابوسفیان اپنے خیمہ میں آرام سے لیٹا تھا اس کو اِس واقعہ کی خبر پہنچی۔ وہ گھبرا کے اپنے بندھے ہوئے اونٹ پر جا چڑھا اور اس کو ایڑیاں مارنی شروع کر دی۔ آخر اس کے دوستوں نے اس کو توجہ دلائی کہ وہ یہ کیا حماقت کر رہا ہے۔ اِس پر اس نے اونٹ کی رسی کھولی اور وہ بھی اپنے ساتھیوںسمیت میدان سے بھاگ گیا۔
صبح سفیدی نمودار ہونے سے پہلے سارا میدان خالی ہوگیا اور ایک فوری اور محیرالعقول تغیّر کے طور پر مسلمان مفتوح ہوتے ہوتے فاتح بن گئے۔ جب رسول اللہﷺ کو کفار کی پسپائی کی اطلاع ملی تو آپؐ نے خدا کا شکر اداکیا اور فرمایا کہ یہ ہماری کسی کوشش کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ محض خدا تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ہے جس نے اپنے دَم سے احزاب کو پسپا کردیا۔اس کے بعد کفار کے فرار کی خبر مسلمانوں میں مشہور ہوگئی۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور نے فرمایا : دنیا کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں، تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ امریکہ اور بڑی طاقتیں انصاف سے کام لینا نہیں چاہتیں۔ جنگ وسیع ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ احمدیوں اور معصوموں کو اس کے خوف ناک اور بد اثرات سے بچائے۔ اس کے لیےہمیں اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنا ہو گا اور دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینی ہو گی۔ اس کی طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہئے۔ پاکستان میں احمدیوںکے حالات بھی کافی زیادہ خراب ہو رہے ہیں، اُن کے لیے بھی دعا کریں۔بنگلہ دیش کے احمدیوںکے حالات کے لیے بھی دعا کریں۔ اُن لوگوں پر بھی بڑی سختیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب پر رحم اور فضل فرمائے۔آمین۔ ٭٭٭