اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-03

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 27؍ستمبر 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذاورسورۃفاتحہ کی تلاوت کےبعد حضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےفرمایا: جنگ احزاب کے حالات کے بارے میں حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چونکہ مدینہ کا کافی حصہ خندق سے محفوظ تھا اور دوسری طرف کچھ پہاڑی ٹیلےاور کچھ پختہ مکانات اور کچھ باغات وغیرہ تھے اس لیے فوج یکدم حملہ نہیں کرسکتی تھی۔پس کافروں نے مشورہ کرکے تجویز کیا کہ کسی طرح مدینہ میں موجود یہودی قبیلہ بنو قریظہ کو اپنے ساتھ ملالیا جائےاور اس ذریعہ سے مدینہ تک پہنچنے کا راستہ کھولا جائے۔چنانچہ بنو نضیر کے رئیس حُیی بن اَخطب کو مقرر کیا گیا کہ وہ بنو قریظہ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے۔پہلے تو بنو قریظہ کے سرداروں نے انکار کیا لیکن پھر حیی بن اخطب کے سبز باغ دکھانے پر وہ معاہدہ شکنی پر آمادہ ہوگئے۔بنو قریظہ مسلمانوں کے حلیف تھے اور اگر وہ کھلی جنگ میں شامل نہ بھی ہوتے تب بھی مسلمان یہ امید کرتے تھے کہ ان کی طرف سےہوکر مدینہ پر کوئی حملہ نہیں کر سکےگا۔ اسی وجہ سے ان کی طرف کا حصہ بالکل غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تھا۔ایسے وقت میں بنو قریظہ کا دشمن کے ساتھ ملنے سے مدینہ پرحملے کا خطرہ بھی بہت بڑھ گیا تھااور اس کا سد باب ضروری تھا اس لیےآنحضرت ﷺ نےحضرت سَلَمَہ بن اَسلمؓ کو دو سو افراد اور حضرت زید بن حارثہؓ کو تین سو افراد کے ساتھ مدینے کی حفاظت کے لیے بھیجا اور فرمایا کہ رات کے وقت وہ مختلف جگہوں پر پہرا دیں اور وقتاً فوقتاًتکبیر یعنی اللہ اکبر کے نعرے لگاتے رہیں۔
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدصاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : سخت پریشانی اورسراسیمگی کے دن تھے۔بعض منافقین نےآنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ کہنا شروع کیا کہ یا رسول اللہؐ! شہر میں ہمارے مکانات بالکل غیر محفوظ ہیں،آپؐاجازت دیں تو ہم اپنے گھروں میں ٹھہر کر ان کی حفاظت کریں جس کے جواب میں خدا ئی وحی نازل ہوئی۔ وَمَا ہِىَ بِعَوْرَۃٍ۝۰ۚۛ اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا۔یعنی یہ غلط ہے کہ ان لوگوں کے گھر غیرمحفوظ ہیں بلکہ یہ میدانِ جنگ سے بھاگنے کی راہ ڈھونڈ رہے ہیں۔پس ایسے خطرناک وقت میں مسلمانوں کی قلیل جمعیت جن میں بعض کمزور طبیعت لوگ اور بعض منافق بھی شامل تھے کیا مقابلہ کر سکتی تھی؟بعض اوقات حالات بہت نازک صورت اختیار کرلیتے اورقریب ہوتا کہ کسی کمزور موقعےسے فائدہ اُٹھا کر لشکر کفارحدودشہر کے اندر داخل ہو جائے۔ کفار کے دھاووں کا مقابلہ میں مسلمانوں کی طرف سےعموماً تیروں کے ذریعہ ہی دفاع کیا جاتاتھا۔یہ دن مسلمانوں کےلیے نہایت تکلیف اور پریشانی اور خطرے کے دن تھے۔ آنحضرت ﷺ نے ان حالات میں سعدبن معاذؓ اورسعد بن عبادہؓ سےفرمایا کہ اگر تم لوگ چاہو تو قبیلہ غطفان کو کچھ دیکر اس جنگ کو ٹال دیا جائے،اِس پر دونوں نے یک زبان ہو کر کہاکہ یا رسول اللہؐ! جب ہم نے شرک کی حالت میں کبھی کسی دشمن کو کچھ نہیں دیا تو اب مسلمان ہو کر کیوں دیں۔واللہ !ہم انہیں تلوار کی دھار کے سواکچھ نہیں دیں گے۔چونکہ آنحضرت ﷺ کو انصارہی کی وجہ سے فکر تھاآپؐنے پوری خوشی سے ان کا مشورہ قبول فرمایا اور جنگ جاری رہی۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ :
رسول کریم ﷺ کی جرأت اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا یہ حال تھا کہ آپ سردی میں رات کو اُٹھ اُٹھ کر اس جگہ جاتے اور اس کا پہرہ دیتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ پہرہ دیتے ہوئے تھک جاتے اور سردی سے نڈھال ہو جاتے تو واپس آکر تھوڑی دیر لحاف میں لیٹ جاتے مگر جسم کے گرم ہوتے ہی پھر اس شگاف کی حفاظت کے لئے چلے جاتے۔ اِس طرح متواتر جاگنے سے آپ ایک دن بالکل نڈھال ہوگئے اور رات کے وقت فرمایا کاش اِس وقت کوئی مخلص مسلمان ہوتا تو میں آرام سے سو جاتا، اتنے میں باہر سے سعد بن وقاص کی آواز آئی۔ آپ نے پوچھا کہ کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا آپ کا پہرہ دینے آیا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا مجھے پہرہ کی ضرورت نہیں تم فلاں جگہ جہاں خندق کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے جائو اور اُس کا پہرہ دو تا مسلمان محفوظ رہیں۔ چنانچہ سعد اس جگہ کا پہرہ دینے چلے گئے اور آپؐسو گئے۔
حضور انور نے فرمایا : نبی کریم ﷺ کے جاںنثار صحابہ کا بھی آپؐسے وفا کا عجیب رنگ تھا، اِس طرح وہ اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف نبی کریم ﷺ اپنی ذات پر اُن سب کو ترجیح دے رہے تھے۔ایسے شجاع کہ اپنی جان کی کوئی فکر نہیں اہل مدینہ کا فکر ہے اور اس کےلیے اکثر خود جگہ جگہ موجود ہوتے ہیں اور کبھی بظاہرآرام کرنے کےلیےخیمہ میں تشریف لاتے بھی ہیں تو اس کا اکثر حصہ خدا کے حضورسربسجود ہو کر دعائیں کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔
اس جنگ کے دوران حضرت صفیہؓ کی بہادری کا واقعہ بھی ملتا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایک اے رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ مستورات اور بچوں کو ایک خاص حصے میںجو ایک گونہ قلعہ کا رنگ رکھتا تھا، رکھاگیااور ان کی حفاظت کے لیے صرف ایسے مرد رہ گئے تھے جو کسی وجہ سے میدان جنگ میں جانے کے قابل نہ تھے۔یہودیوں نے ایک روز جاسوسی کی غرض سے اپنا ایک آدمی اس محلے میں بھیجا۔اس وقت اتفاق سے عورتوں کے قریب صرف ایک صحابی حسان بن ثابتؓتھے۔ حضرت صفیہؓ نے جب اس دشمن یہودی جاسوس کو دیکھا تو حسانؓ سے کہا کہ اسے قتل کر دو مگر حسان دل کے بہت کمزور تھے اُن کو ہمت نہ ہوئی۔ حضرت صفیہؓ نے خود آگے بڑھ کر اس یہودی کا مقابلہ کیا ، اسے مار گرایااور اس کا سَر کاٹ کریہودیوں کی طرف گرا دیا تاکہ یہودیوں کو مسلمان عورتوں پر حملہ آور ہونے کی ہمت نہ پڑے اور وہ یہ سمجھیں کہ ان کی حفاظت کے لیے اس جگہ کافی مرد موجود ہیں۔ چنانچہ یہ تدبیر کارگر ہوئی اور یہودی لوگ مرعوب ہوکر واپس چلے گئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عَمْرْو بِنْ عَبْدِوُدّ کو قتل کرنے کا واقعہ بھی ملتا ہے۔عمر وبن عبدود ایسا بہادر تھاکہ عرب میں ایک ہزار مردوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ یہ جنگ بدر میں زخمی ہوا تھا اور انہی زخموں کی وجہ سے وہ جنگ اُحد میں شامل نہیں ہو سکا اور اس نے قسم کھائی تھی کہ اپنے سر پر تیل نہیں لگائے گا جب تک محمد ﷺ کو نعوذ باللہ قتل نہ کر لے۔یہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ خندق کو پار کرکے آیا اور بڑے متکبرانہ انداز سے آواز لگائی کہ اے جنت کی خواہش کرنے والو!آؤ میں تمہیں جنت میں پہنچا دوں یا تم مجھے جہنم میں بھیج دو۔ حضرت علی مقابلہ کیلئے اُٹھے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنا امامہ اُن کے سَر پر باندھا اور اپنی تلوار عنایت فرمائی اور دعا دیتے ہوئے مقابلےپر بھیج دیا۔ حضرت علی کو اس نے کہا کہ تم ابھی بچے ہو میں تمہارا خون نہیں گرانا چاہتا اپنے بڑوں میں سے کسی کو بھیجو۔ حضرت علی نے کہا تم میرا خون نہیں گرانا چاہتے مگر مجھے تمہارا خون گرانے میں تأمل نہیں۔ اس پر عمروجوش میں اندھا ہو کر گھوڑے سے کود پڑا اور آگ کے شعلے کی طرح دیوانہ وار حضرت علی کی طرف بڑھا اور اس زور سے حضرت علی پر تلوار چلائی کہ وہ ان کی ڈھال کو قلم کرتی ہوئی ان کی پیشانی پر لگی اور انہیں کسی قدر زخمی کیا مگر ساتھ ہی حضرت علی نے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے ایسا وار کیا کہ وہ اپنے آپ کو بچاتا رہ گیا اور حضرت علی کی تلوار اُسے شانے پر سے کاٹتی ہوئی نیچے اتر گئی اور عمرو تڑپتا ہوا گرا اور جان دے دی۔ عمرو کے قتل ہونے پر اس کے باقی ساتھی دہشت زدہ ہو کر بھاگ گئے۔
ایک روایت کے مطابق ضِرار بن خطاب جو کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کا بھائی تھا یہ جب بھاگا تو حضرت عمرؓ نے اس کا تعاقب کیا۔ضرار اچانک رُکا اور حضرت عمرؓ پر نیزے سے حملہ کرنے کو تھا کہ رُک گیا اور حملہ نہیں کیا۔پھر حضرت عمرؓکو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا کہ عمرؓ میرا یہ احسان یاد رکھنا کہ میں نے تم پر حملہ نہیں کیا۔ضرار کا کیا احسان ہوناتھا،ہاں اللہ تعالیٰ کا یہ احسان اُس پر ہوا کہ فتح مکہ کے موقع پر یہی ضرار اسلام لے آئے۔پھراسلامی جنگوں میں بھرپور شرکت کی۔ خوب بہادری کے جوہر دکھائے اور جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔ بعض کے نزدیک شہادت نہیں پائی بلکہ دیر تک زندہ رہے اور اسلام پر وفات ہوئی۔
ایک دن کفار کے بعض بڑے بڑے جرنیل خندق پھاند کر دوسری طرف آنے میں کامیاب ہو گئے لیکن مسلمانوں نے ایسا جان توڑ کر حملہ کیا کہ سوائے واپس جانے کے اُن کے لیے کوئی چارہ نہ رہا۔ چنانچہ اس وقت خندق پھاندتے ہوئے کفار کا ایک بہت بڑا رئیس نوفل نامی مارا گیا۔یہ اتنا بڑا رئیس تھا کہ کفار نے یہ سمجھا کہ اگراُس کی لاش کی ہتک ہوئی تو عرب میں ہمارے لیے منہ دکھانے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر آپؐاس کی لاش واپس کر دیں تو وہ دس ہزار درہم آپؐکو دینے کےلیے تیار ہیں۔ اُن لوگوں کا یہ خیال تھا کہ جس طرح ہم نے مسلمانوں کا بلکہ خود رسول اللہ ﷺ کے چچا کا مثلہ کیا تھا اسی طرح آج مسلمان ہمارے اس رئیس کا مثلہ کریں گے۔جب کفار کا پیغام رسول کریم ﷺکے پاس پہنچا تو آپؐنے فرمایا: یہ لاش ہمارے کس کام کی ہے۔اپنی لاش بڑے شوق سے اُٹھا کر لے جاؤ۔ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں۔
حضور انور نے آخر میں فرمایا کہ آج سے لجنہ اور انصار کے اجتماع بھی شروع ہورہے ہیںان دنوں میں خاص طور پر دعاؤں میں بہت وقت گزاریں، درود پڑھنے کی طرف توجہ رکھیں۔اور اجتماع کے مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق دے۔
…٭…٭…٭…