اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-09-26

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 20؍ستمبر 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:آنحضرت ﷺ کی سیرت کے حوالے سے جنگ احزاب کا ذکر ہو رہا تھا۔ گذشتہ خطبہ میں کھانے میں برکت کا معجزہ بیان کیا تھا میں نے۔اسی طرح کا کھجوروں میں برکت کا بھی واقعہ ملتا ہے۔ حضرت بشیر بن سعد کی بیٹی بیان کرتی ہیں کہ میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے میرے کپڑوں میں تھوڑی سی کھجوریں دے کر کہا کہ بیٹی یہ اپنے باپ اور ماموں کو دے آؤ اور کہنا یہ تمہارا صبح کا کھانا ہے۔ وہ کہتی ہیں میں ان کھجوروں کو لے کر چلی اور اپنے والد اور ماموں کو ڈھونڈتی ہوئی رسول اللہ ﷺکے پاس سے گزری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لڑکی یہ تیرے پاس کیا چیز ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺیہ کھجوریں ہیں میری ماں نے میرے والد بشیر بن سعد اور میرے ماموں عبداللہ بن رواحہ کے لئے بھیجی ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا یہ لاؤ مجھے دے دو۔ میں نے وہ کھجوریں آپ ﷺکے دونوں ہاتھوں میں رکھ دیں۔ آنحضرت ﷺنے ان کھجوروں کو ایک کپڑے پر ڈال دیا اور پھر ان کو ایک اور کپڑے سے ڈھانپ دیا اور ایک شخص سے فرمایا کہ لوگوں کو کھانے کے لئے بلا لو چنانچہ تمام خندق کھودنے والے جمع ہو گئے اور ان کھجوروں کو کھانے لگے اور وہ کھجوریں زیادہ ہوتی گئیں یہاں تک کہ جب سب کھا چکے تو کھجوریں کپڑے کے کنارے سے نیچے گر رہی تھیں۔
حضور انور نے فرمایا: کھانے میں برکت کے مزید واقعات بھی ہیں۔ عبیداللہ بن ابی بردہ سے روایت ہے کہ ام عامر اشعلیہ نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں حیس تھا حیس ایسا کھانا ہے جو کھجور گھی اور پنیر سے بنایا جاتا ہے ۔ آپ ﷺاپنے خیمے میں حضرت ام سلمہ کے پاس تھے۔ حضرت ام سلمہ نے اپنی ضرورت کے مطابق اس سے کھایا پھر رسول اللہ ﷺ اس برتن کو لے کر باہر تشریف لے گئے اور رسول اللہ ﷺکے منادی نے کھانے کے لئے بلایا تو اہل خندق نے اس کو کھایا یہاں تک کہ اس سے سیر ہو گئے۔ اور وہ کھانا پہلے کی طرح تھا جیسے کچھ بھی نہ کم ہوا ہو۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء ﷺنے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہو گئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت ﷺنے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی۔ کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالے میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار میں موجود تھا اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزارہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کردیا اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دیکر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا اور بعض اوقات شور آب کے کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈالکر اسکو نہایت شیریں کر دیا اور بعض اوقات سخت مجروہوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر انکو اچھا کر دیا۔ بعض اوقات آنکھوں کو جنکے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمے سے باہر جا پڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ ایسا ہی اور بھی بہت سے کام اپنے ذاتی اقتدار سے کئے جنکے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الٰہی مخلوط تھی۔
خندق کی کھدائی کے دوران منافقوں اور مؤمنوں کی حالت کا بیان بھی ہوا ہے۔ منافقین نے رسول اللہ ﷺاور مسلمانوں کے کام میں شرکت سے سستی کی اور وہ تھوڑا سا کام کرتے اور رسول اللہ ﷺکو بتائے بغیر اور اجازت لئے بغیر گھر کھسک جاتے اور مسلمانوں میں سے کسی کو جب کوئی ضرورت پیش آتی تو وہ نبی کریم ﷺکی خدمت میں عرض کرتے اور جانے کی اجازت طلب کرتےاور وہ جیسے ہی حاجت پوری کرلیتے تو واپس آ جاتے۔
آنحضرت ﷺنے جنگ کے لئے سلاح پہاڑ کے سامنے پڑاؤ ڈالاجو آجکل مسجد نبوی سے تقریباً پانچ سو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس پہاڑ کو اپنے پیچھے رکھا اور خندق کو سامنے رکھا۔ مہاجرین کا جھنڈا حضرت زید بن حارثہ کو اور انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ کو دیا گیا۔
مؤرخین میں مسلمان لشکر کی تعداد کے بارے میں بہت اختلاف ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بعض لوگوں نے لشکر کی تعداد تین ہزار لکھی ہے بعض نے بارہ تیرہ سو اور بعض نے سات سو۔ یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ اس کی تاویل بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے اور مؤرخین اسے حل نہیں کر سکے لیکن میں نے اسکی حقیقت کو پالیا ہے اور وہ یہ کہ تینوں قسم کی روایتیں درست ہیں۔ جنگ احد میں منافقین کے واپس آجانیکے بعد مسلمانوں کا لشکر صرف سات سو افراد پر مشتمل تھا۔ جنگ احزاب اس کے صرف دو سال کے بعد ہوئی ہے اور اس عرصہ میں کوئی بڑا قبیلہ اِسلام لا کر مدینہ میں آکر نہیں بسا۔ پس سات سو آدمیوں کا یکدم تین ہزار ہو جانا قرین قیاس نہیں۔
دوسری طرف یہ امر بھی قرین قیاس نہیں کہ احد کے دو سال بعد تک باوجود اِسلام کی ترقی کے قابلِ جنگ مسلمان اتنے ہی رہے جتنے احد کے وقت تھے۔ کچھ نہ کچھ تعداد بڑھی ہو گی۔ پس اِن دونوں تنقیدوں کے بعد وہ روایت ہی درست معلوم ہوتی ہے کہ لڑنے کے قابل مسلمان جنگ احزاب کے وقت کوئی بارہ سو تھے۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر کسی نے تین ہزار اور کسی نے سات سو کیوں لکھا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دو روایتیں الگ الگ حالتوں میں اور نظریوں کے ماتحت بیان کی گئی ہیں۔ جنگ احزاب کے تین حصے تھے ایک حصہ اس کا وہ تھا جب ابھی دشمن مدینہ کے سامنے نہ آیا تھا اور خندق کھودی جار ہی تھی۔ اس کام میں کم سے کم مٹی ڈھونے کی خدمت بچے بھی کر سکتے تھے اور بعض عورتیں بھی اس کام میں مدد دے سکتی تھیں۔ پس جب تک خندق کھودنے کاکام رہا مسلمان لشکر کی تعداد تین ہزار تھی مگر اِس میں بچے بھی شامل تھے اور صحابیہ عورتوں کے جوش کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اِس تعداد میں کچھ عورتیں بھی شامل ہوں گی جو خندق کھودنے کا کام تو نہیں کرتی ہوں گی مگر اوپر کے کاموں میں حصہ لیتی ہوں گی۔ تاریخ سے بھی میرے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔ پھر جب دشمن آگیا اور لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان تمام لڑکو ں کو جو پندرہ سال سے چھوٹی عمر کے تھے چلے جانے کا حکم دیا اور جو پندرہ سال کے ہو چکے تھے انہیں اجازت دی کہ خواہ ٹھہریں خواہ چلے جائیں۔
پس جن روایتوں میں تین ہزار کا ذکر آیا ہے وہ خندق کھودنے کے وقت کی تعداد ہے لیکن بارہ سو کی تعداد اس وقت کی ہے جب جنگ شروع ہوگئی اور صرف بالغ مرد رہ گئے۔ اب رہا یہ سوال کہ تیسری روایت جو سات سو سپاہی بتاتی ہے کیا وہ بھی درست ہے؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ جب جنگ کے دوران میں بنو قریظہ کفار کے لشکر سے مل گئے اور انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ مدینہ پر اچانک حملہ کر دیں اور ان کی نیتوں کا راز فاش ہو گیا تو رسول کریم ﷺنے مدینہ کی اس جہت کی حفاظت بھی ضروری سمجھی اور مسلمہ ابن اسلم کو دو سو صحابہ دے کر ایک جگہ مقرر کیا اور زید بن حارثہ کو تین سو صحابہ دے کر دوسری جگہ مقرر کیا۔ پس اِس روایت سے ہماری یہ مشکل کہ سات سو سپاہی جنگ خندق میں ابن اسحاق نے کیوں بتائے ہیں یہ حل ہو جاتی ہے۔کیونکہ بارہ سو سپاہیوں میں سے جب پانچ سو سپاہی عورتوں کی حفاظت کے لئے بھجوا دیئے گئے تو بارہ سو کا لشکر صرف سات سو کا رہ گیا اور اس طرح جنگ خندق کے سپاہیوں کی تعداد کے متعلق جو شدید اختلاف تاریخوں میں پایا جاتا ہے وہ حل ہو گیا۔
حضور انور نے فرمایا : مشرکین کے مدینہ پہنچنے اور اس کے بعد کے حالات کی تفصیل بھی بیان ہوئی ہے مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اِدھر خندق کا کام اختتام کو پہنچا اور اُدھر یہود اور مشرکین عرب کا لائو لشکر اپنی تعداد اور طاقت کے نشہ میں مخمور افق مدینہ میں نمودار ہو گیا۔ جب کفار کالشکر خندق کو اپنے رستہ میں حائل دیکھا تو سب لوگ حیران وپریشان ہو گئے اور اس بات پر مجبور ہوئے کہ خندق کے پار کھلے میدان میں ڈیرے ڈال دیں۔ دوسری طرف لشکر کفار کی آمد آمد کی خبر پاکر آنحضرت ﷺبھی تین ہزار مسلمانوں کو ساتھ لے کر شہر سے نکلے اور خندق کے پاس پہنچ کر شہر اور خندق کے درمیان سلع پہاڑی کو اپنے عقب میں رکھتے ہوئے ڈیرے ڈال دئیے۔آنحضرت ﷺنے صحابہ کو مختلف دستوں میں منقسم کرکے خندق کے مختلف حصوں پر اور مدینہ کی دوسری اطراف میں مناسب جگہوں پرپہرے کی چوکیاں قائم فرما دیں اور تاکید فرمائی کہ دن ہو یا رات کسی وقت میں یہ پہرہ سست یا غافل نہ ہونے پائے۔
جب دشمن خندق عبور کرنے میں ناکام رہا تو پھر اس لاچارگی اور بے بسی کی کیفیت کو دیکھ کر ابو سفیان اور بنو نضیر کے سردار حیی بن اخطب وغیرہ نے ایک اور سازش کا منصوبہ بنایا کہ مدینہ کے اندر موجود یہودی قبیلہ بنو قریظہ کو کسی نہ کسی طرح آمادہ کیا جائے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کو توڑ دے اور ہمارے ساتھ مل جائے اور وہ اندر سے مدینہ والوں پر حملہ کر دے۔ چنانچہ اس بھیانک سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حیی بن اخطب بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد قرظی کے پاس آیا۔ کعب غداری پر آمادہ نہ ہوا اور یہی کہتا رہا کہ آنحضرت ﷺسچے اور وعدہ وفا کرنے والے ہیں۔ وہ نہ تو ہم پر کوئی جبر کرتے ہیں اور نہ ہی ہمارے دین میں کسی قسم کی مداخلت کرتے ہیں۔ وہ ہمارا بہترین ہمسایہ ہے لہٰذا تم واپس چلے جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارا بھی وہی حشر ہو جو ہم سے پہلے تم لوگوں کا ہوا ہے لیکن حیی کعب کو بہلاتا رہا اور پھسلاتا رہا یہاں تک کہ وہ غداری پر آمادہ ہوگیا اور رسول اللہ ﷺسے کئے ہوئے معاہدے کو توڑ دیا۔رسول اللہ ﷺکو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺنے سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ اور بعض اور صحابہ کو بھیجا کہ دیکھو اس قوم کے بارے میں جو ہمیں خبر ملی ہے وہ سچی ہے یا نہیں۔ چنانچہ یہ وفد بنو قریظہ کے پاس گیا وہاں جب کعب اور اس کے ساتھیوں سے بات ہوئی تو ان کے تیور ہی بدلے ہوئے تھے۔ جب کعب سے کہا گیا کہ تم نے محمد ﷺسے معاہدہ کیا ہوا ہے تو اس نے بڑی حقارت سے کہا کہ کون رسول۔ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ میں نے اس معاہدے کو ایسے توڑ دیا جیسے جوتے کے تسمے کو توڑ دیا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق اس موقع پر فریقین کی طرف سے سخت کلامی بھی ہوئی۔ بہرحال یہ وفد واپس آیا اور سارا ماجرا نبی اکرم ﷺکی خدمت میں عرض کر دیا۔
حضور انور نے فرمایا: اس بارے میں مزید تفصیل بھی ہے انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔
حضور انور نے فرمایا: آج سے خدام الاحمدیہ کا اجتماع بھی شروع ہو رہا ہے، خدام اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ جن دعاؤں اور درود کے پڑھنے کی میں نے تحریک کی ہے اس طرف بھی خاص توجہ رکھیں اور ہمیشہ دہراتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شیطانی حملوں سے ہر ایک کو بچائے۔خطبہ کےآخر پر حضور انور نے مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب ربوہ ، مکرم ڈاکٹر سید ریاض الحسن صاحب ، مکرم پروفیسر عبدالجلیل صادق صاحب ربوہ، مکرم ماسٹر منیر احمد صاحب جھنگ کاذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد تمام مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ ض ژ ض