اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-09-19

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 13؍ستمبر 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:گزشتہ خطبہ میں جنگ احزاب کا ذکر ہو رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے سلیط اور سفیان بن عوف اسلمی کو لشکروں کی خبر لانے کے لئے بھیجا۔ جب یہ مقام بیضا پر پہنچے دشمن کی ان پر نظر پڑ گئی تو یہ دونوں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
جب خندق کھودنے کا فیصلہ ہو گیا تب مسلمانوں نے بنو قریظہ سے کھدائی کے بہت سے آلات کدالیں بڑے کلہاڑے بیلچے وغیرہ مستعار لئے۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو دس دس کی ٹولیوں میں تقسیم فرمایا اور ہر دس افراد کے لئے قریبا چالیس گز کا ٹکڑہ مقرر کیا۔ رسول اللہ ﷺنے خود بھی کھدائی میں حصہ لیا اور مٹی اپنی پیٹھ پر اٹھائی یہاں تک کہ آپ ﷺکی پشت اور پیٹ غبار آلود ہو جاتے۔ جو مسلمان اپنے حصہ سے فارغ ہو جاتے وہ دوسرے کی مدد کے لئے پہنچ جاتے یہاں تک کہ خندق مکمل ہو گئی۔ خندق کھودنے میں کوئی مسلمان پیچھے نہیں رہا۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو جب ٹوکریاں نہ ملتیں تو اپنی چادر میں مٹی ڈال کے لے جاتے تھے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ :مدینہ کا شہر تین طرف سے ایک حد تک محفوظ تھا صرف شامی طرف ایسی تھی جہاں دشمن ہجوم کر کے مدینہ پر حملہ آور ہو سکتا تھا اس لئے آنحضرت ﷺنے اس غیر محفوظ طرف میں خندق کے کھودنے کا حکم دیا اور آپ نے خود اپنی نگرانی میں موقع پر نشان لگا کر تقسیم کار کے اصول کے ماتحت خندق کو دس دس ہاتھ یعنی پندرہ پندرہ فٹ کے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہر ٹکڑہ دس دس صحابہ کے سپرد فرما دیا۔ ان پارٹیوں کی تقسیم میں یہ خوشگوار اختلاف رونما ہوا کہ سلمان فارسی کس گروہ میں شمار ہوں۔ آیا وہ مہاجر سمجھے جائیں یابوجہ اس کے کہ وہ اسلام کی آمد سے پہلے ہی مدینہ میں آئے ہوئے تھے انصار میں شمار ہوں۔ یہ اختلاف آنحضرت ﷺکی خدمت میں پیش ہوا آپ نے فریقین کے دعاوی سنے اور فرمایا نہ وہ مہاجروں میں سے ہے نہ انصار میں سے بلکہ سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِیعنی سلمان میرے اہل بیت میں شمار کئے جائیں۔ اس وقت سے سلمان کویہ شرف حاصل ہو گیا کہ وہ آنحضرت ﷺکے گھر کے آدمی سمجھے جانے لگے۔
الغرض خندق کی تجویز پختہ ہونے کے بعد صحابہ کی جماعت مزدوروں کے لباس میں ملبوس ہو کر میدان کارزار میں نکل آئی۔ کھدائی کاکام آسان نہیں تھا سردی کے ایام تھے جس کی وجہ سے صحابہ نے سخت تکالیف اٹھائیں وہ لوگ جن کا کام روز کی روٹی روز کمانا تھا اور صحابہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی ان کو تو ان دنوں میں بھوک اور فاقہ کشی کی مصیبت بھی برداشت کرنی پڑی۔ آنحضرت ﷺبھی بیشتر حصہ اپنے وقت کا خندق کے پاس گزارتے تھے اور بسا اوقات خود بھی صحابہ کے ساتھ مل کر کھدائی اور مٹی کی ڈھلائی کا کام کرتے تھے۔
خندق کی کھدائی کے دوران تازہ دم رکھنے کے لئے شعر بھی پڑھے جاتے۔ روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب صحابہ کرامؓ کی مشقت اور بھوک دیکھی تو فرمایا :
اَللّٰھُمَّ لَا عَیْشَ اِلَّا عَیْشَ الْاٰخِرَۃ
فَاغْفِرِ الْاَنْصَارَ وَالْمُھَاجِرۃ
کہ اے اللہ زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے۔ پس تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔ اس پر صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو جواب دیتے ہوئے کہا۔
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا
عَلَی الْجِھَادِ مَابَقِیْنَا اَبَدًا
کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد پر محمد ﷺ کی بیعت کی جب تک ہم زندہ ہیں۔ حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو ابن روحہ کا یہ شعر پڑھتے سنا۔
وَاللہِ لَوْلَا مَا اھْتَدَیْنَا
وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا
فَاَنْزِلَنْ سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا
وَثَبِّتِ الْاَقْدَامَ اِنْ لَاقَیْنَا
وَالْمُشْرِکُوْنَ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا
اِذَا اَرَادُوْا فِتْنَۃً اَبَیْنَا
یعنی ہمارے مولیٰ اگر تیرا فضل نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی اور ہم صدقہ و خیرات کرنے اور تیری عبادت کرنے کے قابل نہ بنتے۔ پس اے خدا جب تو نے ہمیں اس حد تک پہنچایا ہے تو اب اس مصیبت کے وقت میں ہمارے دلوں کو سکینت عطا کر اور اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو ہمارے قدموں کو مضبوط رکھ۔ تو جانتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے خلاف ظلم اور تعدی کے رنگ میں حملہ آور ہو رہے ہیں اور ان کی نیت ہمیں اپنے دین سے بے دین کرنا ہے مگر اے ہمارے خدا تیرے فضل سے ہمارا یہ حال ہے کہ جب وہ ہمیں بے دین کرنے کے لئے کوئی تدبیر اختیار کرتے ہیں تو ہم ان کی تدبیر کو دور سے ہی ٹھکرا دیتے ہیں اور ان کے فتنہ میں پڑنے سے انکار کر تے ہیں اور ابینا ابینا پر آپؐآواز بلند کرتے۔
بہرحال خندق کی کھدائی ایک مشقت طلب کام تھا اور دیگر صحابہ کی طرح رسول اللہ ﷺبھی خندق کی کھدائی میں ساتھ ساتھ تھے۔ ایک دن آپؐکو بہت زیادہ تھکاوٹ ہو گئی تو آپؐبیٹھ گئے۔ پھر آپؐنے اپنے بائیں پہلو پر پتھر کا سہارا لیا اور آپؐکو نیند آ گئی۔ جب بیدار ہوئے تو جلدی سے اُٹھےاور فرمایا میں سویا ہوا تھا مجھے جگایا کیوں نہیں اور پھر آپؐنے کام شروع کر دیا۔
آنحضرت ﷺ کی شرکت اور آپؐکی دعاؤں کی برکت سے صحابہ اپنی کلفت کو بھول ہی جاتے تھے اور جہاں ایک طرف پاکیزہ شعر خوانی ہوتی تو دوسری طرف ہلکا پھلکا مزاح بھی جاری رہتا۔ صحابہ کی مسلسل شبانہ روز محنت اور حضور ﷺ کی دعاؤں کی برکت سے خندق مکمل ہو گئی۔ خندق کی تکمیل کتنی مدت میں ہوئی اس کے متعلق پندرہ دن اور ایک ماہ والی روایت کے متعلق زیادہ اتفاق کیا جاتا ہے۔ خندق کی لمبائی تقریباً ساڑھے تین میل تھی چوڑائی تیرہ چودہ فٹ اور گہرائی دس گیارہ فٹ تھی۔ یہ طویل و عریض خندق صدیوں تک موجود رہی پھر آہستہ آہستہ معدوم ہوتی گئی۔
لکھا ہے کہ منافقین بہانے بنا کر اپنے اپنے گھروں کی طرف جانا شروع ہو گئے تھے لیکن صحابہ کا عمومی جوش اور ولولہ قابل دید تھا۔ بچے اور عورتیں بھی ان کے شانہ بشانہ ان کی ہمت بندھانے اور ان کی معاونت کرنے میں پیش پیش تھیں۔ آنحضرت ﷺکی ازواج مطہرات بھی خطرے کی اس گھڑی میں عزم و ہمت کے ساتھ مردانہ وار نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ خندق چونکہ مدینہ سے باہر کھودی جا رہی تھی اور آنحضرت ﷺاکثر و بیشتر یہیں رہتے تھے اس لئے کبھی تو حضرت عائشہ آپ ﷺکے پاس تشریف لے آتیں اور چند دن رہتیں پھر حضرت ام سلمہ چند دن رہتیں پھر حضرت زینب چند دن رہتیں۔
خندق کی کھدائی کے وقت بعض معجزات بھی ہوئے ۔ حضرت سلمان فارسی سے ایک چٹان ٹوٹ نہیں رہی تھی تو آنحضرت ﷺنے حضرت سلمان سے کدال لے لی اور ایک ضرب لگائی تو ایک بجلی کی سی چمک نمودار ہوئی ۔ آپ ﷺنے کہا اللہ اکبر۔ پاس کھڑے صحابہ نے بھی اللہ اکبر کہا اور اس کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔ پھر آپ ﷺنے دوسری بار ضرب لگائی اور پھر ایک چمک نکلی آپ ﷺنے کہا اللہ اکبر اور چٹان کا کچھ حصہ اور ٹوٹ گیا۔ پھر آپ ﷺنے تیسری بار ضرب لگائی تو پھر چمک نمودار ہوئی اور آپؐنے اللہ اکبر کہا اور چٹان کا باقی حصہ بھی ٹوٹ گیا ۔ حضرت سلمان فارسی کے دریافت کرنے پر آپ ﷺنے فرمایا پہلی بار جب روشنی نکلی تھی تو حیرہ اور کسریٰ کے محلات مجھے دکھائے گئے تھے اور جبرئیل نے مجھے کہا کہ آپ کی امت اس پر قبضہ کرے گی۔ دوسری مرتبہ ارض روم کے سرخ محلات مجھے دکھائے گئے اور جبرئیل نے خبردی کہ تمہاری امت اس پر قابض ہو گی اور تیسری بار صنعاء کے محلات مجھے دکھائے گئے اور جبریل نے بتایا کہ تمہاری امت ان پر بھی غالب آ جائے گی لہٰذا تمہیں خوشخبری ہو اور سب نے کہا الحمد للہ سچا وعدہ ہے۔ اس عظیم الشان لیکن بظاہر غیر ممکن بشارت سے مؤمنوں کا ایمان تو اور بڑھ گیا لیکن منافقین نے اس پر تمسخر کرنا شروع کر دیا۔ منافقین مدینہ نے ان وعدوں کو سن کر مسلمانوں پر پھبتیاں اڑائیں کہ گھر سے باہر قدم رکھنے کی طاقت نہیں اور قیصر وکسریٰ کی مملکتوں کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ مگر خدا کے علم میں یہ ساری نعمتیں مسلمانوں کے لئے مقدر ہوچکی تھیں۔ چنانچہ یہ وعدے اپنے اپنے وقت پر یعنی کچھ تو آنحضرت ﷺکے آخری ایام میں اور زیادہ تر آپ کے خلفاء کے زمانہ میں پورے ہوکر مسلمانوں کے ازدیادایمان کا باعث ہوئے۔
ان معجزات میں جو ہوتے رہے ایک کھانے کا معجزہ بھی ہے۔ حضرت جابر نے ایک دن رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا ہے اور صحابہ کرام نے تین دن سے کوئی کھانے کی چیز چکھی بھی نہیں۔ جابر کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺسے گھر جانے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺنے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے گھر جا کر اپنی بیوی کو کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺپر سخت بھوک کے آثار دیکھے ہیں جس کو دیکھ کر مجھ سے صبر نہیں ہو سکا۔ کیا گھر میں کچھ ہے۔ اس نے کہا گھر میں ایک صاع جَو کا ہے اور بکری کا بچہ ہے ۔ میں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اہلیہ نے جَو پیسے میری اہلیہ نے کہا چونکہ کھانا تھوڑا ہے اس لئے چپکے سے حضور ﷺکی خدمت میں عرض کرنا۔ جابر کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺہمارے پاس تھوڑا سا کھانا ہے۔ آپ اور آپ کے ساتھ ایک یا دو آدمی تشریف لے چلیں تو آپ نے اپنی انگلیوں کو میری انگلیوں میں ڈالا اور پوچھا کتنا ہے؟ میں نے بتایا کہ اتنا ہے تو آپ نے فرمایا بہت ہے اور طیب ہے۔ تم گھر جاؤ اور اپنی بیوی سے کہو کہ میرے آنے تک ہنڈیا کو نیچے نہ اتارے اور روٹی پکانا شروع نہ کرے اور رسول اللہ ﷺنے آواز لگائی اے خندق والو جابر نے تمہارے لئے کھانا تیار کیا ہے آ جاؤ اور رسول اللہ ﷺلوگوں سے آگے آگے چلنے لگے۔ میں گھر میں اپنی بیوی کے پاس گیا تو میں نے سارا ماجرا بیان کیا ۔ ایمان و اخلاص کی پیکر بیوی نے کہا کوئی فکر کی بات نہیں ہے اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ جابر کی اہلیہ نے آٹا نکالا تو آپ ﷺنے اس میں لعاب ڈالا اور برکت کی دعا دی۔ پھر گوشت کی ہنڈیا میں لعاب ڈال کر برکت کی دعا دی پھر ہمیں فرمایا روٹی پکاؤ اور سالن ڈالو اور ہنڈیاکو ڈھانپ دو۔ پھر روٹی تندور سے نکالو اور روٹیوں کو ڈھانپ دو تو ہم نے ایسا ہی کیا۔ جب ایک جماعت سیر ہو جاتی وہ چلے جاتے پھر دوسرے کو بلاتے یہاں تک کہ ہزار افراد نے وہ کھانا کھایا اور سب چلے گئے اور ہماری ہنڈیا پہلے کی طرح جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا پہلے کی طرح پڑا تھا۔ آپ ﷺنے فرمایا یہ تم کھاؤ اور لوگوں کو بھی بھیجو کیونکہ لوگ بہت زیادہ بھوکے ہیں۔ حضور انور نے فرمایاباقی باتیں انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔ خطبہ کے آخر پر حضور انور نے فرمایا: دعاؤں کی طرف میں توجہ دلاتا رہتا ہوں اس طرف بہت توجہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں کو مضبوط کرے ہر جگہ ہر ملک میں رہنے والے احمدیوں کو ہر شر سے بچائے اور دنیا کو بھی جس آگ میں جانے کی کوشش بڑی تیزی سے کر رہی ہے بچائے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ اللہ تعالیٰ سب طاقتوں کا مالک ہے اگر اصلاح کی طرف توجہ کریں ابھی بھی یہ لوگ تو اللہ تعالیٰ ان کو مصیبتوں سے نکال سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ان کو عقل اور سمجھ آ جائے۔ ٭٭٭