تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:آج میں غزوہ احزاب کا ذکر کروں گا جو پانچ ہجری بمطابق فروری اور مارچ 627ء میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃ الاحزاب کی آیات 10 تا 26 کی تلاوت کی اور ترجمہ پیش فرمایا۔
پھر فرمایا: اس جنگ کو جنگ خندق بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عرب کے دستور کے خلاف پہلی مرتبہ مسلمانوں نے خندق کھود کر دفاعی جنگ لڑی تھی ۔ قرآن کریم نے اس کو احزاب کا نام دیا ہے۔ احزاب حزب کی جمع ہے جس کے معنی جماعت اور گروہ کے ہیں۔ چونکہ اس جنگ میں عرب کی مختلف جماعتیں اور گروہ اکٹھے مل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تھے اس لئے اس جنگ کو جنگ احزاب کہا گیا ۔
ربیع الاول چار ہجری میں یہود کا قبیلہ بنو نضیر اپنی عہد شکنی بغاوت اور نبی ﷺکو قتل کرنے جیسی سازشوں کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کر دیا گیا۔ اس عہد شکن باغی قبیلہ کی سزا تو اس سے کہیں سخت تھی لیکن ان کی درخواست پر آنحضرت ﷺ نے عفو و درگذر اور رحم فرماتے ہوئے ان کو جلا وطن کر دیا جس پر یہ قبیلہ اپنا سارا سازو سامان لے کر مدینہ سے کچھ دور خیبر میں جا کر آباد ہو گیا لیکن ابھی چار مہینے ہی گزرے تھے کہ احسان فراموش اور سازشی کردار کے حامل یہود نے آنحضرت ﷺاور اسلام کے خلاف ایک خوفناک منصوبہ بنایا تاکہ مسلمان مکمل طور پر تباہ ہو جائیں۔
منصوبے کے مطابق بنو نضیر کا سردار حیی بن اخطب جو اپنے غرور اور تکبر اور اسلام کے خلاف کینہ اور جوش کی وجہ سے یہود کا ابوجہل کہلائے جانے کا مستحق ہے اپنے سرکردہ ساتھیوں کے ساتھ مکہ گیا اور ابوسفیان اور دیگر قریشی عمائدین سے ملاقات کی اور قریش کو کہا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم محمد اور ان کے ساتھیوں کا نام و نشان مٹانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہم تمہارے پاس آئے ہیں تا کہ ہم سب مل کر محمد اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ایک معاہدہ کریں۔ مشرکین قریش کو اور کیا چاہئے تھا وہ تو پہلے ہی یہ خونی عزائم رکھتے تھے اور بدر اور احد جیسی جنگی کارروائیاں کر چکے تھے لیکن اپنی دلی مراد پوری نہیں کر سکے تھے۔ بدر کے انتقام اور احد کی ندامت کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔ ابوسفیان نے بنو نضیر کے ان سرداروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ تم اپنے گھر آئے ہو اور تمام لوگوں میں سے ہمیں وہ زیادہ محبوب ہے جو محمد کی دشمنی پر ہماری مدد کرے۔ باہم گفت و شنید کے بعد قریش کے پچاس لوگ اور ان یہود نے خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ کر پختہ عہد کرتے ہوئے قسمیں کھائیں کہ وہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اور ہم سب مل کر محمد اور ان کے ساتھیوں کو ملیا میٹ کر دیں گے۔
بہرحال ابوسفیان کے ساتھ مل کر مدینہ پر ایک زبردست حملہ کرنے کی سکیم اور تاریخ طے کرنے کے بعد بنو نضیر کا یہ وفد عرب کے اُن دوسرے قبائل کی طرف گیا جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور کئی ایک ناکام حملے بھی کر چکے تھے۔ چنانچہ سب سے پہلے وہ بنو غطفان کے پاس گیا یہ ملک عرب میں ایک بہادر قبیلہ شمار ہوتا تھا اور مسلمانوں کے خلاف بغض اور کینے میں نمایاں تھا۔ بنو غطفان نے بھی حمایت کا وعدہ کر لیا اور اپنی طرف سے چھ ہزار فوج کی ضمانت دی۔ اس کے بعد یہود کا یہ گروہ بنو سلیم کے پاس گیا تو اس نے بھی بخوشی حامی بھرلی۔ اسی طرح بنو فزارہ،عیینہ، بنواسد، بنومرہ اور بنواشجع سب نے بنونضیر کی دعوت قبول کی اور مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے۔ یہ سارے وہ قبائل تھے جو اپنی بہادری میں پورے عرب میں ایک نام رکھتے تھے۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ :
مکہ کے قریش اورنجد کے قبائل غطفان وسلیم گوپہلے سے ہی مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور آئے دن مدینہ کے خلاف حملہ آوری کی فکر میں رہتے تھے مگر ابھی تک انہوں نے اپنی طاقتوں کو اسلام کے خلاف ایک میدان میں مجتمع نہیں کیا تھا۔ لیکن جب یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے لوگ اپنی غداری اورفتنہ انگیزی کی وجہ سے مدینہ سے جلاوطن کئے گئے توان کے رئوساء نے اس شریفانہ بلکہ محسنانہ سلوک کوفراموش کرتے ہوئے جو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا تھا آپس میں یہ تجویز کی کہ عرب کی تمام منتشر طاقتوں کو ایک جگہ جمع کر کے اسلام کوملیا میٹ کرنے کی کوشش کی جاوے اورچونکہ یہودی لوگ بڑے ہوشیار وچالاک تھے اور اس قسم کے سازشی کاموں میں خوب مہارت رکھتے تھے اس لئے ان کی مفسدانہ کوششیں بارآور ہوئیں اور قبائل عرب ایک جان ہوکرمسلمانوں کے خلاف میدان میں نکل آئے اور ایک سیل عظیم کی طرح مدینہ پر امڈ آئے اور یہ عزم کیا کہ جب تک اسلام کو صفحہ دنیا سے مٹا نہیں لیں گے واپس نہیں لوٹیں گے۔یہودی رئوسا میں سے سلام بن ابی الحقیق ،حیی بن اخطب اور کنانہ بن الربیع نے اس اشتعال انگیزی میں خاص طورپر حصہ لیا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بارہ میں بیان کرتے ہیں کہ :
یہود کے دو قبیلے جولڑائی، فساد،قتل اور قتل کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے مدینہ سے جلاوطن کر دیئے گئے تھے۔ ان میں سے بنو نضیر کا کچھ حصہ تو شام کی طرف ہجرت کر گیا اور کچھ حصہ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف ہجرت کر گیا۔ خیبر عرب میں یہود کا ایک بہت بڑا مرکز تھا اورایک قلعہ بند شہر تھا۔ یہاں جا کر بنو نضیر نے مسلمانوں کے خلاف عربوں میں جوش پھیلانا شروع کیا۔ مکہ والے تو پہلے ہی مخالف تھے کسی مزید انگیخت کے محتاج نہ تھے۔ اسی طرح غطفان نامی نجد کا قبیلہ جو عرب کے قبیلوں میں بہت حیثیت رکھتا تھا وہ بھی مکہ والوں کی دوستی میں اِسلام کی دشمنی پر آمادہ رہتا تھا۔ اب یہود نے قریش اور غطفان کو جوش دلانے کے علاوہ بنو سلیم اور بنواسد دو اور زبردست قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف اکسانا شروع کیا اور اسی طرح بنوسعد نامی قبیلہ جو یہود کا حلیف تھا اس کو بھی کفارِ مکہ کاساتھ دینے کے لئے تیا رکیا۔ ایک لمبی تیاری کے بعد عرب کے تمام زبردست قبائل کے ایک اتحادِ عام کی بنیاد رکھ دی گئی جس میں مکہ کے لوگ بھی شامل تھے۔ مکہ کے اِردگرد کے قبائل بھی تھے اور نجد اور مدینہ سے شمال کی طرف کے علاقوں کے قبائل بھی شامل تھے اور یہود بھی شامل تھے۔ اِن سب قبائل نے مل کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے ایک زبردست لشکر تیار کیا۔
انکی تعداد کے بارے میں لکھا ہے کہ قریش مکہ چار ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ بنو سلیم سات سو ،بنو فزارہ ایک ہزار ، بنو اشجع چار سو ،بنو مرہ چار سو ،بنو غطفان چھ ہزار کا لشکر لے کر نکلے اور یہود کی طرف سے دو ہزار سے زائد کی ریزرو فوج تھی ان کی تعداد کم سے کم دس ہزار اور بعض روایات کے مطابق چوبیس ہزار کے قریب تھی۔ ان سب کی قیادت ابوسفیان بن حرب کے ہاتھ میں تھی جو اُس وقت تک کی تاریخ عرب کی سب سے بڑی فوجی مہم تھی۔ اس طرح یہ لشکر شوال پانچ ہجری مطابق فروری ومارچ 627ءمیں مدینہ کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ
مختلف مؤرخوں نے اس لشکر کا اندازہ دس ہزار سے چوبیس ہزار تک لگایا ہے لیکن ظاہر ہے کہ تمام عرب کے اجتماع کا نتیجہ صرف دس ہزار سپاہی نہیں ہو سکتا یقیناً چوبیس ہزار والا اندازہ زیادہ صحیح ہے اور اگر اور کچھ نہیں تو یہ لشکر اٹھارہ بیس ہزار کا تو ضرور ہو گا۔ مدینہ ایک معمولی قصبہ تھا اِس قصبہ کے خلاف سارے عرب کی چڑھائی کوئی معمولی چڑھائی نہیں تھی۔ مدینہ کے مرد جمع کر کے جن میں بوڑھے، جوان اور بچے بھی شامل تھے صرف تین ہزار آدمی نکل سکتے تھے۔ اس کے برخلاف دشمن کی فوج بیس اور چوبیس ہزار کے درمیان تھی اور پھر وہ سب کے سب فوجی آدمی تھے۔ جب شہر میں رہ کر حفاظت کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ مگر جب دور دراز مقام پر لشکر چڑھائی کر کے جاتا ہے تو اس میں صرف جوان اور مضبوط آدمی ہوتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: آنحضرت ﷺکا شعبہ جاسوسی بھی اس ساری صورتحال سے بے خبر نہ تھا اور چاروں طرف سے خبریں آپ تک پہنچ رہی تھیں۔ آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا ۔ زیادہ تر رائے یہ سامنے آئی کہ مدینہ کے اندر رہتے ہوئے دفاع کیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ روایات کے مطابق حضرت سلمان فارسیؓنے خندق کا مشورہ دیا۔یہ رائے سب کو اچھی لگی اور آنحضرت ﷺ نے مدینہ کے اندر رہتے ہوئے دفاع کرنے کا فیصلہ فرمایا اور خندق کھودنے کا ارشاد فرمایا۔ بعض کتب سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ خندق کھودنے کا فیصلہ صرف حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے الہاماً نبی کریم ﷺکو یہ طریق بتایا تھا۔
جب ابوسفیان طاقت کے نشے سے چور ایک لشکر جرار لے کر مدینہ کی طرف حملہ آور ہوا اور جب اسے اہل مدینہ کی طرف سے کہیں بھی کوئی روک نظر نہ آئی تو غرور اور تکبر میں اور بھی بڑھ گیا لیکن جب اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے وہ عین مدینہ کے قریب پہنچا تو اچانک اپنے سامنے پانچ کلو میٹر لمبی آٹھ نو فٹ گہری اور چوڑی خندق دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ یہ خندق اتنی گہری اور چوڑی تھی کہ گھوڑوں سے بھی اس کو عبور کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ جب یہ لوگ اس خندق کو عبور کرنے سے عاجز آ گئے تو ابو سفیان نے ایک خط نبی کریم ﷺکو لکھا جس میں اس نے لکھا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ ہمارے مقابلے سے کترا رہے ہو اور اپنے گردا گرد خندقیں کھود لی ہیں۔ اے کاش مجھے معلوم ہو کہ تمہیں یہ طریق کس نے بتایا ہے اور اگر ہم واپس چلے بھی گئے تو یاد رکھنا کہ جنگ احد کا دن پھر ایک بار تمہیں یاد دلا دیں گے کہ جس میں اب تمہاری عورتیں بھی ذبح کی جائیں گی۔ اس کے جواب میں نبی اکرم ﷺ نے ابوسفیان کو لکھا کہ اللہ تعالیٰ اپنا ایسا فیصلہ صادر فرمائے گا کہ تم لات اور عزی کا نام تک بھول جاؤ گے۔ آپ نے لکھا کہ سنو انجام کار خدا ہمیں کامیاب کرے گا اور اے بنو غالب کے احمق یاد رکھو کہ ایک دن آئے گا کہ تمہارا لات عزی عساف نائلہ اور ہبل ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں گے اور اس دن مَیں تمہیں یہ سب یاد دلاؤں گا۔
حضور انور نے فرمایا: باقی تفصیل انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔
فرمایا: آجکل پاکستان کے احمدیوں کو خاص طور پر دعاؤں میں یاد رکھیں۔ پاکستانی احمدی خود بھی دعاؤں کی طرف توجہ دیں صدقات کی طرف توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرے اور مخالفین کے شر سے ان کو بچائے اور شریروں کے شر ان لوگوں پر الٹائے۔ عمومی طور پر دنیا کی بہتری کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ دنیا کو بھی فتنہ و فساد سے بچائے۔ ٭…٭…٭