تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاـ:جرمنی جلسہ سے پہلے خطبہ میں حضرت عائشہ کے واقعہ افک کا بھی ذکر تھا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النّبیین میں واقعہ افک بخاری کی روایت کی روشنی میں بیان کرتے ہیں کہ
یہ روایت ساری روایتوں سے مفصل اورمربوط ہے اور صحت کے لحاظ سے بھی یہ روایت ایسے اعلیٰ ترین مقام پر واقع ہوئی ہے جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں سمجھی جا سکتی۔ اب غور کا مقام ہے کہ یہ کس قدر خطرناک فتنہ تھا جو منافقین کی طرف سے کھڑا کیا گیا۔ اس میں صرف ایک پاک دامن اور نہایت درجہ متقی اورپرہیز گار عورت کی عصمت پر ہی حملہ کرنا مقصود نہ تھا بلکہ بڑی غرض بالواسطہ مقدس بانی اسلام کی عزت کو برباد کرنا اور اسلامی سوسائٹی پر ایک خطرناک زلزلہ وارد کرنا تھا۔ اور منافقین نے اس گندے اور کمینے پراپیگنڈا کو اس طرح پر چرچا دیا تھا کہ بعض سادہ لوح مگر سچے مسلمان بھی ان کے دام تزویر میں الجھ کر ٹھوکر کھا گئے۔ ان لوگوں میں حسان بن ثابت شاعر اور حمنہ بنت جحش ہمشیرہ زینب بنت جحش اور مسطح بن اثاثہ کانام خاص طور پر مذکور ہے۔ مگرحضرت عائشہ کایہ کمال اخلاق ہے کہ انہوں نے ان سب کو معاف کر دیا اوران کی طرف سے اپنے دل میں کوئی رنجش نہیں رکھی۔ چنانچہ روایت آتی ہے کہ اس کے بعد جب کبھی حسان بن ثابت حضرت عائشہ سے ملنے آتے تھے تووہ بڑی کشادہ پیشانی سے ان سے ملتی تھیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں اس بات کو نہیں بھول سکتی کہ حسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں اور کفار کے خلاف شعر کہا کرتا تھا۔
سر ولیم میور نے اس واقعہ کے بیان کرنے میں بہت ساری فاش غلطیاں کیں لیکن اس قدر غنیمت ہے کہ اصل اتہام کے متعلق میور صاحب نے حضرت عائشہ کی معصومیت کااعتراف کیا ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ
عائشہ کی قبل اوربعد کی زندگی بتاتی ہے کہ وہ اتہام سے بری تھیں۔ عقلی اور نقلی طور پریہ اتہام بالکل غلط اورجھوٹ قرارپاتا ہے کیونکہ سوائے اس سراسر اتفاقی واقعہ کے کہ حضرت عائشہ لشکر اسلامی کے پیچھے رہ گئی تھیں اور پھر صفوان کے ساتھ بعد میں پہنچیں اتہام لگانے والوں کے ہاتھ میں قطعاً کوئی بات نہیں تھی۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہ پر الزام لگانے کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ :
ہمیں دیکھنا چاہئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جو الزام لگایا گیا تھا اس کی اصل غرض کیا تھی۔وہ کون کون لوگ تھے جن کو بدنام کرنا منافقوں کے لئے ان کے سرداروں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتا تھا اور کن کن لوگوں سے اس ذریعہ سے منافق اپنی دشمنی نکال سکتے تھے۔ ایک ادنی غور سے بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جا سکتی تھی۔ ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھیں اور ایک کی بیٹی تھیں۔ یہ دونوں وجود ایسے تھے کہ ان کی بدنامی سیاسی لحاظ سے بعض لوگوں کے لئے فائدہ بخش ہو سکتی تھی۔
پس آپ پر الزام یا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کی وجہ سے لگایا گیا یا پھر حضرت ابوبکر صدیق سے بغض کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام حاصل تھا وہ تو الزام لگانے والے کسی طرح چھین نہیں سکتے تھے۔ انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وہ اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے۔ پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے انہوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کے گر جانے کی وجہ سے حضرت ابوبکر کو مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے اور مسلمان آپ سے بد ظن ہو کر اس عقیدت کو ترک کر دیں جو انہیں آپ سے تھی۔ اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر کے خلیفہ ہونے کا دروازہ بالکل بند ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہ پر الزام لگنے کے واقعہ کے بعد خلافت کا بھی ذکر کیا ہے۔
حدیثوں میں صریح طور پر آتا ہے کہ صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ ابو بکر کا ہی مقام ہےاور وہی آپ کا خلیفہ بننے کے اہل ہیں۔ طبعاً منافقوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونے لگا کہ آپ کے بعد کوئی خلیفہ ہو کر نظام اسلامی لمبا نہ ہو جائے اور ہم ہمیشہ کے لئے تباہ نہ ہو جائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے سے قبل اوس اور خزرج نے آپس میں صلح کر لی تھی اور فیصلہ ہوا تھا کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کو مدینہ کا بادشاہ بنا دیا جائے۔ اس فیصلہ کے بعد انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کے لئے تاج بننے کا حکم بھی دے دیا گیا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کر کے مدینہ آجانے سے عبداللہ بن ابی ابن سلول کے لئے جو تاج تیار کروایا جارہا تھا وہ دھرے کا دھرا رہ گیا کیونکہ جب انہیں یعنی مدینہ والوں کو دونوں جہانوں کا بادشاہ مل گیاتو انہیں کسی اور بادشاہ کی کیا ضرورت تھی۔
عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ اس کی بادشاہت کے تمام امکانات جاتے رہے ہیںتو اسے سخت غصہ آیا اور گو وہ بظاہر مسلمانوں میں مل گیا مگر ہمیشہ اسلام میں رخنے ڈالتا رہتا تھا اور چونکہ اب وہ اور کچھ نہیںکر سکتا تھا اس لئے اس کے دل میں اگر کوئی خواہش پیداہو سکتی تھی تو یہی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو میں مدینہ کا بادشاہ بنوں لیکن عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اسے خوف پیدا ہونے لگا کہ اب اسلام کی حکومت ایسے رنگ میں قائم ہوگی کہ اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا وہ ان حالات کو روکنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس کیلئے جب اس نے غور کیا تو اسے نظر آیا کہ اگر اسلامی حکومت کو اسلامی اصول پر کوئی شخص قائم کرسکتا ہے تو وہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نظر انہیں کی طرف اٹھتی ہے اور وہ اسے تمام لوگوں سے معزز سمجھتے ہیں۔ پس اس نے اپنی خیر اِسی میں دیکھی کہ ان کو بدنام کردیا جائے اور لوگوں کی نظروں سے گرادیا جائے بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے بھی آپ کو گرا دیا جائے اور اس بدنیتی کے پورا کرنے کا موقع اسے حضرت عائشہ کے ایک جنگ میں پیچھے رہ جانے کے واقعہ سے مل گیا اور اس خبیث نے آپ پر ایک نہایت گندہ الزام لگا دیا جو قرآن کریم میں تو اشارۃً بیان کیا گیا ہے لیکن حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہے۔ عبداللہ بن ابی بن سلول کی اِس سے یہ غرض تھی کہ اس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں کی نظروں میں بھی ذلیل ہوجائیں گے اور آپ کے تعلقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خراب ہوجائیں گے اور اس نظام کے قائم ہونے میں رخنہ پڑ جائے گا جس کا قائم ہونا اسے یقینی نظر آتا تھا اور جس کے قائم ہونے سے اس کی امیدیں برباد ہوجاتی تھیں۔ کیونکہ منافق اپنی موت کو ہمیشہ دور سمجھتا ہے اور وہ دوسروں کی موت کے متعلق اندازے لگاتا رہتا ہے اس لئے عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی اپنی موت کو دور سمجھتا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا۔ وہ یہ قیاس آرائیاں کرتا رہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں گے تو میں عرب کا بادشاہ بنوں گا لیکن اب اس نے دیکھا کہ ابوبکر کی نیکی اور تقویٰ اور بڑائی مسلمانوں میں تسلیم کی جاتی ہے جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے تشریف نہیں لاتے تو ابوبکر آپ کی جگہ نماز پڑھاتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فتویٰ پوچھنے کا موقع نہیں ملتا تو مسلمان ابوبکر سے فتوی پوچھتے ہیں۔ یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی ابن سلول کو جو آئندہ کی بادشاہت ملنے کی امید لگائے بیٹھا تھا سخت فکر ہوئی اور اس نے چاہا کہ اِس کا ازالہ کرے۔ چنانچہ اِسی امرکا ازالہ کرنے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شہرت اور آپ کی عظمت کو مسلمانوں کی نگاہوں سے گرانے کیلئے اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگادیا تا حضرت عائشہ پر الزام لگنے کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے نفرت پیدا ہو اور حضرت عائشہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت کا یہ نتیجہ نکلے کہ حضرت ابوبکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی نگاہوں میں جو اعزاز حاصل ہے وہ کم ہوجائے اور ان کے آئندہ خلیفہ بننے کا کوئی امکان نہ رہے۔
حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرداران اوس و خزرج کے درمیان صلح کروانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ان کی آپس میں رنجشیں ہو گئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز حضرت سعد بن معاذ کا ہاتھ پکڑا اور چند صحابہ کے ساتھ انہیں لے کر نکلے اور حضرت سعد بن عبادہ کے پاس پہنچے۔ وہاں تھوڑی دیر باتیں کیں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے کھانا پیش کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن معاذ اور دیگر صحابہ نے اس میں سے کھایا۔ پھر آپ تشریف لے گئے۔ اس کے چند دن بعد پھر آپ نے حضرت سعد بن عبادہ کا ہاتھ پکڑا اور چند صحابہ کو ساتھ لے کر حضرت سعد بن معاذ کے گھر گئے۔ حضرت سعد بن معاذ نے کھانا پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ اور دیگر صحابہ نے کھایا پھر آپ واپس تشریف لے گئے ۔ ایسا آپ نے اس لئے کیا تاکہ ان کے دلوں کی کدورت ختم ہو جائے۔
خطبہ کے آخر میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امام محمد بیلو صاحب آف سوڈان کا ذکر خیر فرمایا او رنماز جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
٭…٭…٭