اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-29

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 23؍اگست 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاـ:
الحمد للہ آج جلسہ سالانہ جرمنی شروع ہو رہا ہے۔ اس وقت جرمنی کی جماعت مجھے وہاں جلسہ میں دیکھنا چاہتی تھی لیکن انسان کے ساتھ بشری تقاضے بھی لگے ہوئے ہیں صحت وغیرہ بھی اس کا ایک حصہ ہے اس وجہ سے ڈاکٹر کے مشورے سے آخری وقت میں جرمنی کے سفر کو ملتوی کرنا پڑا اور یہی تجویز ہوا کہ یہاں سے ایم ٹی اے کے ذریعہ سے جلسہ کے پروگراموں میں شامل ہوا جائے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس زمانے کی ایجادوں میں اس نے اس طرح رابطے کے سامان مہیا فرمائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جلسہ اور تمام انتظامات ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور لوگوں کو تمام پروگراموں سے بھرپور استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔
میں تمام ڈیوٹی کرنے والے کارکنان سے کہوں گا کہ سب سے پہلے آپ کا فرض ہے کہ مہمانوں کی بہترین مہمان نوازی کے لئے حتی المقدور خدمت کے جذبہ سے کام کریں۔ ہمیشہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں ہر شعبہ کا کارکن ہنستے ہوئے مہمان کے ساتھ پیش آئے۔ دعائیں کرتے ہوئے کام کریں اور مہمان بھی اس مقصد کو سامنے رکھیں جو جلسہ کا مقصد ہے اسی مقصد کو ہر احمدی کو سامنے رکھنا چاہئے۔ اگر یہ ہو گا تو ہر قسم کی تکلیفوں کو ہر شامل ہونے والا خدا تعالیٰ کی خاطر برداشت کرے گا اور یوں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنے گا۔ اس کی اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق دے۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے انعاموں میں سے یہ ایک بہت بڑا انعام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے کہ سال میں ایک دفعہ ہم جمع ہو کر اپنی روحانی اور اخلاقی ترقی کے سامان بہم پہنچائیں۔ ایسے پروگرام بنائیں جو ہمیں خدا تعالیٰ سے قریب کرنے والے اور تقویٰ میں بڑھانے والے ہوں۔ اس ارادے اور نیت سے دن گزاریں کہ ہم نے اعلیٰ اخلاق اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں۔ آپس میں محبت پیار اور تعلق کو بڑھانا ہے۔ رنجشوں کو دور کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنی ہے ہر قسم کی لغویات سے اپنے آپ کو بچانا ہے اور یہی وہ چیزیں ہیں جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم سے توقع کی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو خدا تعالیٰ کو پسند ہے اور جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں انسان بنایا ہے اور اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ پس جلسہ پر آنے والے ہر احمدی کو ہمیشہ یہ باتیں پیش نظر رکھنی چاہئیں۔ اگر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش نہیں ہو رہی اگر تقویٰ میں ترقی کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی اگر اخلاق کے اعلیٰ نمونے دکھانے کی کوشش نہیں ہو رہی اگر بندوں کے حقوق ادا نہیں ہو رہے تو پھر جلسے پر آنے کا مقصد ہی پورا نہیں ہوتا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں صرف انہی کے حق میں پوری ہوں گی جو اس مقصد کو سمجھ رہے ہوں گے۔ اس غرض کو سمجھ رہے ہوں گے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسے کا اجرا فرمایا تھا۔ آپ فرماتے ہیں :
میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حال کے پیرزادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھانے کے لئے اپنے مبائعین کو اکٹھا کروں بلکہ وہ علت غائی جس کے لئے میں حیلہ نکالتا ہوں اصلاح خلق اللہ ہے۔
پس ہر احمدی کو ان باتوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ اگر لوگ اس مقصد کو حاصل نہیں کرتے جو جلسہ کا مقصد ہے کہ تقویٰ پیدا کیا جائے تو پھر جلسہ پر آنے کا کوئی مقصد نہیں اور جلسہ منعقد کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول ﷺکی محبت دل پر غالب آ جائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہوجائے جس سے سفر آخرت مکروہ معلوم نہ ہو۔
پس یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم پہ ڈالی ہے یہ کتنی بڑی توقع ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم سے کی ہے کہ اپنی تمام محبتوں پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی محبت کو غالب کریں۔ کوئی ایسی محبت نہ ہو دنیاوی جو اس محبت کا مقابلہ کر سکے۔ پس یہ دلوں میں اگر ہمارے بات بیٹھ جائے گی تو پھر ہی ہماری دنیا بھی سنور جائے گی اور دین بھی سنور جائے گا۔ آخرت بھی سنور جائے گی اور یہ دنیا بھی سنور جائے گی۔
پس اس بات کو ہمیشہ شامل ہونے والوں کو سامنے رکھنا چاہئے اور ان تین دنوں میں اس کی جگالی کرتے رہنا چاہئے۔ اس کو بار بار دہراتے رہنا چاہئے۔ بار بار اپنے ذہن میں لاتے رہنا چائے۔ اگر یہ چیز آپ کر لیں گے تو پھر سمجھیں کہ آپ نے جلسہ پر آنے کے مقصد کو پا لیا اور اگر نہیں تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرنے والے نہیں ہوں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا سے مفقود ہو گئی تھی اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانے میں پائی نہیں جاتی تھی اسے دوبارہ قائم کرے۔
پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں:
اے وہ تمام لوگوجو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جا گے جب سچ مچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یاد رکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت اللہ فرماتا ہے۔رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ۔ جب دل خدا کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کا ذکر ہر احمدی کو ہمہ وقت مدنظر ہونا چاہئے ہمیشہ یہ کوشش ہو کہ میں ہر عمل خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق کرنے والا بنوں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنی زبان کو بھی تر رکھوں اور ہر اس کام سے بچنے والا بنوں جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں روکا ہے۔
پس آج یہ عہد کریں کہ ہم نے جو عہد بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے باندھا ہے اس کو ہم پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے زیر اثر اور آپ کے مشن کو پورا کرتے ہوئے ایمان کو ثریا سے لانے کے لئے اپنی بھرپور کوشش کریںگے نہ کہ اپنے ایمانوں کو بھی کم کر کے دنیاداری میں پڑ جائیں اور ہمیشہ قرآنی تعلیم پر عمل کریں گے تا کہ ہم خیر امت میں سے شمار ہوں۔ اس امت میں شمار ہوں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خیر رکھی ہے اور اپنے ہر عمل سے اس کے پاک نمونے قائم کریں گے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ اب یہ ایمان اور یہ تعلیم ہمارے دلوں کا ہمارے عملوں کا ہمیشہ کے لئے حصہ بنی رہے گی۔ انشاء اللہ۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہاں بہت سے علمی تربیتی اور روحانی بہتری پیدا کرنے کے لئے بھی تقاریر ہوں گی۔ انہیں بھی سنیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ان تقریروں کو سنتے ہوئے عہد کریں اور مدد مانگیں کہ اے خدا ہم نیک نیت ہو کر تیرے مسیح کے بلانے پر دلوں کی اصلاح کے لئے حاضر ہوئے ہیں لیکن یہ اصلاح ہم اپنے زور بازو سے نہیں کر سکتے۔ تیری مدد کی ضرور ت ہے۔ اگر ایاک نستعین کی دعا سنتے ہوئے تو نے ہماری مدد نہ کی تو ہم تیری عبادت کے معیار حاصل نہیں کر سکتے۔ پس یہ دعا کریں کہ اے میرے خدا اے میرے پیارے خدا تجھ کو تیرا ہی واسطہ کہ ہمیں ضائع ہونے سے بچا لے۔ جس نیک مقصد کے لئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اس سے ہمیں بیشمار حصہ دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ جمع ہونے والے آپس میں تعارف بڑھائیں ۔ پس ان دنوں میں تعلقات بڑھانے میں محبت کو فروغ دینے میں آپس میں سلامتی کو پھیلانے میں بہت زیادہ زور دیں۔ اگر کسی وجہ سے کوئی رنجش پیدا ہو چکی ہے تو انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے جو پرانے لڑائی جھگڑے ہیں ان پر بھی ایک دوسرے سے معذرتیں کریں اور معافیاں مانگیں۔ ذاتی اناؤں کے جال سے نکل جائیں۔ آنحضرت ﷺکے حکم پر عمل کرنے والے بنیں کہ ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان کو اس کی زبان اور ہاتھ سے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کہ ہم جلسہ کی برکات سے فائدہ اٹھانے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان تین دنوں میں خاص طور پر اور ہمیشہ آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور اپنے فضلوں کی بارش برساتا رہے اور دعاؤں کی توفیق بھی دیتا رہے۔ ٭…٭…٭