اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-22

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 16؍اگست 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاـ:گذشتہ کچھ خطبات سے غزوہ بنو مصطلق کا ذکر ہو رہا تھا ۔
رسول اللہ ﷺچاک و چوبند صحابہ کو چاک و چوبند اور تازہ دم رکھنے کا بڑا اہتمام فرماتے تھے۔ آپ ان کے مابین وقتاً فوقتاً کھیل کے ایسے مقابلے کراتے رہتے جن میں شجاعت جوانمردی ایمانی اور جہادی تربیت کا پہلو غالب تھا۔ گویا کہ کھیلوں کے مقابلے ہوا کرتے تھے چنانچہ بنو مصطلق سے واپسی پر جب آپ ﷺ نقیع پہنچے تو اُسی روز آپ نے صحابہ کے مابین گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ کا مقابلہ بھی کروایا۔ اسی جگہ آنحضرت ﷺکا حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑ کے مقابلے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ آنحضرت ﷺحضرت عائشہ سے آگے نکل گئے پھر اُن سے فرمایا یہ اُس دفعہ کا بدلہ ہے جب تم مجھ سے آگے نکل گئی تھی۔ آپؐنے ایک گذشتہ واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا جس میں کہ آپؐحضرت عائشہ کو پکڑنے کے لئے ان کے پیچھے بھاگے مگر وہ ہاتھ نہ آئیں اور نکل گئیں۔ حضور انور نے فرمایا: یہ وہ گھریلو باتیں ہیں جو گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے آپ کیا کرتے تھے۔ ہر کام میں آپ ﷺنے ہمارے سامنے اپنا اسوہ قائم فرمایا ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے بھی اسوہ ہے جو اپنی بیویوں پر بڑی سختیاں کرتے ہیں۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم ﷺسبھی اپنی بیویوں کے ساتھ پھرتے تھے۔ پھر آپ نے رسول کریم ﷺاور حضرت عائشہ کے مابین دوڑ کے مقابلہ کا ذکر فرمایا ۔ پھر فرمایاغرض رسول کریم ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ پھرنا معیوب خیال نہیں فرماتے تھے اور جس بات کی اجازت اسلام نے دی ہے اس کو عیب نہیں کہا جا سکتا۔ حضور انور نے فرمایا: اب بھی بعض ہیں جو غلط قسم کی شرم رکھتے ہیں جو بڑا فرق رکھتے ہیں بیویوں کے ساتھ ،خود آگے جا رہے ہیں بیویاں پیچھے جا رہی ہیں ۔ فرمایا: یہ حسن سلوک ہے جو عورتوں سے اسلام نے سکھایا ہے جس کا نمونہ آنحضرت ﷺنے قائم فرمایا۔
حضور انور نے فرمایا: اس سفرمیں واقعہ افک کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یعنی وہ واقعہ جس میں منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹی تہمت لگائی تھی۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عائشہ واقعہ افک کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ اس غزوہ سے پہلے پردے کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ مجھے میرے ہودج میں سوار کیا جاتا اور اسی میں اتارا جاتا۔ ہم سفر کرتے رہے یہاں تک کہ واپسی پر رسول اللہ ﷺنے ایک رات کوچ کرنے کا اعلان فرمایا۔ میں اُٹھی اور لشکر کو پار کرکے حوائج ضروریہ کےلئے دور چلی گئی۔ پھر میں واپس ہوئی اور اپنی سواری کی طرف بڑھی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرا ہار ظفار کے نگینوں کا کہیں ٹوٹ کر گر گیا۔ میں واپس لوٹی اور اپنا ہار ڈھونڈھنے لگی۔ میں نے اپنے ہار کو پا لیا پھر مَیں پڑاؤ کی جگہ پر واپس آئی لیکن لشکر جاچکا تھا۔ میں اپنی اس جگہ پر چلی گئی جہاں میں تھی۔ میں نے خیال کیا کہ وہ گم پائیں گے تو میرے پاس واپس لوٹ آئیں گے۔ اس دوران کہ میں اپنی جگہ بیٹھی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور سو گئی۔ صفوان بن معطل سلمی زکوانی لشکر کے پیچھے تھے۔ ان کی ڈیوٹی تھی کہ وہ لشکر کے پیچھے رہیں تا کہ گری پڑی چیزوں کو اکٹھا کر کے لے آئیں۔ وہ میرے ٹھکانے کے قریب صبح کو پہنچے تو انہوں نے مجھے پہچان لیا۔ پردہ کے حکم سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا ہوا تھا۔ ان کے انا اللہ پڑھنے سے مَیں بیدار ہو گئی۔ میں نے اپنی چادر سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا اور اللہ کی قسم ہم نے ایک بات بھی نہ کی اور نہ ہی میں نے ان سے کوئی بات سنی سوائے ان کے انا للہ پڑھنے کے۔ وہ مجھے اونٹنی پر سوار کرکے چل پڑے یہاں تک کہ ہم سخت گرمی میں عین دوپہر کے وقت لشکر تک پہنچ گئے اور لوگوں نے پڑاؤ کیا ہوا تھا۔
حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ ہلاک ہو گیا جو ہلاک ہو گیا یعنی بہتان باندھنے کی وجہ سے اور وہ جس نے بہتان کا بڑا حصہ لیا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بہتان باندھنے والوں میں حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کا نام لیا گیا۔ حضور انور نے فرمایا: مگر وہ ایک گروہ تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار وہ تھا جو عبداللہ بن ابی بن سلول کہلاتا ہے۔ لیکن حضرت عائشہ ناپسند کرتی تھیں کہ حضرت حسان کو برا کہا جائے اور فرماتی تھیں کہ حضرت حسان وہ ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ میرا باپ اور میرے باپ کا باپ اور میری آبرو محمد ﷺکی آبرو کے لئے تمہارے یعنی کفار کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ ہم مدینہ میں پہنچے تو میں مہینے بھر بیمار رہی۔ لوگ بہتان باندھنے والوں کی بات میں لگے رہے۔ میں اس سے متعلق کچھ نہیں جانتی تھی اور جب مجھے بہتان لگانے والوں کے بارے میں معلوم ہوا تو میری بیماری اور بڑھ گئی۔ ایک روز میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے ماں باپ کے پاس جاؤں۔ مَیں چاہتی تھی کہ مَیں اپنے ماں باپ سے خبر کی پختگی کے بارے میں معلوم کروں۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی ماں سے کہا اے میری پیاری ماں لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں۔ ماں نے کہا بیٹی حوصلہ رکھو۔ جب حسین و جمیل عورت کسی شخص کے پاس ہو جس سے وہ محبت رکھتا ہو اور اس کی سوکنیں ہوں تو وہ اس کے خلاف بہت کچھ کہتی ہیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں ساری رات روتی رہی یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت اسامہ بن زید کو بلایا اور دونوں سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت اسامہ نے کہا یہ سراسر جھوٹ ہے اور بے بنیاد ہے۔ حضرت علی نے کہا خادمہ سے پوچھئے آپ سے سچ کہے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو بلایا۔ آپؐنے فرمایا اے بریرہ کیا تم نے عائشہ کے متعلق کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تمہیں شک میں ڈالتی ہو۔ بریرہ کہنے لگی کہ اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے ان میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس کو میں معیوب سمجھتی ہوں۔
آنحضرت ﷺ نے ام ایمن اور اپنی زوجہ مطہرہ حضرت زینب بنت جحش سے بھی دریافت فرمایا۔ سب نے آپ کو نیک اور پاک قرار دیا۔
علامہ ابن اسحاق کہتے ہیں حضرت ابوایوب خالد بن زید انصاری کی بیوی ام ایوب نے ان سے کہا کہ اے ابو ایوب تم سنتے ہو کہ لوگ عائشہ کے حق میںکیا کہہ رہے ہیں۔ ابو ایوب نے کہا ہاں میں نے سنا ہے اور یہ سب جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب کیا تم ایسا فعل کر سکتی ہو۔ ام ایوب نے کہا خدا کی قسم میں ایسے فعل کی مرتکب نہیں ہو سکتی تو ابوایوب نے کہا پھر عائشہ تم سے کہیں زیادہ افضل اور بہترہے۔ وہ کب ایسے فعل کی مرتکب ہو سکتی ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ اس موقع پر ایک انصاری آدمی نے کہا اے اللہ توپاک ہے۔ یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم اس بات کو آگے دہرائیں۔ یہ بہت بڑا بہتان ہے۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں دو راتیں اور ایک دن روتی رہی۔ نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ رونا میرے جگر کو پھاڑ دینے والا ہے۔ اس اثنا میں جبکہ میرے ماں باپ میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی رسول اللہ ﷺہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے سلام کہا پھر بیٹھ گئے حالانکہ جب سے یہ واقعہ ہوا تھا آپؐپاس نہیں بیٹھتے تھے سلام کرکے اور حال پوچھ کے چلے جاتے تھے۔ ایک مہینے تک آپ کو میرے معاملے کی نسبت کوئی وحی نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺنے تشہد پڑھا جب آپؐہمارے پاس بیٹھے پھر فرمایا اما بعد اے عائشہ دیکھو تمہارے متعلق مجھے یہ یہ بات پہنچی ہے سو اگر تم بری ہو تو اللہ ضرور بری کر دے گا اور اگر تم سے کوئی لغزش ہو گئی ہو تو اللہ سے استغفار کرو اور اس کے حضور توبہ کرو کیونکہ بندہ جب اعتراف کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ اس پر رجوع برحمت ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺکو میری طرف سے جواب دیں میرے باپ نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺسے کیا کہوں۔ پھر میں نے اپنی ماں سے کہاکہ آپ جواب دیں میری ماں کہنے لگی اللہ کی قسم میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺسے کیا کہوں پھر میں نے خود ہی جواب دیا۔ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ اگر میں آپ لوگوں سے کہوں کہ میں بری ہوں تو آپ لوگ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں کسی بات کا اعتراف کروں تو آپ لوگ مجھے سچا سمجھ لیں گے اللہ کی قسم میں اپنے لئے اور آپ کے لئے نہیں پاتی کوئی مثال سوائے یوسف کے باپ کی مثال کے جب انہوں نے کہا تھا فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ۔کہ اب اچھی طرح صبر کرنا ہی میرے لئے مناسب ہے اور جو بات تم بیان کرتے ہو اس کے تدارک کے لئے اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے اور اسی سے مدد مانگی جائے گی۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺاپنے بیٹھنے کی جگہ سے نہیں ہٹے اور نہ گھر والوں میںسے کوئی ہٹا کہ آپ پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی آپ سے پسینہ موتیوں کی طرح ٹپکنے لگا اور وہ سردی کے دن تھے۔ آپ کو چادر اوڑھا دی گئی اور سر مبارک کے نیچے چمڑے کا تکیہ رکھ دیا گیا۔ جب رسول اللہ ﷺکی وہ کیفیت ختم ہو گئی تو حضور ﷺ بیٹھ کر پیشانی پر سے پسینہ صاف کرنے لگے۔ پہلی بات جو آپ نے کہی وہ یہ تھی کہ اَے عائشہ اللہ نے تجھے بری کر دیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے میری برأت میں سورہ نور کی آیات نازل فرمائیں تو حضرت ابوبکر جو مسطح بن اثاثہ کو خرچ دیا کرتے تھے کہا کہ اللہ کی قسم میں مسطح پرکبھی خرچ نہیں کروں گا بعد اسکے جو اس نے عائشہ کے بارے میں کہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور تم میں سے دین و دنیا میں فضیلت رکھنے والے اور کشائش رکھنے والے لوگ اپنے قریبیوں اور مسکینوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔ اس پر حضرت ابوبکر مسطح کو وہ خرچ دوبارہ دینے لگے جو اس پر خرچ کیا کرتے تھے اور کہا اللہ کی قسم میں اس سے کبھی نہیں ہٹوں گا۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور نے فرمایا: بنگلہ دیش اور پاکستان کے احمدیوں کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کے حالات جلد بہتر فرمائے۔ فلسطین کے مظلوموں کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی حالت پر بھی رحم فرمائے۔ اللہ تعالیٰ مسلم امہ پر رحم فرمائے۔
…٭…٭…٭…