اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-08-15

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 9 ؍اگست 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاـ:جلسہ سے پہلے جنگ مریسیع کا ذکر ہو رہا تھا۔جنگ کے اختتام پر آنحضرت ﷺ نے چند دن تک مریسیع میں قیام فرمایا مگر اس قیام کے دوران منافقین کی طرف سے ایک ایسا ناگوار واقعہ پیش آیا جس سے قریب تھا کہ کمزور مسلمانوں میں خانہ جنگی تک نوبت پہنچ جاتی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موقع شناسی اور مقناطیسی اثر نے اس فتنہ کے خطرناک نتائج سے مسلمانوں کو بچا لیا۔
جب منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی بن سلول کو جو اِس غزوہ میں شامل تھا اس واقعہ کی اطلاع پہنچی تواِس بدبخت نے اِس فتنہ کوپھر جگانا چاہا اور اپنے ساتھیوں کو آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف بہت کچھ اکسایا اور بالآخر اس بدبخت نے یہاں تک کہہ دیا کہ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَۃِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ۝۰ۭیعنی دیکھو تو اب مدینہ میں جاکر عزت والا شخص ذلیل شخص کو اپنے شہر سے باہرنکال دیتا ہے یا نہیں؟ اُس وقت ایک مخلص مسلمان بچہ زید بن ارقم بھی وہاں بیٹھا تھا اُس نے عبداللہ کے منہ سے آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ الفاظ سنے تو بے تاب ہو گیا اور فوراً اپنے چچا کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ آپ نے عبداللہ بن ابی اوراس کے ساتھیوں کو بلوا بھیجا اور اُن سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ سب قسمیں کھا گئے کہ ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔ بعض انصار نے بھی بطریق سفارش عرض کیا کہ زیدبن ارقم کو غلطی لگی ہو گی۔ آپ نے اُس وقت عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بیان کوقبول فرما لیا اور زید کی بات ردّ کر دی جس سے زید کو سخت صدمہ ہوا ۔
آنحضرتﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا کہ اِسی وقت لوگوں کو کوچ کاحکم دے دو، یہ وقت دوپہر کا تھا، جس وقت کہ آنحضرت ﷺگرمی کی شدت کے باعث عموماً کوچ نہیں فرمایا کرتے تھے۔اسید بن حضیر انصاری جو قبیلہ اوس کے نہایت نامور رئیس تھے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ آپ تو عموماً ایسے وقت میں سفر نہیں فرمایا کرتے آج کیا معاملہ ہے؟اس پر آپؐنے جو واقعہ گزرا تھا بتایا۔ اس پر اُسید نے بے ساختہ عرض کیا واللہ عزت والے آپ ہیں اور وہی ذلیل ہے۔ پھر اسید بن حضیر نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کے تشریف لانے سے قبل عبداللہ بن ابی اپنی قوم میں بہت معزز تھا اور اس کی قوم اس کو اپنا بادشاہ بنانے کی تجویز میں تھی جو آپؐکے تشریف لانے سے خاک میں مل گئی۔ پس اس وجہ سے اُس کے دل میں آپ کے متعلق حسد بیٹھ گیا ہے۔اس لئے اس سے درگزر فرماویں۔
عبداللہ بن ابی کے بیٹے کو جب یہ ساری بات معلوم ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر آپ میرے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو مجھے حکم دیں۔یا سرسول اللہ اگر آپ میرے علاوہ کسی اور کو قتل کا حکم دیں تو ممکن ہے کہ میں اپنے باپ کے قاتل کو لوگوں میں چلتا پھرتا دیکھوں اور اسے قتل کر دوں اور آگ میں داخل ہو جاؤں۔ آنحضرت ﷺ فرمایا اَے عبداللہ نہ میں نے اسکے قتل کا ارادہ کیا ہے اور نہ کسی کو اس کا حکم دیا ہے۔ ہم ضرور اس کے ساتھ حسن سلوک کریں گے جب تک وہ ہمارے درمیان ہے۔
جب آنحضرت ﷺ نے کوچ کا حکم دیا تو دوران سفرحضرت زید بن ارقم نبی کریم ﷺ کے پہلو کی جانب اپنی سواری پر تھے۔ اُس وقت نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی۔حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ جب آپﷺ سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے میرا کان پکڑا اور میں اپنی سواری پر تھا ، آپ ﷺ فرمانے لگے اَے لڑکے تیرے کان نے وفا کی اور اللہ نے تیری بات کی تصدیق کر دی۔
ایک روایت میںہے کہ جب سورۃ المنافقون نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے زید کو بلا بھیجا اور آپؐنے وہ آیات تلاوت فرمائیں اور فرمایا ان اللہ قد صدقک۔ یعنی اللہ نے تمہیں سچ کر دیا ہے۔ سورہ منافقون نازل ہونے کے بعد حضرت عبادہ بن صامت عبد اللہ بن ابی کے پاس سے گزرے تو اسے سلام تک نہیں کیا۔ پھر اوس بن خولی گزرے تو انہوں نے بھی سلام نہیں کیا۔ یہ دیکھ کر عبد اللہ بن ابی کہنے لگا کہ یہ کیسا معاملہ ہے جس پر تم دونوں نے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ اس پر دونوں نے اسے خوب جھڑکا۔ اوس بن خولی کہنے لگے اب میں تیرے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کروں گا جب تک میں یہ نہ جان لوں کہ تو اپنی حرکتوں سے باز آ گیا ہے اور تو نے اللہ سے توبہ کر لی ہے۔ ہم لوگ تیری خاطر زید بن ارقم کو کوستے رہے کہ تم نے اپنی قوم کے ایک آدمی کے بارے میں غلط بیانی کی ہے یہاں تک کہ زید کی تصدیق ہوگئی اور تیرے جھوٹ پر آیات قرآنی کی مہر لگ گئی۔
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو کوچ کا حکم دیا تو عبداللہ بن ابی کے بیٹے حضرت عبداللہ لوگوں سے آگے آ کرمدینہ کے راستے پر کھڑے ہو گئے اور جب والد کو دیکھا تو اُس کو روک لیا اور کہا کہ میں تمہیںمدینہ میں داخل ہونے نہیں دونگا جب تک تم یہ اقرارنہ کر لو کہ تم ذلیل ترین ہو اور محمد ﷺ سب سے زیادہ عزت دار ہیں۔ عبداللہ نے اس اصرار سے اپنے باپ پر زور ڈالا کہ آخر اس نے مجبور ہوکر یہ الفاظ کہہ دیئے جس پر عبداللہ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔
جب واپسی کا کوچ شروع ہواتواس دن کا بقیہ حصہ اورساری رات اور اگلے دن کا ابتدائی حصہ لشکر اسلامی برابر لگاتار چلتا رہا اور جب بالآخر ڈیرہ ڈالا گیا تو لوگ اس قدر تھک کر چور ہو چکے تھے کہ قیام کرتے ہی ان میں سے اکثر گہری نیند سو گئے۔ اوراس طرح آنحضرت ﷺ کی بیدار مغزی سے لوگوں کی توجہ اس ناگوار واقعہ کی طرف سے ہٹ کر ایک لمبے وقفہ تک دوسری طرف لگی رہی اوراللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو منافقین کی فتنہ انگیزی سے بچا لیا۔
دراصل منافقین مدینہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ جس طرح بھی ہوسکے مسلمانوں میں خانہ جنگی اور باہمی انشقاق کی صورت پیدا کر دیں۔ نیز اگر ممکن ہو تو ان کی نظر میں آنحضرت ﷺکی عزت کو کم کر دیں۔ مگر اسلام اور آنحضرت ﷺ کی مقناطیسی شخصیت نے مسلمانوں میں ایسا رشتہ اتحاد پیدا کر دیا تھا کہ کوئی سازش اس میں رخنہ انداز نہیں ہو سکتی تھی اور آنحضرت صلیﷺ کی ذات کے متعلق تو مسلمانوں کے دلوں میں عزت واحترام اخلاص وایمان اور محبت وعشق کے وہ جذبات راسخ ہو چکے تھے کہ انہیں متزلزل کرنا کسی بشر کی طاقت میں نہیں تھا۔ چنانچہ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین نے دو جاہل مسلمانوں کے ایک وقتی جھگڑے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صحابہ میں اختلاف وانشقاق کا بیج بونے اور آنحضرت ﷺکی محبت ورعب کو صدمہ پہنچانے کی کوشش کی مگر اُسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور خدا نے اسے خود اس کے بیٹے کے ہاتھوں سے وہ ذلت کاپیالہ پلایا جو اسے غالباً مرتے دم تک نہ بھولا ہو گا۔
اس سفر کے دوران ایک واقعہ یہ بھی ہوا کہ واپسی پر مدینہ سےچالیس کلو میٹر کے فاصلہ پر آنحضرت ﷺ ایک چشمہ پر اُترے۔ مسلمانوں نے اپنے جانوروں کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور اس دوران شدید آندھی آگئی۔ آندھی کی وجہ سے حضور ﷺ کی اونٹنی قصوۃ گم ہو گئی ۔ مسلمان اسے ہر سمت تلاش کرنے لگے۔ بنو قینقاع کا ایک منافق زید بن لصیت بھی ایک جماعت میں تھا۔یہ بظاہر تو مسلمان ہو چکا تھا لیکن اندر سے یہودی تھا۔ اس نے کہا لوگ کیوں بھاگتے پھر رہے ہیں۔اس کے ساتھیوںنے کہا کہ یہ حضور اکرم ﷺ کی اونٹنی تلاش کر رہے ہیں جو گم ہو گئی ہے۔ لصیت نے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بتا کیوں نہیں دیتا کہ وہ فلاں جگہ ہے۔ انہوں نے کہا تُو منافق ہے۔حضرت اسید بن حضیر نےکہا دشمنِ خدا تیرے دل میں یہ نفاق تھا تو پھر تو ہمارے ساتھ کیوں نکلا۔ اُس نے کہا میں دنیاوی سامان کے حصول کے لئے نکلا ہوں۔ لصیت نے کہا کہ بخدا حضور اکرم ﷺ تو ہمیں اس سے بڑے بڑے امور کے بارے میں بتاتے ہیں، بھلا وہ اس اونٹنی کے بارے میں نہیں بتا سکتے؟ اس کے ساتھی اس کی طرف لپکے اور کہا کہ بخدا اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تمہارے دل میں ایسے خیالات ہیں تو ہم اور تم ایک لمحے کے لئے بھی اکٹھے نہ ہوتے۔ اب ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔لصیت خوف کے مارے وہاں سے بھاگ گیاکہ کہیں صحابہ اس پر حملہ نہ کر دیں۔ وہ صحابہ سے چھپتا ہوا بھاگ کر آنحضرت ﷺ کی مجلس میں پناہ حاصل کرنے کے لئے بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ کو اِس بارے میں وحی نازل ہو چکی تھی۔ آپؐنے فرمایا منافقین میں سے ایک شخص اس مصیبت پر خوشیاں منا رہا ہے کہ رسول اللہ کی اونٹنی گم ہو گئی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کیوں نہیں بتا دیتا کہ وہ فلاں جگہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے علاوہ غیب کوئی نہیں جانتا۔اس نے مجھے اونٹنی کے بارے میں بتا دیا ہے۔ آپؐنے فرمایا کہ اونٹنی سامنے والی گھاٹی میں ہے۔ اس کی مہار درخت کے ساتھ اُلجھ گئی ہے۔ صحابہ کرام اُس طرف گئے اور اُسے اُسی طرح پایا جس طرح آپؐنے انہیں بتایا تھا۔ جب لصیت نے یہ باتیں سنیں تو مبہوت ہو گیا۔ جلدی سے اٹھ کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیااور دریافت کیا کہ کیا تم میں سے کسی نے حضور ﷺ کو میری بات بتائی ہے؟ انہوں نے کہا بخدا نہیں بتائی ۔ ہم تو اپنی مجلس سے اٹھ کر بھی نہیں گئے۔لصیت نے اُنہیں وہ سب کچھ بتایا جو رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا۔ اس نے کہا مجھے آپﷺ کے معاملے میں شک تھا۔ اب میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیںگویا کہ میں نے آج ہی اسلام قبول کیا ہے۔ صحابہ کرام نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ وہ تمہارے لئے بخشش طلب کریں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور بخشش طلب کی اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا۔
حضور انور نے بنگلہ دیش اور پاکستان کے احمدیوں کے لئے ، نیز مظلوم فلسطینیوں کے لئے دعا کی تحریک فرمائی اور آخر پر دو مرحومین کا ذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔ فرمایا :پہلا ذکر مکرم ذکاء الرحمان صاحب شہید کا ہے۔27جولائی کو تقریباً ساڑھے نو بجے دو نامعلوم افراد نے ان کے کلینک میں داخل ہو کر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں یہ موقع پر شہید ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ڈاکٹر ذکاء الرحمن صاحب شہید کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ حضرت حافظ احمد دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ساکن چک سکندر کے ذریعہ سے ہوا جو تین سو تیرہ اصحاب میں شامل تھے۔شہید مرحوم نے مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ بوقت شہادت بطور صدر جماعت خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ چندہ جات میں باقاعدہ غریبوں محتاجوںکی امداد کرنے والے وجود تھے۔مالی قربانی ان کا ایک نمایاں وصف تھا۔ عہدیداروں اور خلافت کی اطاعت کا خلق بھی بہت نمایاں تھا۔
اس کے بعد حضور انور نے مکرمہ سیدہ بشیر صاحبہ اہلیہ ملک بشیر احمد صاحب کا ذکر خیر فرمایا اور آپ کے اوصافِ حمیدہ بیان فرمائے۔
…٭…٭…٭…