تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:غزوہ بنو مصطلق کا ذکر گذشتہ خطبہ میں ہوا تھا۔ صحیح بخاری میں روایت آتی ہے کہ نبی کریم ﷺنے بنو مصطلق پر حملہ کیا تو وہ غافل تھے جبکہ مؤرخین اور سیرت نگار لکھتے ہیں کہ غفلت کی حالت میں آنحضرت ﷺنے حملہ نہیں کیا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ:صحیح بخاری میں ایک روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بنو مصطلق پرایسے وقت میں حملہ کیا تھا کہ وہ غفلت کی حالت میں اپنے جانوروں کو پانی پلارہے تھے۔ مگر غور سے دیکھاجائے تویہ روایت مؤرخین کی روایت کے خلاف نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ دو روایتیں دومختلف وقتوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی واقعہ یوں ہے کہ جب اسلامی لشکر بنو مصطلق کے قریب پہنچا تواس وقت چونکہ ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمان بالکل قریب آگئے ہیں، گوانہیں اسلامی لشکر کی آمد آمد کی اطلاع ضرور ہوچکی تھی وہ اطمینان کے ساتھ ایک بے ترتیبی کی حالت میں پڑے تھے اوراسی حالت کی طرف بخاری کی روایت میں اشارہ ہے لیکن جب ان کو مسلمانوں کے پہنچنے کی اطلاع ہوئی تو فوراً صف بند ہوکر مقابلہ کے لئے تیار ہوگئے اوریہ وہ حالت ہے جس کا ذکر مورخین نے کیا ہے۔ اس اختلاف کی یہی تشریح علامہ ابن حجر اوربعض دوسرے محققین نے کی ہے اوریہی درست معلوم ہوتی ہے۔
حضور انور نے فرمایا: اس غزوہ میں صرف ایک صحابی شہید ہوئے اور یہ بھی غلطی سے ایک مسلمان کے ہاتھ ہی شہید ہوئے تھے۔ ان کا نام حضرت ہشام بن صبابہ تھا۔ انہیں ایک انصاری صحابی حضرت اوس نے مشرکین میں سے سمجھا اور غلطی سے شہید کر دیا۔ ہشام کا بھائی جو کہ مکہ میں مقیم تھا اور اس کا نام مقیس بن صبابہ تھا وہ مدینہ آیا اور اسلام قبول کر لیا اور اپنے بھائی کے قتل کی دیت کا مطالبہ کیا جس پر آنحضرت ﷺ نے ہشام کے بھائی مقیس بن صبابہ کو حضرت اوس سے دیت دلوا دی جو اس نےلے لی لیکن دیت لینے کے بعد مقیس نے حضرت اوس کو اپنے بھائی کے قتل کی وجہ سے قتل کر دیا اور مرتد ہو کر قریش سے جا ملا۔
حضور انورنے فرمایا: لگتا ہے پلاننگ کرکے آیا تھا۔ آنحضرت ﷺنے اس ناحق قتل کے قصاص میں اس کو قتل کرنے کا فیصلہ دیا۔ چنانچہ ایک صحابی نمیلہ نے فتح مکہ کے روز مقیس کو قتل کیا۔
اِس جنگ کے دوران فرشتوں کے ذریعہ تائید کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ام المؤمنین حضرت جویریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺہمارے پاس تشریف لائے ہم مریسیع پر تھے۔ میں نے اپنے والد کو سنا وہ کہہ رہے تھے اتنا بڑا لشکر آ گیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی سکت ہم میں نہیں اور میں خود اتنے زیادہ لوگ ہتھیار اور گھوڑے دیکھ رہی تھی کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ جب میں نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺنے مجھ سے شادی کر لی اور ہم واپس آ گئے تو میں مسلمانوں کو دیکھنے لگی۔ وہ مجھے پہلے کی طرح زیادہ تعداد میں نظر نہیں آئے جو جنگ کے دوران نظر آ رہے تھے، تو میں نے جانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رعب تھا جو مشرکین کے دلوں میں ڈالا گیا۔ بنو مصطلق میں سے ایک شخص جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ کہتا تھا ہم نے سفید مرد دیکھے جو ابلق یعنی سیاہ و سفید گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہم نے نہ انہیں پہلے اور نہ بعد میں دیکھا۔
قبیلہ بنو مصطلق کے جو قیدی گرفتار ہوئے تھے ان میں اس قبیلہ کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی برہ بھی تھی جن کا نام آنحضرت ﷺنے تبدیل کر کے جویریہ رکھ دیا تھا جومسافع بن صفوان کے عقد میں تھی جو غزوہ مریسیع میں مارا گیا تھا۔ ان قیدیوں کو آنحضرت ﷺنے حسب دستور مسلمان سپاہیوں میں تقسیم فرما دیا تھا اور اس تقسیم کی رو سے برہ بنت حارث ایک انصاری صحابی ثابت بن قیس کی سپردگی میں دی گئی تھی۔ برہ نے آزادی حاصل کرنے کے لئے ثابت بن قیس کے ساتھ مکاتبت کے طریق پر سمجھوتہ کیا۔ سمجھوتہ کے بعد برہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارے حالات سنائے۔ اور یہ جتلا کر کہ میں بنو مصطلق کے سردار کی لڑکی ہوں فدیہ کی رقم کی ادائیگی میں آپ کی اعانت چاہی۔ یہ خیال کرکے کہ چونکہ وہ ایک مشہور قبیلہ کے سردار کی لڑکی ہے شاید اس کے تعلق سے اس قبیلہ میں تبلیغی آسانیاں پیدا ہو جائیں آپؐنے ارادہ فرمایا کہ اسے آزاد کرکے اس کے ساتھ شادی فرما لیں۔ چنانچہ آپ نے اسے خود اپنی طرف سے پیغام دیا اور اس کی طرف سے رضامندی کا اظہار ہونے پر آپ نے اپنے پاس سے اس کے فدیہ کی رقم ادا فرما کر اس کے ساتھ شادی کر لی۔ صحابہ نے جب یہ دیکھا کہ ان کے آقا نے بنومصطلق کی رئیس زادی کو شرف ازدواجی عطا فرمایا ہے توانہوں نے اس بات کو خلاف شانِ نبوی سمجھا کہ آنحضرت ﷺکے سسرال والوں کواپنے ہاتھ میں قید رکھیں اور اس طرح ایک سوگھرانے یعنی سینکڑوں قیدی بلافدیہ یک لخت آزاد کردئیے گئے۔ اسی وجہ سے حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ جویریہ اپنی قوم کے لئے نہایت مبارک وجود ثابت ہوئی ہے۔ اس رشتہ اور اس احسان کا یہ نتیجہ ہوا کہ بنو مصطلق کے لوگ بہت جلد اسلام کی تعلیم سے متاثر ہوکر آنحضرت ﷺکے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گئے۔
رسول اللہ ﷺاس غزوے سے مظفر و منصور کامیاب و کامران مدینہ واپس تشریف لائے اور کل اٹھائیس روز آنحضرت ﷺمدینہ سے باہر رہے۔
غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی بن سلول کے نفاق کا اعلانیہ اور باغیانہ اظہار جو اس نے کیا تھا اس کا بھی تاریخ میں ذکر ملتا ہے۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا بخدا مجھے تو آنحضرت ﷺکے مدینہ آنے کے وقت سے ہی یہ دین سخت ناپسند تھا لیکن میری قوم نے مجھ پر غلبہ پا لیا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ قریش کے لوگ ہم پر حاکم ہو گئے اور ہمارے شہر میں ان کی کثرت ہو گئی اور انہوں نے ہمارے احسانات کی ناقدری کی۔ اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ پہنچ گئے تو سب سے زیادہ عزت والا شخص سب سے زیادہ ذلیل آدمی کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔ ایک نوجوان صحابی حضرت زید بن ارقم نے جب عبداللہ بن ابی کی یہ بات سنی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم تو ہی اپنی قوم میںذلیل ہے۔ تو ہی کمتر ہے اور محمد ﷺ رحمان خدا کی طرف سے غلبہ اور شان رکھنے والے ہیں اور مسلمانوں کی طرف سے طاقت رکھنے والے ہیں۔ زید بن ارقم نے ساری بات رسول اللہ ﷺکو بتادی۔ لشکر میں ابن ابی کی بات پھیل گئی اور لوگوں کا موضوع بحث یہی بات تھی ۔ ایک صحابی اوس بن خولی نے عبداللہ بن ابی سے کہا کہ اگر تُونے یہ بات کہی ہے تو نبی کریم ﷺکو بتا دے تا کہ وہ تیرے لئے استغفار کریں اور تو اس کا انکار نہ کر۔ کہیں تیرے بارے میں کوئی وحی نازل ہو کر تیری تکذیب نہ کردے۔ اور اگر تو نے یہ بات نہیں کہی تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آ اور ان کو عذر بیان کر اور قسم کھا کہ تو نے یہ نہیں کہا تھا۔ تو اس نے اللہ کی قسم کھائی کہ اس نے کچھ نہیں کہا تھا۔ پھر ابن ابی رسول اللہ ﷺکے پاس گیا۔ اس کو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اے ابن ابی اگر یہ بات تو نے کہی تھی تو توبہ کر لے تو وہ قسمیں کھانے لگا کہ زید نے جو کچھ کہا میں نے وہ نہیں کہا تھا۔
حضرت عمر بن خطاب نے کہا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ میں ابن ابی کو قتل کر دوں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا پھر لوگ یہ باتیں کرتے پھریں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کر رہا ہوں ۔ حضرت عمر نے عرض کیا پھر آپ لوگوں کو روانگی کا حکم دیں۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں روانگی کا اعلان کیا۔ اس وقت شدید گرمی تھی اور آپ کی عادت یہ تھی کہ ٹھنڈے وقت سفر کرتے تھے۔ سب سے پہلے آپ کو سعد بن عبادہ ملے ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷺ آپ نے ایسے وقت میں روانگی اختیار کی ہے جس میں آپ کی عادت روانگی کی نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کیا تجھ تک وہ باتیں نہیں پہنچیں جو تمہارے ساتھی نے کہی ہیں۔ انہوںنے پوچھا یا رسول اللہ کون سا ساتھی۔ آپ نے فرمایا عبداللہ بن ابی نے کہا ہے کہ جب وہ مدینہ واپس لوٹے گا تو زیادہ عزت والا شخص مدینہ سے زیادہ ذلت والے کو نکال دے گا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ چاہیں تو اس کو مدینہ سے نکال دیں کیونکہ وہ ذلیل ترین ہے اور آپ بہت عزت والے ہیں اور عزت اللہ کے لئے اور آپ کے لئے اور مؤمنین کے لئے ہے۔ پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺاس پر نرمی کریں۔ اللہ کی قسم اس کی قوم اس کے لئے تاج پوشی کی تیاری کر رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مدینہ لے آیا تو اس کا خیال ہے کہ آپ نے اس کی بادشاہت چھین لی۔ بہرحال آنحضرت ﷺکو زید کی بات کا یقین آ گیا تھا کہ اس نے عبداللہ بن ابی بن سلول کے متعلق جو کچھ کہا ہے صحیح کہا ہے اور عبداللہ جھوٹ بول رہا ہے لیکن اس وقت آپ مصلحتاً خاموش رہے اور آپ نے کہا چلو مدینہ جا کر دیکھتے ہیں کون ذلیل ہے اور کون عزت والا ہے۔ لیکن بہرحال آخر میں پھر یہی ثابت ہوا کہ اس کا قصور تھا اور اس نے یہ باتیں کہی تھیں۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔
حضور انور نے فرمایا: اگلے جمعہ انشاء اللہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہو گا۔ اس کے لئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔
فرمایا: کچھ مرحومین کا ذکر کروں گا اور جنازہ پڑھاؤں گا۔ پہلا ذکر ہے سلیمہ بانو صاحبہ کا جو محمد حمید کوثر صاحب ناظر دعوت الی اللہ شمالی ہند کی اہلیہ تھیں۔ گذشتہ دنوں ان کی وفات ہوئی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ عبدالغنی صاحب مرحوم بھدروا جموں کشمیر کی بیٹی تھیں جنہوں نے مولوی محمد حسین صاحب کے ذریعہ 1935ء میں بیعت کی تھی۔ مرحومہ جو بھی گزارہ الاؤنس ملتا تھا اُسی میں انتہائی کفایت شعاری سے گزارہ کرتی تھیں اور مہمانوں کی مہان نوازی بھی کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس الاؤنس میں غیر معمولی برکت عطا فرمائی ہے۔ قناعت تھی کبھی شکوہ نہیں کیا۔ شوہر کی پوسٹنگ بمبئی ہونے پر بمبئی میں بطور صدر لجنہ خدمت بجا لاتی رہیں پھر کبابیر میں تبادلہ ہو گیا وہاں انہوں نے بڑی جلدی عربی سیکھی اور لجنہ کی تعلیم و تربیت میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔صدر لجنہ اماء اللہ کبابیر کے طور پر خدمت بجا لاتی رہیں۔ لجنہ اماء اللہ کو از سر نو منظم کیا۔ اجتماع کے انعقاد کا سلسلہ شروع کروایا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے بھی ان کے کا م کی تعریف کی تھی ۔ جب تک صحت نے اجازت دی مرحومہ تقریبا روزانہ بیت الدعا اور مسجد مبارک اور بیت الذکر اور بہشتی مقبرہ میں نوافل اور دعا کے لئے جایا کرتی تھیں۔
بعدہٗ حضور انور نے مکرم نورالحق مظہر صاحب لاہور، مکرمہ امۃ الحفیظ نکہت صاحبہ ربوہ کا ذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد تمام مرحومین کی نماز جنازہ غائب ادا کی۔
خ ض ژ ض خ