تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج غزوہ بنو مصطلق یا غزوہ مریسیع کا ذکر کروں گا۔ یہ غزوہ شعبان پانچ ہجری کو ہوا۔ چونکہ یہ غزوہ قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ بنو مصطلق کے ساتھ ہوا اس لئے اسے غزوہ بنو مصطلق کہا جاتا ہے۔ بنو مصطلق قریش کے حلیف تھے انہوں نے حبشی نامی پہاڑ کے دامن میں جو مکہ کے زیریں حصہ میں ہے اکٹھے ہو کر حلف لیا تھا کہ ہم لوگ ایک جان ہو کر قریش کے ساتھ رہیںگے۔ اس لئے ان لوگوں کو احابیش کہا جانے لگا اور اسی معاہدے کے مطابق بنو مصطلق غزوہ احد میں کفار قریش کے لشکر میں شامل تھے۔ اس غزوہ کا ایک سبب تو یہ تھا کہ بنو مصطلق اسلام دشمنی میں بے باک ہو گئے تھے اور مسلسل آگے ہی بڑھ رہے تھے۔ انہیں کفار قریش کی مکمل تائید اور حمایت حاصل تھی۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں شرکت کی وجہ سے اب یہ کھل کر مسلمانوں سے مقابلے پر اتر آئے تھے اور ان کی سرکشی میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ مکہ مکرمہ سے جانے والے مرکزی راستے پر بنو مصطلق کا کنٹرول تھا۔ یہ لوگ مکہ میں مسلمانوں کا عمل دخل روکنے کے لئے مضبوط رکاوٹ کی حیثیت رکھتے تھے۔ تیسرا اور سب سے اہم سبب اس غزوہ کا یہ تھا کہ بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار نے اپنی قوم اور اہل عرب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کے لئے تیار کیا اور مدینہ سے قریب چھیانوے میل کے فاصلے پر لشکر کو ایک مقام پر جمع کرنا شروع کر دیا۔
بنو مصطلق کی تیاری کی اطلاع جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو بلایا اور دشمن کے بارے میں خبر دی اور اسلامی لشکر جلد از جلد تیار ہو کر روانہ ہو گیا۔ اسلامی لشکر سات سو افراد پر مشتمل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شعبان پانچ ہجری کو پیر کے دن مدینہ منورہ سے کوچ کیا۔ حضرت مسعود بن حنیدہ راستے کے گائیڈ تھے۔ اس سفر میں مسلمانوں کے پاس کل تیس گھوڑے تھے جن میں سے مہاجرین کے پاس دس گھوڑے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو گھوڑے تھے۔
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مریسیع پہنچے آپ کے لئے چمڑے کا خیمہ لگایا گیا۔ آپ کی ازواج مطہرات میں سے حضرت عائشہ صدیقہ آپ کے ہمراہ تھیں۔ صف آرائی اور جھنڈوں کی تقسیم وغیرہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ آگے بڑھ کر بنو مصطلق میں یہ اعلان کریں کہ اگر اب بھی وہ اسلام کی عداوت سے باز آ جائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو تسلیم کرلیں توان کو امن دیا جائے گا۔ اس اعلان میں مذہب کی تبدیلی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو اگر تسلیم کر لیں تو امن دیا جائے گا اور مسلمان واپس لوٹ جائیں گے مگر انہوں نے سختی کے ساتھ انکار کیا اور جنگ کے واسطے تیار ہو گئے۔ حتی کہ لکھا ہے کہ سب سے پہلا تیر جو اس جنگ میں چلایا گیا وہ انہی کے آدمی نے چلایا تھا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو آپ نے بھی صحابہ کولڑنے کا حکم دیا۔ تھوڑی دیر فریقین کے درمیان خوب تیز تیراندازی ہوئی جس کے بعد آنحضرتﷺ نے صحابہ کو یکلخت دھاوا مارنے کا حکم دیا اور اس اچانک دھاوے کے نتیجے میں کفار کے پائوں اکھڑ گئے مگر مسلمانوں نے ایسی ہوشیاری کے ساتھ ان کا گھیرا ڈالا کہ ساری کی ساری قوم محصور ہو کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی اور صرف دس کفار اور ایک مسلمان کے قتل پراس جنگ کا جو ایک خطرناک صورت اختیار کرسکتا تھا خاتمہ ہو گیا۔
حضور انور نے فرمایا: آج ایک شہید اور بعض مرحومین کا بھی ذکر کروں گا۔ فرمایا محرم کے حوالے سے دعا کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ محرم میں شیعہ سنی فساد یا دہشتگردی کے حملوں کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ اس فرقہ واریت اور ذاتی مفادات کے حصول کی خواہش نے مسلمان دنیا میں فتنہ و فساد کی صورت پیدا کی ہوئی ہے۔ کوئی ان کو عقل نہیں آتی کہ کچھ تو سیکھیں کچھ تو خوف خدا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے جو اس فساد کو ختم کرنے کے لئے اپنے وعدے کے مطابق انتظام فرمایا ہے اسے یہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ مسیح موعود کی بیعت میں آنا ہی نہیں چاہتے جو واحد ایک ذریعہ ہے جو امت کو امت واحدہ بنانے کا نظارہ دکھا سکتا ہے اور فسادوں کو ختم کر سکتا ہے۔ مسلمانوں کی اکائی قائم ہو کر ان کی ساکھ قائم ہو سکتی ہے۔ یہی ایک ذریعہ ہے۔ کاش کہ ان لوگوں کو سمجھ آئے۔ بہرحال ان دنوں میں احمدیوں کو درود شریف پڑھنے اور مسلمانوں کی اکائی کے لئے خاص دعاؤں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اپنی حالتوں کو بھی بہتر کرنے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے کی طرف بھی خاص توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور انور نے فرمایا: یہ شہید جو ہیں ان کا نام ہے بونجا محمود صاحب جو جماعت تمانجارو ٹوگو کے رہنے والے تھے۔ 21جون کو دہشت گردوں نے ان کے گھر میں گھس کر انکو شہید کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انکی عمر چونسٹھ سال تھی۔ پسماندگان میں دو بیویاں اور چودہ بچے شامل ہیں۔ نوید نعیم صاحب مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ ٹوگو کے شمالی ریجن کے مرکزی شہر کے قریب یہ جماعت تمانجارو ہے۔ یہ علاقہ برکینا فاسو سے ملنے والی سرحد پہ واقع ہے۔ بونجا محمود صاحب کو اس جماعت کے ابتدائی ممبران میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ کھیتی باڑی کر کے اپنا رزق کماتے تھے۔ 21جون کی رات آٹھ بجے چار دہشت گرد ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ مرحوم کی تھوڑی کے نچلی طرف بندوق رکھی اور فائر کر دیا اور گولی ناک کو چیرتی ہوئی باہر نکل گئی۔ موقع پر ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دہشت گرد اس کارروائی کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے اور گھر کے کسی اور فرد کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔مرحوم ابتدائی بیعت کرنے والوں میں شامل تھے۔ بیعت کے بعد وہ نمازوں اور تمام جماعتی پروگراموں میں باقاعدہ شامل ہوتے۔ اسی طرح سے باقاعدگی سے چندہ بھی ادا کرنا شروع کر دیا۔ ان کے حلقہ مشنری جدامہ طاہر صاحب کہتے ہیں ان کی بیعت جو 2007ء میں انہوں نے کی تھی اس کے فوراً بعد رمضان شروع ہو گیا۔ بارشوں کا موسم تھا۔ فصل کے لئے زمین کی تیاری شروع ہو چکی تھی۔ گاؤں کے چند لوگوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا کہ اب تم مسلمان ہو گئے ہو روزہ رکھو گے یا کھیتی میں کام کرو گے کیونکہ روزے کے ساتھ تو اتنی محنت کر نہیں سکتے جبکہ ہم تو محنت کریں گے اور ہماری فصلیں اچھی ہو جائیں گی۔ انہوں نے جواب دیا کہ اسلام کو میں نے دل سے قبول کیا ہے اس لئے روزے تو ضرور رکھنے ہیں فصل کا اللہ مالک ہے۔ جتنا کام کر سکا کر لوں گا جو میرے نصیب میں ہو گا وہ مجھے ملے گا وہ خدا مجھے ضرور دے گا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ بارشوں کا سلسلہ ہی رک گیا اور پورے رمضان بارش نہیں ہوئی۔ انہوں نے بھی آرام سے روزے رکھے اور عید کے دوسرے دن بارشیں شروع ہو گئیں اور جس طرح وہاں کے گاؤں میں اس علاقے میں فارمنگ ہوتی ہے ،سارے لوگ پھر باہر نکلے اور اپنے کھیتوں کا رخ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی کام سے روک دیا جو ان کا مذاق اڑا رہے تھے اور اپنے بندے کو بھی عبادت کی توفیق دے دی۔ جماعت کے قیام کے چار سال بعد مرکز کی طرف سے مسجد کی تعمیر کا پروگرام بنا۔ غیر احمدیوں نے ان پر بہت زور لگایا کہ اس مسجد کی کیا ضرورت ہے۔ تم ہماری مسجد میں نماز پڑھ لیا کرو لیکن انہوں نے کہا کہ ہم تو اپنی مسجد بنائیں گے اور پھر یہ مسجد بننے کے بعد جب بھی یہ گاؤں میں ہوتے پانچوں نمازیں مسجد میں باقاعدگی سے ادا کرتے۔ ان کے بڑے بھائی یعقوب صاحب بیان کرتے ہیں کہ بڑے نرم دل تھے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا۔ خاندان کا کوئی بھی مسئلہ جب کسی سے نہ سلجھتا تو وہ ان کے پاس آتا اور مرحوم بڑی آسانی سے اس کو حل کر دیتے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے ان کی اولاد اور نسل کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان علاقوں میں دہشت گردوں کا بھی اللہ تعالیٰ خاتمہ فرمائے اور امن و امان کی صورتحال قائم فرمائے۔
حضور انور نے فرمایا : اگلا ذکر مکرم رشید احمد صاحب سابق معاون ناظر امور عامہ کا ہے۔ گذشتہ دنوں چھیاسی سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ قادیان میں پیدا ہوئے پیدائشی احمدی تھے۔ ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے والد نور حسین صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے 1924ء میں خلافت ثانیہ کے دور میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت کی سعادت پائی تھی۔ رشید صاحب نے ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی قیام پاکستان کے بعد میٹرک کرنے کے بعد جماعتی خدمات کا آغاز کیا۔ مرحوم کی مجموعی طورپر جماعتی خدمت کا سلسلہ تقریباً پینسٹھ سال پر محیط ہے۔ بیشمار خصوصیات کے حامل تھے۔
اگلا ذکر مکرم چوہدری مطیع الرحمن صاحب نائب ناظر امور عامہ ابن چوہدری علی اکبر صاحب کا ہے۔ 89 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پیدائشی احمدی تھے انکے خاندان میں احمدیت کا نفوذ انکے والد چوہدری علی اکبر صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے فروری 1916ء میں خلافت ثانیہ میں بیعت کی سعادت پائی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خود کو جماعتی خدمت کیلئے پیش کیا اور بطور نائب ناظر امور عامہ پچیس سال سے زائد عرصہ تا دم آخر خدمت سلسلہ کی توفیق پائی۔ چوہدری مطیع الرحمن صاحب بیشمار خصوصیات کے حامل تھے۔
اگلا ذکر ہے منظور بیگم صاحبہ جو محمود احمد بھٹی صاحب مرحوم سرگودھا کی اہلیہ تھیں گذشتہ دنوں ان کی وفات ہوئی ہے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ حضرت چوہدری غلام حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو تھیں۔ ان کے خاوند محمود احمد بھٹی مرحوم اور بیٹے طاہر محمود بھٹی صاحب کو اسیر راہ مولیٰ ہونے کی سعادت بھی ملی۔مرحومہ کے ایک بھائی نصیر احمد علوی صاحب کو 1991ء میں احمدیت کے نام پر سندھ کے علاقے دوڑ میں شہید بھی کردیا گیا تھا۔ مرحومہ موصیہ تھیں پسماندگان میں تین بیٹیاں اور سات بیٹے شامل ہیں۔ ان کے ایک بیٹے عابد محمود بھٹی صاحب وقف زندگی ہیں مربی ہیں پرنسپل جامعہ احمدیہ اور نائب امیر ہیں جماعت تنزانیہ کے ۔ اور جو میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے والدہ کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔
اگلا ذکر ہے مکرم ماسٹر سعادت احمد اشرف صاحب جو مکرم خوشی محمد صاحب باڈی گارڈ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے بیٹے تھے۔ گذشتہ دنوںتراسی سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک بیٹے عثمان احمد طالع صاحب مربی سلسلہ سیرالیون ہیں جو میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے ان کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔ نوافل عبادات اور روزوں کا اکثر اہتمام کرتے۔ قرآن مجید کی تلاوت کا بہت شغف تھا۔ قصیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمیشہ پڑھتے رہتے۔ پرجوش داعی الی اللہ تھے۔ جماعتی پروگراموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔
نماز جمعہ کے بعد حضور انور نے تمام مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ …٭…٭…٭…