تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
آج دو غزوات کا ذکر کروں گا۔ پہلے غزوے کا نام ہے غزوہ بدر الموعد جو چار ہجری میں ہوا۔ یہ غزوہ بدر الموعد، بدر الثانیہ ، بدر الاٰخرہ اور بدر الصغری کے ناموں سے معروف ہے۔ یہ غزوہ چار ہجری میں ماہِ شوال کے آخر میں ہوا۔
اس غزوہ کا سبب یہ ہے کہ ابوسفیان بن حرب جب غزوہ احد سے واپس پلٹا تو اس نے بآواز بلند کہا تھا کہ آئندہ سال ہماری اور تمہاری ملاقات بدر کے مقام پر ہو گی۔ ہم وہاں جنگ کریں گے۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت عمر کو فرمایا کہ اسے کہو کہ ہاں انشاء اللہ۔ بدر مدینہ کے جنوب مغرب میں ایک سو پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہنے کو تو ابو سفیان نے غرور میں آ کر یہ اعلان کر دیا تھا لیکن اب جوں جوں وعدے کا وقت قریب آ رہا تھا ابوسفیان مقابلے سے کترانے لگا تھا لیکن ظاہر یوں کر رہا تھا کہ وہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر آپ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہا ہے تا کہ یہ خبر اہل مدینہ تک پہنچ جائے اور عرب کے دیگر حصوں میں بھی پھیل جائے اور مسلمانوں کو اس سے خوف زدہ کیا جا سکے۔ اسی دوران بنو اشجع سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نعیم بن مسعود مکہ گیا۔ اس نے بعد میں اسلام بھی قبول کر لیا تھا اس نے وہاں ابوسفیان سے ملاقات کی اور کہنے لگا کہ مسلمان بڑے زور و شور سے حملہ آور ہونے والے ہیں۔ دیکھو تم نے خود مقابلہ کے لئے پکارا تھا اب اس وعدے کا وقت قریب آ گیا ہے لہٰذا تم میدان کارزار میں اپنے جوہر دکھاؤ۔ ابوسفیان بات ٹالتے ہوئے کہنے لگا کہ اے نعیم تم جانتے ہو کہ ہمارے علاقے میں قحط سالی ہے۔ عرصہ دراز سے بارش نہیں ہوئی۔ پانی کے تالاب خشک ہیں چراگاہوں میں مویشی اور سواری کے جانوروں کے لئے گھاس کا تنکا تک نہیں۔ ہر طرف رزق کی تنگی ہے لہٰذا عقلمندی اسی میں ہے کہ ہم یہ دن گزار لیں اس کے لئے تم اہم کردار ادا کر سکتے ہو۔ تم مدینہ جا کر لوگوں کو ہمارے عزائم اور افرادی قوت کے متعلق بڑھا چڑھا کر معلومات دو اور اسے خوب مشہور کرو تا کہ مسلمان خود ہی ڈر کے مارے بدر کی طرف نہ آئیں۔ نعیم نے کہا اس کے بدلے میں مجھے کیا دو گے۔ ابوسفیان نے بیس اونٹوں کی پیشکش کی جو نعیم نے بخوشی قبول کر لی۔ نعیم نے رخت سفر باندھا اور مدینہ کی طرف چل پڑا۔ وہ فوراً مدینہ پہنچنا چاہتا تھا کہ کہیں اسلامی لشکر مدینہ سے چل نہ پڑے۔ چنانچہ جب وہ مدینہ پہنچا تو مسلمان بڑے جوش و خروش سے جہاد کی تیاری میں مصروف تھے۔ مدینہ پہنچ کر نعیم نے ایسی مہارت سے اپنی مہم چلائی کہ چند ہی روز میں مدینہ کی فضا خوف و ہراس سے مسموم ہو گئی۔ نعیم بن مسعود کی چال کارگر ثابت ہوئی کمزور ایمان والے مسلمان اس کی افواہوں سے واقعی مرعوب ہو گئے۔ ہر مجلس میں ابوسفیان کے لشکر جرار اور خوفناک تیاری کا ذکر ہوتا تھا۔ دوسری طرف حضرت ابوبکرؓاور حضرت عمرؓاصرار کے ساتھ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں جنگ پر روانگی کا مشورہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ وعدہ کے مطابق ہمیں ضرور نکلنا چاہئے۔ یہ جذبات سن کر آنحضرت ﷺبہت خوش ہوئے اور فرمایااس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ضرور نکلوں گا خواہ میرے ساتھ ایک فردبھی نہ نکلے۔ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺکا عزم اور ہمت اور حوصلہ دیکھا تو خوف و ہراس کی کیفیت ختم ہو گئی اور وہ جوش و خروش سے تیاری کرنے لگے۔
رسول اللہ ﷺرئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول کے مخلص اور جانثار بیٹے عبداللہ کو اپنے پیچھے مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔ پھر آپ ﷺنے اپنا جھنڈا حضرت علی کو عطا فرمایا اور پندرہ سو صحابہ کے ہمراہ بدر کی جانب روانہ ہوئے۔ مسلمان اپنے تجارتی مال کے ساتھ نکلے۔ ذوالقعدہ کا چاند طلوع ہوا تو مسلمان میدان بدر میں پہنچ چکے تھے۔ دیکھا جائے تو مسلمان تو ابوسفیان کے ساتھ لڑائی اور مقابلے کے لئے جا رہے تھے لیکن ان کا تجارتی مال اور اسباب ساتھ لے کر نکلنا ان کی اس عزم و ہمت اور یقین پر دلالت کرتا ہے کہ ابوسفیان یا تو مقابلے پر آئے گا نہیں اور اگر آیا تو بری طرح شکست کھا کر بھاگ جائے گا اور انہی تاریخوںمیں وہاں جو میلہ لگا کرتا تھا مسلمان وہاں تجارت کر کے فائدہ اٹھائیں گے اور عملاً پھر ایسا ہی ہوا۔
کفار کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں مکہ سے روانہ ہوا ان کی تعداد دو ہزار تھی۔ ان میں پچاس گھوڑے تھے۔ یہ لشکر وادی مرالظہران میں مجنہ نامی چشمہ پر خیمہ زن ہوا۔ مر الظہران مکہ سے بائیس کلو میٹر شمال میں ہے۔ قحط سالی کے سبب قریش کے اقتصادی حالات واقعی خراب تھے اور ان کی آمدنی کے ذرائع کم ہو گئے تھے اس لئے ان کو مقررہ وقت اور جگہ پر پہنچنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی لیکن شرمندگی کے ڈر سے اس لشکر نے کوچ کیا۔ ان کا سپہ سالار مکہ سے ہی بوجھل اور بددل تھا۔ اس نے کہا کہ اے قریش کے لوگو تمہارے لئے شادابی اور ہریالی کا سال جنگ کے لئے موزوں رہے گا تا کہ تم جانوروں کو بھی چرا سکو اور خود بھی دودھ پی سکو۔ اس وقت خشک سالی ہے لہٰذا میں واپس جا رہا ہوں تم بھی واپس چلے چلو۔ ابوسفیان کے اس فیصلے کی مخالفت کئے بغیر سب نے واپسی کی راہ لی اور کسی نے بھی سفر جاری رکھنے اور مسلمانوں سے جنگ کی رائے نہ دی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے لشکر کے اعصاب پر مسلمانوں کی ہیبت چھائی ہوئی تھی۔ آنحضرت ﷺوعدہ کے مطابق ابوسفیان کے انتظار میں بدر میں آٹھ روز قیام کرنے کے بعد مدینہ واپس آ گئے اور آپ اس غزوہ کے لئے کل سولہ راتیں مدینہ سے باہر رہے۔ دشمن مدمقابل آنے کی ہمت نہ کر سکا۔ اس کی خوب سبکی ہوئی۔ مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے۔ اس علاقے کے بعض مقامی کافروں کا جھکاؤ قریش مکہ کی طرف تھا۔ آپ ﷺنے نہایت بہادری سے ان پر اپنا عزم واضح کیا تو وہ بھی دبک گئے۔
اس غزوہ میں گو عملی لڑائی نہ ہوئی تاہم مسلمانوں کا وقار اور اعتماد بحال ہوا اور دشمن پر رعب میں خوب اضافہ ہوا۔
حضور انور نے فرمایا: دوسرا غزوہ ہے دومۃ الجندل۔ یہ ربیع الاول پانچ ہجری میں ہوا۔ دومۃ الجندل مدینہ سے تقریباً چار سو پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر مدینہ کے شمال میں شام کا سرحدی مقام تھا۔ یہاں بنو خزاعہ قبیلہ کی شاخ بنو قلب کے لوگ آباد تھے اس جگہ بہت بڑی تجارتی منڈی لگتی تھی جو بنو قلب کے زیر انتظام تھی۔ اس غزوہ کی وجہ کیا بنی، اس بارے میں لکھا ہے کہ اب تک مخالفین کے ساتھ جتنی جنگی مہمات ہوئیں وہ کم و بیش مدینہ اور حجاز کے علاقے تک ہی محدود تھیں اور یہ پہلی مہم تھی کہ جو مدینہ سے دور کم و بیش پندرہ دنوں کی مسافت پر رومی سلطنت کے صوبہ شام کی سرحدوں کے قریب وقوع پذیر ہونے جا رہی تھی۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ مسلمانوں سے پے در پے شکست کھانے اور مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے رعب کو محسوس کرتے ہوئے دشمنان دین کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ اسلام اور مسلمانوں کو جڑ سے ہی ختم کر دیا جائے۔ اس پر عمل کرنے کے لئے مدینہ کے انتہائی شمال میں شام کی سرحد سے ملحق دومۃ الجندل کے گرد قبائل نے اسلامی ریاست کو چیلنج کرتے ہوئے ایک بڑا لشکر ترتیب دینا شروع کر دیا۔ یہ لوگ تجارتی قافلوں کو لوٹ لیتے تھے۔ جو مسلمان ہاتھ لگتا اسے اذیتیں دیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺکو دومۃ الجندل کے ان قبائل کی تمام حرکتوں کی خبر دی گئی تو فیصلہ ہوا کہ قبل اس کے کہ دومۃ الجندل کے قبائل کوئی بڑی فوج تیار کر کے مدینہ پر چڑھائی کر دیں بہتر ہے کہ ان کے علاقے میں پہنچ کر انہیں اس طرح بکھیر دیا جائے کہ وہ مدینہ پر لشکر کشی سے باز رہیں اور تجارتی قافلے امن سے شام پہنچ سکیں۔
چنانچہ نبی اکرم ﷺنے لوگوں کو نکلنے کا حکم دیا آپؐایک ہزار صحابہ کرام کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ آپؐرات کو سفر کرتے اور دن بھر پوشیدہ رہتے۔ بنو عذرہ کا ایک شخص راستہ بتانے کے لئے آپ کے ساتھ تھا۔ وہ ایک ماہر راستہ بتانے والا تھا۔ اس نے سفر کے لئے غیر مانوس راستہ اختیار کیا تا کہ دشمن کو خبر نہ ہو۔ جب رسول اللہ ﷺدومۃ الجندل کے قریب پہنچے تو راستہ بتانے والے نے کہا یہ بنو تمیم کی چراگاہ ہے یہاں ان کے اونٹ اور مویشی ہیں آپ یہاں ٹھہریں میں معلومات لے کر آتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے وہ معلومات لینے کے لئے گیا اور وہاں چوپایوں اور بکریوں کے آثار دیکھ لئے اور یہ بھی کہ وہ اپنی پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے تھے پھر وہ نبی کریم ﷺکے پاس واپس آیا اور خبر دی کہ وہ ان کی جگہیں پہچان چکا ہے رسول اللہ ﷺنے حملہ کیا مگر وہ لوگ بھاگ گئے۔ آنحضرت ﷺنے وہاں چند دن قیام کیا او رمختلف گروہ ارد گرد بھیجے۔ اسلامی دستے بحفاظت آپ کے پاس واپس پہنچے۔ ہر گروہ کچھ اونٹ لے کر آیا لیکن انہیں کوئی آدمی نہ ملا ۔ صرف حضرت محمد بن مسلمہ ان میں سے ایک آدمی کو پکڑ کر نبی کریم ﷺکے پاس لے آئے۔ نبی کریم ﷺنے اس سے اس کے ساتھیوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے کہا کہ گذشتہ رات جب انہوں نے سنا کہ آپ نے ان کے جانور پکڑ لئے ہیں تو وہ بھاگ گئے۔ رسول اللہ ﷺنے اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہو گیا۔
دومۃ الجندل سے واپسی کے بارے میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺتقریباً تین دن کے قیام کے بعد تمام لشکر کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہو کر بیس ربیع الثانی کو مدینہ واپس تشریف لے آئے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ یہ غزوہ اس رنگ میں پہلاغزوہ تھا کہ اس کی غرض یاکم از کم بڑی غرض ملک میںامن کاقیام تھا۔ اہل دُومہ کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں تھا وہ مدینہ سے اتنی دور تھے کہ ان کی طرف سے بظاہر یہ اندیشہ کسی حقیقی خطرہ کاموجب نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ اتنے لمبے سفر کی صعوبت برداشت کرکے مدینہ میں مسلمانوں کی پریشانی کا موجب ہوں گے۔ پس ان کے مقابلہ کے لئے پندرہ سولہ دن کاتکلیف دہ سفر اختیار کرنا حقیقتاً سوائے اس کے اور کسی غرض سے نہیں تھا کہ انہوں نے جو اپنے علاقہ میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری کر رکھا تھا اور بے گناہ قافلوں اور مسافروں کو تنگ کرتے تھے اس کا سدباب کیا جاوے۔ پس مسلمانوں کا یہ سفر محض رفاہ عام اور ملک کی مجموعی بہبودی کے لئے تھا جس میں ان کی اپنی کوئی غرض مدنظر نہیں تھی۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور نے فرمایا: دعا کریں اللہ تعالیٰ دنیا میں عمومی امن بھی قائم فرمائے وہ امن جس کی خاطر آنحضرت ﷺنے اپنے زمانے میں بھی کوششیں کی اور آپؐکے آنے کا یہی مقصد تھا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہی ہو سکتا ہے، اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔ دوسرے ان مغربی ممالک میں اب مسلمانوں کے خلاف بھی مہم بہت تیز ہو گئی ہے اور آئندہ مزید تیز ہو گی۔ اس کے لئے بھی مسلمانوں کو اپنی بقا کے سامان کرنے ہوں گے۔ ایک اکائی بننا ہو گا۔ اپنی حالتوں کو بہتر کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ اسے سمجھنے والے ہوں۔
مسلمان ملکوں میں سوڈان وغیرہ میں مسلمان مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں اس کے لئے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی امن قائم کرنے کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ لیڈروں کو اپنی اناؤں اور ذاتی خواہشات کو پورا کرنے کی بجائے ملک و قوم کی خدمت کرنے والا اور امن قائم کرنے والا بنائے۔
…٭…٭…٭…