تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: بنو نضیر کے ساتھ جنگ کا ذکر ہو رہا تھا۔ اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النّبیین میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺنے اپنے پیچھے مدینہ کی آبادی میں ابن مکتوم کوامام الصلوٰۃ مقرر فرمایا اور خود صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے نکل کر بنو نضیر کی بستی کامحاصرہ کر لیا اور بنونضیر اس زمانہ کے طریق جنگ کے مطابق قلعہ بند ہو گئے۔ غالباً اسی موقع پر عبداللہ بن ابی بن سلول اور دوسرے منافقین مدینہ نے بنو نضیر کے رئووسا کو یہ کہلا بھیجا کہ تم مسلمانوں سے ہرگز نہ دبنا ہم تمہارا ساتھ دیں گے اورتمہاری طرف سے لڑیں گے لیکن جب عملاًجنگ شروع ہوئی تو بنو نضیر کی توقعات کے خلاف ان منافقین کویہ جرأت نہ ہوئی کہ کھلم کھلا آنحضرت ﷺکے خلاف میدان میں آئیں اور نہ بنو قریظہ کویہ ہمت پڑی کہ مسلمانوں کے خلاف میدان میں آ کر بنو نضیر کی برملا مدد کریں۔ گو دل میں وہ ان کے ساتھ تھے اور درپردہ ان کی امداد بھی کرتے تھے جس کا مسلمانوں کو علم ہوگیا تھا۔ بہرحال بنونضیر کھلے میدان میں مسلمانوں کے مقابلے پرنہیں نکلے اورقلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے لیکن چونکہ ان کے قلعے اس زمانہ کے لحاظ سے بہت مضبوط تھے اس لئے ان کو اطمینان تھا کہ مسلمان ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے اور تنگ آ کر محاصرہ چھوڑ دیں گے۔
یہ محاصرہ چھ دن اور ایک روایت کے مطابق پندرہ دن تک رہا۔ دوران محاصرہ رسول اللہ ﷺنے چند درخت کاٹنے اور جلانے کا حکم دیا۔ چونکہ یہود قلعوں کی فصیلوں سے تیر اور پتھر برسا رہے تھے اور یہ درخت ان کے لئے دفاعی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی کمین گاہ کا کام دے رہے تھے ۔ یہ جنگی اور دفاعی ضرورت کے لئے کیا گیا تھا نہ کہ صرف باغ اجاڑنے کے لئے۔ روایات میں ہے کہ گھٹیا قسم کی کھجوروں کو جلایا گیا۔ عجوہ کھجور کے درخت جو کارآمد درخت تھے وہ نہیں جلائے گئے تھے دوسرے درخت جلائے گئے تھے۔ یہود نے جب ان درختوںکو آگ میں جلتے دیکھا تو ان کی عورتیں اپنے گریبان چاک کرنے لگیں منہ پر طمانچے مارنے لگیں اور واویلا کرنے لگیں۔ پھر یہود نے فوراً پیغام بھیجا۔ اے محمد آپ تو بڑے عزت اور شرف کے حامل ہیں آپ فساد سے منع کرنے والے اور فساد کی ہر صورت کو ناپسند کرتے ہیں۔ اب آپ خود ہی یہ کام کر رہے ہیں لیکن جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ یہ درخت ان کے لئے کمین گاہ کا کام دے رہے تھے۔ اور اس میں یہ حکمت بھی کارفرما تھی کہ جتنی جلدی ہو سکے اُن کی قوت ختم ہو جائے تا کہ مزید قتل و غارت نہ ہو اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خاص الہام کے تحت آپ ﷺنے یہ درخت جلانے کا حکم دیا تھا چنانچہ یہود کے اس الزام کا جواب اللہ تعالیٰ نے یوں دیا ہے کہ مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَۃٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْہَا قَاىِٕمَۃً عَلٰٓي اُصُوْلِہَا فَبِـاِذْنِ اللہِ وَلِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ﴿الحشر: ٥﴾ یعنیجو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا یااسے اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو اللہ کے حکم کے ساتھ ایسا کیا ہے اور یہ اس غرض سے تھا کہ وہ فاسقوں کو رسوا کر دے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺنے محاصرے کے وقت یہود کو ایک مرتبہ پھر معاف کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے نئے عہد و پیمان کی پیشکش بھی کی تھی۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس بارہ میں لکھتے ہیں کہ درخت جوکاٹے گئے لینہ قسم کی کھجور کے درخت تھے۔ جو ایک ادنیٰ قسم کی کھجور تھی جس کا پھل عموماً انسانوں کے کھانے کے کام نہیں آتا تھا اور اس حکم میں منشا یہ تھا کہ تاان درختوں کوکٹتا دیکھ کر بنو نضیر مرعوب ہو جائیں اور اپنے قلعوںکے دروازے کھول دیں اوراس طرح چند درختوں کے نقصان سے بہت سی انسانی جانوں کا نقصان اور ملک کا فتنہ وفساد رک جائے۔ چنانچہ یہ تدبیر کارگر ہوئی اور ابھی صرف چھ درخت ہی کاٹے گئے تھے کہ بنو نضیر نے غالباً یہ خیال کرکے کہ شاید مسلمان ان کے سارے درخت ہی جن میں پھل دار درخت بھی شامل تھے کاٹ ڈالیں گے آہ وپکار شروع کر دی۔بہرحال یہ تدبیر کارگر ہوئی اور بنونضیر نے مرعوب ہو کر پندرہ دن کے محاصرہ کے بعد اس شرط پر قلعہ کے دروازے کھول دئیے کہ ہمیں یہاں سے اپنا سازوسامان لے کر امن وامان کے ساتھ جانے دیا جائے۔ آنحضرت ﷺنے حضرت محمد بن مسلمہ کو مقرر فرمایا کہ وہ اپنی نگرانی میں بنو نضیر کو امن وامان کے ساتھ مدینہ سے روانہ کر دیں۔
اسلام اور آنحضرت ﷺپر جنگ اور قتل و غارت اور مال غنیمت حاصل کرنے وغیرہ کے الزامات لگانے والوں کو دیکھنا چاہئے کہ باوجود اس کے کہ آنحضرت ﷺنے ان یہود پر گرفت حاصل کر لی تھی اور یہود بھی وہ کہ جو مسلسل عہد شکنی کے مرتکب ہوتے رہے وہ لوگ جو متعدد مرتبہ نبی کریم ﷺکی جو کہ ریاست مدینہ کے سربراہ بھی تھے قتل کرنے کی مذموم سازشیں اور کوششیں کر چکے تھے اور اب ہتھیار بند ہو کر باقاعدہ بغاوت پر اتر آئے تھے اور اس محاصرے کے دوران بھی ایک بار آپ ﷺنے از سر نو معاہدہ اور صلح کی پیشکش کی تھی جسے نہایت تکبر سے انہوں نے ٹھکرا دیا تھا اور اب آخر کار جب نبی اکرم ﷺنے ان پر قابو پا لیا تو ان کو جتنی بھی سخت سے سخت سزاد ی جاتی تو وہ روا تھی لیکن نبی اکرم ﷺکی امن پسندی اور صلح جوئی اور رحمت و شفقت انسانی کی عجیب شان اور خلق ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺنے ان کو یہاں سے امن و سلامتی کے ساتھ چلے جانے کی اجازت دے دی اور رحمت و عنایات خسروانہ کا عالم یہ تھا کہ یہ بھی اجازت دی کہ جو سامان بھی لے جانا چاہیں لے جائیں سوائے اسلحہ کے اور ہتھیاروں کے۔ یہود نے اس جود و کرم سے اس طرح فائدہ اٹھایا کہ اپنے گھروں کے دروازے تک اکھیڑ کر چھ سو اونٹوں پر سامان لاد کر لے گئے اور اپنی فطرت کا مظاہرہ یوں کیا کہ جو سامان ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے وہ پوری کوشش کی کہ ضائع کر دیا جائے چنانچہ اپنے گھروں کی چھتوں اور دیواروں کو منہدم کر دیا تا کہ مسلمانوں کے کام نہ آ سکے۔
ان کی جلاوطنی کے بارے میں لکھا ہے کہ: جب یہود نے اپنے بچوں اور عورتوں کو سواری کے اونٹوں پر سوار کیا اور بقیہ اونٹوں پر سامان لادنے لگے تو ان کے اس انداز سے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے انہیں جلا وطن ہونے کی کوئی پریشانی یا ندامت نہیں حالانکہ ان کے سینے آتش کدے بنے ہوئے تھے لیکن ظاہر یہ کر رہے تھے کہ ان کوکوئی پرواہ نہیں ۔لوگوں کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ ہم خوش و خرم یہاں سے جارہے ہیں۔ انہوں نے اپنی عورتوں کو بناؤ سنگھار کر کے اونٹوں پر سوار کیا ہوا تھا اور ساتھ گانے باجے پر ان کی کنیزیں ناچ بھی رہی تھیں۔ یہ لوگ اپنے مال و ثروت کو لوگوں پر عیاں کر رہے تھے تا کہ لوگ ان پر رشک کریں۔ ان کے جانے کی کیفیت یہ تھی کہ نغمے الاپے جا رہے تھے شہنائیاں بج رہی تھیں اشتعال انگیز اشعار زبان پر تھے اور رقص کیا جا رہا تھا لیکن رسول اکرم ﷺنے ان کی کم ظرفی کو نظر انداز کر دیا۔ اگر ان کا واسطہ کوئی دوسری قوم سے پڑتا تو شاید انہیں ستر پوشی کے لئے کپڑا بھی نہ دیا جاتا لیکن آنحضرت ﷺکا عفو اور آپؐکی رحم دلی تھی جس نے کوئی ان کی پرواہ نہیں کی۔
بنو نضیر کا نیا مسکن کہاں بنا؟ اس بارے میں لکھا ہے کہ اکثر نے خیبر کا رخ کیا۔ خیبر مدینہ منورہ سے تقریباً چھیانوے میل دور ہے اور یہ جزیرہ نما عرب میں پناہ گزین یہود کا بہت بڑا مرکز تھا۔ اس میں مسلح جنگجوؤں کی تعداد دس ہزار تھی۔ علاوہ ازیں وہاں یہود کے بہت سے قلعے بھی تھے اور یہ علاقہ زرعی دولت سے مالا مال تھا۔ چنانچہ جب بنو نضیر کے لوگ خیبر چلے گئے تو وہاں یہود کی طاقت و قوت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ خیبر میں قدم رکھتے ہی بنو نضیر کے لوگوں نے بڑی سہولت کے ساتھ اپنے آپ کو سیادت و قیادت کے منصب پر فائز کر لیا اور اس کے نتیجہ میں خیبر مسلمانوں کے لئے بڑا جنگی محاذ بن گیا۔
بنو نضیر میں کچھ انصاری مسلمانوں کے بیٹے بھی تھے جسکی وجہ یہ تھی کہ اگر کسی انصاری عورت کی اولاد زندہ نہیں رہتی تھی تو اسلام لانے سے پہلے ان میں یہ دستور تھا کہ وہ عورت یہ منت مان لیا کرتی تھی کہ اگر اس کا بیٹا زندہ رہا تو وہ اس کو یہودی بنا دے گی چنانچہ ایسے کئی لوگ تھے جو انصار کے بیٹے تھے مگر وہ یہودی بنا دئیے گئے تھے۔ جب بنو نضیر کے لوگ جلا وطن ہونے لگے تو ان لڑکوں کے باپوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو ان کے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔ لیکن چونکہ انصار کایہ مطالبہ اسلامی حکم لا اکراہ فی الدین کے خلاف تھا اس لئے آنحضرت ﷺنے مسلمانوں کے خلاف اور یہودیوں کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا کہ جو شخص بھی یہودی ہے اور جانا چاہتا ہے ہم اسے روک نہیں سکتے۔
بنو نضیر سے حاصل ہونے والا مال مال فئے تھا۔ مال فئے وہ ہوتا ہے جو کفار سے جنگ کے بغیر حاصل ہو جائے۔ اس مال میں سے مال غنیمت کی طرح خمس نہیں نکالا جاتا بلکہ سارے کا سارا مال رسول اللہ ﷺکے اختیار میں ہوتا تھا تا کہ آپ ﷺجہاں چاہیں اسے صرف فرمائیں۔ انصار کا عجیب قابل رشک محبت اور ایثار کے اظہار کا نمونہ بھی ہمیں یہاں ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مال فئے تقسیم کرتے وقت تمام انصار کو اکٹھا کیا اور مہاجرین کے ساتھ ان کے حسن سلوک کا تذکرہ فرمایا اور پھر انصار کو مخاطب کرکے فرمایا:
اگر تم چاہو تو بنو نضیر سے حاصل شدہ مال فے تمہارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔ اس صورت میں مہاجرین تمہارے گھروں پر قابض اور مالوں کے مالک رہیںگے۔ اور اگر تمہاری مرضی ہو تو میں مال فے مہاجرین میں تقسیم کر دوں اس صورت میں وہ تمہارے دئیے ہوئے گھروں سے نکل جائیں گے۔ اس پر حضرت سعد بن عبادۃ اور حضرت سعد بن معاذ نے عرض کیا کہ ہمارے اموال ان کے پاس رہنے دیجئے اور بنو نضیر کے تمام اموال بھی ہمارے مہاجر بھائیوں میں تقسیم کر دیں۔ آپ ﷺاس ایثار و قربانی کے جذبے کو دیکھ کر انتہائی خوش ہوئے اور فرمایا اے اللہ انصار پر اور ان کی اولادوں پر رحم فرما ۔ نبی کریم ﷺنے اکثر اموال مہاجرین کی جماعت میں تقسیم فرما دئیے۔ انصار میں سے صرف دو تنگدست صحابہ کو اس مال سے نوازا گیا اور وہ حضرت سہل بن حُنَیف اور حضرت ابودجانہ تھے۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت سعد بن معاذ کو ابو حقیق کی تلوار عطا کی۔ اس تلوار کی بڑی شہرت تھی۔
حضور انور نے فرمایا:یہاں غزوہ بنو نضیر کا ذکر ختم ہوا ہے۔ آئندہ انشاء اللہ دوسرے غزوات کا ذکر ہوگا۔ فرمایا: پاکستان کے احمدیوں کے لئے دعائیں جاری رکھیں وہاں کے حالات کی بہتری کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ وہاں کی عمومی امن و امان کی حالت کو بھی بہتر کرے اور احمدیوں کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ دنیا میں مسلمانوں کی عمومی حالت کے لئے بھی دعا کریں۔ یہ لوگ بھی زمانے کے امام کو مان کر اپنا وقار دوبارہ حاصل کر سکیں۔ دنیا میں عمومی صورتحال جو جنگ کی بن رہی ہے اس کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی اور ہر معصوم کو اس کے شر سے محفوظ رکھے۔ …٭…٭…٭…