تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
آج غزوہ بنو نضیر کا کچھ ذکر کروں گا۔ قبیلہ بنو نضیر کا تعارف یہ ہے کہ بنو نضیر مدینہ کے یہود کا ایک خاندان تھا۔ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ بنو نضیر خیبر کے یہود کا ایک قبیلہ تھا اور ان کی بستی کو زہرہ کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺجب مدینہ طیبہ تشریف لائے اس وقت بنو نضیر کا سردار حیی بن اخطب تھا۔ ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنو نضیر کے اسی سردار حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔ کتب کی تاریخ میں لکھا ہے کہ حیی بن اخطب کا سلسلہ نسب حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون سے جا ملتا ہے۔ حیی کے نسب میں کئی اشخاص انبیاء کے شرف سے نوازے گئے جن پر اسے فخر تھا اور اسی گھمنڈ میں وہ یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہم پر اس دنیا میں مہربان ہے اور آخرت میں بھی وہ ہم پر شفقت اور مہربانی فرمائے گا۔ وہ ہمیں گناہوں کی وجہ سے چند دن سزا دے گا اور بالآخر جنت ہی ہمارا ٹھکانہ ہو گا۔ اسی نسبی فخر اور تکبر کے باعث حیی نے رسول اللہ ﷺکی تعلیمات سے روگردانی کی تھی۔ قبیلہ بنو نضیر مسجد قبا سے آدھے میل کے فاصلے پر تھا۔
غزوہ بنو نضیر ربیع الاول چار ہجری میں پیش آیا۔ علامہ ابن کثیر اور ان کے علاوہ اکثر مؤرخین اور سیرت نگاروں نے کہا ہے کہ غزوہ بنو نضیر غزوہ احد کے بعد ہی ہوا تھا۔ غزوہ بنو نضیرکے اسباب کے متعلق بیان ہوا ہے کہ قریش نے غزوہ بدر کے بعد یہود کی طرف ایک خط لکھا کہ تمہارے پاس اسلحہ ہے اور تم قلعوں کے مالک ہو۔ یا تو تم ہمارے ساتھی کے ساتھ قتال کرو وگرنہ ہم تم پر چڑھائی کریں گے اور تمہارے مردوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنی باندیاں بنا لیں گے۔ جب یہ خط یہود تک پہنچا تو بنو نضیر نے آپ ﷺکے ساتھ دھوکا کرنے پر اتفاق کر لیا کیونکہ یہود کے قبائل تو پہلے ہی چاہتے تھے کہ کوئی موقع ملے اور مسلمانوں کے تسلط اور طاقت کو جتنا جلد ہو ختم کیا جا سکے۔ اب انہوں نے سوچا کہ کوئی ایسا منصوبہ کیا جائے کہ نبی اکرم ﷺکو نعوذ باللہ قتل کر دیا جائے چنانچہ انہوں نے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ اپنے تین ساتھیوں کو اپنے ہمراہ لے کر آئیں اور ہم بھی اپنے تین علماء لے آتے ہیں وہ آپ کی بات چیت سنیں گے اگر ہمارے علماء نے آپ کی تصدیق کردی تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اس پر آپ ﷺنے تین صحابہ کے ساتھ آنے کی بات مان لی۔ تین یہودی علماء بھی نکلے ان یہودیوں کے پاس خنجر تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺپر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ آپ ﷺتشریف لے جانے کے لئے تیار تھے اور راستے میں ہی تھے کہ بنو نضیر کی ایک خیر خواہ عورت نے ایک انصاری مسلمان کو بنو نضیر کی اس ساری منصوبہ بندی کے بارے میں بتا دیا اور اس نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر یہود کے اس ارادے سے آگاہ کر دیا اور قبل اس کے کہ رسول اللہ ﷺیہود کے پاس پہنچتے آپ مدینہ واپس تشریف لے آئےاور فوراً تیاری کا حکم دیا اور صحابہ کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر بنونضیر کے قلعوں کی طرف روانہ ہو گئے اور جاتے ہی ان کا محاصرہ کر لیا اور پھر ان کے رئووساء کو پیغام بھیجا کہ جو حالات ظاہر ہوئے ہیں ان کے ہوتے ہوئے میں تمہیں مدینہ میں نہیں رہنے دے سکتاجب تک کہ تم ازسرنومیرے ساتھ معاہدہ کرکے مجھے یقین نہ دلائو کہ آئندہ تم بدعہدی اور غداری نہیں کرو گے مگر یہود نے معاہدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اس طرح جنگ کی ابتدا ہو گئی اور بنونضیر نہایت متمردانہ طریق پرقلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے۔ بنو نضیر بدستور اپنی ضد اورعداوت پراڑے رہے اورایک باقاعدہ جنگ کی صورت پیدا ہو گئی۔
اس غزوہ کا ایک اہم اور فوری سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ بئر معونہ سے واپسی پر حضرت عمرو بن امیہ ضمری نے بنو عامر کے دو افراد کو قتل کردیا تھا جس کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ تھا اب ان کی دیت کا معاملہ تھا۔ اس سلسلہ میں گفتگو کے لئے آنحضرت ﷺبنو نضیر کے پاس تشریف لے گئے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے یہود سے جو معاہدہ کیا تھا اس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ وہ لوگ دیت کے معاملات میں مسلمانوں سے تعاون کریں گے۔آپ ﷺہفتے کے دن نکلے۔ آپؐنے مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد قبا میں نماز ادا کی پھر حسب معاہدہ بنو نضیرکے پاس جا کر دیت کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺاپنے جن اصحاب کے ساتھ تشریف لے گئے ان کی تعداد دس سے کم تھی۔ ان میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت علی بھی تھے۔ حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت سعد بن معاذؓ، حضرت اُسَید بن حُضیرؓ اور حضرت سعد بن عبادہؓ کے نام بھی ملتے ہیں۔
آنحضرت ﷺنے وہاں پہنچ کر یہود سے دیت کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہاں ابوالقاسم آپ پہلے کھاناکھا لیجئے پھر آپؐکے کام کی طرف آتے ہیں۔ اس طرح یہودیوں نے ظاہری طور پر تو بڑی خندہ پیشانی سے آپؐسے بات کی لیکن درپردہ وہ آپؐکے قتل کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس وقت آنحضرت ﷺان کے گھروں کی ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یہود نے آپس میں مشورہ کیا اور کہنے لگے کہ انہیں یعنی آنحضرت ﷺکو ختم کرنے کے لئے تمہیں اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا اس لئے بتاؤ کون ہے جو اس مکان کی چھت پر چڑھ کر دیوار پر سے ایک بڑا پتھر آپؐکے اوپر گرا دے تا کہ ہمیں آپ سے نجات مل جائے۔ اس پر ایک بدبخت یہودی عمرو بن جحاش بولا میں اس گھر پر چڑھ کر پتھر گرا کر محمد (ﷺ) کو نعوذ باللہ قتل کروں گا۔ جب یہ ساری مشاورت ہو رہی تھی اس وقت بنو نضیر کے ایک سردار سلام بن مشکم نے کہا اے یہود کی جماعت تم بیشک ساری زندگی میری مخالفت کر لینا لیکن آج میری بات مان لو۔ اللہ کی قسم محمد (ﷺ) کو تمہارے اس ارادے کی خبر کر دی جائے گی اور یہ ہمارے اور ان کے درمیان معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی لیکن یہود نے اس کی ایک نہ سنی اور اپنے عزم پر قائم رہے ۔ حضور انور نے فرمایا آگے کے واقعات انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ میں بیان کروں گا کہ کس طرح آنحضرت ﷺکو اللہ تعالیٰ نے بچایا اور ان کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔
حضور انور نے فرمایا: آخر پہ میں پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی خاص طور پر دعا کے لئے کہنا چاہتا ہوں۔ ان پر آجکل پھر سختیاں وارد کی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جلد پاکستانی احمدیوں کو بھی ان ظالموں سے نجات دلائے اور وہاں بھی ہمارے حالات بہتر ہوں۔ ذرا ذرا سی بات پر مقدمے اور تنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
فرمایا جمعہ کے بعد مَیں جنازے بھی پڑھاؤں گا۔ پہلا ذکر ہے مکرم غلام سرور صاحب شہید ابن مکرم بشیر احمد صاحب کا اور اس کے ساتھ ہی دوسرا ذکر ہو گا راحت احمد باجوہ صاحب ابن مکرم مشتاق احمد باجوہ صاحب کا جو سعد اللہ پور ضلع منڈی بہاؤ الدین کے رہنے والے تھے جن کو 8جون کو شہید کر دیا گیا تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ایک معاند احمدیت نے یکے بعد دیگرے فائر کر کے غلام سرور صاحب اور راحت باجوہ صاحب کو شہید کیا تھا۔ بوقت شہادت غلام سرور صاحب شہید کی عمر چونسٹھ سال جبکہ راحت باجوہ صاحب شہید کی عمر بتیس سال تھی۔ تفصیلات کے مطابق غلام سرور صاحب شہید احمدیہ مسجد سعد اللہ پور سے نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد اپنے گھر واپس جا رہے تھے کہ گھر کے قریب ایک معاند احمدیت سید علی رضا جو مقامی مدرسے کا طالبعلم تھا اس نے غلام سرور صاحب کا تعاقب کر کے پستول سے فائر کر دیا۔ سر میں گولی لگنے سے آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ وقوعہ کے بعد قاتل موقع سے چلا گیا اور گاؤں کی دوسری جانب جا کر ایک اور احمدی مکرم راحت احمد باجوہ صاحب کو بھی فائر کر کے شہید کر دیا جس کے بعد قاتل کی گرفتاری عمل میں آئی۔ قاتل نے پولیس کو اپنے اقراری بیان میں بتایا کہ ہاں میں نے مارا ہے، جنت حاصل کرنے کے لئے، اگر مجھے کوئی اور احمدی بھی نظر آ جاتا تو میں اس کی جان لینے سے بھی گریز نہ کرتا۔ حضور انور نے فرمایا یہ مولویوں کے سکھائے ہوئے ہیں۔مولوی یہ تعلیم دے رہے ہیں اسلام کی، اور بدنام کرنے والے ہیں اسلام کو۔ اللہ تعالیٰ ان کی جلد پکڑ کے سامان فرمائے۔آمین۔
غلام سرور صاحب شہید ابن بشیر احمد صاحب کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ انکے پڑدادا حضرت شرف دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ سے ہوا جنہوں نے طاعون کے نشان سے متاثر ہو کر سعد اللہ پور کے دیگر احباب کے ہمراہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی کے توسط سے بذریعہ خط بیعت کی تھی۔پھر بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے 1903ء میں مقدمہ جہلم کے موقع پر جہلم تشریف لانے پرآپؑکی زیارت کی سعادت بھی ملی۔
حضور انور نے شہید مرحوم کے بے شمار اوصافِ حمیدہ بیان فرمائے اور پھر دوسرے شہید مکرم راحت احمد باجوہ صاحب کی حسن و خوبیوں کا تذکرہ فرمایا۔ مکرم راحت احمد باجوہ صاحب، مشتاق احمد باجوہ صاحب کے بیٹے تھے۔ ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا مکرم رشید احمد صاحب کے ذریعہ ہوا جنہوں نے اپنے بھائی مکرم حفیظ اللہ صاحب کے ذریعہ 1978ء میں بیعت کی تھی۔ شہید مرحوم بفضلہ تعالیٰ نظام وصیت میں شامل تھے جب بھی کسی احمدی کی شہادت کی انہیں اطلاع ملتی تو رشک سے اس امر کا اظہار کرتے کہ’’ رتبہ تو قسمت والوں کو ملتا ہے ۔‘‘ حضور انور نے ان کے اوصافِ حمیدہ بیان فرمانے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ ان شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے رحمت اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
اور آخر پر مکرم ملک مظفر خان جوئیہ صاحب کا ذکر خیر فرمایا جن کی گذشتہ دنوں 93سال کی عمر میں وفات ہوگئی تھی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضور انور نے ان کے اوصافِ حمیدہ بیان فرمانے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے درجات بلند کرے۔ ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حضور انور نے نماز جمعہ کے بعد ہر سہ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
…٭…٭…٭…