تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
آج جس سریہ کا ذکر کروں گا وہ سریہ حضرت منذر بن عمرو یا سریہ بئر معونہ کہلاتا ہے۔ یہ دردناک حادثہ بھی 4ہجری میں ہوا۔ بعض کے نزدیک یہ سریہ رجیع سے پہلے اور بعض کے نزدیک رجیع کے بعد ہوا۔ یہ واقعہ بھی سریہ رجیع کی طرح دشمن کی بدعہدی اور سفاکی کا بدترین نمونہ ہے۔ اس سریہ کو سریہ بئر معونہ کہا جاتا ہے۔ بئر معونہ مکہ سے مدینہ جانے والے راستے پر بنو سلیم کے علاقے میں ایک کنواں تھا اور اسی نام کا علاقہ بھی تھا۔ اسی وجہ سے اس کا نام سریہ بئر معونہ مشہور ہوا۔ اس سریہ کے امیر حضرت منذر بن عمرو تھے اس لئے اس کو سریہ حضرت منذر بن عمرو بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اسے سریۃ القُریٰ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ سریہ بئر معونہ میں روانہ ہونے والے سب صحابہ نوجوان تھے اور قرآن کے قاری تھے۔
انہی دنوں ایک شخص ابوبراء عامری جووسط عرب کے قبیلہ بنو عامر کا ایک رئیس تھا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ آپ نے بڑی نرمی اورشفقت کے ساتھ اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی۔ مگر یہ مسلمان نہیں ہوا۔ البتہ اس نے آنحضرت ﷺسے یہ عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ اپنے چند اصحاب نجد کی طرف روانہ فرمائیں جووہاں جا کر اہل نجد میں اسلام کی تبلیغ کریں۔ آپ نے فرمایامجھے تو اہل نجد پراعتماد نہیں ہے۔ ابوبراء نے کہا کہ آپ ہرگز فکر نہ کریں میں ان کی حفاظت کاضامن ہوتا ہوں۔ چونکہ ابوبراء ایک قبیلہ کا رئیس اور صاحب اثر آدمی تھا آپ نے اس کے اطمینان دلانے پر یقین کر لیا اور صحابہ کی ایک جماعت نجد کی طرف روانہ فرمادی۔ یہ تاریخ کی روایت ہے۔
حضور انور نے فرمایا: بئر معونہ کی تفصیلات میں بخاری کی روایات میں بھی کچھ خلط واقع ہوگیا ہے مگربہرحال اس قدر یقینی طورپر معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر قبائل رِعل اور ذَکوان وغیرہ کے لوگ بھی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے تھے اورانہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ چند صحابہ ان کے ساتھ بھجوا ئے جائیں اِن دونوں روایتوں کی مطابقت کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ رعل اور ذکوان کے لوگوں کے ساتھ ابوبراء عامری رئیس قبیلہ عامر بھی آیا ہو اور اس نے ان کی طرف سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ بات کی ہو۔
بہرحال آنحضرت ﷺ نے صفر 4ہجری میں منذر بن عمروانصاری کی امارت میں صحابہ کی ایک پارٹی روانہ فرمائی۔ یہ لو گ عموماًانصار میں سے تھے۔ تعداد میں ستر تھے۔ قریبا سارے کے سارے قاری اور قرآن خوان تھے۔
اس سریہ کے تعلق میں آنحضرتﷺ کے ایک مکتوب کا بھی ذکر ملتا ہے جو آپ نے عامر بن طفیل کے نام لکھا تھا۔ یہ شخص بنو عامر کے سرداروں میں سے ایک متکبر اور مغرور سردار تھا ۔ امیر لشکر حضرت منذر بن عمرو نے حضرت حرام بن مِلحان کو آنحضورﷺ کا مکتوب دے کر قبیلہ بنو عامر کے سردار عامر بن طفیل کی طرف بھیجا۔ حضرت حرام بن ملحان نے اپنے ساتھ دو اور ساتھیوں کو لیا اور یہ تینوں افراد چل پڑے۔ حضرت حرام نے اپنے دونوں ساتھیوں کو پہلے ہی بتا رکھا تھا کہ تم میرے قریب ہی رہنا۔ میں ان کے پاس جاتا ہوں اگر انہوں نے مجھے امان دے دی تو ٹھیک ہے اور اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو آپ دونوں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس چلے جانا۔ اس کے بعد وہ خود بے دھڑک اللہ کے دشمن عامر بن طفیل کے پاس چلے گئے۔ وہ بنو عامر کے کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ حرام نے ان سب کو مخاطب کر کے کہا کیا تم مجھے اس امر پر امان دیتے ہو کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا مکتوب گرامی پہنچا دوں۔ انہوں نے کہا ہاں۔ ہم آپ کو امان دیتے ہیں۔ حرام ان سے گفتگو کرنے لگے۔ موسیٰ بن عقبی کی روایت میں ہے کہ حرام ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا خط پڑھنے لگے۔ وہاں موجود لوگوں نے اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کر دیا وہ فوراً حرام کی پشت کی طرف جا پہنچا اور ان پر نیزے کا وار کیا جو ان کے جسم کے آر پار ہو گیا۔ جب حضرت حرام کے آنے میں دیر ہوئی تو مسلمان ان کے پیچھے آئے۔ کچھ دور جا کر ان کا سامنا اُس جتھے سے ہوا جو حملہ کرنے کے لئے آ رہا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا۔ دشمن تعداد میں زیادہ تھا۔ جنگ ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب شہید کر دئیے گئے۔
اس سریہ میں حضرت عامر بن فہیرہ کی شہادت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عامر بن فہیرہ کی شہادت کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
ایک صحابی کہتے ہیں میرے مسلمان ہونے کی وجہ محض یہ ہوئی کہ میں اُس قوم میںمہمان ٹھہرا ہوا تھا جس نے غداری کرتے ہوئے مسلمانوں کے ستر قاری شہید کر دیئے تھے۔ جب انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو کچھ تو اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے اورکچھ ان کے مقابلہ میں کھڑے رہے۔ چونکہ دشمن بہت بڑی تعداد میں تھا اور مسلمان بہت تھوڑے تھے اور وہ بھی نہتے اور بے سروسامان اِس لئے انہوں نے ایک ایک کرکے تمام مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ آخر میں صرف ایک صحابی رہ گئے جو ہجرت میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ شریک تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ان کا نام عامر بن فہیرہ ہے۔ بہت سے لوگوں نے مل کر ان کو پکڑ لیا اورایک شخص نے زور سے نیزہ ان کے سینہ میں مارا۔ نیزے کا لگنا تھا کہ ان کی زبان سے بے اختیار یہ فقرہ نکلا کہ فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَۃِ ۔ کہ کعبہ کے ربّ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ جب میں نے ان کی زبان سے یہ فقرہ سنا تو میں حیران ہوا اور میں نے کہا یہ شخص اپنے رشتہ داروں سے دور، اپنے بیوی بچوں سے دور، اتنی بڑی مصیبت میں مبتلا ہوا اور نیزہ اِس کے سینہ میں مارا گیا مگر اِس نے مرتے ہوئے اگر کچھ کہا تو صرف یہ کہ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ کیا یہ شخص پاگل تو نہیں؟ اس نے کہا کہ میں نے بعض اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے اور اس کے منہ سے ایسا فقرہ کیوں نکلا؟ انہوں نے کہا تم نہیں جانتے یہ مسلمان لوگ واقعہ میںپاگل ہیں۔ جب یہ خداتعالیٰ کی راہ میں مرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ خداتعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور انہوں نے کامیابی حاصل کر لی۔ وہ کہتا ہے کہ میری طبیعت پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں ان لوگوں کا مرکز جا کر دیکھوں گا اور خود ان لوگوں کے مذہب کا مطالعہ کروں گا۔ چنانچہ کہنے لگا کہ میں مدینہ پہنچا اور مسلمان ہو گیا ۔
حضرت عامر بن فہیرہ کی شہادت کے وقت ان کے منہ سے جو الفاظ نکلے تھے یہ الفاظ اور صحابہ کے منہ سے بھی نکلے تھے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
وہ حفاظ جو رسول کریم ﷺ نے وسط عرب کے ایک قبیلہ کی طرف تبلیغ کے لئے بھیجے تھے ان میں سے حرام بن ملحان اسلام کا پیغام لیکر قبیلہ عامر کے رئیس عامر بن طفیل کے پاس گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔ شروع میں تو عامر بن طفیل اور اس کے ساتھیوں نے منافقانہ طور پر ان کی آؤ بھگت کی لیکن جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے ایک خبیث کو اشارہ کیا اور اس نے اشارہ پاتے ہی حرام بن ملحان پر پیچھے سے نیزہ کا وار کیا اور وہ گرگئے۔ گرتے وقت ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا کہ اَللہُ اَکْبَرُ فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَۃِ یعنی مجھے کعبہ کے ربّ کی قسم میں نجات پا گیا۔ پھر ان شریروں نے باقی صحابہ کا محاصرہ کیا اور ان پر حملہ آور ہو گئے اس موقع پر حضرت ابو بکر کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ جو ہجرت کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ان کے متعلق ذکرآتا ہے بلکہ خود ان کا قاتل جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنے مسلمان ہونے کی وجہ ہی یہ بیان کرتا تھا کہ جب میں نے عامر بن فہیرہ کو شہید کیا تو ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا فُزْتُ وَاللہِ۔ یعنی خدا کی قسم میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ صحابہ کے لئے موت بجائے رنج کے خوشی کا موجب ہوتی تھی۔
اہل مغازی کا اتفاق ہے کہ اس سریہ میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری اور کعب بن زید کے علاوہ باقی سارے صحابہ کرام کو شہید کر دیا گیا تھا۔ حضرت کعب بن زید خندق کے دن فوت ہوئے اور حضرت عمرو بن امیہ عہد معاویہ میں فوت ہوئے۔ دو افراد حضرت عمرو بن امیہ ضمری اور حضرت منذر بن محمداونٹوں وغیرہ کو چرانے کے لئے اپنی جماعت سے الگ ہو کر ادھر ادھر گئے تھے۔ انہوں نے دور سے اپنے ڈیرہ کی طرف نظر ڈالی توکیا دیکھتے ہیں کہ پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈہوا میں اڑتے پھرتے ہیں۔ وہ ان صحرائی اشاروں کوخوب سمجھتے تھے۔ فوراً تاڑ گئے کہ لڑائی ہوئی ہے۔ واپس آئے تو ظالم کفار کے کشت وخون کا کارنامہ آنکھوں کے سامنے تھا۔ دور سے ہی یہ نظارہ دیکھ کر انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ ایک نے کہا کہ ہمیں یہاں سے فوراً بھاگ نکلنا چاہئے اورمدینہ میں پہنچ کر آنحضرت ﷺ کو اطلاع دینی چاہئے مگر دوسرے نے اس رائے کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں تو اس جگہ سے بھاگ کرنہیں جائوں گا جہاں ہمارا امیرمنذر بن عمرو شہید ہوا ہے۔ چنانچہ وہ آگے بڑھا اور لڑکر شہید ہوا۔
کفار نے کعب بن زید پر بھی حملہ کیا تھا۔ یہ حضرت حرام بن ملحان کے ساتھ تھے جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور کفار نے انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا حالانکہ شدید زخمی ہونے کے باوجود ان میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ انہیں شہداء کی لاشوں کے درمیان میں سے اٹھا لیا گیا اس کے بعد وہ زندہ رہے بالآخر انہیں غزوہ خندق میں شہادت نصیب ہوئی۔
حضرت عمرو بن امیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ گرفتار ہو گئے اور مخالفین کے پوچھنے پر حضرت عمرو نے بتایا کہ میں قبیلہ بنو مضر سے ہوں اس پر عامر بن طفیل نے عمرو کو پکڑا اور ان کی پیشانی کے بال کاٹ دئیے پھر انہیں اپنی ماں کی طرف سے آزاد کر دیا جس نے ایک غلام کو آزاد کرنے کی منت مان رکھی تھی۔
آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کوواقعہ رجیع اورواقعہ بئر معونہ کی اطلاع قریبا ایک ہی وقت میں ملی اور آپ کو اس کا سخت صدمہ ہوا۔ حتی کہ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ ایسا صدمہ نہ اس سے پہلے آپ کو کبھی ہوا تھا اورنہ بعد میں کبھی ہوا۔ مگر اس وقت آپ نے رجیع اوربئر معونہ کے خونی قاتلوں کے خلاف کوئی جنگی کارروائی نہیں فرمائی۔
رسول اللہ ﷺ نے مہینہ بھر نماز فجر میں قنوت فرمایا جس میں رعل، ذکوان اور بنو لحیان پر لعنت کرتے رہے۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے رعل اور ذکوان قبیلوں پر ایک ماہ تک بددعا کی۔ صحیح مسلم میں دعا کے الفاظ اس طرح درج ہیں کہ ’’اے اللہ بنو لحیان، رعل، ذکوان پر لعنت بھیج اور عصیہ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور اسلم قبیلے کو اللہ سلامت رکھے۔ ‘‘
خطبہ کے آخر پر حضور انور نے فرمایا:فلسطین کے مظلوموں کے لئے دعائیں جاری رکھیں۔دنیا کی عمومی حالت کے لئے بھی دعا کریں۔ جنگ کے آثار بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ احمدیوں کو جنگ کے بد اثرات سے اور اس کے شر سے محفوظ رکھے۔ پاکستانی احمدیوں کے لئے بھی خاص طور پر دعا کریں۔ آجکل پھر ان کے لئے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور ظالموں سے ان کو بھی نجات دلائے۔ …٭…٭…٭…