تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
حضرت خبیب کے شہید کئے جانے کا ذکر ہو رہا تھا۔یہ پہلے صحابی تھے جن کو لکڑی پر باندھ کر شہید کیا گیا یعنی صلیب کی طرح لٹکا کر شہید کیا گیا۔ایک روایت میں ہے کہ قریش نے حضرت خبیب سے کہا کہ اسلام چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔ حضرت خبیب نے کہا اللہ کے راستے میں میرا قتل تو ایک معمولی بات ہے۔ پھرانہوں نے کہا اَے اللہ تُو آنحضرت ﷺ کو میرا سلام پہنچا دے اور آپؐکو بتا دے جو یہاں ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔آپؐپر وحی کی کیفیت طاری ہوئی۔ ہم نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا۔ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ یعنی اس پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ پھر جب آپؐپر سے وحی کے آثار ختم ہوئے تو آپؐنے فرمایا یہ جبرئیل تھے وہ مجھے خبیب کا سلام پہنچا رہے تھے۔ خبیب کو قریش نے قتل کر دیا۔
روایت ہے کہ قریش نے ایسے چالیس آدمیوں کو حضرت خبیب کے قتل کے وقت بلایا جن کے باپ دادا جنگ بدر میں قتل ہوئے تھے۔ پھر قریش کے اُن لوگوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک نیزہ دے کر کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے تمہارے باپ داد ا کو قتل کیا تھا۔اِس پر اُن لوگوں نے خبیب کو اپنے نیزوں کے ساتھ ہلکی ہلکی ضربیں لگائیں اس پر حضرت خبیب صلیب پر بے چین ہونے لگے۔ پھر مشرکین نے خبیب کو قتل کر دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین نے پہلے حضرت خبیب کو نیزے چبھوئے شدید اذیت دی اور پھر قتل کیا۔ جبکہ بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خبیب نے جب اپنے اشعار ختم کئے تو عقبی بن حارث ان کے پاس آیا اور اس نے حضرت خبیب کو قتل کر دیا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں لکھا ہے کہ : رئوسائے قریش کی قلبی عداوت کے سامنے رحم وانصاف کا جذبہ خارج از سوال تھا۔ چنانچہ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ بنو الحارث کے لوگ اوردوسرے رئووسائے قریش خبیب کو قتل کرنے اوراس کے قتل پر جشن منانے کے لئے اسے ایک کھلے میدان میں لے گئے۔ خبیب نے شہادت کی بو پائی تو قریش سے نہایت الحاح کے ساتھ کہا کہ مرنے سے پہلے مجھے دورکعت نماز پڑھ لینے دو۔ قریش نے جو غالباً اسلامی نماز کے منظر کو بھی اس تماشہ کاحصہ بنانا چاہتے تھے اجازت دے دی اور خبیب نے بڑی توجہ اورحضور قلب کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کی اور پھر نماز سے فارغ ہوکر قریش سے کہا۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں اپنی نماز کو لمبا کروں لیکن پھرمجھے یہ خیال آیا کہ کہیں تم لوگ یہ نہ سمجھو کہ میں موت کو پیچھے ڈالنے کے لئے نماز کو لمبا کر رہا ہوں۔ پھر خبیب یہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے جھک گئے۔
وَمَا اَنْ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا
عَلٰی اَیِّ شِقٍّ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِی
وَذَالِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰہِ وَاِنْ یَّشَاءُ
یُبَارِکْ عَلٰی اَوْصَالِ شَلْوٍ مُمَزَّعٖ
یعنی جبکہ میں اسلام کی راہ میں اورمسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جارہا ہوں تو مجھے یہ پروا نہیں ہے کہ میں کس پہلو پرقتل ہوکر گروں۔ یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے اور اگر میرا خدا چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔ غالباً ابھی خبیب کی زبان پران اشعار کے آخری الفاظ گونج ہی رہے تھے کہ عقبہ بن حارث نے آگے بڑھ کر وار کیا اور یہ عاشق رسول خاک پر تھا۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ قریش نے خبیب کوایک درخت کی شاخ سے لٹکا دیا تھا اورپھر نیزوں کی چوکیں دے دے کر قتل کیا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
جب ان کے قتل کا وقت آن پہنچا توخبیب نے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ قریش نے ان کی یہ بات مان لی اور خبیب نے سب کے سامنے اِس دنیا میں آخری بار اپنے اللہ کی عبادت کی۔ جب وہ نماز ختم کر چکے تو انہوں نے کہا کہ میں اپنی نماز جاری رکھنا چاہتا تھا مگر اس خیال سے ختم کر دی ہے کہ کہیں تم یہ نہ سمجھو کہ میں مرنے سے ڈرتا ہوں۔ پھر آرام سے اپنا سر قاتل کے سامنے رکھ دیااور ایسا کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے۔
وَلَسْتُ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا
عَلٰی اَیِّ جَنْبٍ کَانَ لِلہِ مَصْرَعِی
وَذَالِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰہِ وَاِنْ یَّشَاءُ
یُبَارِکْ عَلٰی اَوْصَالِ شَلْوٍ مُمَزَّعٖ
یعنی جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جارہا ہوں تو مجھے پرواہ نہیں ہے کہ میں کس پہلو پر قتل ہو کر گروں۔یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے اور اگر میرا خدا چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔خبیب نے ابھی یہ شعر ختم نہ کئے تھے کہ جلاد کی تلوار ان کی گردن پر پڑی اور ان کا سر خاک پر آگرا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت خبیب پہلے تھے جنہوں نے قتل سے پہلے دو رکعتیں پڑھنے کی سنت قائم کی تھی۔حضرت خبیب نے شہادت کے وقت یہ دعا مانگی کہ اَللّٰهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ مِنْھُمْاَحَدًا کہ اے اللہ ان دشمنوں کو شمار میں رکھ اور انہیں چن چن کر قتل کر اور ان میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑ۔ ایک مشرک نے جب یہ دعا سنی تو وہ خوف سے زمین پر لیٹ گیا۔ کہتے ہیں کہ ابھی ایک سال نہیں گزرا تھا کہ سوائے اس کے جو زمین پر لیٹ گیا تھا سب ختم ہو گئے۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: اکثریت یا تو ماری گئی، اور یا اسلام لے آئی اور یوں حضرت خبیب کی دعا پوری شان سے پوری ہوئی۔
ایک سیرت نگار لکھتا ہے کہ مشرکین خبیب کی زبان سے یہ کلمات سن کر کانپ اٹھے۔ انہیں یقین تھا کہ خبیب کی یہ بددعا رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ بددعا سن کر وہاں موجود لوگوں میں سے بعض لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر فرار ہوگئے۔ کچھ لوگوںکے پیچھے چھپنے لگے یعنی ایک دوسرے کے پیچھے چھپنے لگ گئے۔ بددعا کے اثر سے بچنے کے لئے اپنے رواج کے مطابق کچھ درختوں کی اوٹ میں ہو گئے اور کچھ زمین پر لیٹ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح ہم اس بددعا سے محفوظ رہیں گے۔ اُن میں روایتی طور پر یہ بات مشہور تھی کہ اگر کسی آدمی کے لئے بددعا کی جائے اور وہ پہلو کے بل لیٹ جائے تو اس بددعا کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ حضرت معاویہ بن ابوسفیان بیان کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی اپنے والد کے ساتھ اس جگہ پہنچا تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے والد خبیب کی بددعا سے گھبرا گئے۔ انہوں نے مجھے لٹانے کے لئے بہت زور سے زمین کی طرف گھسیٹا۔ میں پیٹھ کے بل گرا۔ گرنے کی وجہ سے مجھے اتنی زبردست چوٹ لگی کہ میں بڑی مدت تک اس کی تکلیف محسوس کرتا رہا۔
حویطب بن عبدالعزی فتح مکہ والے سال مسلمان ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت خبیب کی بددعا سنتے ہی میں نے فورا کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور بھاگ نکلا۔ حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت خبیب کی بددعا سے ڈر کر درختوں کے پیچھے چھپ گیا۔ جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ میں اس دن حضرت خبیب کی بددعا کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہ کر سکا، میں نے خوفزدہ ہو کر لوگوں کی آڑ لے لی۔ نوفل بن معاویہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے پورا یقین تھا کہ ان کی بددعا سے وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔ میں کھڑا ہوا تھا ان کی بددعا سے گھبرا گیا اور زمین کی طرف جھک گیا۔ قریش کے لوگوں میں اس بددعا کا بہت چرچا رہا۔ ایک مہینے یا اس سے زیادہ عرصہ تک ان کی مجلسوں میں خبیب کی بددعا کا خوف منڈلاتا رہا اور وہ اس پر طرح طرح کے تبصرے کرتے رہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اس مجمع میں ایک شخص سعید بن عامر بھی شریک تھا۔ یہ شخص بعد میں مسلمان ہو گیا اور حضرت عمر کے زمانہ خلافت تک اس کا یہ حال تھا کہ جب کبھی اسے حضرت خبیب کا واقعہ یاد آتا تو اس پر غشی طاری ہو جاتی تھی۔
روایت میں بیان ہوا ہے کہ قریش نے سولی کی حفاظت کے لئے چالیس آدمی تعینات کئے تھے تا کہ وہ لاش وہیں لٹکی رہے اور وہیں گل سڑ کر خراب ہوجائے حضرت خبیب کی نعش کو لانے کیلئے آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو روانہ فرمایا۔ اس بارے میں مختلف روایات آتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرو بن امیہ زمری اورحضرت جبار بن صخر انصاری کو نعش لانے کیلئے بھیجا۔یہ دونوں لاش کو سولی سے اُتار لائے لیکن قریشیوں نے جب ان دونوں کا پیچھا گیا تو حضرت جبار نے لاش کو ندی میں پھینک دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے خبیب کی لاش کو بے حرمتی سے بچالیا۔حضور انور نے فرمایا : یہ روایت زیادہ صحیح لگتی ہے۔ بہرحال ان کی لاش کافروں کے ہاتھ نہیں لگی اور کفار حضرت خبیب کی لاش کے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے تھے وہ کر نہ سکے اور اس طرح لاش کو اللہ تعالیٰ نے بے حرمتی سے محفوظ رکھا۔
حضور انور نے فرمایا : دعا کی طرف میں توجہ دلاتا رہتا ہوں فلسطینیوں کے لئے خاص طور پر دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے دُنیا کو نجات دے اور معصوم فلسطینیوں کو بھی نجات دے۔ اسی طرح سوڈان کے لوگوں کے لئے دعا کریں۔ وہاں خود اپنی قوم کے لوگ اپنی قوم کے لوگوں کو مار رہے ہیں۔ مسلمان مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی عقل دے۔یمن کے اسیروں کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی رہائی کے سامان پیدا فرمائے۔ پاکستان کے احمدیوں کے لئے دعا کریں۔عید قریب آرہی ہے مولوی ان دنوں مزید سرگرم ہو جاتے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔ اسیران کی رہائی کے بھی جلد سامان پیدا فرمائے۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور نے مکرم چوہدری منیر احمد صاحب مربی سلسلہ ڈائریکٹر ایم ٹی اے انٹرنیشنل ٹیلی پورٹ امریکہ اور مکرم عبدالرحمن کٹی صاحب النّلورکیرالہ انڈیا کا ذکر خیر فرمایا اور نماز کے بعد ہر دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ادا فرمائی۔
…٭…٭…٭…