تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کا یہ ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔ آپ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق آپؐکی غلامی میں دین اسلام کی تجدید کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے۔ 26مئی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وصال ہوا اور 27 مئی کو جماعت نے خدائی وعدوں کے مطابق حضرت مولانا حکیم نور الدین رضی اللہ عنہ کو خلیفۃ المسیح الاول منتخب کر کے آپ کے ہاتھ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کام کو جاری رکھنے کا عہد کیا اور بیعت کی۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر جماعت جمع ہوئی اور باوجود بعض اندرونی مخالفتوں اور ہر قسم کے نامساعد حالات کے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے ہم نے دیکھے اور آپ کی خلافت تقربیاً 52 سال جاری رہی اور اس دور میں جماعت احمدیہ کی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقّی کے نظارے ہم نے دیکھے۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد خلافت ثالثہ کا آغاز ہوا اور اس دور میں بھی جماعت کی ترقی کے نظارے ہم نے دیکھے۔ دشمنوں نے بڑا زور لگایا جماعت کو ختم کرنے کا لیکن اس کے باوجود ہمیں تاریخ میں ترقی کے نظارے ہی نظر آتے ہیں۔ پھر جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی وفات ہوئی تو ایک بار پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا نظارہ دکھایا اور خلافت رابعہ کا دور شروع ہوا جس میں دشمن نے جماعت کو ختم کرنے کی پھر بھرپور کوشش کی لیکن ہر طرح ناکامی کا منہ دیکھا اور اس دشمنی کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو پاکستان سے ہجرت کرنی پڑی۔ انگلستان میں مرکز قائم کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جماعت کی ترقی کی رفتار بڑھتی چلی گئی اور جماعت کی ترقی کو روکنے والے اس ترقی کو دیکھ کر پیچ و تاب کھانے لگے۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی وفات ہوئی تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کو پورا کرنے کا جلوہ دکھایا اور خلافت خامسہ کا انتخاب ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے باوجود میری بیشمار کمزوریوں کے غیر معمولی تائید و نصرت سے نوازا اور جماعت کی ترقی کا قدم آگے سے آگے بڑھتا گیا۔ درجنوں ملکوں میں احمدیت کا پودا لگا اِس دور میں، درجنوں ملکوں میں جماعت احمدیہ کا باقاعدہ نظام قائم ہوا۔ سینکڑوں شہروں اور قصبوں میں خود اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی رہنمائی کر کے خلافت کی تائید و نصرت کے نظارے دکھا کر لوگوں کے دلوں میں خلافت سے تعلق کا جذبہ پیدا کر کے مخلصین کی جماعتوں کے قیام کے سامان پیدا فرمائے اور یہ نظارے اللہ تعالیٰ دکھاتا چلا جا رہا ہے۔ خلافت سے وابستگی کے یہ نظارے اور جماعت کی ترقی کے یہ نظارے کیوں نہ ہوتے؟ یہ تو ہونے تھے! اس کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا اور اسکی پیشگوئی آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی۔
پس جو حقیقت میں آنحضرت ﷺ کے غلام کی جماعت کے ساتھ جڑے رہنے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں گے۔ انشاء اللہ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا میں خاتم الخلفاء ہوں اب جو بھی آئیگا میری پیروی میں ہی آئیگا۔ پس دنیاوی طور پر اب کوئی جتنا چاہے زور لگا لے کبھی خلافت کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے علیحدہ ہو کر نہیں ہو سکتا۔
دشمن کی بھرپور کوششوں کے باوجود جماعت آگے سے آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے بلکہ ہمیشہ کی طرح خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں جو دور دراز ملکوں میں بیٹھے ہیں جنہوں نے کبھی کسی خلیفہ کو دیکھا بھی نہیں ہے خود رہنمائی فرماتے ہوئے خلافت کے جھنڈے تلے آنے کی ہدایت دیتا ہے۔ مسلمانوں میں بھی اور غیر مسلموں میں بھی ایسے سینکڑوں ہزاروں لوگ ہیں جن کے سینے اللہ تعالیٰ کھولتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو وعدہ فرمایا اسے پورا کرتے ہوئے ہر روز جماعت کی تائید و نصرت کے نظارے دکھاتا ہے۔ حضور انور نے اس ضمن میں خوابوں کے ذریعہ اورmta کے ذریعہ قبول احمدیت کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔
فرمایا : برکینا فاسو افریقہ کا ایک ملک ہے وہاں کے معلم لکھتے ہیں کہ جب ہماری جماعت میں پہلی بار ایم ٹی اے لگا اور لوگوں نے پہلی بار خلیفہ وقت کو دیکھا تو ان کی آنکھیں نم تھیں اور خوشی ان کے چہروں سے عیاں تھی کچھ دن کے بعد وہاں سے ایک وفد آیا اور ایم ٹی اے کا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگے کہ ویسے تو ہم خلیفہ وقت سے ملاقات کے لئے نہیں جا سکتے مگر ایم ٹی اے پر خلیفہ وقت کو دیکھ کر ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو تسکین ملتی ہے اور اس طرح اب یہ ہمارا روز کا معمول بن گیا ہے کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ ہم روز خلیفہ وقت سے ملاقات کرتے ہیں۔ فرمایا: تو اس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر رہا ہے وہ جو کبھی ملے بھی نہیں ان کے دلوں میں بھی خلافت سے محبت ہے۔
امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ ایک موٹر مکینک سامبا صاحب انہوں نے مجھے mtaپر کوئی خطاب کرتے ہوئے یا خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ سن کے کہنے لگے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس شخص کو خدا تعالیٰ کی حمایت حاصل ہے۔ چنانچہ موصوف نے اپنے خاندان کے چودہ افراد سمیت بیعت کر لی۔ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ احمدیت اندھیرے کے لئے ایک روشن سورج کی مانند ہے۔
جرمنی کے سیکرٹری تبلیغ لکھتے ہیں کہ ایک عرب ان کے تبلیغی سٹال پہ آئے۔ قرآن کریم کا جرمن ترجمہ لے گئے اپنا نمبر بھی دے گئے تا کہ ان سے رابطہ رکھا جائے۔ انہیں جلسہ سالانہ جرمنی میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے معذرت کی ور اپنی جگہ اپنے بڑے بھائی اور ایک اور فیملی ممبر کو بھجوا دیا۔ جلسہ پر ان کے بھائی میری تقریر سننے کے بعد کہنے لگے کہ یہ شخص یقینا خدا تعالیٰ کا تائید یافتہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈالا کہ خلافت سچی ہے۔ موصوف نے اسی رات بیعت فارم پُر کیا اور جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔ یہ جذبات صرف اللہ تعالیٰ ہی دلوں میں پیدا کر سکتا ہے اور اس لئے کرتا ہے کہ اس کا یہ وعدہ ہے۔ دوسرے عرب دوست جو تھے ان کے فیملی ممبر انہوں نے پہلے دن تو بیعت نہیں کی لیکن بعد میں ان کی بھی تسلّی ہوگئی اور بیعت کی تقریب سے قبل انہوں نے بھی بیعت کرلی۔
گیمبیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک جگہ جب جماعت کا قیام عمل میں آیا تو ایک دوست الحاجی فائے صاحب نے جماعت کی شدید مخالفت کی۔ جماعتی لٹریچر کو ہاتھ تک لگانا بھی گوارا نہیں کرتے تھے لیکن ہمارے داعین الی اللہ نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل انہیں تبلیغ کرتے رہے۔ ایک دن گاؤں میں نومبائعین کے لئے تربیتی کلاس کا پروگرام رکھا گیا۔ ہمارے داعین الی اللہ نے موصوف کو اس بات پر منا لیا کہ وہ بیشک کوئی کتاب نہ پڑھیں مگر ایک دفعہ ہمارے ساتھ مشن ہاؤس چلیں اور ہمارے پروگرام میں شامل ہو جائیں۔ ہم وہاں آپ کو کوئی تبلیغ نہیں کریں گے اور نہ ہی آپ سے اس موضوع پر بات کریں گے۔ آپ صرف پروگرام میں شامل ہو کر ہماری باتیں سن لیں۔ چنانچہ موصوف جب مشن ہاؤس آئے تو کہنے لگے میں آپ کی کلاس میں شامل ہونا نہیں چاہتا۔ یہاں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ لیتا ہوں۔ اس پر انہیں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھا کر ٹی وی پر ایم ٹی اے لگا دیا گیا انہیں وہیں چھوڑ کر باقی سارے لوگ کلاس میں شامل ہونے کے لئے مسجد چلے گئے۔ اس دوران موصوف نے ایم ٹی اے پر میرا خطبہ لگا ہوا تھا وہ سنا۔ کلاس کے بعد جب ان سے بات ہوئی تو کہنے لگے کہ یہ شخص جھوٹا نہیں ہوسکتا یہ ممکن نہیں کہ میں اب پیٹھ پھیر لوں چنانچہ موصوف اپنے خاندان کے دس لوگوں سمیت بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔ حضور انور نے فرمایا: کیا یہ کسی انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ یقینا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے سچے کر کے دکھا رہا ہے۔
خلافت سے تعلق بڑھنے کا ایک اور واقعہ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہونے کا ایک اور واقعہ۔ کیمرون کے شہر وانڈیرے کے ایک محلہ میں آٹھ فیملیوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ نومبائعین کا کہنا ہے کہ ایم ٹی اے نے ہمارے بچوں کی زندگی بدل دی ہے اور دین کے بارے میں ان کے علم میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے ایک نوجوان عبدالرحمن ہے جو O-Levelکر رہا ہے۔ یہ میرے خطبات بہت شوق سے سنتا ہے۔ جمعہ کے دن سکول ٹیچر سے کہتا ہے کہ میں نے گھر خطبہ سننے کے لئے جانا ہے میں سکول چھوڑ سکتا ہوں لیکن خطبہ جمعہ نہیں چھوڑ سکتا۔ یہ ان کا ایمان ہے۔ ان کے والد نے کہا کہ بے شک ہر جمعہ پر سکول چھوڑ کر خطبہ سننے آ جایا کرو اور عبدالرحمن کہتے ہیں کہ خطبہ سننے سے میرا ایمان اور علم بڑھتا ہے۔ پہلے میں جو بھی غلط کام کرتا تھا اب چھوڑ دئیے ہیں۔ حضور انور نے فرمایا پس یہ لوگ ہیں جو خلافت کے ساتھ جڑنے کے عہد کو بھی پورا کر رہے ہیں۔ یقینا ایک وقت آئے گا جب یہ ترقی کر کے سب سے اوپر ہوں گے کیونکہ یہ وعدوں کے مصداق بننا چاہتے ہیں۔
برکینا فاسو میں ایک جگہ کافی تبلیغ کی گئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جاتے ہوئے معلم کہتے ہیں میں نے چند لوگوں کو کہا کہ آپ جب شہر آئیں تو میرے گھر ضرور آنا۔ چنانچہ کچھ دنوں بعد ان میں سے ایک آدمی بون صاحب ہمارے گھر آئے تو اسے ایم ٹی اے لگا دیا۔ تھوڑی دیر بعد جب انہوں نے ایم ٹی اے پر مجھے دیکھا تو کہنے لگے کہ اس شخص کو تو میں پہلے ہی خواب میں دیکھ چکا ہوں۔ چنانچہ وہ اسی وقت بغیر کسی دلیل کے احمدیت میں داخل ہو گیا اور واپس جا کر اپنے گاؤں والوں کو بتایا تو گاؤں کے کافی لوگوں نے احمدیت قبول کر لی۔ اب خدا کے فضل سے اس گاؤں میں ایک مضبوط جماعت قائم ہو چکی ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مختلف ممالک سے قبول احمدیت کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائےاور فرمایا: یہ چند واقعات ہیں جو میں نے بیان کئے ہیں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کی خدائی تائید کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ قدرت ثانیہ کے جاری رہنے اور اس کی تائید و نصرت کا ہے اور اس ذریعہ سے اب اسلام کا غلبہ مقدر ہے۔ خدا تعالیٰ خود لوگوں کے سینے کھول رہا ہے،غیروں کے دل میں خلافت احمدیہ کا اثر قائم فرما رہا ہے۔ سعید فطرت لوگوں کو خلافت کے ساتھ منسلک کر رہا ہے۔ خلافت احمدیہ کی ایک سو اٹھارہ سالہ تاریخ کا ہر دن اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خلافت احمدیہ کی تائید و نصرت فرما رہا ہے اور جماعت ہر روز ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو کامل وفا اور اخلاص کے ساتھ ہمیشہ خلافت احمدیہ سے وابستہ رکھے اور تاقیامت وفا شعار اور تقویٰ پر قائم رہنے والے خلافت احمدیہ کو ملتے رہیں اور وہ تمام مقاصد اللہ تعالیٰ پورے فرمائے جن کا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے اور خلافت احمدیہ کے ذریعہ خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم ہو اور حضر ت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہرانے کا نظارہ دنیا دیکھے۔
خطبہ کے آخر پر حضور انور نے مکرم چوہدری محمد ادریس نصراللہ خان صاحب آف کینیڈا اور مکرم قمر ادریس صاحب آف کراچی کا ذکر خیر فرمایا او رنماز جمعہ کے بعد ہر دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ادا کی۔ …٭…٭…