اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-23

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 17 ؍مئی 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
سریہ رجیع کا ذکر ہو رہا تھا ۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ صفر چار ہجری میں اپنے دس صحابیوں کی ایک پارٹی تیار کی اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فرمایا اور ان کویہ حکم دیا کہ وہ خفیہ خفیہ مکہ کے قریب جاکر قریش کے حالات دریافت کریں اور ان کی کارروائیوں اور ارادوں سے آپ کو اطلاع دیں۔ لیکن ابھی یہ پارٹی روانہ نہیں ہوئی تھی کہ قبائل عضل اور قارہ کے چند لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں آپ چند آدمی ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں جو ہمیں مسلمان بنائیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ خواہش معلوم کرکے خوش ہوئے اور وہی پارٹی جو خبررسانی کے لئے تیار کی گئی تھی ان کے ساتھ روانہ فرما دیا۔ لیکن دراصل جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا یہ لوگ جھوٹے تھے اور بنولحیان کی انگیخت پر مدینہ میں آئے تھے جنہوں نے اپنے رئیس سفیان بن خالد کے قتل کابدلہ لینے کے لئے یہ چال چلی تھی کہ اس بہانہ سے مسلمان مدینہ سے نکلیں تو ان پر حملہ کردیا جاوے اور بنو لحیان نے اس خدمت کے معاوضہ میں عضل اور قارہ کے لوگوں کے لئے بہت سے اونٹ انعام کے طور پر مقرر کئے تھے۔ جب عضل اور قارہ کے یہ غدار لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو انہوں نے بنو لحیان کو خفیہ خفیہ اطلاع بھجوا دی کہ مسلمان ہمارے ساتھ آرہے ہیںتم آ جائو۔ جس پر قبیلہ بنو لحیان کے دوسو نوجوان جن میں سے ایک سو تیر انداز تھے مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور مقام رجیع میں ان کو آ دبایا۔ دس آدمی دو سو سپاہیوں کاکیا مقابلہ کرسکتے تھے لیکن مسلمانوں کو ہتھیار ڈالنے کی تعلیم نہیں دی گئی تھی۔ فوراً یہ صحابی ایک قریب کے ٹیلہ پر چڑھ کرمقابلہ کے واسطے تیار ہو گئے۔ کفار نے جن کے نزدیک دھوکا دینا کوئی معیوب فعل نہیں تھا ان کو آواز دی کہ تم پہاڑی پرسے نیچے اتر آئو ہم تم سے پختہ عہد کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ عاصم نے جواب دیا کہ ہمیں تمہارے عہدوپیمان کاکوئی اعتبار نہیں ہے ہم تمہاری اس ذمہ داری پر نہیں اتر سکتے۔ اور پھر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا۔ اے خدا تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے۔ اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔ غرض عاصم اوراس کے ساتھیوں نے مقابلہ کیا بالآخر لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔
جب قریش مکہ کو یہ اطلاع ملی کہ جولوگ بنولحیان کے ہاتھ سے رجیع میں شہید ہوئے تھے ان میں عاصم بن ثابت بھی تھے۔ تو چونکہ عاصم نے بدر کے موقع پرقریش کے ایک بڑے رئیس کوقتل کیا تھا اس لئے انہوں نے رجیع کی طرف خاص آدمی روانہ کئے اور ان آدمیوں کو تاکید کی کہ عاصم کا سر یا جسم کاکوئی عضو کاٹ کر اپنے ساتھ لائیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور ان کا جذبہ انتقام تسکین پائے۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جس شخص کوعاصم نے قتل کیا تھا اس کی ماں سلافہ بنت سعد نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے قاتل کی کھوپڑی میں شراب ڈال کر پئے گی اور اس نے یہ انعام مقرر کیا تھا کہ جو اس کی کھوپڑی لائے گا اس کو سو اونٹ دئیے جائیں گے۔ لیکن خدا ئی تصرف ایسا ہوا کہ یہ لوگ وہاں پہنچے توکیا دیکھتے ہیں کہ زنبوروں اورشہد کی مکھیوں کے جھنڈ کے جھنڈ عاصم کی لاش پر ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں اورکسی طرح وہاں سے اٹھنے میں نہیں آتے۔ ان لوگوں نے بڑی کوشش کی کہ یہ زنبور اورمکھیاں وہاںسے اڑ جائیں مگر کوئی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔ آخرمجبور ہوکر یہ لوگ خائب وخاسر واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد جلد ہی بارش کاایک طوفان آیا اور عاصم کی لاش کووہاں سے بہا کر کہیں کا کہیں لے گیا۔ لکھا ہے کہ عاصم نے مسلمان ہونے پر یہ عہد کیا تھا کہ آئندہ وہ ہرقسم کی مشرکانہ چیز سے قطعی پرہیز کریں گے حتی کہ مشرک کے ساتھ چھوئیں گے بھی نہیں۔ حضرت عمر کو جب ان کی شہادت اور اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو کہنے لگے کہ خدا بھی اپنے بندوں کے جذبات کی کتنی پاسداری فرماتا ہے موت کے بعد بھی اس نے عاصم کے عہد کو پورا کیا اور مشرکین کے مس سے انہیں محفوظ رکھا۔
سات صحابہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ اب صرف تین صحابہ رہ گئے تھے حضرت خبیب بن عدی حضرت زید بن دسنہ اور حضرت عبداللہ بن طارق ۔ دشمنوں نے ان تینوں صحابہ سے عہد و پیمان کیا کہ ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے اور تمہیں امان دیتے ہیں۔ تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ اس پر وہ صحابہ پہاڑی پر سے ان کی طرف اتر آئے۔ جب مخالفین نے ان صحابہ پر قابو پا لیا تو انہوں نے اپنی کمانوں کی تانتوں کو کھولا اور صحابہ کو ان سے باندھ دیا۔ اس پر حضرت عبداللہ بن طارق نے کہا یہ پہلی بدعہدی ہے اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ ان شہید ہونے والوں کی اقتدا ہی مجھے پسند ہے۔ مخالفین نے زبردستی ان کو کھنچنا چاہا بہت کوشش کی کہ ساتھ چلیں لیکن عبداللہ بن طارق نے ایسا نہ کیا تو انہوں نے عبداللہ کو بھی شہید کر دیا۔ چونکہ اب ان کا انتقام پورا ہو چکا تھا وہ قریش کو خوش کرنے کے لئے نیز روپے کی لالچ سے خبیب اورزید کوساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو گئے وہاں پہنچ کر انہیں قریش کے ہاتھ فروخت کردیا۔ چنانچہ خبیب کوتو حارث بن عامر بن نوفل کے لڑکوں نے خرید لیا کیونکہ خبیب نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا اورزید کو صفوان بن امیہ نے خریدلیا۔
صفوان بعد میں مسلمان ہو گیا تھا۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کہتے ہیں کہ صفوان بن امیہ اپنے قیدی زید بن دثنہ کوساتھ لے کر حرم سے باہر گیا۔ رئووسائے قریش کا ایک مجمع ساتھ تھا۔ باہر پہنچ کرصفوان نے اپنے غلام نسطاس کو حکم دیا کہ زید کو قتل کردو۔ نسطاس نے آگے بڑھ کر تلوار اٹھائی۔ اس وقت ابوسفیان بن حرب رئیس مکہ نے جو تماشائیوں میں موجود تھا آگے بڑھ کر زید سے کہا۔ سچ کہو کیا تمہارا دل یہ نہیں چاہتا کہ اس وقت تمہاری جگہ ہمارے ہاتھوں میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوتا جسے ہم قتل کرتے اورتم بچ جاتے اوراپنے اہل وعیال میں خوشی کے دن گزارتے؟ زید کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور غصہ میں بولے۔ ابوسفیان تم یہ کیا کہتے ہو۔ خدا کی قسم میں تو یہ بھی نہیں پسند کرتا کہ میرے بچنے کے عوض رسول اللہ کے پائوں میں ایک کانٹا تک چبھے۔ ابوسفیان بے اختیار ہوکر بولا۔ واللہ میں نے کسی شخص کو کسی شخص کے ساتھ ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جیسی کہ اصحاب محمدکو محمد (ﷺ) سے ہے۔ اس کے بعد نسطاس نے زید کو شہید کردیا۔
حضرت خبیب بن عدی کے قید کے واقعہ میں لکھا ہے کہ معاویہ ،حجیر بن ایحاب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، مکہ میں انہی کے گھر میں حضرت خبیب بن عدی قید تھے تا کہ حرمت والے مہینے ختم ہوں تو انہیں قتل کیا جا سکے۔ معاویہ نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ اچھی مسلمان ثابت ہوئیں۔معاویہ بعد میں یہ قصہ بیان کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے حضرت خبیب سے بہتر کسی کو نہیں دیکھا۔ میں انہیں دروازے کے درز سے دیکھا کرتی تھی اور وہ زنجیر میں بندھے ہوتے تھے اور میرے علم میں روئے زمین پر کھانے کے لئے انگوروں کا ایک دانہ بھی نہ تھا یعنی اس علاقے میں کوئی انگور نہیں تھا لیکن حضرت خبیب کے ہاتھ میں آدمی کے سر کے برابر انگوروں کا گچھا ہوتا تھا جس میں سے وہ کھاتے تھے۔ وہ اللہ کے رزق کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ حضرت خبیب تہجد میں قرآن پڑھتے اور عورتیں وہ سن کر رو دیتیں اور انہیں حضرت خبیب پر رحم آتا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک دن میں نے حضرت خبیب سے پوچھا کہ اے خبیب کیا تمہاری کوئی ضرورت ہے تو انہوں نے جواب دیا نہیں۔ ہاں ایک بات ہے کہ مجھے ٹھنڈا پانی پلا دو اور مجھے کبھی وہ کھانا نہ دینا جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور تیسری بات یہ کہ جب لوگ میرے قتل کا ارادہ کریں تو مجھے بتا دینا۔ پھر جب حرمت والے مہینے گزر گئے اور لوگوں نے حضرت خبیب کے قتل پر اتفاق کر لیا تو کہتی ہیں کہ میں نے ان کے پاس جا کر انہیں یہ خبر دی۔ کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم انہوں نے اپنے قتل کئے جانے کی کوئی پروانہ نہیں کی۔ انہوں نے مجھ سے کہا میرے پاس استرہ بھیج دو تا کہ میں اپنے آپ کو درست کر لوں۔ وہ بتاتی ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے ابوحسین کے ہاتھ استرہ بھیجا۔ راو ی کہتے ہیں کہ وہ ان کا حقیقی بیٹا نہ تھا بلکہ معاویہ نے اس کی صرف پرورش کی تھی۔ بہرحال جب بچہ چلا گیا تو کہتی ہیں کہ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اللہ کی قسم خبیب نے اپنا انتقام پا لیا۔ اب میرا بیٹا اس کے پاس ہے استرہ اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ تو انتقام لے لے گا۔ یہ میں نے کیا کر دیا۔ میں نے اس بچے کے ہاتھ استرہ بھیج دیا۔ خبیب اس بچے کو استرے سے قتل کر دے گا اور پھر کہے گا کہ مرد کے بدلے مرد۔ میں نے تو بدلہ لے لیا۔ پھر جب میرا بیٹا ان کے پاس استرہ لے کر پہنچا تو انہوں نے وہ لیتے ہوئے مزاحا اس بچے کو کہا کہ تو بڑا بہادر ہے۔ کیا تمہاری ماں کو میری غداری کا خوف نہیں آیا اور تمہارے ہاتھ میں میرے پاس استرہ بھجوا دیا جبکہ تم لوگ میرے قتل کا ارادہ بھی کر چکے ہو ۔ حضرت معاویہ بیان کرتی ہیں کہ خبیب کی یہ باتیں میں سن رہی تھی میں نے کہا اے خبیب میں اللہ کے ایمان کی وجہ سے تم سے بے خوف رہی اور میں نے تمہارے محبوب پر بھروسہ کر کے اس بچے کے ہاتھ تمہارے پاس استرہ بھجوا دیا۔ میں نے وہ اس لئے نہیں بھجوایا کہ تم اس سے میرے بیٹے کو قتل کر ڈالو۔ حضرت خبیب نے کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ اس کو قتل کر دوں۔ ہم اپنے دین میں غداری جائز نہیں سمجھتے۔ وہ بتاتی ہیں کہ پھر میں نے خبیب کو خبر دی کہ لوگ کل صبح تمہیں یہاں سے نکال کر قتل کرنے والے ہیں۔ پھر یہ ہوا کہ اگلے دن لوگ انہیں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تنعیم لے گئے یہ مکہ کے قریب تین میل کے فاصلہ پر جگہ تھی۔ خبیب کے قتل کا تماشا دیکھنے کے لئے بچے عورتیں غلام اور مکہ کے بہت سارے لوگ وہاں پہنچے۔ ہر ایک جو انتقام چاہتا تھا وہ ان کو دیکھنے کے لئے گیا۔ یعنی اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لئے اور جنہوں نے انتقام نہیں لینا تھا اور جو اسلام اور مسلمانوں کے مخالف تھے وہ مخالفت کا اظہار کرنے اور خوش ہونے کے لئے وہاں گئے تھے کہ دیکھیں کس طرح اس کا قتل کیا جاتا ہے۔ خبیب بولے کیا مجھے دو رکعت پڑھنے کی مہلت مل سکتی ہے۔ لوگ بولے کہ ہاں۔ حضرت خبیب نے دو نفل اختصار کے ساتھ ادا کئے اس لئے کہ کہیں دشمن کو یہ خیال نہ ہو کہ میں شایدموت سے بچنے کے لئے لمبی نماز پڑھ رہا ہوں۔
حضور انور نے فرمایا: بہرحال یہ ان لوگوں کی قربانیاں تھیں اور موت سے بے خوفی تھی۔ اسلام کی خاطر جان دینے کے لئے ہر وقت تیار رہنے والے تھے یہ صحابہ۔ اسی سریہ کا ذکر ابھی مزید بھی ہے جو انشاء اللہ آئندہ بیان کر دوں گا۔
…٭…٭…٭…