اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-02

خلاصہ خطبہ جمعہ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود ہ 26 ؍اپریل 2024ءبمقام مسجدمبارک (اسلام آباد)یو.کے

تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
غزوہ حمراء الاسد کا سبب اور اس کا پس منظر گذشتہ خطبہ میں بیان ہوا تھا۔ جب آنحضرتﷺ کو دشمن کے احد کی جنگ کے بعد راستہ سے پلٹ کر مدینہ پر حملہ کرنے کی سازش کا علم ہوا تو اس پر رسول اللہ ﷺنے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو بلایا اور صورتحال سے آگاہ فرمایا۔ ان دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ دشمن کی طرف چلیں تا کہ وہ ہمارے بچوں پر حملہ آور نہ ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ وہ اعلان کریں کہ رسول اللہ تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ دشمن کے لئے نکلو اور ہمارے ساتھ وہی نکلے جو احد کی لڑائی میں شامل تھے۔ آنحضور ﷺ نے اپنا جھنڈا منگوایا جو کہ گذشتہ روز سے ہی بندھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے یہ جھنڈا حضرت علی کو دے دیا اور حضرت ابن ام مکتوم کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔
سیرت نگار لکھتے ہیں کہ آنحضور ﷺ کا دشمن کے تعاقب میں نکلنے کا فیصلہ انتہائی دانشمندانہ تھا جس سے مسلمانوں کو بیشمار فوائد حاصل ہوئے۔ آپ ﷺ نے ساری رات جنگ سے پیدا شدہ صورتحال پر غور کرتے گزاری۔ اس فیصلے نے مجاہدین کے حوصلوں کو مزید بلندیوں تک پہنچا دیا اور منافقین کے دل پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوت ارادی اور قوت یقین کی ہیبت طاری کر دی۔ تیسری طرف جب دشمن کو خبر ملی کہ اسلامی لشکر انکے تعاقب میں ہے تو انکے حوصلوں کے ٹمٹماتے چراغ بجھنے لگے۔
رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے بھی ساتھ جانے کی اجازت مانگی حالانکہ غزوہ احد میں نہ صرف یہ خود واپس ہوگیا تھا بلکہ اپنے ہمراہ تین سو ساتھی بھی لے کر پلٹ گیا تھا۔ آپؐنے اسے ساتھ جانے سے منع فرما دیا۔
آنحضرت ﷺ کا اعلان کرنا تھا کہ عشق و وفا کے مخلص جانثار صحابہ اپنے زخموں کو سنبھالتے ہوئے اپنے اسلحوں کو لئے ہوئے ایک بار پھر نکل پڑے۔ حضرت اسید بن حضیر کو نو زخم لگے ہوئے تھے انہوں نے ابھی دوا لگانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ان کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو اپنے زخموں پر دوائی لگانے کے لئے بھی نہیں رکے اور چل پڑے۔ بنو سلمہ سے چالیس زخمی نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایسی حالت میں بھی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دیکھ کر ان کے لئے دعائے مغفرت کی اور فرمایا اے اللہ بنو سلمہ پر رحم فرما۔ طفیل بن نعمان کو تیرہ زخم لگے تھے خراش بن سمی کو دس زخم لگے تھے۔ کعب بن مالک کو دس سے زائد زخم اور قطبہ بن عامر کو نو زخم لگے تھے لیکن اس کے باوجود مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف دوڑے اور اپنے زخموں پر مرحم لگانے کے لئے نہیں ٹھہرے۔ خدا تعالیٰ نے اصحاب رسول ﷺ کے اسی جذبہ بے مثل کو اپنے کلام میں مرقوم فرما دیا تا کہ رہتی دنیا تک کے لئے ان پر عقیدتوں کے پھول نچھاور ہوتے رہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِلہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ۝۰ۭۛ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِيْمٌ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور رسول کو لبیک کہا بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکے تھے ان میں سے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے احسان کیا اور تقوی اختیار کیا بہت بڑا اجر ہے۔
ایک خوش بخت مخلص صحابی ایسے تھے کہ جو جنگ احد میں شامل نہیں ہوئے لیکن ان کو ساتھ جانے کی اجازت مرحمت ہوئی تھی اور وہ حضرت جابر بن عبداللہ تھے۔ جابر بن عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے منادی نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہمارے ساتھ وہی نکلے جو گذشتہ روز لڑائی یعنی جنگ احد میں موجود تھا اور میں لڑائی میں حاضر ہونے کا خواہش مند تھا لیکن میرے والد نے مجھے میری سات بہنوں کے لئے پیچھے چھوڑ دیا۔ میرے والد نے کہا کہ اے میرے بیٹے میرے اور تیرے لئے مناسب نہیں ہے کہ ہم ان عورتوں کو بغیر کسی مرد کے چھوڑ دیں۔ مجھے ان کا ڈر ہے یہ کمزور عورتیں ہیں اور میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں تجھے خود پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ تُو اپنی بہنوں کے پاس پیچھے رہ جا اور مَیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد پر جاتا ہوں۔ میں اپنے باپ کے حکم کی تعمیل میں جہاد میں شامل نہیں ہو سکا وگرنہ میرا بھی پورا ارادہ تھا۔ حضرت جابر کی عشق اور محبت میں ڈوبی ہوئی یہ بات سن کر آنحضرت ﷺ نے ان کو ساتھ جانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس پر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فخریہ طور پر بیان کیا کرتے تھے کہ میرے علاوہ آپ کے ساتھ کوئی ایسا آدمی نہیں گیا جو گذشتہ روز کے جہاد میں شریک نہ ہوا ہو۔
آپ ﷺ اس حالت میں روانہ ہوئے کہ چہرہ مبارک مجروح تھا، پیشانی مبارک زخمی تھی۔ دندان مبارک ٹوٹا ہوا تھا۔ دونوں ہونٹ اندر کی جانب سے زخمی تھے۔ داہنا کندھا ابن قمئہ کی تلوار سے زخمی تھا اور دونوں گھٹنے بھی زخمی تھے۔ آپ ﷺ پہلے مسجد میں تشریف لے گئے۔ وہاں دو رکعتیں ادا کیں ۔ لوگ جمع ہو چکے تھے ۔ جب رسول اللہ ﷺ روانہ ہوئے تو آپ ﷺ نے زرہ اور خَود پہن رکھا تھا۔ اسی دوران آنحضرت ﷺ کو حضرت طلحہ بن عبیداللہ ملے۔ آپؐنے ان سے فرمایا طلحہ تمہارے ہتھیار کہاں ہیں۔ حضرت طلحہ نے عرض کیا کہ قریب ہی ہیں یہ کہہ کر وہ جلدی سے گئے اور اپنے ہتھیار اٹھا لائے حالانکہ اس وقت طلحہ کے صرف سینے پر ہی احد کی جنگ کے نو زخم تھے۔ ان کے جسم پر کل ملا کر ستر سے اوپر زخم تھے۔ آپ ﷺ نے طلحہ سے فرمایا جہاں تک ان کا یعنی قریش کا تعلق ہے ان کو ہمارے ساتھ آئندہ کبھی اس طرح کا معاملہ کرنے کا موقع نہیں مل سکتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مکہ کو ہمارے ہاتھوں سے فتح کر دے گا۔ ایک روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا اے ابن خطاب آئندہ کبھی قریش ہمارے ساتھ ایسا معاملہ نہیں کر پائیں گے یہاں تک کہ ہم حجر اسود کو بوسہ دیں گے۔
حضرت عبد اللہ بن سہل اور حضرت رافع بن سہل دو بھائی قبیلہ بنو عبدالا شہل سے تھے دونوں شدید زخمی تھے۔ جب ان دونوں بھائیوں نے رسول اللہ ﷺ کے حمراء الاسد کی طرف جانے کے حکم کے بارے میں سنا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا بخدا اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ میں شرکت نہ کر سکے تو یہ ایک بڑی محرومی ہو گی۔ یہ تھا ان کا ایمان۔ پھر کہنے لگے بخدا ہمارے پاس کوئی سواری نہیں ہے جس پر ہم سوار ہوں اور نہ ہی ہم جانتے ہیں کہ کس طرح یہ کام کریں۔ حضرت عبداللہ نے کہا کہ آؤ میرے ساتھ ہم پیدل چلتے ہیں۔ حضرت رافع نے کہا کہ اللہ کی قسم مجھے تو زخموں کی وجہ سے چلنے کی سکت بھی نہیں ہے۔ بھائی نے کہا کہ آؤ ہم آہستہ آہستہ رسول اللہ ﷺ کی طرف چلتے ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں گرتے پڑتے چلنے لگے۔ حضرت رافع نے کبھی کمزوری محسوس کی تو حضرت عبداللہ نے حضرت رافع کو اپنی پیٹھ پر اٹھا لیا۔ کمزوری کی وجہ سے بعض دفعہ ایسی حالت ہوتی تھی کہ وہ حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے یہاں تک کہ عشاء کے وقت وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا کہ کس چیز نے تمہیں روکے رکھا تھا۔ ان دونوں نے تفصیل بتا دی۔ اس پر آپ ﷺ نے ان دونوں کو دعائے خیر دیتے ہوئے بتایا کہ اگر تم دونوں کو لمبی عمر نصیب ہوئی تو تم دیکھو گے کہ تم لوگوں کو گھوڑے اور خچر اور اونٹ بطور سواریوں کے نصیب ہوں گے۔ لیکن وہ سواریاں تم دونوں کے اس سفر سے بہتر نہیں ہوں گی یعنی تمہارے اس سفر کا ثواب تو اتنا ہے کہ اُس زمانے کی جو بہترین نعمتیں ہونگی ان سے بھی زیادہ ہے۔
دشمن کے دل میں رعب ڈالنے اور اسے خوفزدہ کرنے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ رات کے وقت کثرت سے آگ کے الاؤ روشن کئے جاتے تا کہ اس سے لشکر کی کثرت ظاہر ہو اور دشمن خائف ہو۔ اس لئے آنحضور ﷺ جہاں بھی رات کو پڑاؤ فرماتے تو صحابہ کو ارشاد فرماتے کہ پھیل کر الگ الگ آگ جلائیں۔ چنانچہ ہر شخص ایک ایک آگ جلاتا۔ پانچ سو جگہوں پر آگ جلائی گئی یہاں تک کہ وہ دور سے نظر آتی تھی۔ مسلمانوں کے لشکر اور اس آگ کا ذکر دور تک پھیل گیا۔ اس کی وجہ سے اللہ نے دشمن کو مرعوب کیا۔
حمراء الاسد میں کچھ روز قیام کے بعداسلامی لشکر کی واپسی ہو گئی کیونکہ کفار کا لشکر وہاں سے روانہ ہو گیا تھا۔ اس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ معبد خزاعی کی بات سن کر جس نے ابو سفیان کو حملہ کرنے سے روکا تھا ابوسفیان نے مدینہ کی طرف پیش قدمی کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا تو معبد نے ایک شخص کے ذریعہ ابوسفیان کی روانگی کی خبر نبی کریم ﷺ کو بھیج دی۔ آنحضور ﷺ نے سوموار منگل اور بدھ کے روز وہاں قیام فرمایا اور پھر آپ ﷺ مدینہ واپس تشریف لے گئے۔
حضرت ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی طرف واپس آنے سے پہلے معاویہ بن مغیرہ کو گرفتار کر رکھا تھا۔ معاویہ بن مغیرہ عبدالملک بن مروان کا نانا تھا۔ معاویہ کے علاوہ ابوعزی جمحی کو بھی گرفتار کر رکھا تھا۔ معاویہ چھپ کر مدینہ میں رہ رہا تھا اور مدینہ کے حالات کی خبر مخالفین کو دیا کرتا تھا۔ جب پکڑا گیا تو حضرت عثمان کی پناہ میں چلا گیا۔ حضرت عثمان نے رسول اللہ ﷺسے اس کے لئے امان مانگی۔ آنحضور ﷺ نے امان دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تین روز کے اندر یہاں سے چلا جائے۔ اگر تین روز کے بعد دیکھا گیا تو قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن یہ تین روز کے بعد بھی وہیں ٹھہرا رہا اور چھپا رہا تو رسول اللہ ﷺنے ان دونوں یعنی حضرت زید بن حارثہ اور حضرت عمار بن یاسر کو فرمایا کہ تم فلاں جگہ اسے چھپا ہوا پاؤ گے چنانچہ ان دونوں نے اسے وہیں پایا اور اسے قتل کر دیا۔ حمراء الاسد کے مقام پر آنحضور ﷺ نے مشرکوں کے شاعر ابوعزی کو گرفتار کیا تھا۔ یہ وہ ابوعزی ہے جو غزوہ بدر کے وقت مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ کو اس نے اپنی غربت اور اپنی بیٹیوں کا واسطہ دیا کہ میں عیال دار ہوں میری بیٹیوں کا کوئی سرپرست نہیں مجھ پر رحم فرمائیں جس پر آپ ﷺ نے اس کی بیٹیوں کی وجہ سے اس کو بغیر فدیہ لئے احسان کے طورپر چھوڑ دیا تھا اور اس سے یہ عہد لیا تھا کہ آئندہ وہ نہ تو آپ ﷺ کے خلاف جنگ کو آئے گا نہ آپ ﷺ کے خلاف لشکر اکٹھا کرے گا اور نہ آپ ﷺ کے خلاف کسی کو اکسائے گا مگر اس نے اپنا عہد توڑ دیا اور جنگ احد میں قریش کے ساتھ واپس آیا۔ یہ لوگوں کو جوش دلاتا تھا اور اپنے شعروں کے ذریعہ انہیں بھڑکاتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے خلاف جنگ کریں۔ آنحضرت ﷺ نے دعا فرمائی کہ یہ شخص اس دفعہ بچ کر نہ جانے پائے چنانچہ یہ پھر گرفتار ہوا۔ گرفتاری کے بعد ابوعزی رسول اللہ ﷺ کے سامنے لایا گیا۔ آنحضرت ﷺکو دیکھ کر اس نے کہا کہ اے محمد (ﷺ ) مجھے چھوڑ دیجئے مجھ پر احسان فرمائیے اور میری بیٹیوں کی خاطر مجھے رہا کر دیجئے میں آپ کے سامنے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی اس قسم کی حرکت نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا۔ چنانچہ آپؐکے حکم سے قتل کردیا گیا۔ حضور انور نے فرمایا: باقی انشاء اللہ آئندہ بیان ہو گا۔
فرمایا دعائیں جاری رکھیں دنیا کے حالات کے لئے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے۔
پھر فرمایا اس وقت میں جنازہ بھی پڑھاؤں گا جو مکرم فراز احمد طاہر جو آسٹریلیا میں گذشتہ دنوں شہید ہوئے ان کا ہے۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور علاقہ بنڈائی کے ایک شاپنگ سنٹر میں ایک آسٹریلین شخص نے ا نہیں چاقو سے وار کر کے شہید کر دیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم شاپنگ سینٹر میں بطور سکیورٹی گارڈ کام کر رہے تھے۔ مرحوم کی عمر تیس برس کی تھی اور غیر شادی شدہ تھے۔
حضور انور نے مرحوم کے اوصافِ حمیدہ بیان فرمائے اور نماز جمعہ کے بعد شہید مرحوم کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
٭…٭…٭