تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جنگ احد کے واقعات کے ضمن میں کچھ اور واقعات ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے خوبصورت پہلوؤں کا مزید پتا چلتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو جب فوت ہوئے تو ان پر قرض تھا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کی کہ آپ ان کے قرض خواہوں کو سمجھائیں کہ وہ ان کے قرض میں سے کچھ کمی کر دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس خواہش کا اظہار کیا مگر انہوں نے کمی نہیں کی۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ جاؤ اور اپنی کھجوروں کی ہر ایک قسم کو الگ الگ رکھو پھر مجھے پیغام بھیجنا۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا ان لوگوں کو ماپ کر دو۔ چنانچہ میں نے ان کو ماپ کر دیا یہاں تک کہ جو ان کا حق تھا میں نے ان کو پورا دے دیا پھر بھی میری کھجوریں بچ گئیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان میں کچھ کمی نہیں ہوئی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہیدوں کے لئے دعا کی کہ اے خدا احد کے شہیدوں کے پسماندگان کے لئے اچھے خبر گیر پیدا فرما۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح آپ نے مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی احد کے شہیدوں کے پسماندگان کی دلجوئی فرمائی اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور باوجود اس کے کہ آپ زخمی ہو چکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز ترین رشتہ دار شہید ہو گئے تھے اور آپ کے عزیزترین صحابہ فوت ہو گئے تھے آپ برابر قدم بہ قدم مدینہ کے لوگوں کی دلجوئی فرما رہے تھے۔ آپ کو اپنی تکلیف کا ذرہ بھی احساس نہ تھا۔ آپ کے سوا ایسا کوئی شخص نہیں ہو سکتا جو اتنی تکلیفوں اتنے دکھوں اور اتنی مصیبت کے وقت دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرے۔ ایسے وقت میں تو لوگ کسی کے ساتھ بات کرنے کے بھی روادار نہیں ہوتے چہ جائیکہ وہ کسی کے ساتھ ہمدردی کی باتیں کریں۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے احد کی جنگ ایک نہایت صبر آزما جنگ تھی اس سے پہلے کبھی آپ پر قاتلانہ حملہ نہ ہوا تھا اور نہ صرف یہ کہ جنگ احد میں آپ پر حملہ ہی ہوا اور نہ صرف یہ کہ آپ کے بعض دانت بھی ٹوٹ گئے اور نہ صرف یہ کہ آپ زخمی ہوگئے بلکہ دشمن آپ کی بے ہوشی کی حالت میں آپ کے اوپر سے اور آپ کے ساتھیوں کے اوپر سے ان کے جسموں کو روندتا ہوا گزرا اور یہ آپ کی زندگی میں اپنی قسم کی پہلی مثال تھی مگر اس جنگ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح بلندحوصلگی اوراپنے اعلی اخلاق کا نمونہ پیش کیا اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور دل جوئی کی۔ اس جنگ کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ اخلاق کے کتنے بلند ترین مقام پر کھڑے تھے اور اس جنگ میں صحابہ کی عدیم المثال قربانیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ ختم ہونے پر مدینہ واپس تشریف لا رہے تھے۔ مدینہ کی عورتیں جو آپ کی شہادت کی خبر سن کر سخت بے قرار تھیں اب وہ آپ کی آمد کی خبر سن کر آپ کے استقبال کے لئے مدینہ سے باہر کچھ فاصلہ پر پہنچ گئی تھیں ان میں آپ کی ایک سالی حمنہ بنت جحش بھی تھیں ان کے تین نہایت قریبی رشتہ دار جنگ میں شہید ہوگئے تھے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھا تو فرمایا اپنے مُردے کا افسوس کرو۔ یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ تمہارا عزیز مارا گیا ہے۔ حمنہ نے عر ض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس مُردے کا افسوس کروں؟ آپ نے فرمایا تمہارا ماموں حمزہ شہید ہو گیا ہے۔ یہ سن کر حمنہ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور پھر کہا اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلند کرے وہ کیسی اچھی موت مرے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا اچھا اپنے ایک اور مرنے والے کا افسوس کر لو۔ تو حمنہ نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کا؟ آپ نے فرمایا تمہارا بھائی عبداللہ بن جحش بھی شہید ہوگیا ہے۔ حمنہ نے پھر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور کہا الحمد لِلہ وہ تو بڑی اچھی موت مرے ہیں۔ آپ نے پھر فرمایا حمنہ اپنے ایک اورمُردے کا افسوس کرو۔ اس نے پوچھا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کا؟ آپ نے فرمایا تیرا خاوند بھی شہید ہو گیا ہے۔ یہ سن کر حمنہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور اس نے کہا ہائے افسوس۔ یہ دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو عورت کو اپنے خاوند کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب میں نے حمنہ کو اس کے ماموں کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے پڑھا انا للہ وانا الیہ راجعون، جب میں نے اسے اس کے بھائی کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے پھر بھی انا للہ وانا الیہ راجعون ہی پڑھا لیکن جب میں نے اس کے خاوند کے شہید ہونے کی خبر دی تو اس نے ایک آہ بھر کر کہا ہائے افسوس اور وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکی اور گھبرا گئی۔ پھرآپ نے فرمایا عورت کو ایسے وقت میں اپنے عزیز ترین رشتہ دار اور خونی رشتہ دار بھول جاتے ہیں لیکن اسے محبت کرنے والا خاوند یاد رہتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے حمنہ سے پوچھا تم نے اپنے خاوند کی وفات کی خبر سن کر ہائے افسوس کیوں کہا تھا؟ تو حمنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کے بیٹے یاد آگئے تھے کہ ان کی کون رکھوالی کرے گا؟ آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی تمہارے خاوند سے بہتر خبر گیری کرنے والا کوئی شخص پیدا کر دے۔ چنانچہ اس دعا کا نتیجہ یہ تھا کہ حمنہ کی شادی حضرت طلحہ کے ساتھ ہوئی اور ان کے ہاں محمد بن طلحہ پیدا ہوا مگر تاریخوں میں ذکر آتا ہے کہ حضرت طلحہ اپنے بیٹے محمد کے ساتھ اتنی محبت اور شفقت نہیں کرتے تھے جتنی کہ حمنہ کے پہلے بچوں کے ساتھ۔ اور لوگ یہ کہتے تھے کہ کسی کے بچوں کو اتنی محبت سے پالنے والا طلحہ سے بڑھ کر اور کوئی نہیں اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا نتیجہ تھا۔
مدینہ کی عورتیں اپنے شہید مردوں پر رورہی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورتوں کے رونے کی آوازیں سنیں تو آپ کو مسلمانوں کی تکلیف کا خیال آیا اور آپ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ پھر آپ نے فرمایا ہمارے چچا اور رضائی بھائی حمزہ بھی شہید ہوئے ہیں لیکن ان کا ماتم کرنے والا کوئی نہیں۔ یہ سن کر صحابہ جن کو آپ کے جذبات اور احساسات کو پورا کرنے کی تڑپ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ آپ کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا جذبہ اور چھوٹے سے چھوٹا احساس بھی ایسا نہ رہ جائے جو پورا نہ ہو۔ وہ اپنے گھروں کی طرف دوڑے اور اپنی عورتوں سے جا کر کہا بس اب تم اپنے عزیزوں کو رونا بند کر دو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر جا کر حمزہ کا ماتم کرو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ تھکے ہوئے تھے سو گئے۔ جب ثلث رات گذر گئی آپ بیدار ہوئے تو اس وقت عورتیں ابھی تک آپ کے مکان پر حضرت حمزہ کا نوحہ کر رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا یہ کیا ہو رہا ہے؟ عرض کیا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی عورتیں حضرت حمزہ کی وفات پر رو رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مدینہ کی عورتوں پر رحم کرے انہوں نے میرے ساتھ ہمددری کا اظہار کیا ہے۔ پھر فرمایا مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ انصار کو مجھ سے بہت زیادہ محبت ہے۔ ساتھ ہی فرمایا اس طرح نوحہ کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ امر ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری قوم کی یہ عادت ہے اور اگر ہم اس طرح نہ روئیں تو ہمارے جذبات سرد نہیں ہو سکتے۔ آپ نے فرمایا رونے سے منع نہیں کرتا ہاں عورتوں سے کہہ دیا جائے کہ وہ منہ پر تھپڑ نہ ماریں اپنے بال نہ نوچیں اور کپڑوں کو نہ پھاڑیں ۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت علی نے احد سے واپس آکر حضرت فاطمہ کو اپنی تلوار دی اور کہا اِس کو دھو دو آج اِس تلوار نے بڑا کام کیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کی یہ بات سن رہے تھے آپ نے فرمایا علی تمہاری ہی تلوار نے کام نہیں کیا اور بھی بہت سے تمہارے بھائی ہیں جن کی تلواروں نے جوہر دکھائے ہیں۔ آپ نے چھ سات صحابہ کے نام لیتے ہوئے فرمایا ان کی تلواریں تمہاری تلوار سے کم تو نہ تھیں۔ غرض آپ نے یہ بھی برداشت نہ کیا کہ آپ کا داماد کوئی ایسی بات کرے جس سے دوسرے صحابہ کے دلوں کو ٹھیس پہنچے۔
حضور انور نے فرمایا : جنگ احد کے واقعات یہاں ختم ہوتے ہیں۔ ایک اور غزوہ جس کا نام غزوہ حمراء الاسد ہے جو شوال تین ہجری میں ہوا اس کا ذکر کرتا ہوں۔ غزوہ احد کے اختتام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت مدینہ تشریف لائے اور باوجود شدید زخمی ہونے کے مغرب کی نماز بھی صحابہ کے سہارے چل کر مسجد میں تشریف لا کر ادا کی اور اسی طرح عشاء کی نماز بھی مسجد میں تشریف لا کر ادا کی۔ نماز عشاء کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف تو لے گئے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ ساری رات جاگتے ہوئے ہی گزاری کیونکہ آپ کو یہ خدشہ تھا کہ ابو سفیان اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا سکتا ہے اسی وجہ سے مدینہ میں ایک قسم کی ہنگامی حالت ہی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے باہر بھی مسلسل پہرہ رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی معلوم کرایا تھا کہ ابوسفیان کے ارادے کیا ہیں۔ کیا وہ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ہرچند کہ ابتدائی رپورٹ یہی ملی کہ ابوسفیان بڑی تیزی سے اپنے لشکر کو لیکر مکہ کی طرف رواں دواں ہے لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے غافل نہیں رہے۔ آخر کار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندیشے درست ثابت ہوئے اور رات ابھی پوری طرح ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع مل گئی کہ ابوسفیان اپنے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے آنے کو تیار ہے۔ البتہ اسی لشکر میں موجود ایک اور سردار صفوان بن امیہ نے مشوہ دیا کہ ایسا ہرگز نہ کرنا۔ اس وقت مدینہ پر حملہ کرنے کا سوچنا بھی نہ ورنہ بہت بری طرح شکست کھاؤ گے لیکن ابوسفیان اور اس کے دوسرے ساتھیوں کی اکثریت نے یہی فیصلہ کیا کہ ہمیں مدینہ پر حملہ کرنا چاہئے ورنہ مکہ کیا منہ لے کر جائیں گے۔
حضور انور نے فرمایا: اس کی تفصیل انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔ فرمایا: دعائیں جاری رکھیں۔ جیسا کہ خیال تھا اور خدشہ تھا ایران پر براہ راست اسرائیل نے حملہ کر دیا۔ اس سے مزید حالات خراب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان دنیا کے لیڈروں کو بھی عقل دے جو عالمی جنگ کو ہوا دینے کی مزید کوشش کر رہے ہیں اور مسلم امہ کو بھی سمجھ اور عقل دے اور ان کو توفیق دے کہ وہ ایک بن کر مقابلہ کریں اور حکمت اپنا سکیں۔
خطبہ کے آخر پر حضو رانور نےمکرم مولانا غلام احمد صاحب نسیم ، مربی سلسلہ،سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ ربوہ، حال امریکہ اور مکرم ڈاکٹر احسان اللہ ظفر صاحب سابق امیر جماعت امریکہ کا ذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد دونوں مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
…٭…٭…٭…