تشہد، تعوذاور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
رمضان سے پہلے خطبات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا ذکر ہو رہا تھا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بھی بیان تھا، آج بھی مَیں اس حوالے سے کچھ بیان کروں گا۔
روایت میں آتا ہے کہ غزوہ احد سے واپسی کے موقع پر حضرت سعد بن معاذؓ کی والدہ آنحضور ﷺ کے پاس آئیں تو سعدنے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ میری والدہ ہیں۔ آپ ﷺ اس وقت گھوڑے پر سوار تھے آپ نے اپنا گھوڑا روک لیا اور فرمایا کہ ان کا استقبال کرو۔ وہ قریب آئیں اور حضور ﷺ کو دیکھنے لگیں۔ آپ ﷺ نے ان کے بیٹے حضرت عمرو بن معاذ ؓ کی شہادت پر تعزیت فرمائی تو انہوں نے کہا کہ جب مَیں نے آپ کو صحیح سلامت دیکھ لیا تو میرا غم اور مصیبت سب ختم ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایاتمہیں خوش خبری ہو اور باقی سب شہداء کے لواحقین کو بھی یہ خوش خبری دے دو کہ یہ سب مقتولین جنت میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور سب نے اپنے اپنے گھر والوں کیلئے بھی حق تعالیٰ سے شفاعت اور سفارش کی ہے۔امِّ سعدؓ نے عرض کیا کہ ہم سب راضی ہیں اور اس خوش خبری کے بعد بھلا کون ان پر رو سکتا ہے۔ پھر انہوں نے حضورﷺسے درخواست کی کہ سب شہیدوں کے پسماندگان کیلئے دعا کریں۔ چنانچہ حضور ﷺ نےدعا کی کہ اَے اللہ!ان کے دلوں سےغم و الم کومٹا دے۔ان کی مصیبتوں کودُور فرمادےاور شہیدوں کے جانشینوں کو ان کا بہترین جانشین بنادے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اہلِ مدینہ کی اس فدائیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب دیکھو! کہ وہ عورت جس کا بڑھاپے میں عصائے پیری ٹوٹ گیا تھا، کس بہادری سے کہتی ہے کہ میرے بیٹے کی موت کے غم نے مجھے کیا کھانا ہے جب رسولِ کریم ﷺ زندہ ہیں تو مَیں اس غم کو بھون کر کھا جاؤں گی۔
ایک دوسرے موقعے پر اسی واقعے کا ذکر کر کے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے انصار! میری جان تم پر فدا ہو تم کتنا ثواب لے گئے۔ اسی طرح صحابیاتؓ کی قربانیوں کے تناظر میں حضرت مصلح موعود ؓ ایک موقعے پر احمدی خواتین کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ یہی وہ عورتیں تھیں جو اسلام کی اشاعت اور تبلیغ میں مردوں کے دوش بدوش چلتی تھیں اور یہی وہ عورتیں تھیں جن پر اسلامی دنیا فخر کرتی ہے۔ تمہارا بھی دعویٰ ہے کہ تم حضرت مسیح موعودعلیہ السلام پر ایمان لائی ہو اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز ہیں گویا دوسرے لفظوں میں تم صحابیات کی بروز ہو لیکن تم صحیح طور پر بتاؤ کہ کیا تمہارے اندر دین کی خدمت کا وہی جذبہ موجزن ہے جو صحابیات میں تھا؟
قرونِ اولیٰ کی ان جاں نثار صحابیاتؓ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ عیسائی دنیا مریم مگدلینی اور اسکی ساتھی خواتین کی اس بہادری پر خوش ہے کہ وہ صبح کے وقت دشمن سے چھپ کرمسیح کی قبرپرپہنچی تھیں مگرمَیں ان سےکہتاہوں کہ آؤ! اورذرا میرےمحبوب کے مخلصوں اور فدائیوں کو دیکھو کہ کن حالتوں میں انہوں نے اسکا ساتھ دیا اور کن حالتوں میں انہوں نے توحید کے جھنڈے کو بلند کیا۔
جب رسول اللہ ﷺغزوۂ احد کے بعد مدینے پہنچے تو منافقین اور یہود خوشیاں منانے اور مسلمانوں کو برا بھلا کہنے لگے اور کہنے لگے کہ محمد (ﷺ) بادشاہت کے طلب گار ہیں (نعوذ باللہ) اور کسی نبی نے آج تک اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا انہوں نے اٹھایا ہے۔ خود بھی زخمی ہوئے اور ان کے صحابہ ؓبھی زخمی ہوئے اور کہتے تھے کہ اگر تمہارے وہ لوگ جو قتل ہوئے ہمارے ساتھ رہتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسی باتیں کرنے والے منافقین کے قتل کی اجازت چاہی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا وہ اس شہادت کا اظہار نہیں کرتے کہ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں اور مَیں اللہ کا رسول ہوں؟ کیا یہ لوگ کلمہ نہیں پڑھتے؟ حضرت عمرؓ نے کہا کہ کیوں نہیں! کلمہ تو پڑھتے ہیں مگر تلوار کے خوف سے، ورنہ منافقانہ باتیں کیوں کرتے۔ اب ان کا معاملہ ظاہر ہوگیا ہے، اور ان کے دل کی بات نکل گئی ہے، اور اللہ نے ان کے کینوں کو ظاہر کر دیا ہے اب ان سے انتقام لینا چاہئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہا مجھے اس کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ یہ بات ان نام نہاد علماء کا منہ بند کرنے کیلئے کافی ہے جو احمدیوں کے بارے میں باوجود اس کے کہ احمدیوں میں منافقت کا شائبہ تک نہیں، پھر بھی انہیں کافر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا قتل جائز ہے۔ ان نام نہاد علماء نے اسلام کو بدنام کیا ہوا ہے۔
شہداء احدکے جنازے کے متعلق بخاری کی روایت ہے جس سے ان شہداء کے مقام اور مرتبے کا پتا چلتا ہے۔عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد احد کے شہداء کی نمازِ جنازہ پڑھی۔
حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب مجھے احد کے شہدا ءیاد آتے ہیں تو خدا کی قسم! مجھے یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش مَیں بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے درّے میں ہی رہ گیا ہوتا یعنی ان کے ساتھ ہی شہید ہوگیا ہوتا۔
آنحضور ﷺ نےاحد کے شہداء کی قبروں کی زیارت کی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! بےشک مَیں تیرا بندہ اور نبی یہ گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ شہید ہیں۔ جو ان کی زیارت کرے اور قیامت کے دن تک سلام بھیجے تو یہ اسکا جواب دیں گے۔رسول اللہ ﷺنے شہدائے احد کیلئے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا مَیں گواہ ہوں۔روایت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر سال کے شروع میں شہدائے احد کی قبروں کی زیارت کیلئے تشریف لے جایا کرتے۔ راوی کہتے ہیں کہ بعد میں حضرت ابوبکرؓ اور پھر حضرت عمر ؓاور پھر حضرت عثمانؓ بھی اسی طرح ان شہداء کی قبروں پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔
حضرت بِشرؓ کے والد احد میں شہید ہوگئے تھے۔ وہ اپنے والد کیلئے رو رہے تھے تب رسول اللہ ﷺ وہاں سے گزرے اور فرمایا کہ خاموش ہوجاؤ! کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ مَیں تمہارا باپ بن جاتا ہوں اور عائشہ تمہاری ماں۔ بِشرؓ نے عرض کی کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ! اس سے بڑھ کر اور خوشی کی کیا بات ہوگی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔جب حضرت بِشرؓ بوڑھے ہوگئے تو سارا سر سفید ہوگیا مگر وہ حصہ جہاں نبی کریم ﷺ نے دستِ مبارک رکھا تھا بالوں کا وہ حصہ سیاہ ہی رہا۔ حضرت بِشرؓ کی زبان میں لکنت تھی۔ نبی کریم ﷺ نے دم کیا تو لکنت جاتی رہی۔
حضور انور نے فرمایا:یہ ذکر آئندہ جاری رہے گا۔فرمایا کہ مشرق وسطیٰ اور دنیا کے حالات کیلئے بھی دعائیں جاری رکھیں، حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ایران پر بھی حملہ ہو اور پھر جنگ مزید پھیلے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔کل ہی یہ خبر آئی ہے کہ یمن میں کچھ اسیران کی رہائی ہوئی ہے، بلکہ اکثریت کی رہائی ہوگئی ہے۔ باقی جو چند رہ گئے ہیں ان کی رہائی کیلئے بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ حکام کے دل ان کی طرف سے صاف کرے۔ خاص طور پر ایک خاتون ہیں، صدر لجنہ جو اسیری میں ہیں۔ ان کی جلد رہائی کے سامان اللہ تعالیٰ فرمائے۔
خطبےکےآخر پر حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دو مرحومین کا ذکر خیر فرمایا ۔پہلاذکرمکرم مصطفیٰ احمد خان صاحب ابن حضرت نواب عبداللہ خان صاحبؓ اور حضرت نواب امۃ الحفیظ بیگم صاحبہؓ کافرمایا۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے چھوٹے نواسے تھے۔ بعدہ مکرم ڈاکٹر میر داؤد احمد صاحب آف امریکہ کا ذکر خیر فرمایااور جمعہ کے بعد ہر دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ ٭٭