تشہد،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سورۃ النمل کی مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی اور ترجمہ پیش فرمایا۔
اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ۰ۭ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللہِ۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ(ترجمہ)یا پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کا وارث بناتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔
فرمایا:اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں مضطر اور بے قرار کی دعائیں قبول کرتا ہوں۔ گذشتہ جمعہ بھی میں نے دعا کا مضمون ہی بیان کیا تھا کہ دعائیں کس طرح ہونی چاہئیں ان کی حکمت ان کی فلاسفی کیا ہے۔ یہی دعا کا مضمون آج بھی جاری ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں مضطر کی دعائیں سنتا ہوں، تو مضطر سے مراد صرف بے قرار ہی نہیں ہے بلکہ ایسا شخص ہے جس کے تمام راستے کٹ گئے ہوں۔ پس جب ہم دعا کیلئے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیںتو ایسی حالت بنا کر جھکیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کریں کہ سوائے تیرے ہمارا کوئی نہیں اور ہم تجھ ہی پر انحصار کرتے ہیں، بھروسہ کرتے ہیں اور تیرے پاس ہی آئے ہیں۔ جماعتی لحاظ سے تو خاص طور پر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے جو ہمیں ان حالات سے نکالے جو پاکستان میں ہیں یا بعض دوسرے ملکوں میں ہیں بلکہ ذاتی طور پر بھی اگر انسان سمجھے تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کام کرتا ہے۔ وہی ہے جو ہماری ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شناخت کی یہ خاص نشانی بیان فرمائی ہے کہ میں مضطر کی دعا سنتا ہوں۔ پس اپنی دعاؤں میں حالت اضطرار پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پس ہمیں دعاؤں کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے یہ دعائیں ہی ہیں جو ہمیں ان حالات سے نکالیں گی جن میں ہم آج کل ہیں بلکہ امت مسلمہ کے ابتلا سے نکالنے کیلئے بھی دعائیں ہی کام آئیں گی اگر اس کو سمجھ کر یہ لوگ دعا کریں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی مخالفت کو ترک کریں بہرحال جہاں تک احمدیوں کا سوال ہے ہر احمدی کو یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینی چاہئے کہ اضطرار کی حالت پیدا کریں، اگر اپنی دعاؤں کی قبولیت چاہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
یاد رکھو خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پرواہ نہیں کرتا۔ فرمایا: قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے کہ اب دنیا کے تمام راستے بند ہو گئے ہیں اور اب ایک ہی راستہ ہے جو خدا تعالیٰ کا راستہ ہے جو حضرت تواب کا راستہ ہے جو ہمیں مشکلات سے نکال سکتا ہے۔
مضطر کی ایک پہچان حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بتائی ہے کہ لفظ مضطر سے وہ ضرر یافتہ مراد ہیں جو محض ابتلا کے طور پر ضرر یافتہ ہوں نہ کہ سزا کے طور پر اور آج احمدی ہی ہیں جو ابتلاؤں سے گزر رہے ہیں جن پر یہ پابندیاں ہیں کہ عشق خدا اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بھی نہیں کر سکتے۔
حضور انور نے فرمایا:اس وقت میں بعض قرآنی اور مسنون دعاؤں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کو بھی دہراؤں گا ان دعاؤں پر غور کر کے ہمیں مستقل توجہ دینی چاہئے اور اضطرار کے ساتھ پڑھنا بھی چاہئے اسکے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔
سب سے پہلے سورہ فاتحہ ہے۔ صرف نماز میں ہی نہیں ویسے بھی اسی دوہراتے رہنا چاہئے۔حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:سورہ فاتحہ کی ایک خصوصیت یہ ہے اس کو توجہ اور اخلاص سے پڑھنا دل کو صاف کرتا ہےور ظلمانی پردوں کو اٹھاتا ہے اور سینے کو منشرح کرتا ہے۔ انشراح بخشتا ہے تسلی دلاتا ہے اور طالب حق کو حضرت احدیت کی طرف کھینچ کر ایسے ایسے انوار اور آثار کا مورد کرتا ہے کہ جو مقربان حضرت احدیت میں ہونی چاہئے ۔
پھر قرآن کریم کی ایک دعا ہے(رَبَّـنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ)اَے ہمارے ربّ ہمیں دنیا میں بھی حسنہ عطا کر اور آخرت میں بھی حسنہ عطا کرے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ اسکے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اسکے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں۔ پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصول دنیا میں اصل غرض دین ہو۔
حضور انور نے فرمایا:پس اس دنیا کو حاصل کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہونا چاہئے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر اس قرآنی دعا کو بھی آج کل بہت شدت سے اور بہت اضطرار سے کرنا چاہئے۔
(رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ) اَے ہمارے رب ہم پر صبر نازل کر اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش اور کافر قوم کے خلاف ہماری مدد کر۔
اس دعا کا بھی بار بار اور اضطرار کے ساتھ ورد کرنا چاہئے (رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا۰ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَـمَا حَمَلْتَہٗ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا۰ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ۰ۚ وَاعْفُ عَنَّا۰۪ وَاغْفِرْ لَنَا۰۪ وَارْحَمْنَا۰۪ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ) اَے ہمارے ربّ ہمارا مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا ہو جائے اور اَے ہمارے ربّ ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوں پران کے گناہوں کے نتیجے میں تُو نے ڈالا اور اَے ہمارے ربّ ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہو اور ہم سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا والی ہے۔ پس ہمیں کافر قوم کے مقابلے پر نصرت عطا کر۔
ایمان کی مضبوطی کیلئے یہ دعا بھی بہت پڑھنی چاہئے (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ)اَے ہمارے ربّ ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے بعد اس کے کہ تو ہمیں ہدایت دے چکا ہے اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر یقینا تو ہی ہے جو بہت عطا کرنے والا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: اب مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی بعض دعاؤں کو ذکر کرتا ہوں۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے ایسی دعا سکھائیں جس کے ذریعے میں اپنی نماز میں دعا مانگوں۔ آپ نے فرمایا تم کہو :
(اللّٰهمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كثِيرًا وَلا يَغْفِر الذُّنوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرلي مغْفِرَةً مِن عِنْدِكَ وَارحَمْني إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفور الرَّحِيم) اَے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور کوئی گناہ نہیں بخش سکتا سوائے تیرے۔پس تو اپنی جناب سے میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما یقیناً تُو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔
مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بدوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی بات سکھائیے جو میں کہا کروں آپ نے فرمایا یہ کہاکرو( لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلہِ کَثِیْرًا وَّسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْم) اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ کیلئے بہت حمد ہے پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے نہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی قوت ہے مگر اللہ کو جو غالب بزرگی والا اور خوب حکمت والا ہے۔ اس بدوی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو میرے ربّ کیلئے ہیں میرے لئے کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ کہا کرو کہ(اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ) کہ اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔
حضرت عائشہ رضی تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو فرماتے (لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ اللّٰهُمَّ زِدْنِي عِلْمًاوَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِيْ وَهَبْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًإِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ)اَے اللہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اے اللہ میں تجھ سے اپنے گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا طلبگار ہوں۔ اے اللہ مجھے علم میں بڑھا دے اور میرے دل کو ٹیڑھا نہ کرنا بعد اسکے جب تو نے مجھے ہدایت دے دی اور اپنی جناب سے مجھے رحمت عطا فرما یقینا تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی معاملے میں پریشانی ہوتی تو آپ فرماتے(یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ) اَے زندہ اور دوسروں کو زندہ رکھنے والے اپنی رحمت کے ساتھ میری مدد فرما۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا کیا کرتے تھے (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِوَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ)اَے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ میں آتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ میں آتا ہوں زندگی کے فتنے سے اور موت کے فتنے سے۔ اَے اللہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں گناہ سے اور مالی بوجھ سے۔
پھر بخاری میں ایک دعا اس طرح ملتی ہے کہ (اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا وَّفَوْقِیْ نُوْرًا وَّتَحْتِیْ نُوْرًا وَّاَمَامِیْ نُوْرًا وَ خَلْفِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اَے اللہ میرے دل میں نور رکھ دے میری بصارت و بصیرت میں نور رکھ دے میری سماعت میں نور رکھ دے میرے دائیں بھی نور رکھ دے میرے بائیں بھی نور رکھ دے میرے اوپر بھی نور ہو اور میرے نیچے بھی نور ہو اور میرے آگے بھی نور رکھ دے اور میرے پیچھے بھی نور رکھ دے اور میرے لئے نور ہی نور کر دے۔
پھر مصیبت اور حالت کرب کی ایک دعا کا ذکر یوں ملتا ہے کہ (لَا إلٰهَ إِلَّا اللهُ الْعَظـيمُ الْحَلِـيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ رَبُّ العَـرْشِ العَظِيـمِ لَا إِلٰـهَ إِلَّا اللهْ رَبُّ السَّمٰـواتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَـرِيْم)حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف کی حالت میں یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عظمت والا اور بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آسمان و زمین کا اور عرش کریم کا رب ہے۔
دنیا کے فتنے سے بچنے کیلئے ایک دعا ہے (اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ)مصعب بن سعد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات ایسے سکھایا کرتے تھے جس طرح لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا ہے اَے اللہ یہ دعا کیا تھی جو سکھاتے تھے کہ اَے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں بخل سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں ارزل العمر کی طرف لوٹایا جاؤں اور تیری پناہ چاہتا ہوں دنیاوی آزمائشوں میں گھرنے سے اور قبر کے عذاب میں گرفتار ہونے سے۔
حضور انور نے فرمایا:اب مَیںان دعاؤں کے بارے میں بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے ہمیں ملتی ہیں جن میں بعض ارشادات ہیں اور بعض دعائیں ہیں۔آپؑنے اپنے ایک خط میں مولوی نذیر حسین صاحب سخا دہلوی جہاں تک ممکن ہو توجہ سے نماز ادا کریں توجہ پیدا نہ ہو تو پانچ وقت ہر ایک نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور میں بعد ہر رکعت کے کھڑے ہو کر یہ دعا کریں کہ اَے خدا تعالیٰ قادر ذوالجلال میں گنہگار ہوں اور اس قدر گناہ کے زہر نے میرے دل اور رگ و ریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضور نماز حاصل نہیں تو اپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش اور میری تقصیرات معاف فرما اور میرے دل کو نرم کر دے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور اپنی محبت بٹھا دے تاکہ اس کے ذریعے سے میری سخت دلی دور ہو کر حضور نماز میسر آوے۔
پھر ایک جگہ آپ نے دعا کی ہے کہ اے میرے محسن اور اے میرے خدا میں ایک تیرا ناکارہ بندہ پُر معصیت اور پُر غفلت ہوں تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا اور گناہ پرگناہ دیکھا احسان پر احسان کیا تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا سو اب بھی مجھ نالائق اور پُرگناہ پر رحم کر اور میری بے باکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے چارا گر کوئی نہیں۔آمین۔
حضور انور نے فرمایا:مَیں سمجھتا ہوںیہ ایسی دعا ہے جسے روزانہ ضرور پڑھنا چاہئے۔یہ دعا آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام ایک خط میں لکھی تھی۔ ان کا مقام دیکھ کر ہمیں غور کرنا چاہئے کہ کس توجہ سے ہمیںیہ دعا کرنی چاہئے۔
پھر آپ کی ایک دعا ہے جو آپ نے پیغام صلح کے شروع میں تحریر فرمائی ہے جس کی طرف ہمیں بہت توجہ دینی چاہئے۔ فرمایا کہ اے میرے قادر خدا اے میرے پیارے رہنما تو ہمیں وہ راہ دکھا جس سے تجھے پاتے ہیں اہل صدق و صفا اور ہمیں ان راہوں سے بچا جن کا مدعا صرف شہوات ہیں یا کینہ یا بغض یا دنیا کی حرص و ہوا ہے۔
پھر ایک جگہ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔ سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضامندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو کیونکہ گناہوں ہی سے دل سخت ہو جاتا ہے اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے۔ ہماری دعا یہ ہونی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتے ہیں دور کر دے اور اپنی رضامندی کی راہ دکھلا۔
حضور انور نے فرمایا: ان دعاؤں کو قبولیت کیلئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں۔ درود کے بغیر ہماری دعائیں جو ہیں وہ تو ہوا میں معلق ہو جاتی ہیں اللہ تعالیٰ تک پہنچتی نہیں۔ پس(اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰٓی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌاَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰٓی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ) کا بہت زیادہ ہمیں ورد کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی دے کہ ہم اپنے دل سے یہ دعائیں کرنے والے ہوں اپنی زبان میں بھی دعائیں کریں حقیقی بے قراری کے ساتھ اور مضطر بن کر دعائیں کریں جن کے دل کی گہرائیوں سے یہ دعائیں نکل رہی ہوں۔ رمضان کی برکات کو ہمیشہ قائم رکھنے کیلئے بھی دعا کریں۔ اس جمعہ کی برکات اور آئندہ آنے والے تمام جمعوں کی برکات ہم حاصل کرنے والے ہوں۔ اسیران کی رہائی کیلئے بہت دعا کریں۔
ہمیں اور ہماری نسلوں کو جنگوں کی آگ سے محفوظ رہنے اور اس کے بعد کے اثرات سے محفوظ رہنے کیلئے بہت دعا کریں۔
اللہ تعالیٰ انسانیت کو بچا لے اور ہمیں دعاؤں میں بھی اپنا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
…٭…٭…٭…